Loading...

Loading...
کتب
۸ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ کو خریدنے ( اور آزاد کرنے ) کا ارادہ کیا تو بریرہ کے گھر والوں نے ولاء ( میراث ) کی شرط رکھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء ( میراث ) کا حق اسی کو حاصل ہے جو قیمت ادا کرے یا آزاد کرنے کی نعمت کا مالک ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حدثنا بندار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، انها ارادت ان تشتري، بريرة فاشترطوا الولاء فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الولاء لمن اعطى الثمن او لمن ولي النعمة " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن عمر وابي هريرة . وهذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم اسے صرف عبداللہ بن دینار کے واسطہ سے ابن عمر کی روایت سے جانتے ہیں، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے ولاء بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ شعبہ، سفیان ثوری اور مالک بن انس نے بھی یہ حدیث عبداللہ بن دینار سے روایت ہے۔ شعبہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میری خواہش تھی کہ عبداللہ بن دینار اس حدیث کو بیان کرتے وقت مجھے اجازت دے دیتے اور میں کھڑا ہو کر ان کا سر چوم لیتا، ۳- یحییٰ بن سلیم نے اس حدیث کی روایت کرتے وقت سند یوں بیان کی ہے «عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» لیکن اس سند میں وہم ہے اور یہ وہم یحییٰ بن سلیم کی جانب سے ہوا ہے، صحیح سند یوں ہے «عن عبيد الله بن عمر عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» ۱؎ عبیداللہ بن عمر سے اسی طرح کئی لوگوں نے روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبیداللہ بن دینار اس حدیث کی روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، حدثنا عبد الله بن دينار، سمع عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الولاء وعن هبته . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح لا نعرفه الا من حديث عبد الله بن دينار عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم انه نهى عن بيع الولاء وعن هبته وقد رواه شعبة وسفيان الثوري ومالك بن انس عن عبد الله بن دينار . ويروى عن شعبة قال لوددت ان عبد الله بن دينار حين حدث بهذا الحديث اذن لي حتى كنت اقوم اليه فاقبل راسه . وروى يحيى بن سليم هذا الحديث عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم وهو وهم وهم فيه يحيى بن سليم والصحيح عن عبيد الله بن عمر عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم . هكذا رواه غير واحد عن عبيد الله بن عمر . قال ابو عيسى وتفرد عبد الله بن دينار بهذا الحديث
یزید بن شریک تیمی کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے ہمارے درمیان خطبہ دیا اور کہا: جو کہتا ہے کہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور اس صحیفہ – جس کے اندر اونٹوں کی عمر اور جراحات ( زخموں ) کے احکام ہیں – کے علاوہ کوئی اور چیز ہے جسے ہم پڑھتے ہیں تو وہ جھوٹ کہتا ہے ۱؎ علی رضی الله عنہ نے کہا: اس صحیفہ میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیر سے لے کر ثور تک مدینہ حرم ہے ۲؎ جو شخص اس کے اندر کوئی بدعت ایجاد کرے یا بدعت ایجاد کرنے والے کو پناہ دے، اس پر اللہ، اس کے فرشتے اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نہ کوئی فرض عبادت قبول کرے گا اور نہ نفل اور جو شخص دوسرے کے باپ کی طرف اپنی نسبت کرے یا اپنے آزاد کرنے والے کے علاوہ کو اپنا مالک بنائے اس کے اوپر اللہ، اس کے فرشتے اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اس کی نہ فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل، مسلمانوں کی طرف سے دی جانے والی پناہ ایک ہے ان کا معمولی شخص بھی اس پناہ کا مالک ہے“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض لوگوں نے «عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد عن علي» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۳- یہ حدیث کئی سندوں سے علی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، قال خطبنا علي فقال من زعم ان عندنا شييا نقروه الا كتاب الله وهذه الصحيفة صحيفة فيها اسنان الابل واشياء من الجراحات فقد كذب وقال فيها قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المدينة حرام ما بين عير الى ثور فمن احدث فيها حدثا او اوى محدثا فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا ومن ادعى الى غير ابيه او تولى غير مواليه فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل وذمة المسلمين واحدة يسعى بها ادناهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى وروى بعضهم عن الاعمش عن ابراهيم التيمي عن الحارث بن سويد عن علي نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی فزارہ کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیوی سے ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ نے پوچھا: ”وہ کس رنگ کے ہیں؟“ اس نے کہا: سرخ۔ آپ نے پوچھا: ”کیا اس میں کوئی مٹمیلے رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، اس میں ایک خاکستری رنگ کا بھی ہے۔ آپ نے پوچھا: ”وہ کہاں سے آیا؟“ اس نے کہا: شاید وہ کوئی خاندانی رگ کھینچ لایا ہو گا ۱؎، آپ نے فرمایا: ”اس لڑکے نے بھی شاید کوئی خاندانی رگ کھینچ لائی ہو اور کالے رنگ کا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد الجبار بن العلاء بن عبد الجبار العطار، وسعيد بن عبد الرحمن المخزومي، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال جاء رجل من بني فزارة الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان امراتي ولدت غلاما اسود . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هل لك من ابل " . قال نعم . قال " فما الوانها " . قال حمر . قال " فهل فيها اورق " . قال نعم ان فيها لورقا . قال " انى اتاها ذلك " . قال لعل عرقا نزعها . قال " فهذا لعل عرقا نزعه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوشی خوشی ان کے پاس تشریف لائے، آپ کے چہرے کے خطوط چمک رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے دیکھا نہیں، ابھی ابھی مجزز نے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو دیکھ کر کہا ہے کہ یہ قدم ( یعنی ان کا رشتہ ) ایک دوسرے سے ہیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن عیینہ نے یہ حدیث «عن الزهري عن عروة عن عائشة» کی سند سے روایت کی ہے۔ اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ مجزز، زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی الله عنہ کے پاس سے گزرا، اس وقت وہ دونوں اپنا سر ڈھانپے ہوئے تھے اور ان کے پیر کھلے ہوئے تھے تو اس نے کہا: ان قدموں ( کا رشتہ ) ایک دوسرے سے ہیں، ۳- اسی طرح ہم سے سعید بن عبدالرحمٰن اور کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن سفيان بن عيينة هذا الحديث عن الزهري عن عروة عن عائشة» کی سند سے بیان کی ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۴- بعض اہل علم نے اس حدیث سے قیافہ کے معتبر ہونے پر استدلال کیا ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو، اس لیے کہ ہدیہ دل کی کدورت کو دور کرتا ہے، کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے ہدیہ کو حقیر نہ سمجھے اگرچہ وہ بکری کے کھر کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- ابومعشر کا نام نجیح ہے وہ بنی ہاشم کے ( آزاد کردہ ) غلام ہیں، ان کے حافظے کے تعلق سے بعض اہل علم نے ان کے بارے میں کلام کیا ہے
حدثنا ازهر بن مروان البصري، حدثنا محمد بن سواء، حدثنا ابو معشر، عن سعيد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تهادوا فان الهدية تذهب وحر الصدر ولا تحقرن جارة لجارتها ولو شق فرسن شاة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه . وابو معشر اسمه نجيح مولى بني هاشم وقد تكلم فيه بعض اهل العلم من قبل حفظه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہدیہ دے کر پھر واپس لے لے اس کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا رہے یہاں تک کہ جب وہ آسودہ ہو جائے تو قے کرے، پھر اسے چاٹ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابن عباس اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسحاق بن يوسف الازرق، حدثنا حسين المكتب، عن عمرو بن شعيب، عن طاوس، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " مثل الذي يعطي العطية ثم يرجع فيها كالكلب اكل حتى اذا شبع قاء ثم عاد فرجع في قييه " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن عباس وعبد الله بن عمرو
عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ کوئی ہدیہ دے، پھر اسے واپس لے لے، سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دیتا ہے ( وہ اسے واپس لے سکتا ہے ) اور جو شخص کوئی عطیہ دے پھر واپس لے لے اس کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا رہے یہاں تک کہ جب آسودہ ہو جائے تو قے کرے، پھر اپنا قے کھا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شافعی کہتے ہیں: کسی ہدیہ دینے والے کے لیے جائز نہیں کہ ہدیہ واپس لے لے سوائے باپ کے، کیونکہ اس کے لیے جائز ہے کہ جو ہدیہ اپنے بیٹے کو دیا ہے اسے واپس لے لے، انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، حدثني طاوس، عن ابن عمر، وابن، عباس يرفعان الحديث قال " لا يحل للرجل ان يعطي عطية ثم يرجع فيها الا الوالد فيما يعطي ولده ومثل الذي يعطي العطية ثم يرجع فيها كمثل الكلب اكل حتى اذا شبع قاء ثم عاد في قييه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال الشافعي لا يحل لمن وهب هبة ان يرجع فيها الا الوالد فله ان يرجع فيما اعطى ولده . واحتج بهذا الحديث