Loading...

Loading...
کتب
۹ احادیث
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال میں ایسا بیمار پڑا کہ موت کے قریب پہنچ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کو آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت مال ہے اور ایک لڑکی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے، کیا میں اپنے پورے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: دو تہائی مال کی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: آدھا مال کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”نہیں“، میں نے عرض کیا: ایک تہائی کی؟ آپ نے فرمایا: ”ایک تہائی کی وصیت کرو اور ایک تہائی بھی بہت ہے ۱؎، تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو یہ اس بات سے بہتر ہے کہ تم ان کو محتاج و غریب چھوڑ کر جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھیریں، تم جو بھی خرچ کرتے ہو اس پر تم کو ضرور اجر ملتا ہے، یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی جس کو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں تو اپنی ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ آپ نے فرمایا: ”تم میرے بعد زندہ رہ کر اللہ کی رضا مندی کی خاطر جو بھی عمل کرو گے اس کی وجہ سے تمہارے درجات میں بلندی اور اضافہ ہوتا جائے گا، شاید کہ تم میرے بعد زندہ رہو یہاں تک کہ تم سے کچھ قومیں نفع اٹھائیں گی اور دوسری نقصان اٹھائیں گی“ ۲؎، ( پھر آپ نے دعا کی ) ”اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت برقرار رکھ اور ایڑیوں کے بل انہیں نہ لوٹا دنیا“ لیکن بیچارے سعد بن خولہ جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افسوس کرتے تھے، ( ہجرت کے بعد ) مکہ ہی میں ان کی وفات ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سعد بن ابی وقاص سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کرنا آدمی کے لیے جائز نہیں ہے، ۴- بعض اہل علم ایک تہائی سے کم کی وصیت کرنے کو مستحب سمجھتے ہیں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک تہائی بھی زیادہ ہے“۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عامر بن سعد بن ابي وقاص، عن ابيه، قال مرضت عام الفتح مرضا اشفيت منه على الموت فاتاني رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني فقلت يا رسول الله ان لي مالا كثيرا وليس يرثني الا ابنتي افاوصي بمالي كله قال " لا " . قلت فثلثى مالي قال " لا " . قلت فالشطر قال " لا " . قلت فالثلث قال " الثلث والثلث كثير انك ان تدع ورثتك اغنياء خير من ان تدعهم عالة يتكففون الناس وانك لن تنفق نفقة الا اجرت فيها حتى اللقمة ترفعها الى في امراتك " . قال قلت يا رسول الله اخلف عن هجرتي قال " انك لن تخلف بعدي فتعمل عملا تريد به وجه الله الا ازددت به رفعة ودرجة ولعلك ان تخلف حتى ينتفع بك اقوام ويضر بك اخرون اللهم امض لاصحابي هجرتهم ولا تردهم على اعقابهم لكن البايس سعد ابن خولة يرثي له رسول الله صلى الله عليه وسلم ان مات بمكة " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن عباس . وهذا حديث حسن صحيح وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن سعد بن ابي وقاص . والعمل على هذا عند اهل العلم انه ليس للرجل ان يوصي باكثر من الثلث وقد استحب بعض اهل العلم ان ينقص من الثلث لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم " والثلث كثير
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد اور عورت ساٹھ سال تک اللہ کی اطاعت کرتے ہیں پھر ان کی موت کا وقت آتا ہے اور وہ وصیت کرنے میں ( ورثاء کو ) نقصان پہنچاتے ہیں ۱؎، جس کی وجہ سے ان دونوں کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے“، پھر ابوہریرہ نے «من بعد وصية يوصى بها أو دين غير مضار وصية من الله» سے «ذلك الفوز العظيم» ۲؎ تک آیت پڑھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- نصر بن علی جنہوں نے اشعث بن جابر سے روایت کی ہے وہ نصر بن علی جہضمی کے دادا ہیں۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا نصر بن علي، وهو جد هذا النصر حدثنا الاشعث بن جابر، عن شهر بن حوشب، عن ابي هريرة، انه حدثه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الرجل ليعمل والمراة بطاعة الله ستين سنة ثم يحضرهما الموت فيضاران في الوصية فتجب لهما النار " . ثم قرا على ابو هريرة : (من بعد وصية يوصى بها او دين غير مضار وصية من الله ) الى قوله : ( ذلك الفوز العظيم ) قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . ونصر بن علي الذي روى عن الاشعث بن جابر هو جد نصر بن علي الجهضمي
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کو یہ اس بات کا حق نہیں کہ وہ دو راتیں ایسی حالت میں گزارے کہ وہ کوئی وصیت کرنا چاہتا ہو اور اس کے پاس وصیت تحریری شکل میں موجود نہ ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث «عن الزهري عن سالم عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی طرح مروی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ما حق امري مسلم يبيت ليلتين وله ما يوصي فيه الا ووصيته مكتوبة عنده " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي عن الزهري عن سالم عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
طلحہ بن مصرف کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں ۱؎ میں نے پوچھا: پھر وصیت کیسے لکھی گئی اور آپ نے لوگوں کو کس چیز کا حکم دیا؟ ابن ابی اوفی نے کہا: آپ نے کتاب اللہ پر عمل پیرا ہونے کی وصیت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف مالک بن مغول کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو قطن، عمرو بن الهيثم البغدادي حدثنا مالك بن مغول، عن طلحة بن مصرف، قال قلت لابن ابي اوفى اوصى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا . قلت كيف كتبت الوصية وكيف امر الناس قال اوصى بكتاب الله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه الا من حديث مالك بن مغول
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، لڑکا ( ولدالزنا ) بستر والے کی طرف منسوب ہو گا ( نہ کہ زانی کی طرف ) ، اور زانی رجم کا مستحق ہے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسری طرف نسبت کی یا اپنے موالی کے علاوہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کیا اس پر قیامت کے دن تک جاری رہنے والی لعنت ہو، کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ ہمارے مالوں میں سب سے بہتر ہے“۔ ( یعنی اس کی زیادہ حفاظت ہونی چاہیئے ) پھر آپ نے فرمایا: ” «عارية» ( منگنی ) لی ہوئی چیز واپس لوٹائی جائے گی، «منحة» ۱؎ واپس کی جائے گی، قرض ادا کیا جائے گا، اور ضامن ذمہ دار ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوامامہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۳- اسماعیل بن عیاش کی وہ روایت جسے وہ اہل عراق اور اہل شام سے روایت کرنے میں منفرد ہیں، قوی نہیں ہے۔ اس لیے کہ انہوں نے ان سے منکر حدیثیں روایت کی ہیں، اہل شام سے ان کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا: ۴- احمد بن حنبل کہتے ہیں: اسماعیل بن عیاش حدیث روایت کرنے کے اعتبار سے بقیہ سے زیادہ صحیح ہیں، بقیہ نے ثقہ راویوں سے بہت سی منکر حدیثیں روایت کی ہیں، ۵- ابواسحاق فزاری کہتے ہیں: ثقہ راویوں کے سے بقیہ جو حدیثیں بیان کریں اسے لے لو اور اسماعیل بن عیاش کی حدیثیں مت لو، خواہ وہ ثقہ سے روایت کریں یا غیر ثقہ سے، ۶- اس باب میں عمرو بن خارجہ اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، وهناد، قالا حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا شرحبيل بن مسلم الخولاني، عن ابي امامة الباهلي، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم في خطبته عام حجة الوداع " ان الله قد اعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث الولد للفراش وللعاهر الحجر وحسابهم على الله ومن ادعى الى غير ابيه او انتمى الى غير مواليه فعليه لعنة الله التابعة الى يوم القيامة لا تنفق امراة من بيت زوجها الا باذن زوجها " . قيل يا رسول الله ولا الطعام قال " ذلك افضل اموالنا " . ثم قال " العارية موداة والمنحة مردودة والدين مقضي والزعيم غارم " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عمرو بن خارجة وانس بن مالك . وهو حديث حسن صحيح وقد روي عن ابي امامة عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير هذا الوجه . ورواية اسماعيل بن عياش عن اهل العراق واهل الحجاز ليس بذلك فيما تفرد به لانه روى عنهم مناكير وروايته عن اهل الشام اصح هكذا قال محمد بن اسماعيل . قال سمعت احمد بن الحسن يقول قال احمد بن حنبل اسماعيل بن عياش اصلح حديثا من بقية ولبقية احاديث مناكير عن الثقات . وسمعت عبد الله بن عبد الرحمن يقول سمعت زكريا بن عدي يقول قال ابو اسحاق الفزاري خذوا عن بقية ما حدث عن الثقات ولا تاخذوا عن اسماعيل بن عياش ما حدث عن الثقات ولا عن غير الثقات
عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر خطبہ دے رہے تھے، اس وقت میں اس کی گردن کے نیچے تھا، وہ جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کا حق دے دیا ہے، کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، لڑکا ( ولد الزنا ) بستر والے کی طرف منسوب ہو گا، اور زانی رجم کا مستحق ہے، جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کی طرف نسبت کرے یا ( غلام ) اپنے مالکوں کے علاوہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے انہیں ناپسند کرتے ہوئے اس پر اللہ کی لعنت ہے، اللہ ایسے شخص کا نہ نفلی عبادت قبول کرے گا نہ فریضہ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں: میں شہر بن حوشب کی حدیث کی پرواہ نہیں کرتا ہوں، ۳- امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل سے شہر بن حوشب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے توثیق کی اور کہا: ان کے بارے میں ابن عون نے کلام کیا ہے، پھر ابن عون نے خود ہلال بن ابوزینب کے واسطہ سے شہر بن حوشب سے روایت کی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن شهر بن حوشب، عن عبد الرحمن بن غنم، عن عمرو بن خارجة، ان النبي صلى الله عليه وسلم خطب على ناقته وانا تحت جرانها وهي تقصع بجرتها وان لعابها يسيل بين كتفى فسمعته يقول " ان الله اعطى كل ذي حق حقه ولا وصية لوارث والولد للفراش وللعاهر الحجر ومن ادعى الى غير ابيه او انتمى الى غير مواليه رغبة عنهم فعليه لعنة الله لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا " . قال وسمعت احمد بن الحسن يقول قال احمد بن حنبل لا ابالي بحديث شهر بن حوشب . قال وسالت محمد بن اسماعيل عن شهر بن حوشب فوثقه وقال انما يتكلم فيه ابن عون ثم روى ابن عون عن هلال بن ابي زينب عن شهر بن حوشب . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت ( کے نفاذ ) سے پہلے قرض کی ادائیگی کا فیصلہ فرمایا، جب کہ تم ( قرآن میں ) قرض سے پہلے وصیت پڑھتے ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عام اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ وصیت سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي اسحاق الهمداني، عن الحارث، عن علي، ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى بالدين قبل الوصية وانتم تقرءون الوصية قبل الدين . قال ابو عيسى والعمل على هذا عند عامة اهل العلم انه يبدا بالدين قبل الوصية
ابوحبیبہ طائی کہتے ہیں کہ میرے بھائی نے اپنے مال کے ایک حصہ کی میرے لیے وصیت کی، میں نے ابو الدرداء رضی الله عنہ سے ملاقات کی اور کہا: میرے بھائی نے اپنے مال کے ایک حصہ کی میرے لیے وصیت کی ہے، آپ کی کیا رائے ہے؟ میں اسے کہاں خرچ کروں، فقراء میں، مسکینوں میں یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں میں؟ انہوں نے کہا: میری بات یہ ہے کہ اگر تمہاری جگہ میں ہوتا تو مجاہدین کے برابر کسی کو نہ سمجھتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو شخص مرتے وقت غلام آزاد کرتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو آسودہ ہونے کے بعد ہدیہ کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا بندار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي حبيبة الطايي، قال اوصى الى اخي بطايفة من ماله فلقيت ابا الدرداء فقلت ان اخي اوصى الى بطايفة من ماله فاين ترى لي وضعه في الفقراء او المساكين او المجاهدين في سبيل الله فقال اما انا فلو كنت لم اعدل بالمجاهدين سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " مثل الذي يعتق عند الموت كمثل الذي يهدي اذا شبع " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ اپنے زر کتابت کے بارے میں ان سے تعاون مانگنے آئیں اور زر کتابت میں سے کچھ نہیں ادا کیا تھا۔ ام المؤمنین عائشہ نے ان سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری زر کتابت ادا کر دوں اور تمہاری ولاء ( میراث ) کا حق مجھے حاصل ہو، تو میں ادا کر دوں گی۔ بریرہ نے اپنے گھر والوں سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا: اگر وہ چاہتی ہوں کہ تمہیں آزاد کر کے ثواب حاصل کریں اور تمہارا حق ولاء ( میراث ) ہمارے لیے ہو تو وہ تمہیں آزاد کر دیں، ام المؤمنین عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اسے خریدو اور آزاد کر دو اس لیے کہ حق ولاء ( میراث ) اسی کو حاصل ہے جو آزاد کرے“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں موجود نہیں؟ جو شخص کوئی ایسی شرط لگائے جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں موجود نہیں تو وہ اس کا مستحق نہیں ہو گا، اگرچہ وہ سو بار شرط لگائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ۲- عائشہ رضی الله عنہا سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے۔ ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آزاد کرنے والے ہی کو حق ولاء ( میراث ) حاصل ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، ان عايشة، اخبرته ان بريرة جاءت تستعين عايشة في كتابتها ولم تكن قضت من كتابتها شييا فقالت لها عايشة ارجعي الى اهلك فان احبوا ان اقضي عنك كتابتك ويكون لي ولاوك فعلت . فذكرت ذلك بريرة لاهلها فابوا وقالوا ان شاءت ان تحتسب عليك ويكون لنا ولاوك فلتفعل . فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابتاعي فاعتقي فانما الولاء لمن اعتق " ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما بال اقوام يشترطون شروطا ليست في كتاب الله من اشترط شرطا ليس في كتاب الله فليس له وان اشترط ماية مرة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن عايشة . والعمل على هذا عند اهل العلم ان الولاء لمن اعتق