Loading...

Loading...
کتب
۲۶ احادیث
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دیت عاقلہ ۱؎ پر واجب ہے، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت میں سے کسی چیز کا وارث نہیں ہو گی، ( یہ سن کر ) ضحاک بن سفیان کلابی رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لکھا: ”اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، واحمد بن منيع، وغير، واحد، قالوا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، قال قال عمر الدية على العاقلة ولا ترث المراة من دية زوجها شييا . فاخبره الضحاك بن سفيان الكلابي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب اليه ان ورث امراة اشيم الضبابي من دية زوجها . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی ایک عورت کے بارے میں جس کا حمل ساقط ہو کر بچہ مر گیا تھا ایک «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا، ( حمل گرانے والی مجرمہ ایک عورت تھی ) پھر جس عورت کے بارے میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ وہ ( بطور دیت ) غرہ ( غلام ) دے، مر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ ”اس کی میراث اس کے لڑکوں اور شوہر میں تقسیم ہو گی، اور اس پر عائد ہونے والی دیت اس کے عصبہ کے ذمہ ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یونس نے یہ حدیث «عن الزهري عن سعيد بن المسيب وأبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی روایت کی ہے، ۲- مالک نے یہ حدیث «عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة» کی سند سے روایت کی ہے، اور مالک نے «عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے جو حدیث روایت کی ہے وہ مرسل ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في جنين امراة من بني لحيان سقط ميتا بغرة عبد او امة ثم ان المراة التي قضي عليها بالغرة توفيت فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ميراثها لبنيها وزوجها وان عقلها على عصبتها . قال ابو عيسى وروى يونس هذا الحديث عن الزهري عن سعيد بن المسيب وابي سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه ورواه مالك عن الزهري عن ابي سلمة عن ابي هريرة ومالك عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل
تمیم داری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اس مشرک کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے جو کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام لائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ( مسلمان ) اس ( نو مسلم ) کی زندگی اور موت کا میں تمام لوگوں سے زیادہ حقدار ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم اس حدیث کو صرف عبداللہ بن وہب کی روایت سے جانتے ہیں، ان کو ابن موہب بھی کہا جاتا ہے، یہ تمیم داری سے روایت کرتے ہیں۔ بعض لوگوں نے عبداللہ بن وہب اور تمیم داری کے درمیان قبیصہ بن ذویب کو داخل کیا ہے جو صحیح نہیں، یحییٰ بن حمزہ نے عبدالعزیز بن عمر سے یہ حدیث روایت کی ہے اور اس کی سند میں قبیصہ بن ذویب کا اضافہ کیا ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے، ۳- بعض لوگوں نے کہا ہے: اس کی میراث بیت المال میں رکھی جائے گی، شافعی کا یہی قول ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( اس ) حدیث سے استدلال کیا ہے «أن الولاء لمن أعتق» ”حق ولاء ( میراث ) اس شخص کو حاصل ہے جو آزاد کرے“۔
حدثنا ابو كريب، قال: حدثنا ابو اسامة، وابن، نمير ووكيع عن عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز، عن عبد الله بن موهب، وقال، بعضهم عن عبد الله بن وهب، عن تميم الداري، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم ما السنة في الرجل من اهل الشرك يسلم على يدى رجل من المسلمين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو اولى الناس بمحياه ومماته " . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه الا من حديث عبد الله بن وهب ويقال ابن موهب عن تميم الداري . وقد ادخل بعضهم بين عبد الله بن وهب وبين تميم الداري قبيصة بن ذويب ولا يصح رواه يحيى بن حمزة عن عبد العزيز بن عمر وزاد فيه قبيصة بن ذويب وهو عندي ليس بمتصل . والعمل على هذا الحديث عند بعض اهل العلم وقال بعضهم يجعل ميراثه في بيت المال وهو قول الشافعي واحتج بحديث النبي صلى الله عليه وسلم " ان الولاء لمن اعتق
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی آزاد عورت یا کسی لونڈی کے ساتھ زنا کرے تو ( اس سے پیدا ہونے والا ) لڑکا ولد الزنا ہو گا، نہ وہ ( اس زانی کا ) وارث ہو گا۔ نہ زانی ( اس کا ) وارث ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن لہیعہ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی اس حدیث کو عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ولد الزنا اپنے باپ کا وارث نہیں ہو گا۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا ابن لهيعة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ايما رجل عاهر بحرة او امة فالولد ولد زنا لا يرث ولا يورث " . قال ابو عيسى وقد روى غير ابن لهيعة هذا الحديث عن عمرو بن شعيب . والعمل على هذا عند اهل العلم ان ولد الزنا لا يرث من ابيه
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء کا وارث وہی ہو گا جو مال کا وارث ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔
حدثنا قتيبة، قال: حدثنا ابن لهيعة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يرث الولاء من يرث المال " . قال ابو عيسى هذا حديث ليس اسناده بالقوي
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت تین قسم کی میراث اکٹھا کرتی ہے: اپنے آزاد کیے ہوئے غلام کی میراث، اس لڑکے کی میراث جسے راستے سے اٹھا کر اس کی پرورش کی ہو، اور اس لڑکے کی میراث جس کو لعان کر کے اپنے ساتھ لے گئی ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند سے صرف محمد بن حرب کی روایت سے معروف ہے۔
حدثنا هارون ابو موسى المستملي البغدادي، قال: حدثنا محمد بن حرب، قال: حدثنا عمر بن روبة التغلبي، عن عبد الواحد بن عبد الله ابي بسر النصري، عن واثلة بن الاسقع، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المراة تحوز ثلاثة مواريث عتيقها ولقيطها وولدها الذي لاعنت عليه " . هذا حديث حسن غريب لا يعرف الا من هذا الوجه من حديث محمد بن حرب