Loading...

Loading...
کتب
۲۱۳ احادیث
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا جنت میں گھوڑے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تم کو جنت میں داخل کیا تو تمہاری خواہش کے مطابق تمہیں سرخ یاقوت کے گھوڑے پر سوار کیا جائے گا، تم جہاں چاہو گے وہ تمہیں جنت میں لے کر اڑے گا“، آپ سے ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا جنت میں اونٹ ہیں؟ بریدہ کہتے ہیں: آپ نے اس کو پہلے آدمی کی طرح جواب نہیں دیا۔ آپ نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تمہیں جنت میں داخل کیا تو اس میں تمہارے لیے ہر وہ چیز موجود ہو گی جس کی تم چاہت کرو گے اور جس سے تمہاری آنکھیں لطف اٹھائیں گی“۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، قال اخبرنا عاصم بن علي، حدثنا المسعودي، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، ان رجلا، سال النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله هل في الجنة من خيل قال " ان الله ادخلك الجنة فلا تشاء ان تحمل فيها على فرس من ياقوتة حمراء يطير بك في الجنة حيث شيت الا فعلت " . قال وساله رجل فقال يا رسول الله هل في الجنة من ابل قال فلم يقل له مثل ما قال لصاحبه قال " ان يدخلك الله الجنة يكن لك فيها ما اشتهت نفسك ولذت عينك " . حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن عبد الرحمن بن سابط، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه وهذا اصح من حديث المسعودي
ابوایوب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے گھوڑا پسند ہے، کیا جنت میں گھوڑے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم جنت میں داخل کئے گئے تو تمہیں یاقوت کا گھوڑا دیا جائے گا، اس کے دو پر ہوں گے تم اس پر سوار کئے جاؤ گے پھر جہاں چاہو گے وہ تمہیں لے کر اڑے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔ ہم اسے ابوایوب کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- ابوسورۃ، ابوایوب کے بھتیجے ہیں۔ یہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔ انہیں یحییٰ بن معین نے بہت زیادہ ضعیف قرار دیا ہے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا: ابوسورۃ منکر حدیث ہیں، یہ ابوایوب رضی الله عنہ سے ایسی کئی منکر احادیث روایت کرتے ہیں، جن کی متابعت نہیں کی گئی ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل بن سمرة الاحمسي، حدثنا ابو معاوية، عن واصل، هو ابن السايب عن ابي سورة، عن ابي ايوب، قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم اعرابي فقال يا رسول الله اني احب الخيل افي الجنة خيل قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان ادخلت الجنة اتيت بفرس من ياقوتة له جناحان فحملت عليه ثم طار بك حيث شيت " . قال ابو عيسى هذا حديث ليس اسناده بالقوي ولا نعرفه من حديث ابي ايوب الا من هذا الوجه . وابو سورة هو ابن اخي ابي ايوب يضعف في الحديث ضعفه يحيى بن معين جدا قال وسمعت محمد بن اسماعيل يقول ابو سورة هذا منكر الحديث يروي مناكير عن ابي ايوب لا يتابع عليها
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی جنت میں اس حال میں داخل ہوں گے کہ ان کے جسم پر بال نہیں ہوں گے، وہ امرد ہوں گے، سرمگیں آنکھوں والے ہوں گے اور تیس یا تینتیس سال کے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- قتادہ کے بعض شاگردوں نے اسے قتادہ سے مرسلا روایت کیا ہے۔ اور اسے مسند نہیں کیا ہے۔
حدثنا ابو هريرة، محمد بن فراس البصري حدثنا ابو داود، حدثنا عمران ابو العوام، عن قتادة، عن شهر بن حوشب، عن عبد الرحمن بن غنم، عن معاذ بن جبل، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " يدخل اهل الجنة الجنة جردا مردا مكحلين ابناء ثلاثين او ثلاث وثلاثين سنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وبعض اصحاب قتادة رووا هذا عن قتادة مرسلا ولم يسندوه
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتیوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جس میں سے اسّی صفیں اس امت کی اور چالیس دوسری امتوں کی ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث «عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً مروی ہے، ۳- بعض لوگوں نے سند یوں بیان کی ہے: «عن سليمان بن بريدة عن أبيه»، ۴- ابوسنان کی حدیث جو محارب بن دثار کے واسطہ سے مروی ہے، حسن ہے، ۵- ابوسنان کا نام ضرار بن مرۃ ہے اور ابوسنان شیبانی کا نام سعید بن سنان ہے، یہ بصریٰ ہیں، ۶ – اور ابوسنان شامی کا نام عیسیٰ بن سنان ہے، اور یہ قسم لی ہیں۔
حدثنا حسين بن يزيد الطحان الكوفي، حدثنا محمد بن فضيل، عن ضرار بن مرة، عن محارب بن دثار، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اهل الجنة عشرون وماية صف ثمانون منها من هذه الامة واربعون من ساير الامم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روي هذا الحديث عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا ومنهم من قال عن سليمان بن بريدة عن ابيه وحديث ابي سنان عن محارب بن دثار حسن . وابو سنان اسمه ضرار بن مرة وابو سنان الشيباني اسمه سعيد بن سنان وهو بصري وابو سنان الشامي اسمه عيسى بن سنان هو القسملي
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک خیمہ میں ہم تقریباً چالیس آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے ہم سے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ تم جنتیوں کی چوتھائی رہو؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ تم جنتیوں کی تہائی رہو؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ تم جنتیوں کے آدھا رہو؟ جنت میں صرف مسلمان ہی جائے گا اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کالے بیل کے چمڑے پر سفید بال یا سرخ بیل کے چمڑے پر کالا بال“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمران بن حصین اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، انبانا شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت عمرو بن ميمون، يحدث عن عبد الله بن مسعود، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في قبة نحوا من اربعين فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " اترضون ان تكونوا ربع اهل الجنة " . قالوا نعم . قال " اترضون ان تكونوا ثلث اهل الجنة " . قالوا نعم . قال " اترضون ان تكونوا شطر اهل الجنة ان الجنة لا يدخلها الا نفس مسلمة ما انتم في الشرك الا كالشعرة البيضاء في جلد الثور الاسود او كالشعرة السوداء في جلد الثور الاحمر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن عمران بن حصين وابي سعيد الخدري
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دروازہ جس سے میری امت جنت میں داخل ہو گی اس کی چوڑائی تیز رفتار گھوڑ سوار کے تین دن کی مسافت کے برابر ہو گی، پھر بھی دروازے پر ایسی بھیڑ بھاڑ ہو گی کہ ان کے کندھے اترنے کے قریب ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو وہ اسے نہیں جان سکے اور کہا: سالم بن عبداللہ کے واسطہ سے خالد بن ابی بکر کی کئی منکر احادیث آئی ہیں۔
حدثنا الفضل بن الصباح البغدادي، حدثنا معن بن عيسى القزاز، عن خالد بن ابي بكر، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " باب امتي الذي يدخلون منه الجنة عرضه مسيرة الراكب الجواد ثلاثا ثم انهم ليضغطون عليه حتى تكاد مناكبهم تزول " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . قال سالت محمدا عن هذا الحديث فلم يعرفه وقال لخالد بن ابي بكر مناكير عن سالم بن عبد الله
سعید بن مسیب سے روایت ہے وہ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ملے تو ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور تم کو جنت کے بازار میں اکٹھا کرے۔ سعید بن مسیب نے کہا: کیا اس میں بازار بھی ہے؟ ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: ہاں، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوں گے تو وہ اس میں اپنے اعمال کے مطابق اتریں گے، پھر دنیا کے دنوں میں سے جمعہ کے دن کے برابر انہیں اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے رب کی زیارت کریں گے، ان کے لیے عرش ظاہر ہو گا اور جنت کے ایک باغ میں نظر آئے گا، پھر ان کے لیے نور کے منبر، موتی کے منبر، یاقوت کے منبر، زمرد کے منبر، سونے کے منبر، اور چاندی کے منبر رکھے جائیں گے، ان کے ادنیٰ درجہ والے حالانکہ ان میں کوئی بھی ادنیٰ نہیں ہو گا مشک اور کافور کے ٹیلے پر بیٹھیں گے اور دوسرے منبر والوں کے بارے میں یہ نہیں خیال کریں گے کہ وہ ان سے اچھی جگہ بیٹھے ہیں۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، کیا تم سورج اور چودہویں رات کے چاند دیکھنے میں دھکم پیل کیے جاتے ہو؟“ ہم نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”اسی طرح تم اپنے رب کا دیدار کرنے میں دھکم پیل نہیں کرو گے، اور اس مجلس میں کوئی ایسا آدمی نہیں ہو گا جس کے روبرو اللہ تعالیٰ گفتگو نہ کرے، حتیٰ کہ ان میں سے ایک آدمی سے کہے گا: اے فلاں بن فلاں! کیا تمہیں وہ دن یاد ہے جب تم نے ایسا ایسا کیا تھا؟ پھر اسے اس کے بعض گناہ یاد دلائے گا جو دنیا میں اس نے کیے تھے تو وہ آدمی کہے گا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھے معاف نہیں کر دیا؟ اللہ تعالیٰ کہے گا: کیوں نہیں؟ میری مغفرت کے سبب ہی تم اس مقام پر ہو۔ وہ سب اسی حال میں ہوں گے کہ اوپر سے انہیں ایک بدلی ڈھانپ لے گی اور ان پر ایسی خوشبو برسائے گی کہ اس طرح کی خوشبو انہیں کبھی نہیں ملی ہو گی اور ہمارا رب تبارک و تعالیٰ کہے گا: اس کرامت اور انعام کی طرف جاؤ جو ہم نے تمہارے لیے تیار کر رکھی ہے، اور اس میں سے جو چاہو لو، چنانچہ ہم ایک ایسے بازار میں آئیں گے جسے فرشتے گھیرے ہوں گے اس میں ایسی چیزیں ہوں گی کہ اس طرح نہ کبھی آنکھوں نے دیکھی ہو گی نہ کانوں نے سنا ہو گا اور نہ کبھی دلوں میں اس کا خیال آیا ہو گا، ہم جو چاہیں گے ہمارے پاس لایا جائے گا، اس میں خرید و فروخت نہیں ہو گی اور اسی بازار میں جنتی ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے“، آپ نے فرمایا: ”ایک بلند مرتبہ والا آدمی اپنے سے کم رتبہ والے کی طرف متوجہ ہو گا اور اس سے ملاقات کرے گا ( حالانکہ حقیقت میں اس میں سے کوئی بھی کم مرتبے والا نہیں ہو گا ) تو اسے ( ادنیٰ مرتبے والے کو ) اس کا لباس دیکھ کر عجیب سا لگے گا پھر اس کی آخری گفتگو ختم بھی نہیں ہو گی کہ اسے محسوس ہو گا کہ اس کا لباس اس سے بھی اچھا ہے اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ جنت میں کسی کا مغموم ہونا مناسب نہیں ہے۔ پھر ہم ( جنتی ) اپنے گھروں کی طرف واپس جائیں گے اور اپنی بیویوں سے ملیں گے تو وہ کہیں گی: خوش آمدید! آپ ایسا حسن و جمال لے کر آئے ہیں جو اس سے کہیں بہتر ہے جب آپ ہم سے جدا ہوئے تھے، تو وہ آدمی کہے گا: آج ہم اپنے رب جبار کے ساتھ بیٹھے تھے اور ہمارا حق ہے کہ ہم اسی طرح لوٹیں جس طرح لوٹے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- ـ سوید بن عمرو نے بھی اوزاعی سے اس حدیث کا بعض حصہ روایت کیا ہے۔
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک ایسا بازار ہے جس میں خرید و فروخت نہیں ہو گی، البتہ اس میں مرد اور عورتوں کی صورتیں ہیں، جب آدمی کسی صورت کو پسند کرے گا تو وہ اس میں داخل ہو جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، وهناد، قالا حدثنا ابو معاوية، حدثنا عبد الرحمن بن اسحاق، عن النعمان بن سعد، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان في الجنة لسوقا ما فيها شراء ولا بيع الا الصور من الرجال والنساء فاذا اشتهى الرجل صورة دخل فيها " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب
جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودہویں رات کے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”تم لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو، اسے دیکھنے میں کوئی مزاحمت اور دھکم پیل نہیں ہو گی۔ اگر تم سے ہو سکے کہ سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے کے بعد کی نماز ( فجر اور مغرب ) میں مغلوب نہ ہو تو ایسا کرو، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: «سبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب» ”سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے اپنے رب کی تسبیح تعریف کے ساتھ بیان کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن جرير بن عبد الله البجلي، قال كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فنظر الى القمر ليلة البدر فقال " انكم ستعرضون على ربكم فترونه كما ترون هذا القمر لا تضامون في رويته فان استطعتم ان لا تغلبوا على صلاة قبل طلوع الشمس وصلاة قبل غروبها فافعلوا " . ثم قرا: (سبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب ) قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
صہیب رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «للذين أحسنوا الحسنى وزيادة» ( یونس: ۲۶ ) کے بارے میں فرمایا: ”جب جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا: اللہ سے تمہیں ایک اور چیز ملنے والی ہے، وہ کہیں گے: کیا اللہ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا، ہمیں جہنم سے نجات نہیں دی، اور ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں، پھر حجاب اٹھ جائے گا“، آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے انہیں کوئی ایسی چیز نہیں دی جو ان کے نزدیک اللہ کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو صرف حماد بن سلمہ نے مسند اور مرفوع کیا ہے، ۲- سلیمان بن مغیرہ اور حماد بن زید نے اس حدیث کو ثابت بنانی کے واسطہ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ان کے اپنے قول کی حیثیت سے روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت البناني، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن صهيب، عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله: (للذين احسنوا الحسنى وزيادة ) قال " اذا دخل اهل الجنة الجنة نادى مناد ان لكم عند الله موعدا . قالوا الم يبيض وجوهنا وينجنا من النار ويدخلنا الجنة قالوا بلى . قال فيكشف الحجاب قال فوالله ما اعطاهم شييا احب اليهم من النظر اليه " . قال ابو عيسى هذا حديث انما اسنده حماد بن سلمة ورفعه . وروى سليمان بن المغيرة وحماد بن زيد هذا الحديث عن ثابت البناني عن عبد الرحمن بن ابي ليلى قوله
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے کم تر درجے کا جنتی وہ ہو گا جو اپنے باغات، بیویوں، نعمتوں، خادموں اور تختوں کی طرف دیکھے گا جو ایک ہزار سال کی مسافت پر مشتمل ہوں گے، اور اللہ کے پاس سب سے مکرم وہ ہو گا جو اللہ کے چہرے کی طرف صبح و شام دیکھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة» ”اس دن بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے“ ( القیامۃ: ۲۲، ۲۳ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث کئی سندوں سے اسرائیل کے واسطہ سے جسے وہ ثویر سے، اور ثویر ابن عمر سے روایت کرتے ہیں مرفوعاً آئی ہے۔ جب کہ اسے عبدالملک بن جبر نے ثویر کے واسطہ سے ابن عمر سے موقوفاً روایت کیا ہے، اور عبیداللہ بن اشجعی نے سفیان سے، سفیان نے ثویر سے، ثویر نے مجاہد سے اور مجاہد نے ابن عمر سے ان کے اپنے قول کی حیثیت سے اسے غیر مرفوع روایت کیا ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرني شبابة، عن اسراييل، عن ثوير، قال سمعت ابن عمر، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان ادنى اهل الجنة منزلة لمن ينظر الى جنانه وازواجه ونعيمه وخدمه وسرره مسيرة الف سنة واكرمهم على الله من ينظر الى وجهه غدوة وعشية " . ثم قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم: (وجوه يوميذ ناضرة * الى ربها ناظرة ) . قال ابو عيسى وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن اسراييل عن ثوير عن ابن عمر مرفوع . ورواه عبد الملك بن ابجر عن ثوير عن ابن عمر موقوف . وروى عبيد الله الاشجعي، عن سفيان، عن ثوير، عن مجاهد، عن ابن عمر، قوله ولم يرفعه حدثنا بذلك ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا عبيد الله الاشجعي، عن سفيان، عن ثوير، عن مجاهد، عن ابن عمر، نحوه ولم يرفعه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم چودہویں رات کا چاند دیکھنے میں مزاحمت اور دھکم پیل کرتے ہو؟ کیا تم سورج کو دیکھنے میں مزاحمت اور دھکم پیل کرتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح چودہویں رات کے چاند کو دیکھتے ہو، اس کو دیکھنے میں کوئی مزاحمت اور دھکم پیل نہیں کرو گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- یحییٰ بن عیسیٰ رملی اور کئی لوگوں نے اسے اسی طرح «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، عبداللہ بن ادریس نے اسے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ۳- ابن ادریس کی حدیث جو اعمش کے واسطہ سے مروی ہے غیر محفوظ ہے، اور ابوصالح کی حدیث جو ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے، ۴- سہیل بن ابی صالح نے اسے اسی طرح اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ یہ حدیث ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سند سے اسی کے مثل مروی ہے، اور وہ صحیح حدیث ہے۔
حدثنا محمد بن طريف الكوفي، حدثنا جابر بن نوح الحماني، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تضامون في روية القمر ليلة البدر وتضامون في روية الشمس " . قالوا لا . قال " فانكم سترون ربكم كما ترون القمر ليلة البدر لا تضامون في رويته " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وهكذا روى يحيى بن عيسى الرملي وغير واحد عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروى عبد الله بن ادريس عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم . وحديث ابن ادريس عن الاعمش غير محفوظ وحديث ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم اصح وهكذا رواه سهيل بن ابي صالح عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وقد روي عن ابي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير هذا الوجه مثل هذا الحديث وهو حديث صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جنت والوں سے کہے گا: اے جنت والو! وہ کہیں گے: لبیک اور سعدیک اے ہمارے رب! اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا تم راضی ہو گئے؟ وہ کہیں گے: ہم کیوں نہیں راضی ہوں گے جب کہ تو نے ہمیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو تو نے اپنی کسی مخلوق کو نہیں دی ہیں، اللہ تعالیٰ کہے گا: میں تمہیں اس سے بھی زیادہ بہتر چیز دوں گا۔ وہ پوچھیں گے: اس سے بہتر کون سی چیز ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہارے اوپر اپنی رضا مندی نازل کروں گا اور تم سے کبھی نہیں ناراض ہوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا مالك بن انس، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله يقول لاهل الجنة يا اهل الجنة . فيقولون لبيك ربنا وسعديك . فيقول هل رضيتم فيقولون ما لنا لا نرضى وقد اعطيتنا ما لم تعط احدا من خلقك . فيقول انا اعطيكم افضل من ذلك . قالوا واى شيء افضل من ذلك قال احل عليكم رضواني فلا اسخط عليكم ابدا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرق مراتب کے باوجود ایک دوسرے کو جنتی اسی طرح نظر آئیں گے جیسے مشرقی یا مغربی ستارہ نظر آتا ہے، جو افق میں نکلنے اور ڈوبنے والا ہے“۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ انبیاء ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا فليح بن سليمان، عن هلال بن علي، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان اهل الجنة ليتراءون في الغرفة كما تتراءون الكوكب الشرقي او الكوكب الغربي الغارب في الافق او الطالع في تفاضل الدرجات " . فقالوا يا رسول الله اوليك النبيون . قال " بلى والذي نفسي بيده واقوام امنوا بالله ورسوله وصدقوا المرسلين " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو ایک وسیع اور ہموار زمین میں جمع کرے گا، پھر اللہ رب العالمین ان کے سامنے اچانک آئے گا اور کہے گا: کیوں نہیں ہر آدمی اس چیز کے پیچھے چلا جاتا ہے جس کی وہ عبادت کرتا تھا؟ چنانچہ صلیب پوجنے والوں کے سامنے ان کی صلیب کی صورت بن جائے گی، بت پوجنے والوں کے سامنے بتوں کی صورت بن جائے گی اور آگ پوجنے والوں کے سامنے آگ کی صورت بن جائے گی، پھر وہ لوگ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے لگ جائیں گے اور مسلمان ٹھہرے رہیں گے، پھر رب العالمین ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: تم بھی لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں چلے جاتے؟ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہمارا رب اللہ تعالیٰ ہے، ہم یہیں رہیں گے یہاں تک کہ ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں حکم دے گا اور ان کو ثابت قدم رکھے گا اور چھپ جائے گا، پھر آئے گا اور کہے گا: تم بھی لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں چلے جاتے؟ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہمارا رب اللہ ہے اور ہماری جگہ یہی ہے یہاں تک کہ ہم اپنے رب کو دیکھ لیں، اللہ تعالیٰ انہیں حکم دے گا اور انہیں ثابت قدم رکھے گا، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”کیا چودہویں رات کے چاند دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت اور دھکم پیل ہوتی ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ کے دیکھنے میں اس وقت کوئی مزاحمت اور دھکم پیل نہیں کرو گے۔ پھر اللہ تعالیٰ چھپ جائے گا پھر جھانکے گا اور ان سے اپنی شناخت کرائے گا، پھر کہے گا: میں تمہارا رب ہوں، میرے پیچھے آؤ، چنانچہ مسلمان کھڑے ہوں گے اور پل صراط قائم کیا جائے گا، اس پر سے مسلمان تیز رفتار گھوڑے اور سوار کی طرح گزریں گے اور گزرتے ہوئے ان سے یہ کلمات ادا ہوں گے «سلم سلم» ”سلامت رکھ، سلامت رکھ“، صرف جہنمی باقی رہ جائیں گے تو ان میں سے ایک گروہ کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پھر پوچھا جائے گا: کیا تو بھر گئی؟ جہنم کہے گی: «هل من مزيد» اور زیادہ، پھر اس میں دوسرا گروہ پھینکا جائے گا اور پوچھا جائے گا: کیا تو بھر گئی؟ وہ کہے گی: «هل من مزيد» اور زیادہ، یہاں تک کہ جب تمام لوگ پھینک دیے جائیں گے تو رحمن اس میں اپنا پیر ڈالے گا اور جہنم کا ایک حصہ دوسرے میں سمٹ جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ کہے گا: بس۔ جہنم کہے گی: «قط قط» بس، بس۔ جب اللہ تعالیٰ جنتیوں کو جنت میں اور جہنمیوں کو جہنم میں داخل کر دے گا، تو موت کو کھینچتے ہوئے اس دیوار تک لایا جائے گا جو جنت اور جہنم کے درمیان ہے، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! تو وہ ڈرتے ہوئے جھانکیں گے، پھر کہا جائے گا: اے جہنمیو! تو وہ شفاعت کی امید میں خوش ہو کر جھانکیں گے، پھر جنتیوں اور جہنمیوں سے کہا جائے گا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ تو یہ بھی کہیں گے اور وہ بھی کہیں گے: ہم نے اسے پہچان لیا، یہ وہی موت ہے جو ہمارے اوپر وکیل تھی، پھر وہ جنت اور جہنم کی بیچ والی دیوار پر لٹا کر یکبارگی ذبح کر دی جائے گی، پھر کہا جائے گا: اے جنتیو! ہمیشہ ( جنت میں ) رہنا ہے موت نہیں آئے گی۔ اے جہنمیو! ہمیشہ ( جہنم میں ) رہنا ہے موت نہیں آئے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی بہت سی احادیث مروی ہیں جس میں دیدار الٰہی کا ذکر ہے کہ لوگ اپنے رب کو دیکھیں گے، قدم اور اسی طرح کی چیزوں کا بھی ذکر ہے، ۳- اس سلسلے میں ائمہ اہل علم جیسے سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک، ابن عیینہ اور وکیع وغیرہ کا مسلک یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کی روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ حدیثیں آئی ہیں اور ہم اس پر ایمان لاتے ہیں، لیکن صفات باری تعالیٰ کی کیفیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جائے گا، محدثین کا مسلک یہ یہی کہ یہ چیزیں ویسی ہی روایت کی جائیں گی جیسی وارد ہوئی ہیں، ان کی نہ ( باطل ) تفسیر کی جائے گی نہ اس میں کوئی وہم پیدا کیا جائے گا، اور نہ ان کی کیفیت وکنہ کے بارے میں پوچھا جائے گا، اہل علم نے اسی مسلک کو اختیار کیا ہے اور لوگ اسی کی طرف گئے ہیں، ۴- حدیث کے اندر «فيعرفهم نفسه» کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے تجلی فرمائے گا۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: ”قیامت کے دن موت کو چتکبرے مینڈھے کی طرح لایا جائے گا اور جنت و جہنم کے درمیان کھڑی کی جائے گی پھر وہ ذبح کی جائے گی، اور جنتی و جہنمی دیکھ رہے ہوں گے، سو اگر کوئی خوشی سے مرنے والا ہوتا تو جنتی مر جاتے اور اگر کوئی غم سے مرنے والا ہوتا تو جہنمی مر جاتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابي، عن فضيل بن مرزوق، عن عطية، عن ابي سعيد، يرفعه قال " اذا كان يوم القيامة اتي بالموت كالكبش الاملح فيوقف بين الجنة والنار فيذبح وهم ينظرون فلو ان احدا مات فرحا لمات اهل الجنة ولو ان احدا مات حزنا لمات اهل النار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھری ہوئی ہے اور جہنم شہوتوں سے گھری ہوئی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا عمرو بن عاصم، اخبرنا حماد بن سلمة، عن حميد، وثابت، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " حفت الجنة بالمكاره وحفت النار بالشهوات " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ جنت اور جہنم کو پیدا کر چکا تو جبرائیل کو جنت کی طرف بھیجا اور کہا: جنت اور اس میں جنتیوں کے لیے جو کچھ ہم نے تیار کر رکھا ہے، اسے جا کر دیکھو“، آپ نے فرمایا: ”وہ آئے اور جنت کو اور جنتیوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو تیار کر رکھا ہے اسے دیکھا:“ آپ نے فرمایا: ”پھر اللہ کے پاس واپس گئے اور عرض کیا: تیری عزت کی قسم! جو بھی اس کے بارے میں سن لے اس میں ضرور داخل ہو گا، پھر اللہ نے حکم دیا تو وہ ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھیر دی گئی، اور اللہ نے کہا: اس کی طرف دوبارہ جاؤ اور اس میں جنتیوں کے لیے ہم نے جو تیار کیا ہے اسے دیکھو“۔ آپ نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام جنت کی طرف دوبارہ گئے تو وہ ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے گھری ہوئی تھی چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر آئے اور عرض کیا: مجھے اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی داخل ہی نہیں ہو گا، اللہ نے کہا: جہنم کی طرف جاؤ اور جہنم کو اور جو کچھ جہنمیوں کے لیے میں نے تیار کیا ہے اسے جا کر دیکھو، ( انہوں نے دیکھا کہ ) اس کا ایک حصہ دوسرے پر چڑھ رہا ہے، وہ اللہ کے پاس آئے اور عرض کیا: تیری عزت کی قسم! اس کے بارے میں جو بھی سن لے اس میں داخل نہیں ہو گا۔ پھر اللہ نے حکم دیا تو وہ شہوات سے گھیر دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے کہا: اس کی طرف دوبارہ جاؤ، وہ اس کی طرف دوبارہ گئے اور ( واپس آ کر ) عرض کیا: تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس سے کوئی نجات نہیں پائے گا بلکہ اس میں داخل ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو، حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لما خلق الله الجنة والنار ارسل جبريل الى الجنة فقال انظر اليها والى ما اعددت لاهلها فيها قال فجاءها ونظر اليها والى ما اعد الله لاهلها فيها قال فرجع اليه قال فوعزتك لا يسمع بها احد الا دخلها . فامر بها فحفت بالمكاره فقال ارجع اليها فانظر الى ما اعددت لاهلها فيها قال فرجع اليها فاذا هي قد حفت بالمكاره فرجع اليه فقال وعزتك لقد خفت ان لا يدخلها احد . قال اذهب الى النار فانظر اليها والى ما اعددت لاهلها فيها . فاذا هي يركب بعضها بعضا فرجع اليه فقال وعزتك لا يسمع بها احد فيدخلها . فامر بها فحفت بالشهوات فقال ارجع اليها . فرجع اليها فقال وعزتك لقد خشيت ان لا ينجو منها احد الا دخلها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت اور جہنم کے درمیان بحث و تکرار ہوئی، جنت نے کہا: میرے اندر کمزور اور مسکین داخل ہوں گے، جہنم نے کہا: میرے اندر ظالم اور متکبر داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ( فیصلہ کرتے ہوئے ) جہنم سے کہا: تو میرا عذاب ہے اور میں تیرے ذریعہ جس سے چاہوں گا انتقام لوں گا اور جنت سے کہا: تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعہ جس پر چاہوں گا رحم کروں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احتجت الجنة والنار فقالت الجنة يدخلني الضعفاء والمساكين . وقالت النار يدخلني الجبارون والمتكبرون . فقال للنار انت عذابي انتقم بك ممن شيت . وقال للجنة انت رحمتي ارحم بك من شيت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کم درجے کا جتنی وہ ہے جس کے لیے اسی ہزار خادم اور بہتر بیویاں ہوں گی۔ اس کے لیے موتی، زمرد اور یاقوت کا خیمہ نصب کیا جائے گا جو مقام جابیہ سے صنعاء ( یمن ) تک کے برابر ہو گا“۔
حدثنا سويد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا رشدين بن سعد، حدثني عمرو بن الحارث، عن دراج، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ادنى اهل الجنة الذي له ثمانون الف خادم واثنتان وسبعون زوجة وتنصب له قبة من لولو وزبرجد وياقوت كما بين الجابية الى صنعاء " . وبهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من مات من اهل الجنة من صغير او كبير يردون بني ثلاثين في الجنة لا يزيدون عليها ابدا وكذلك اهل النار " . وبهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان عليهم التيجان ان ادنى لولوة منها لتضيء ما بين المشرق والمغرب " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث رشدين بن سعد
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الحميد بن حبيب بن ابي العشرين، حدثنا الاوزاعي، حدثنا حسان بن عطية، عن سعيد بن المسيب، انه لقي ابا هريرة فقال ابو هريرة اسال الله ان يجمع، بيني وبينك في سوق الجنة . فقال سعيد افيها سوق قال نعم اخبرني رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اهل الجنة اذا دخلوها نزلوا فيها بفضل اعمالهم ثم يوذن في مقدار يوم الجمعة من ايام الدنيا فيزورون ربهم ويبرز لهم عرشه ويتبدى لهم في روضة من رياض الجنة فتوضع لهم منابر من نور ومنابر من لولو ومنابر من ياقوت ومنابر من زبرجد ومنابر من ذهب ومنابر من فضة ويجلس ادناهم وما فيهم من دني على كثبان المسك والكافور وما يرون ان اصحاب الكراسي بافضل منهم مجلسا " . قال ابو هريرة قلت يا رسول الله وهل نرى ربنا قال " نعم قال هل تتمارون في روية الشمس والقمر ليلة البدر " . قلنا لا . قال " كذلك لا تتمارون في روية ربكم ولا يبقى في ذلك المجلس رجل الا حاضره الله محاضرة حتى يقول للرجل منهم يا فلان ابن فلان اتذكر يوم قلت كذا وكذا فيذكره ببعض غدراته في الدنيا فيقول يا رب افلم تغفر لي فيقول بلى فبسعة مغفرتي بلغت منزلتك هذه . فبينما هم على ذلك غشيتهم سحابة من فوقهم فامطرت عليهم طيبا لم يجدوا مثل ريحه شييا قط ويقول ربنا تبارك وتعالى قوموا الى ما اعددت لكم من الكرامة فخذوا ما اشتهيتم . قال فناتي سوقا قد حفت به الملايكة فيه ما لم تنظر العيون الى مثله ولم تسمع الاذان ولم يخطر على القلوب فيحمل لنا ما اشتهينا ليس يباع فيها ولا يشترى وفي ذلك السوق يلقى اهل الجنة بعضهم بعضا قال فيقبل الرجل ذو المنزلة المرتفعة فيلقى من هو دونه وما فيهم دني فيروعه ما يرى عليه من اللباس فما ينقضي اخر حديثه حتى يتخيل اليه ما هو احسن منه وذلك انه لا ينبغي لاحد ان يحزن فيها ثم ننصرف الى منازلنا فتتلقانا ازواجنا فيقلن مرحبا واهلا لقد جيت وان بك من الجمال افضل مما فارقتنا عليه . فنقول انا جالسنا اليوم ربنا الجبار ويحقنا ان ننقلب بمثل ما انقلبنا " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه وقد روى سويد بن عمرو عن الاوزاعي شييا من هذا الحديث
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يجمع الله الناس يوم القيامة في صعيد واحد ثم يطلع عليهم رب العالمين فيقول الا يتبع كل انسان ما كانوا يعبدونه . فيمثل لصاحب الصليب صليبه ولصاحب التصاوير تصاويره ولصاحب النار ناره فيتبعون ما كانوا يعبدون ويبقى المسلمون فيطلع عليهم رب العالمين فيقول الا تتبعون الناس فيقولون نعوذ بالله منك نعوذ بالله منك الله ربنا هذا مكاننا حتى نرى ربنا . وهو يامرهم ويثبتهم ثم يتوارى ثم يطلع فيقول الا تتبعون الناس فيقولون نعوذ بالله منك نعوذ بالله منك الله ربنا وهذا مكاننا حتى نرى ربنا . وهو يامرهم ويثبتهم " . قالوا وهل نراه يا رسول الله قال " وهل تضارون في روية القمر ليلة البدر " . قالوا لا يا رسول الله . قال " فانكم لا تضارون في رويته تلك الساعة ثم يتوارى ثم يطلع فيعرفهم نفسه ثم يقول انا ربكم فاتبعوني . فيقوم المسلمون ويوضع الصراط فيمرون عليه مثل جياد الخيل والركاب وقولهم عليه سلم سلم . ويبقى اهل النار فيطرح منهم فيها فوج ثم يقال هل امتلات فتقول هل من مزيد . ثم يطرح فيها فوج فيقال هل امتلات . فتقول هل من مزيد . حتى اذا اوعبوا فيها وضع الرحمن قدمه فيها وازوي بعضها الى بعض ثم قال قط قالت قط قط فاذا ادخل الله اهل الجنة الجنة واهل النار النار قال اتي بالموت ملببا فيوقف على السور الذي بين اهل الجنة واهل النار ثم يقال يا اهل الجنة . فيطلعون خايفين ثم يقال يا اهل النار . فيطلعون مستبشرين يرجون الشفاعة فيقال لاهل الجنة واهل النار هل تعرفون هذا فيقولون هولاء وهولاء قد عرفناه هو الموت الذي وكل بنا . فيضجع فيذبح ذبحا على السور الذي بين الجنة والنار ثم يقال يا اهل الجنة خلود لا موت ويا اهل النار خلود لا موت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . - وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم روايات كثيرة مثل هذا ما يذكر فيه امر الروية ان الناس يرون ربهم وذكر القدم وما اشبه هذه الاشياء والمذهب في هذا عند اهل العلم من الايمة مثل سفيان الثوري ومالك بن انس وابن المبارك وابن عيينة ووكيع وغيرهم انهم رووا هذه الاشياء ثم قالوا تروى هذه الاحاديث ونومن بها ولا يقال كيف وهذا الذي اختاره اهل الحديث ان تروى هذه الاشياء كما جاءت ويومن بها ولا تفسر ولا تتوهم ولا يقال كيف وهذا امر اهل العلم الذي اختاروه وذهبوا اليه . ومعنى قوله في الحديث " فيعرفهم نفسه " . يعني يتجلى لهم