Loading...

Loading...
کتب
۶۸ احادیث
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ریشمی زین پر سوار ہونے سے منع فرمایا: راوی کہتے ہیں: اس حدیث میں ایک قصہ مذکور ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲ – اس باب میں علی اور معاویہ رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، شعبہ نے بھی اشعث بن ابی شعثاء سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، اس حدیث میں ایک قصہ مذکور ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا علي بن مسهر، حدثنا ابو اسحاق الشيباني، عن اشعث بن ابي الشعثاء، عن معاوية بن سويد بن مقرن، عن البراء بن عازب، قال نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ركوب المياثر . قال وفي الحديث قصة . قال وفي الباب عن علي ومعاوية . وحديث البراء حديث حسن صحيح . وقد روى شعبة عن اشعث بن ابي الشعثاء نحوه وفي الحديث قصة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس بچھونے پر سوتے تھے وہ چمڑے کا تھا، اس کے اندر کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حفصہ اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا علي بن مسهر، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت انما كان فراش النبي صلى الله عليه وسلم الذي ينام عليه ادم حشوه ليف . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال وفي الباب عن حفصة وجابر
حدثنا محمد بن حميد الرازي، حدثنا ابو تميلة، والفضل بن موسى، وزيد بن حباب، عن عبد المومن بن خالد، عن عبد الله بن بريدة، عن ام سلمة، قالت كان احب الثياب الى النبي صلى الله عليه وسلم القميص . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب انما نعرفه من حديث عبد المومن بن خالد تفرد به وهو مروزي . وروى بعضهم هذا الحديث عن ابي تميلة عن عبد المومن بن خالد عن عبد الله بن بريدة عن امه عن ام سلمة
حدثنا زياد بن ايوب البغدادي، حدثنا ابو تميلة، عن عبد المومن بن خالد، عن عبد الله بن بريدة، عن امه، عن ام سلمة، قالت كان احب الثياب الى النبي صلى الله عليه وسلم القميص . قال وسمعت محمد بن اسمعيل يقول حديث عبد الله بن بريدة عن امه عن ام سلمة اصح وانما يذكر فيه ابو تميلة عن امه
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک پسندیدہ لباس قمیص تھی۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا الفضل بن موسى، عن عبد المومن بن خالد، عن عبد الله بن بريدة، عن ام سلمة، قالت كان احب الثياب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم القميص
اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو کی آستین کلائی ( پہنچوں ) تک ہوتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد بن الحجاج الصواف البصري، حدثنا معاذ بن هشام الدستوايي، حدثني ابي، عن بديل بن ميسرة العقيلي، عن شهر بن حوشب، عن اسماء بنت يزيد بن السكن الانصارية، قالت كان كم يد رسول الله صلى الله عليه وسلم الى الرسغ . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قمیص پہنتے تو داہنی طرف سے ( پہننا ) شروع کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: کئی لوگوں نے یہ حدیث بسند «شعبة عن أبي هريرة» موقوف روایت کی ہے، شعبہ سے روایت کرنے والے عبدالصمد بن عبدالوارث کے علاوہ ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اسے مرفوع طریقہ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا شعبة، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا لبس قميصا بدا بميامنه . قال ابو عيسى وروى غير واحد هذا الحديث عن شعبة بهذا الاسناد عن ابي هريرة موقوفا ولا نعلم احدا رفعه غير عبد الصمد بن عبد الوارث عن شعبة
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام لیتے جیسے عمامہ ( پگڑی ) ، قمیص یا چادر، پھر کہتے: «اللهم لك الحمد أنت كسوتنيه أسألك خيره وخير ما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له» ”اللہ! تیرے ہی لیے تعریف ہے، تو نے ہی مجھے یہ پہنایا ہے، میں تم سے اس کی خیر اور اس چیز کی خیر کا طلب گار ہوں جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے، اور اس کی شر اور اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رومی جبہ پہنا جس کی آستینیں تنگ تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا وكيع، حدثنا يونس بن ابي اسحاق، عن الشعبي، عن عروة بن المغيرة بن شعبة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم لبس جبة رومية ضيقة الكمين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دحیہ کلبی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو موزے تحفہ بھیجے، چنانچہ آپ نے انہیں پہنا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اسرائیل نے اپنی روایت میں کہا ہے ( جسے وہ بطریق «عن جابر» روایت کرتے ہیں ) : ایک جبہ بھی بھیجا، آپ نے ان دونوں موزوں کو پہنا یہاں تک کہ وہ پھٹ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جانتے تھے کہ وہ مذبوح جانور کی کھال کے ہیں یا غیر مذبوح، ۳- ابواسحاق سبیعی کا نام سلیمان ہے، ۴- حسن بن عیاش ابوبکر بن عیاش کے بھائی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن ابي زايدة، عن الحسن بن عياش، عن ابي اسحاق، هو الشيباني عن الشعبي، قال قال المغيرة بن شعبة اهدى دحية الكلبي لرسول الله صلى الله عليه وسلم خفين فلبسهما . قال ابو عيسى وقال اسراييل عن جابر عن عامر وجبة فلبسهما حتى تخرقا لا يدري النبي صلى الله عليه وسلم اذكي هما ام لا . وهذا حديث حسن غريب . ابو اسحاق الذي روى هذا عن الشعبي هو ابو اسحاق الشيباني واسمه سليمان والحسن بن عياش هو اخو ابي بكر بن عياش
عرفجہ بن اسعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں کلاب ۱؎ ( ایک لڑائی ) کے دن میری ناک کٹ گئی، میں نے چاندی کی ایک ناک لگائی تو اس سے بدبو آنے لگی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی ایک ناک لگانے کا حکم دیا ۲؎۔ اس سند سے بھی ابوشہب سے اسی جیسی حدیث روایت ہے، امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن طرفہ کی روایت سے جانتے ہیں، سلیم بن زریر نے بھی عبدالرحمٰن بن طرفہ سے ابوشہاب کی حدیث جیسی روایت کی ہے، ۳- اہل علم میں سے کئی ایک سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے دانتوں کو سونے ( کے تار ) سے باندھا، اس حدیث میں ان کے لیے دلیل موجود ہے، ۴- عبدالرحمٰن بن مہدی نے ( سلم بن زریر کے بجائے ) سلم بن زرین کہا ہے، یہاں ان سے وہم ہوا ہے وزریر زیادہ صحیح ہے، راوی ابوسعید صغانی کا نام محمد بن میسر ہے۔
ابوالملیح سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال ( استعمال کرنے ) سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ زیادہ صحیح ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن يزيد الرشك، عن ابي المليح، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه نهى عن جلود السباع . وهذا اصح
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کیسے تھے؟ کہا: ان کے دو تسمے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور ابوہریرہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود، حدثنا همام، عن قتادة، قال قلت لانس بن مالك كيف كان نعل رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لهما قبالان . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کے دو تسمے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس و ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا حبان بن هلال، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان نعلاه لهما قبالان . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال وفي الباب عن ابن عباس وابي هريرة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی ایک جوتا پہن کر نہ چلے، دونوں پہن لے یا دونوں اتار دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہے۔
حدثنا قتيبة، عن مالك، ح وحدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يمشي احدكم في نعل واحدة لينعلهما جميعا او ليحفهما جميعا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال وفي الباب عن جابر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر جوتا پہنے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عبیداللہ بن عمر ورقی نے اس حدیث کو معمر سے، معمر نے قتادہ سے، قتادہ نے انس سے روایت کی ہے، یہ دونوں حدیثیں محدثین کے نزدیک صحیح نہیں ہیں، حارث بن نبہان کا حافظہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے، ۳- قتادہ کی انس سے مروی حدیث کی ہم کوئی اصل نہیں جانتے ہیں۔
حدثنا ازهر بن مروان البصري، حدثنا الحارث بن نبهان، عن معمر، عن عمار بن ابي عمار، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ينتعل الرجل وهو قايم . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وروى عبيد الله بن عمرو الرقي هذا الحديث عن معمر عن قتادة عن انس وكلا الحديثين لا يصح عند اهل الحديث . والحارث بن نبهان ليس عندهم بالحافظ ولا نعرف لحديث قتادة عن انس اصلا
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا۔ ٍ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اور نہ ہی معمر کی حدیث جسے وہ عمار بن ابی عمار سے اور عمار ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا ابو جعفر السمناني، حدثنا سليمان بن عبيد الله الرقي، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرقي، عن معمر، عن قتادة، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان ينتعل الرجل وهو قايم . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وقال محمد بن اسماعيل ولا يصح هذا الحديث ولا حديث معمر عن عمار بن ابي عمار عن ابي هريرة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بسا اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جوتا پہن کر چلتے۔
حدثنا القاسم بن دينار، حدثنا اسحاق بن منصور السلولي، كوفي حدثنا هريم بن سفيان البجلي الكوفي، عن ليث، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت ربما مشى النبي صلى الله عليه وسلم في نعل واحدة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک جوتا پہن کر چلیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ روایت زیادہ صحیح ہے ۱؎، ۲- سفیان ثوری اور کئی لوگوں نے اسی طرح اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن قاسم کے واسطہ سے موقوف طریقہ سے روایت کیا ہے اور یہ موقوف روایت زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، انها مشت بنعل واحدة . وهذا اصح . قال ابو عيسى وهكذا رواه سفيان الثوري وغير واحد عن عبد الرحمن بن القاسم موقوفا وهذا اصح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی جوتا پہنے تو داہنے پیر سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں سے شروع کرے، پہننے میں داہنا پاؤں پہلے اور اتارنے میں پیچھے ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، ح وحدثنا قتيبة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا انتعل احدكم فليبدا باليمين واذا نزع فليبدا بالشمال فلتكن اليمنى اولهما تنعل واخرهما تنزع " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح