احادیث
#2121
سنن ترمذی - Wasaya (Wills and Testament)
عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر خطبہ دے رہے تھے، اس وقت میں اس کی گردن کے نیچے تھا، وہ جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کا حق دے دیا ہے، کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، لڑکا ( ولد الزنا ) بستر والے کی طرف منسوب ہو گا، اور زانی رجم کا مستحق ہے، جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کی طرف نسبت کرے یا ( غلام ) اپنے مالکوں کے علاوہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے انہیں ناپسند کرتے ہوئے اس پر اللہ کی لعنت ہے، اللہ ایسے شخص کا نہ نفلی عبادت قبول کرے گا نہ فریضہ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں: میں شہر بن حوشب کی حدیث کی پرواہ نہیں کرتا ہوں، ۳- امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل سے شہر بن حوشب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے توثیق کی اور کہا: ان کے بارے میں ابن عون نے کلام کیا ہے، پھر ابن عون نے خود ہلال بن ابوزینب کے واسطہ سے شہر بن حوشب سے روایت کی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن شهر بن حوشب، عن عبد الرحمن بن غنم، عن عمرو بن خارجة، ان النبي صلى الله عليه وسلم خطب على ناقته وانا تحت جرانها وهي تقصع بجرتها وان لعابها يسيل بين كتفى فسمعته يقول " ان الله اعطى كل ذي حق حقه ولا وصية لوارث والولد للفراش وللعاهر الحجر ومن ادعى الى غير ابيه او انتمى الى غير مواليه رغبة عنهم فعليه لعنة الله لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا " . قال وسمعت احمد بن الحسن يقول قال احمد بن حنبل لا ابالي بحديث شهر بن حوشب . قال وسالت محمد بن اسماعيل عن شهر بن حوشب فوثقه وقال انما يتكلم فيه ابن عون ثم روى ابن عون عن هلال بن ابي زينب عن شهر بن حوشب . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Wasaya (Wills and Testament)
- Hadith Index
- #2121
- Book Index
- 6
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiHasan
