احادیث
#2132
سنن ترمذی - Wala' And Gifts
عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ کوئی ہدیہ دے، پھر اسے واپس لے لے، سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دیتا ہے ( وہ اسے واپس لے سکتا ہے ) اور جو شخص کوئی عطیہ دے پھر واپس لے لے اس کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا رہے یہاں تک کہ جب آسودہ ہو جائے تو قے کرے، پھر اپنا قے کھا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شافعی کہتے ہیں: کسی ہدیہ دینے والے کے لیے جائز نہیں کہ ہدیہ واپس لے لے سوائے باپ کے، کیونکہ اس کے لیے جائز ہے کہ جو ہدیہ اپنے بیٹے کو دیا ہے اسے واپس لے لے، انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، حدثني طاوس، عن ابن عمر، وابن، عباس يرفعان الحديث قال " لا يحل للرجل ان يعطي عطية ثم يرجع فيها الا الوالد فيما يعطي ولده ومثل الذي يعطي العطية ثم يرجع فيها كمثل الكلب اكل حتى اذا شبع قاء ثم عاد في قييه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال الشافعي لا يحل لمن وهب هبة ان يرجع فيها الا الوالد فله ان يرجع فيما اعطى ولده . واحتج بهذا الحديث
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Wala' And Gifts
- Hadith Index
- #2132
- Book Index
- 9
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Sahih
