Loading...

Loading...
کتب
۶۸ احادیث
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ بھی اسی کا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا حفص بن عمر بن عبيد الطنافسي، حدثنا زهير بن معاوية ابو خيثمة، عن حميد، عن انس، قال كان خاتم رسول الله صلى الله عليه وسلم من فضة فصه منه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنائی اور اسے داہنے ہاتھ میں پہنا، پھر منبر پر بیٹھے اور فرمایا: ”میں نے اس انگوٹھی کو اپنے داہنے ہاتھ میں پہنا تھا“، پھر آپ نے اسے نکال کر پھینکا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث بواسطہ نافع ابن عمر سے دوسری سند سے اسی طرح آئی ہے، اس میں انہوں نے یہ ذکر کیا کہ آپ نے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنی، ۲- اس باب میں علی، جابر، عبداللہ بن جعفر، ابن عباس، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن عبيد المحاربي، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم صنع خاتما من ذهب فتختم به في يمينه ثم جلس على المنبر فقال " اني كنت اتخذت هذا الخاتم في يميني " . ثم نبذه ونبذ الناس خواتيمهم . قال وفي الباب عن علي وجابر وعبد الله بن جعفر وابن عباس وعايشة وانس . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . وقد روي هذا الحديث عن نافع عن ابن عمر نحو هذا من غير هذا الوجه ولم يذكر فيه انه تختم في يمينه
صلت بن عبداللہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنے دیکھا اور میرا یہی خیال ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا: صلت بن عبداللہ بن نوفل کے واسطہ سے محمد بن اسحاق کی روایت حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن حميد الرازي، حدثنا جرير، عن محمد بن اسحاق، عن الصلت بن عبد الله بن نوفل، قال رايت ابن عباس يتختم في يمينه ولا اخاله الا قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتختم في يمينه . قال ابو عيسى قال محمد بن اسماعيل حديث محمد بن اسحاق عن الصلت بن عبد الله بن نوفل حديث حسن صحيح
محمد الباقر کہتے ہیں کہ حسن اور حسین اپنے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، قال كان الحسن والحسين يتختمان في يسارهما . وهذا حديث حسن صحيح
حماد بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی رافع ۱؎ کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے دیکھا تو اس کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر رضی الله عنہ کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے دیکھا، عبداللہ بن جعفر رضی الله عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، عن حماد بن سلمة، قال رايت ابن ابي رافع يتختم في يمينه فسالته عن ذلك، فقال رايت عبد الله بن جعفر يتختم في يمينه . وقال عبد الله بن جعفر كان النبي صلى الله عليه وسلم يتختم في يمينه . قال وقال محمد بن اسماعيل هذا اصح شيء روي في هذا الباب
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنائی، اس میں «محمد رسول اللہ» نقش کرایا، پھر فرمایا: ”تم لوگ اپنی انگوٹھی پر یہ نقش مت کرانا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ «لا تنقشوا عليه» کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے منع فرمایا کوئی دوسرا اپنی انگوٹھی پر «محمد رسول الله» نقش کرائے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ثابت، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم صنع خاتما من ورق فنقش فيه محمد رسول الله ثم قال " لا تنقشوا عليه " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح حسن . ومعنى قوله " لا تنقشوا عليه " . نهى ان ينقش احد على خاتمه محمد رسول الله
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا سعيد بن عامر، والحجاج بن منهال، قالا حدثنا همام، عن ابن جريج، عن الزهري، عن انس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا دخل الخلاء نزع خاتمه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نقش اس طرح تھا «محمد» ایک سطر، «رسول» ایک سطر اور «اللہ» ایک سطر میں، امام ترمذی کہتے ہیں: انس کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، حدثنا ابي، عن ثمامة، عن انس بن مالك، قال كان نقش خاتم النبي صلى الله عليه وسلم محمد سطر ورسول سطر والله سطر . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح غريب
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نقش تین سطروں میں تھا «محمد» ایک سطر میں «رسول» ایک سطر میں اور «اللہ» ایک سطر میں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- محمد بن یحییٰ نے اپنی روایت میں تین سطروں کا ذکر نہیں کیا ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن يحيى، وغير، واحد، قالوا حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، حدثني ابي، عن ثمامة، عن انس بن مالك، قال كان نقش خاتم النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثة اسطر محمد سطر ورسول سطر والله سطر . ولم يذكر محمد بن يحيى في حديثه ثلاثة اسطر . وفي الباب عن ابن عمر
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں تصویر رکھنے سے منع فرمایا اور آپ نے اس کو بنانے سے بھی منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوطلحہ، عائشہ ابوہریرہ اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، عن جابر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصورة في البيت ونهى ان يصنع ذلك . قال وفي الباب عن علي وابي طلحة وعايشة وابي هريرة وابي ايوب . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ وہ ابوطلحہ انصاری رضی الله عنہ کی عیادت کرنے ان کے گھر گئے، تو میں نے ان کے پاس سہل بن حنیف رضی الله عنہ کو پایا، ابوطلحہ رضی الله عنہ نے ایک آدمی کو وہ چادر نکالنے کے لیے بلایا جو ان کے نیچے تھی، سہل رضی الله عنہ نے ان سے کہا: کیوں نکال رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ اس میں تصویریں ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں جو کچھ فرمایا ہے اسے آپ جانتے ہیں، سہل رضی الله عنہ نے کہا: آپ نے تو یہ بھی فرمایا ہے: سوائے اس کپڑے کے جس میں نقش ہو ابوطلحہ نے کہا: آپ نے تو یہ فرمایا ہے لیکن یہ میرے لیے زیادہ اچھا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن ابي النضر، عن عبيد الله بن عتبة، انه دخل على ابي طلحة الانصاري يعوده . قال فوجدت عنده سهل بن حنيف . قال فدعا ابو طلحة انسانا ينزع نمطا تحته فقال له سهل لم تنزعه فقال لان فيه تصاوير وقد قال النبي صلى الله عليه وسلم ما قد علمت . قال سهل اولم يقل " الا ما كان رقما في ثوب " فقال بلى ولكنه اطيب لنفسي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی تصویر بنائی اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دیتا رہے گا یہاں تک کہ مصور اس میں روح پھونک دے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا، اور جس نے کسی قوم کی بات کان لگا کر سنی حالانکہ وہ اس سے بھاگتے ہوں ۱؎، قیامت کے دن اس کے کان میں سیسہ ڈالا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابوہریرہ، ابوحجیفہ، عائشہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صور صورة عذبه الله حتى ينفخ فيها يعني الروح وليس بنافخ فيها ومن استمع الى حديث قوم وهم يفرون به منه صب في اذنه الانك يوم القيامة " . قال وفي الباب عن عبد الله بن مسعود وابي هريرة وابي جحيفة وعايشة وابن عمر . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بال کی سفیدی ( خضاب کے ذریعہ ) بدل ڈالو اور یہود کی مشابہت نہ اختیار کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے مرفوع طریقہ سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۳- اس باب میں زبیر، ابن عباس، جابر، ابوذر، انس، ابورمثہ، جہدمہ، ابوطفیل، جابر بن سمرہ، ابوحجیفہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن عمر بن ابي سلمة، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " غيروا الشيب ولا تشبهوا باليهود " . قال وفي الباب عن الزبير وابن عباس وجابر وابي ذر وانس وابي رمثة والجهدمة وابي الطفيل وجابر بن سمرة وابي جحيفة وابن عمر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر چیز جس سے بال کی سفیدی بدلی جائے وہ مہندی اور وسمہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا ابن المبارك، عن الاجلح، عن عبد الله بن بريدة، عن ابي الاسود، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان احسن ما غير به الشيب الحناء والكتم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو الاسود الديلي اسمه ظالم بن عمرو بن سفيان
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قد تھے، آپ نہ لمبے تھے نہ کوتاہ قد، گندمی رنگ کے سڈول جسم والے تھے، آپ کے بال نہ گھونگھریالے تھے نہ سیدھے، آپ جب چلتے تو پیر اٹھا کر چلتے جیسا کوئی اوپر سے نیچے اترتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے حمید کی روایت سے انس کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، براء، ابوہریرہ، ابن عباس، ابوسعید، جابر، وائل بن حجر اور ام ہانی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن حميد، عن انس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ربعة ليس بالطويل ولا بالقصير حسن الجسم اسمر اللون وكان شعره ليس بجعد ولا سبط اذا مشى يتكفا . قال وفي الباب عن عايشة والبراء وابي هريرة وابن عباس وابي سعيد وجابر ووايل بن حجر وام هاني . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه من حديث حميد
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھی، آپ کے بال «جمہ» سے چھوٹے اور «وفرہ» سے بڑے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- دوسری سندوں سے یہ حدیث عائشہ سے یوں مروی ہے، کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھی، راویوں نے اس حدیث میں یہ جملہ نہیں بیان کیا ہے، «وكان له شعر فوق الجمة ودون الوفرة» ۳- عبدالرحمٰن بن ابی زناد ثقہ ہیں، مالک بن انس ان کی توثیق کرتے تھے اور ان کی روایت لکھنے کا حکم دیتے تھے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كنت اغتسل انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد وكان له شعر فوق الجمة ودون الوفرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وقد روي من غير وجه عن عايشة انها قالت كنت اغتسل انا ورسول الله صلى الله عليه وسلم من اناء واحد . ولم يذكروا فيه هذا الحرف وكان له شعر فوق الجمة ودون الوفرة . وعبد الرحمن بن ابي الزناد ثقة كان مالك بن انس يوثقه ويامر بالكتابة عنه
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا، سوائے اس کے کہ ناغہ کر کے کی جائے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اثمد سرمہ لگاؤ اس لیے کہ وہ بینائی کو جلا بخشتا ہے اور پلکوں کا بال اگاتا ہے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ ہر رات تین سلائی اس ( داہنی آنکھ ) میں اور تین سلائی اس ( بائیں آنکھ ) میں سرمہ لگاتے تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اس لفظ کے ساتھ صرف عباد بن منصور کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لباس سے منع فرمایا: ”ایک صماء، اور دوسرا یہ کہ کوئی شخص خود کو کپڑے میں اس طرح لپیٹ لے کہ اس کی شرمگاہ پر اس کپڑے کا کوئی حصہ نہ رہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ دوسری سندوں سے بھی ابوہریرہ کے واسطہ سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ۳- اس باب میں علی، ابن عمر، عائشہ، ابوسعید، جابر اور ابوامامہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن الاسكندراني، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن لبستين الصماء وان يحتبي الرجل بثوبه ليس على فرجه منه شيء . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي وابن عمر وعايشة وابي سعيد وجابر وابي امامة . وحديث ابي هريرة حسن صحيح غريب من هذا الوجه وقد روي هذا من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بال میں جوڑے لگانے والی، بال میں جوڑے لگوانے والی، گدنا گوندنے والی اور گدنا گوندوانے والی پر لعنت بھیجی ہے“۔ نافع کہتے ہیں: گدنا مسوڑے میں ہوتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابن مسعود، اسماء بنت ابی بکر، ابن عباس، معقل بن یسار اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لعن الله الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة " . قال نافع الوشم في اللثة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال وفي الباب عن عايشة وابن مسعود واسماء بنت ابي بكر وابن عباس ومعقل بن يسار ومعاوية