Loading...

Loading...
کتب
۲۶ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ( مرنے کے بعد ) کوئی مال چھوڑا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جس نے ایسی اولاد چھوڑی جس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو اس کی کفالت میرے ذمہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- زہری نے یہ حدیث «عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے اور وہ حدیث اس سے طویل اور مکمل ہے، ۳- اس باب میں جابر اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- «ضياعا» کا معنی یہ ہے کہ ایسی اولاد جس کے پاس کچھ نہ ہو تو میں ان کی کفالت کروں گا اور ان پر خرچ کروں گا ۱؎۔
حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الاموي، قال حدثنا ابي، قال حدثنا محمد بن عمرو، قال حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ترك مالا فلاهله ومن ترك ضياعا فالى " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن جابر وانس . وقد رواه الزهري عن ابي سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم اطول من هذا واتم . معنى ضياعا ضايعا ليس له شيء فانا اعوله وانفق عليه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن اور علم فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ اس لیے کہ میں وفات پانے والا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث میں اضطراب ہے۔
حدثنا عبد الاعلى بن واصل، قال حدثنا محمد بن القاسم الاسدي، قال حدثنا الفضل بن دلهم، قال حدثنا عوف، عن شهر بن حوشب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تعلموا القران والفرايض وعلموا الناس فاني مقبوض ". قال ابو عيسى هذا حديث فيه اضطراب وروى ابو اسامة، هذا الحديث عن عوف، عن رجل، عن سليمان بن جابر، عن ابن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم . حدثنا بذلك الحسين بن حريث، اخبرنا ابو اسامة، عن عوف، بهذا بمعناه . ومحمد بن القاسم الاسدي قد ضعفه احمد بن حنبل وغيره
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن ربیع کی بیوی اپنی دو بیٹیوں کو جو سعد سے پیدا ہوئی تھیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دونوں سعد بن ربیع کی بیٹیاں ہیں، ان کے باپ آپ کے ساتھ لڑتے ہوئے جنگ احد میں شہید ہو گئے ہیں، ان کے چچا نے ان کا مال لے لیا ہے، اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا، اور بغیر مال کے ان کی شادی نہیں ہو گی۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا“، چنانچہ اس کے بعد آیت میراث نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( لڑکیوں ) کے چچا کے پاس یہ حکم بھیجا کہ سعد کی دونوں بیٹیوں کو مال کا دو تہائی حصہ دے دو اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ، اور جو بچے وہ تمہارا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن محمد بن عقیل کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- عبداللہ بن محمد بن عقیل سے شریک نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، قال حدثني زكرياء بن عدي، اخبرنا عبيد الله بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر بن عبد الله، قال جاءت امراة سعد بن الربيع بابنتيها من سعد الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله هاتان ابنتا سعد بن الربيع قتل ابوهما معك يوم احد شهيدا وان عمهما اخذ مالهما فلم يدع لهما مالا ولا تنكحان الا ولهما مال . قال " يقضي الله في ذلك " . فنزلت اية الميراث فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم الى عمهما فقال " اعط ابنتى سعد الثلثين واعط امهما الثمن وما بقي فهو لك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح لا نعرفه الا من حديث عبد الله بن محمد بن عقيل وقد رواه شريك ايضا عن عبد الله بن محمد بن عقيل
ہزیل بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اور سلمان بن ربیعہ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے ان سے بیٹی، پوتی اور حقیقی بہن کی میراث کے بارے میں پوچھا، ان دونوں نے جواب دیا: بیٹی کو آدھی میراث اور حقیقی بہن کو باقی حصہ ملے گا، انہوں نے اس آدمی سے یہ بھی کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو، وہ بھی ہماری طرح جواب دیں گے، وہ آدمی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے پاس آیا، ان سے مسئلہ بیان کیا اور ابوموسیٰ اور سلمان بن ربیعہ نے جو کہا تھا اسے بھی بتایا، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: اگر میں بھی ویسا ہی جواب دوں تب تو میں گمراہ ہو گیا اور ہدایت یافتہ نہ رہا، میں اس سلسلے میں اسی طرح فیصلہ کروں گا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا: بیٹی کو آدھا ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا تاکہ ( بیٹیوں کا مکمل حصہ ) دو تہائی پورا ہو جائے اور باقی حصہ بہن کو ملے گا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے بھی ابوقیس عبدالرحمٰن بن ثروان اودی کوفی سے یہ حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا الحسن بن عرفة, قال حدثنا يزيد بن هارون، عن سفيان الثوري، عن ابي قيس الاودي، عن هزيل بن شرحبيل، قال جاء رجل الى ابي موسى وسلمان بن ربيعة فسالهما عن الابنة، وابنة الابن، واخت، لاب وام فقالا للابنة النصف وللاخت من الاب والام ما بقي . وقالا له انطلق الى عبد الله فاساله فانه سيتابعنا . فاتى عبد الله فذكر ذلك له واخبره بما قالا قال عبد الله قد ضللت اذا وما انا من المهتدين ولكن اقضي فيهما كما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم للابنة النصف ولابنة الابن السدس تكملة الثلثين وللاخت ما بقي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وابو قيس الاودي اسمه عبد الرحمن بن ثروان الكوفي وقد رواه شعبة عن ابي قيس
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو «من بعد وصية توصون بها أو دين» ”تم سے کی گئی وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد ( میراث تقسیم کی جائے گی ۱؎ ) “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وصیت سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا۔ ( اگر حقیقی بھائی اور علاتی بھائی دونوں موجود ہوں تو ) حقیقی بھائی وارث ہوں گے، علاتی بھائی ( جن کے باپ ایک اور ماں دوسری ہو ) وارث نہیں ہوں گے، آدمی اپنے حقیقی بھائی کو وارث بناتا ہے علاتی بھائی کو نہیں“۔
حدثنا بندار، قال حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، انه قال انكم تقرءون هذه الاية : (من بعد وصية توصون بها او دين ) وان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى بالدين قبل الوصية وان اعيان بني الام يتوارثون دون بني العلات الرجل يرث اخاه لابيه وامه دون اخيه لابيه . حدثنا بندار، قال حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا زكريا بن ابي زايدة، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا: ”حقیقی بھائی وارث ہوں گے نہ کہ علاتی بھائی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم اس حدیث کو صرف ابواسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، ابواسحاق سبیعی روایت کرتے ہیں حارث سے اور حارث، علی رضی الله عنہ سے، ۲- بعض اہل علم نے حارث کے بارے میں کلام کیا ہے، ۳- عام اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا ابو اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اعيان بني الام يتوارثون دون بني العلات . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه الا من حديث ابي اسحاق عن الحارث عن علي . وقد تكلم بعض اهل العلم في الحارث والعمل على هذا الحديث عند عامة اهل العلم
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کی غرض سے تشریف لائے اس وقت میں بنی سلمہ کے محلے میں بیمار تھا، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں اپنا مال اپنی اولاد ۱؎ کے درمیان کیسے تقسیم کروں؟ آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا: پھر یہ آیت نازل ہوئی: «يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين» ”اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے“ ( النساء: ۱۱ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ، سفیان بن عیینہ اور دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث محمد بن منکدر کے واسطہ سے جابر رضی الله عنہ سے روایت کی ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، قال حدثنا عبد الرحمن بن سعد، اخبرنا عمرو بن ابي قيس، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال جاءني رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني وانا مريض في بني سلمة فقلت يا نبي الله كيف اقسم مالي بين ولدي فلم يرد على شييا فنزلت : (يوصيكم الله في اولادكم للذكر مثل حظ الانثيين ) الاية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه شعبة وابن عيينة وغيره عن محمد بن المنكدر عن جابر
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے آئے، آپ نے مجھے بیہوش پایا، آپ کے ساتھ ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی تھے، وہ پیدل چل کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی میرے اوپر ڈال دیا، میں ہوش میں آ گیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اپنے مال کے بارے میں کیسے فیصلہ کروں؟ یا میں اپنے مال ( کی تقسیم ) کیسے کروں؟ ( یہ راوی کا شک ہے ) آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا – جابر رضی الله عنہ کے پاس نو بہنیں تھیں – یہاں تک کہ آیت میراث نازل ہوئی: «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ”لوگ آپ سے ( کلالہ ۱؎ کے بارے میں ) فتویٰ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے: اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے“ ( النساء: ۱۷۶ ) ۔ جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الفضل بن الصباح البغدادي، قال اخبرنا سفيان بن عيينة، قال اخبرنا محمد بن المنكدر، سمع جابر بن عبد الله، يقول مرضت فاتاني رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني فوجدني قد اغمي على فاتى ومعه ابو بكر وعمر وهما ماشيان فتوضا رسول الله صلى الله عليه وسلم فصب على من وضويه فافقت فقلت يا رسول الله كيف اقضي في مالي او كيف اصنع في مالي فلم يجبني شييا وكان له تسع اخوات حتى نزلت اية الميراث : (يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة ) الاية . قال جابر في نزلت . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی جانب سے متعین میراث کے حصوں کو حصہ داروں تک پہنچا دو، پھر اس کے بعد جو بچے وہ میت کے قریبی مرد رشتہ دار کا ہے“۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا وهيب، حدثنا ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الحقوا الفرايض باهلها فما بقي فهو لاولى رجل ذكر " . حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا عبد الرزاق، عن معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وقد روى بعضهم عن ابن طاوس عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: میرا پوتا مر گیا ہے، مجھے اس کی میراث میں سے کتنا حصہ ملے گا؟ آپ نے فرمایا: ”تمہیں چھٹا حصہ ملے گا، جب وہ مڑ کر جانے لگا تو آپ نے اسے بلا کر کہا: ”تمہیں ایک اور چھٹا حصہ ملے گا“، پھر جب وہ مڑ کر جانے لگا تو آپ نے اسے بلایا کر فرمایا: ”دوسرا چھٹا حصہ بطور خوراک ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں معقل بن یسار رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا الحسن بن عرفة، قال حدثنا يزيد بن هارون، عن همام بن يحيى، عن قتادة، عن الحسن، عن عمران بن حصين، قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ان ابني مات فما لي في ميراثه قال " لك السدس " . فلما ولى دعاه فقال " لك سدس اخر " . فلما ولى دعاه قال " ان السدس الاخر طعمة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن معقل بن يسار
قبیصہ بن ذویب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس ایک دادی یا نانی نے آ کر کہا: میرا پوتا یا نواسہ مر گیا ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں میرے لیے متعین حصہ ہے۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میں اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں تمہارے لیے کوئی حصہ نہیں پاتا ہوں اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے تمہارے لیے کسی حصہ کا فیصلہ کیا، البتہ میں لوگوں سے اس بارے میں پوچھوں گا۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھٹا حصہ دیا، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: تمہارے ساتھ اس کو کس نے سنا ہے؟ مغیرہ رضی الله عنہ نے کہا: محمد بن مسلمہ نے۔ چنانچہ ابوبکر رضی الله عنہ نے اسے چھٹا حصہ دے دیا، پھر عمر رضی الله عنہ کے پاس اس کے علاوہ دوسری دادی آئی ( اگر پہلے والی دادی تھی تو عمر کے پاس نانی آئی اور اگر پہلی والی نانی تھی تو عمر کے پاس دادی آئی ) سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: زہری کے واسطہ سے روایت کرتے ہوئے معمر نے اس حدیث میں مجھ سے کچھ زیادہ باتیں بیان کی ہیں، لیکن زہری کے واسطہ سے مروی روایت مجھے یاد نہیں، البتہ مجھے معمر کی روایت یاد ہے کہ عمر رضی الله عنہ نے کہا: اگر تم دونوں ( دادی اور نانی ) وارث ہو تو چھٹے حصے میں دونوں شریک ہوں گی، اور جو منفرد ہو تو چھٹا حصہ اسے ملے گا۔
حدثنا ابن ابي عمر، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا الزهري، قال مرة قال قبيصة وقال مرة رجل عن قبيصة بن ذويب قال جاءت الجدة ام الام او ام الاب الى ابي بكر فقالت ان ابن ابني او ابن بنتي مات وقد اخبرت ان لي في كتاب الله حقا . فقال ابو بكر ما اجد لك في الكتاب من حق وما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى لك بشيء وساسال الناس . قال فسال فشهد المغيرة بن شعبة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعطاها السدس . قال ومن سمع ذلك معك قال محمد بن مسلمة . قال فاعطاها السدس ثم جاءت الجدة الاخرى التي تخالفها الى عمر . قال سفيان وزادني فيه معمر عن الزهري ولم احفظه عن الزهري ولكن حفظته من معمر ان عمر قال ان اجتمعتما فهو لكما وايتكما انفردت به فهو لها
قبیصہ بن ذویب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس ایک دادی یا نانی میراث سے اپنا حصہ پوچھنے آئی، ابوبکر رضی الله عنہ نے اس سے کہا: تمہارے لیے اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں کچھ نہیں ہے اور تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی کچھ نہیں ہے، تم لوٹ جاؤ یہاں تک کہ میں لوگوں سے اس بارے میں پوچھ لوں، انہوں نے لوگوں سے اس بارے میں پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ نے دادی یا نانی کو چھٹا حصہ دیا، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: تمہارے ساتھ کوئی اور بھی تھا؟ محمد بن مسلمہ انصاری رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور اسی طرح کی بات کہی جیسی مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے کہی تھی۔ چنانچہ ابوبکر رضی الله عنہ نے اس کے لیے حکم جاری کر دیا، پھر عمر رضی الله عنہ کے پاس دوسری دادی ( اگر پہلی دادی تھی تو دوسری نانی تھی اور اگر پہلی نانی تھی تو دوسری دادی تھی ) میراث سے اپنا حصہ پوچھنے آئی۔ انہوں نے کہا: تمہارے لیے اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں کچھ نہیں ہے البتہ وہی چھٹا حصہ ہے، اگر تم دونوں ( دادی اور نانی ) اجتماعی طور پر وارث ہو تو چھٹا حصہ تم دونوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا، اور تم میں سے جو منفرد اور اکیلی ہو تو وہ اسی کو ملے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یہ ( مالک کی ) روایت سفیان بن عیینہ کی روایت کی بنسبت زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں بریدہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، قال حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن عثمان بن اسحاق بن خرشة، عن قبيصة بن ذويب، قال جاءت الجدة الى ابي بكر تساله ميراثها . قال فقال لها ما لك في كتاب الله شيء وما لك في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم شيء فارجعي حتى اسال الناس . فسال الناس فقال المغيرة بن شعبة حضرت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعطاها السدس . فقال ابو بكر هل معك غيرك فقام محمد بن مسلمة الانصاري فقال مثل ما قال المغيرة بن شعبة فانفذه لها ابو بكر . قال ثم جاءت الجدة الاخرى الى عمر بن الخطاب تساله ميراثها فقال ما لك في كتاب الله شيء ولكن هو ذاك السدس فان اجتمعتما فيه فهو بينكما وايتكما خلت به فهو لها . قال ابو عيسى وفي الباب عن بريدة . وهذا احسن وهو اصح من حديث ابن عيينة
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ( پوتے کے ترکہ میں ) دادی اور اس کے بیٹے کے حصہ کے بارے میں کہتے ہیں: وہ پہلی دادی تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹے کی موجودگی میں چھٹا حصہ دیا، اس وقت اس کا بیٹا زندہ تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم اسے صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ۲- بعض صحابہ نے بیٹے کی موجودگی میں دادی کو وارث ٹھہرایا ہے اور بعض نے وارث نہیں ٹھہرایا ہے۔
حدثنا الحسن بن عرفة، قال حدثنا يزيد بن هارون، عن محمد بن سالم، عن الشعبي، عن مسروق، عن عبد الله بن مسعود، قال في الجدة مع ابنها انها اول جدة اطعمها رسول الله صلى الله عليه وسلم سدسا مع ابنها وابنها حى . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه مرفوعا الا من هذا الوجه . - وقد ورث بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم الجدة مع ابنها ولم يورثها بعضهم
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ابوعبیدہ رضی الله عنہ کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ اور اس کے رسول ولی ( سر پرست ) ہیں جس کا کوئی ولی ( سر پرست ) نہیں ہے اور ماموں اس آدمی کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ اور مقدام بن معدیکرب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا بندار، قال: حدثنا ابو احمد الزبيري، قال: حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن الحارث، عن حكيم بن حكيم بن عباد بن حنيف، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، قال كتب عمر بن الخطاب الى ابي عبيدة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الله ورسوله مولى من لا مولى له والخال وارث من لا وارث له " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عايشة والمقدام بن معديكرب . وهذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماموں اس آدمی کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض لوگوں نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں عائشہ رضی الله عنہا کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا، ۳- اس مسئلہ میں صحابہ کرام کا اختلاف ہے، بعض لوگوں نے ماموں، خالہ اور پھوپھی کو وارث ٹھہرایا ہے۔ ذوی الارحام ( قرابت داروں ) کو وارث بنانے کے بارے میں اکثر اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، ۴- لیکن زید بن ثابت رضی الله عنہ نے بھی انہیں وارث نہیں ٹھہرایا ہے یہ میراث کو بیت المال میں رکھنے کے قائل ہیں۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال: اخبرنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن عمرو بن مسلم، عن طاوس، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الخال وارث من لا وارث له " . وهذا حديث حسن غريب وقد ارسله بعضهم ولم يذكر فيه عن عايشة . - واختلف فيه اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فورث بعضهم الخال والخالة والعمة والى هذا الحديث ذهب اكثر اهل العلم في توريث ذوي الارحام واما زيد بن ثابت فلم يورثهم وجعل الميراث في بيت المال
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک آزاد کردہ غلام کھجور کی ٹہنی سے گرا اور مر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو، کیا اس کا کوئی وارث ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”اس کا مال اس کے گاؤں کے کچھ لوگوں کو دے دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا بندار، قال: حدثنا يزيد بن هارون، قال: اخبرنا سفيان، عن عبد الرحمن بن الاصبهاني، عن مجاهد، وهو ابن وردان عن عروة، عن عايشة، ان مولى، للنبي صلى الله عليه وسلم وقع من عذق نخلة فمات فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انظروا هل له من وارث " . قالوا لا . قال " فادفعوه الى بعض اهل القرية " . وهذا حديث حسن
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی مر گیا اور اپنے پیچھے کوئی وارث نہیں چھوڑا سوائے ایک غلام کے جس کو اس نے آزاد کیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی غلام کو اس کی میراث دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں اہل علم کا عمل ہے کہ جب کوئی آدمی مر جائے اور اپنے پیچھے کوئی عصبہ نہ چھوڑے تو اس کا مال مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کیا جائے گا۔
حدثنا ابن ابي عمر، قال: حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن عوسجة، عن ابن عباس، ان رجلا، مات على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يدع وارثا الا عبدا هو اعتقه فاعطاه النبي صلى الله عليه وسلم ميراثه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . والعمل عند اهل العلم في هذا الباب اذا مات الرجل ولم يترك عصبة ان ميراثه يجعل في بيت مال المسلمين
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو گا“ ۱؎۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، وغير، واحد، قالوا حدثنا سفيان، عن الزهري، ح وحدثنا علي بن حجر، اخبرنا هشيم، عن الزهري، عن علي بن حسين، عن عمرو بن عثمان، عن اسامة بن زيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم " . حدثنا ابن ابي عمر حدثنا سفيان حدثنا الزهري نحوه . قال ابو عيسى وفي الباب عن جابر وعبد الله بن عمرو . وهذا حديث حسن صحيح هكذا رواه معمر وغير واحد عن الزهري نحو هذا . وروى مالك عن الزهري عن علي بن حسين عن عمر بن عثمان عن اسامة بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وحديث مالك وهم وهم فيه مالك وقد رواه بعضهم عن مالك فقال عن عمرو بن عثمان واكثر اصحاب مالك قالوا عن مالك عن عمر بن عثمان وعمرو بن عثمان بن عفان هو مشهور من ولد عثمان ولا يعرف عمر بن عثمان . والعمل على هذا الحديث عند اهل العلم واختلف بعض اهل العلم في ميراث المرتد فجعل اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم المال لورثته من المسلمين . وقال بعضهم لا يرثه ورثته من المسلمين واحتجوا بحديث النبي صلى الله عليه وسلم " لا يرث المسلم الكافر " . وهو قول الشافعي
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو مختلف مذہب کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم اس حدیث کو صرف ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ جابر رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا حميد بن مسعدة، قال: حدثنا حصين بن نمير، عن ابن ابي ليلى، عن ابي الزبير، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يتوارث اهل ملتين " . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه من حديث جابر الا من حديث ابن ابي ليلى
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل ( مقتول کا ) وارث نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح نہیں ہے، یہ صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے، ۲- اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ ( کی روایت ) کو بعض محدثین نے ترک کر دیا ہے، احمد بن حنبل انہیں لوگوں میں سے ہیں، ۳- اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ قاتل وارث نہیں ہو گا، خواہ قتل قتل عمد ہو یا قتل خطا، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: جب قتل قتل خطا ہو تو وہ وارث ہو گا۔
حدثنا قتيبة، قال: حدثنا الليث، عن اسحاق بن عبد الله، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " القاتل لا يرث " . قال ابو عيسى هذا حديث لا يصح ولا يعرف الا من هذا الوجه . واسحاق بن عبد الله بن ابي فروة قد تركه بعض اهل الحديث منهم احمد بن حنبل . والعمل على هذا عند اهل العلم ان القاتل لا يرث كان القتل عمدا او خطا . وقال بعضهم اذا كان القتل خطا فانه يرث وهو قول مالك