Loading...

Loading...
کتب
۶۸ احادیث
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ریشم کا لباس اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال کیا گیا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، عقبہ بن عامر، انس، حذیفہ، ام ہانی، عبداللہ بن عمرو، عمران بن حصین، عبداللہ بن زبیر، جابر، ابوریحان، ابن عمر، براء، اور واثلہ بن اسقع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن سعيد بن ابي هند، عن ابي موسى الاشعري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " حرم لباس الحرير والذهب على ذكور امتي واحل لاناثهم " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عمر وعلي وعقبة بن عامر وانس وحذيفة وام هاني وعبد الله بن عمرو وعمران بن حصين وعبد الله بن الزبير وجابر وابي ريحانة وابن عمر وواثلة بن الاسقع . وحديث ابي موسى حديث حسن صحيح
سوید بن غفلہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر نے مقام جابیہ میں خطبہ دیا اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم سے منع فرمایا سوائے دو، یا تین، یا چار انگشت کے برابر ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معاذ بن هشام، حدثنا ابي، عن قتادة، عن الشعبي، عن سويد بن غفلة، عن عمر، انه خطب بالجابية فقال نهى نبي الله صلى الله عليه وسلم عن الحرير الا موضع اصبعين او ثلاث او اربع . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی الله عنہما نے ایک غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی، تو آپ نے انہیں ریشم کی قمیص کی اجازت دے دی، انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے ان کے بدن پر ریشم کی قمیص دیکھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن انس بن مالك، ان عبد الرحمن بن عوف، والزبير بن العوام، شكيا القمل الى النبي صلى الله عليه وسلم في غزاة لهما فرخص لهما في قمص الحرير قال ورايته عليهما . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی الله عنہ ( ہمارے پاس ) آئے تو میں ان کے پاس گیا، انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ رضی الله عنہ ہوں، انس رضی الله عنہ رو پڑے اور بولے: تم سعد کی شکل کے ہو، سعد بڑے دراز قد اور لمبے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا گیا جس میں زری کا کام کیا ہوا تھا ۱؎ آپ اسے پہن کر منبر پر چڑھے، کھڑے ہوئے یا بیٹھے تو لوگ اسے چھو کر کہنے لگے: ہم نے آج کی طرح کبھی کوئی کپڑا نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس پر تعجب کر رہے ہو؟ جنت میں سعد کے رومال اس سے کہیں بہتر ہیں جو تم دیکھ رہے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں اسماء بنت ابی بکر سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابو عمار، حدثنا الفضل بن موسى، عن محمد بن عمرو، حدثنا واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ، قال قدم انس بن مالك فاتيته فقال من انت فقلت انا واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ، . قال فبكى وقال انك لشبيه بسعد وان سعدا كان من اعظم الناس واطولهم وانه بعث الى النبي صلى الله عليه وسلم جبة من ديباج منسوج فيها الذهب فلبسها رسول الله صلى الله عليه وسلم فصعد المنبر فقام او قعد فجعل الناس يلمسونها فقالوا ما راينا كاليوم ثوبا قط . فقال " اتعجبون من هذه لمناديل سعد في الجنة خير مما ترون " . قال وفي الباب عن اسماء بنت ابي بكر . وهذا حديث صحيح
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سرخ جوڑے میں کسی لمبے بال والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال شانوں کو چھوتے تھے، آپ کے شانوں کے درمیان دوری تھی، آپ نہ کوتاہ قد تھے اور نہ لمبے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن سمرہ، ابورمثہ اور ابوجحیفہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال ما رايت من ذي لمة في حلة حمراء احسن من رسول الله صلى الله عليه وسلم له شعر يضرب منكبيه بعيد ما بين المنكبين لم يكن بالقصير ولا بالطويل . قال ابو عيسى وفي الباب عن جابر بن سمرة وابي رمثة وابي جحيفة . وهذا حديث حسن صحيح
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسی کے بنے ہوئے ریشمی اور زرد رنگ کے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا مالك بن انس، عن نافع، عن ابراهيم بن عبد الله بن حنين، عن ابيه، عن علي، قال نهاني النبي صلى الله عليه وسلم عن لبس القسي والمعصفر . قال ابو عيسى وفي الباب عن انس وعبد الله بن عمرو وحديث علي حديث حسن صحيح
سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھی، پنیر اور پوستین ( چمڑے کا لباس ) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کر دیا، اور حرام وہ ہے، جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کر دیا اور جس چیز کے بارے میں وہ خاموش رہا وہ اس قبیل سے ہے جسے اللہ نے معاف کر دیا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ۲- اسے سفیان نے بسند «سليمان التيمي عن أبي عثمان عن سلمان» موقوفاً روایت کیا ہے، گویا یہ موقوف حدیث زیادہ صحیح ہے، اس باب میں مغیرہ سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں اس کو محفوظ نہیں سمجھتا ہوں، سفیان نے بسند «سليمان التيمي عن أبي عثمان عن سلمان» موقوفا روایت کی ہے، ۴- امام بخاری کہتے ہیں: سیف بن ہارون مقارب الحدیث ہیں، اور سیف بن محمد عاصم سے روایت کرنے میں ذاہب الحدیث ہیں۔
حدثنا اسماعيل بن موسى الفزاري، حدثنا سيف بن هارون البرجمي، عن سليمان التيمي، عن ابي عثمان، عن سلمان، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن السمن والجبن والفراء . فقال " الحلال ما احل الله في كتابه والحرام ما حرم الله في كتابه وما سكت عنه فهو مما عفا عنه " . قال ابو عيسى وفي الباب عن المغيرة . وهذا حديث غريب لا نعرفه مرفوعا الا من هذا الوجه . وروى سفيان وغيره عن سليمان التيمي عن ابي عثمان عن سلمان قوله وكان الحديث الموقوف اصح . وسالت البخاري عن هذا الحديث فقال ما اراه محفوظا روى سفيان عن سليمان التيمي عن ابي عثمان عن سلمان موقوفا . قال البخاري وسيف بن هارون مقارب الحديث وسيف بن محمد عن عاصم ذاهب الحديث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک بکری مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری والے سے کہا: تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی؟ پھر تم دباغت دے کر اس سے فائدہ حاصل کرتے ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عطاء بن ابي رباح، قال سمعت ابن عباس، يقول ماتت شاة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاهلها " الا نزعتم جلدها ثم دبغتموه فاستمتعتم به " . قال ابو عيسى وفي الباب عن سلمة بن المحبق وميمونة وعايشة . وحديث ابن عباس حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا . وروي عن ابن عباس عن ميمونة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروي عنه عن سودة وسمعت محمدا يصحح حديث ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم وحديث ابن عباس عن ميمونة وقال احتمل ان يكون روى ابن عباس عن ميمونة عن النبي صلى الله عليه وسلم وروى ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم ولم يذكر فيه عن ميمونة . قال ابو عيسى والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چمڑے کو دباغت دی گئی، وہ پاک ہو گیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بواسطہ ابن عباس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی اسی طرح مروی ہے، ۳- یہ حدیث ابن عباس سے کبھی میمونہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور کبھی سودہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ابن عباس کی حدیث اور میمونہ کے واسطہ سے مروی ابن عباس کی حدیث کو صحیح کہتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: احتمال ہے کہ ابن عباس نے بواسطہ میمونہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہو، اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست بھی روایت کیا، اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۵- نضر بن شمیل نے بھی اس کا یہی مفہوم بیان کیا ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: نضر بن شمیل نے کہا: «إهاب» اس جانور کے چمڑے کو کہا جاتا ہے، جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، ۶- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں: مردار کا چمڑا دباغت دینے کے بعد پاک ہو جاتا ہے“، ۷- شافعی کہتے ہیں: کتے اور سور کے علاوہ جس مردار جانور کا چمڑا دباغت دیا جائے وہ پاک ہو جائے گا، انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے، ۸- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں نے درندوں کے چمڑوں کو مکروہ سمجھا ہے، اگرچہ اس کو دباغت دی گئی ہو، عبداللہ بن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ان لوگوں نے اسے پہننے اور اس میں نماز ادا کرنے کو برا سمجھا ہے، ۹- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «أيما إهاب دبغ فقد طهر» کا مطلب یہ ہے کہ اس جانور کا چمڑا دباغت سے پاک ہو جائے گا جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، ۱۰- اس باب میں سلمہ بن محبق، میمونہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، وعبد العزيز بن محمد، عن زيد بن اسلم، عن عبد الرحمن بن وعلة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما اهاب دبغ فقد طهر " . هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم قالوا في جلود الميتة اذا دبغت فقد طهرت . قال ابو عيسى قال الشافعي ايما اهاب ميتة دبغ فقد طهر الا الكلب والخنزير . واحتج بهذا الحديث . وقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم انهم كرهوا جلود السباع وان دبغ وهو قول عبد الله بن المبارك واحمد واسحاق وشددوا في لبسها والصلاة فيها . قال اسحاق بن ابراهيم انما معنى قول رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما اهاب دبغ فقد طهر " . جلد ما يوكل لحمه هكذا فسره النضر بن شميل . وقال اسحاق قال النضر بن شميل انما يقال الاهاب لجلد ما يوكل لحمه
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آیا کہ تم لوگ مردہ جانوروں کے چمڑے ۱؎ اور پٹھوں سے فائدے نہ حاصل کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن عکیم سے ان کے شیوخ کے واسطہ سے بھی آئی ہے، ۳- اکثر اہل علم کا اس پر عمل نہیں ہے، ۴- عبداللہ بن عکیم سے یہ حدیث مروی ہے، انہوں نے کہا: ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آپ کی وفات سے دو ماہ پہلے آیا، ۵- میں نے احمد بن حسن کو کہتے سنا، احمد بن حنبل اسی حدیث کو اختیار کرتے تھے اس وجہ سے کہ اس میں آپ کی وفات سے دو ماہ قبل کا ذکر ہے، وہ یہ بھی کہتے تھے: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حکم تھا، ۶- پھر احمد بن حنبل نے اس حدیث کو چھوڑ دیا اس لیے کہ راویوں سے اس کی سند میں اضطراب واقع ہے، چنانچہ بعض لوگ اسے عبداللہ بن عکیم سے ان کے جہینہ کے شیوخ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا محمد بن طريف الكوفي، حدثنا محمد بن فضيل، عن الاعمش، والشيباني، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن عبد الله بن عكيم، قال اتانا كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لا تنتفعوا من الميتة باهاب ولا عصب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . ويروى عن عبد الله بن عكيم عن اشياخ لهم هذا الحديث . وليس العمل على هذا عند اكثر اهل العلم . وقد روي هذا الحديث عن عبد الله بن عكيم انه قال اتانا كتاب النبي صلى الله عليه وسلم قبل وفاته بشهرين . قال وسمعت احمد بن الحسن يقول كان احمد بن حنبل يذهب الى هذا الحديث لما ذكر فيه قبل وفاته بشهرين وكان يقول كان هذا اخر امر النبي صلى الله عليه وسلم . ثم ترك احمد بن حنبل هذا الحديث لما اضطربوا في اسناده حيث روى بعضهم فقال عن عبد الله بن عكيم عن اشياخ لهم من جهينة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جس نے تکبر سے اپنا تہ بند گھیسٹا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حذیفہ، ابو سعید خدری، ابوہریرہ، سمرہ، ابوذر، عائشہ اور وہیب بن مغفل رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، ح وحدثنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، وعبد الله بن دينار، وزيد بن اسلم، كلهم يخبر عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا ينظر الله يوم القيامة الى من جر ثوبه خيلاء " . قال ابو عيسى وفي الباب عن حذيفة وابي سعيد وابي هريرة وسمرة وابي ذر وعايشة وهبيب بن مغفل . وحديث ابن عمر حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا“، ام سلمہ نے کہا: عورتیں اپنے دامنوں کا کیا کریں؟ آپ نے فرمایا: ”ایک بالشت لٹکا لیں“، انہوں نے کہا: تب تو ان کے قدم کھل جائیں گے، آپ نے فرمایا: ”ایک بالشت لٹکائیں ۱؎ اور اس سے زیادہ نہ لٹکائیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله اليه يوم القيامة " . فقالت ام سلمة فكيف يصنعن النساء بذيولهن قال " يرخين شبرا " . فقالت اذا تنكشف اقدامهن . قال " فيرخينه ذراعا لا يزدن عليه " . قال هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کے «نطاق» کے لیے ایک بالشت کا اندازہ لگایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بعض لوگوں نے اسے «حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن عن أمه عن أم سلمة» کی سند سے روایت کی ہے، ۲- اس حدیث میں عورتوں کے لیے تہ بند ( چادر ) گھسیٹنے کی اجازت ہے، اس لیے کہ یہ ان کے لیے زیادہ ستر پوشی کا باعث ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن ام الحسن البصري، ان ام سلمة، حدثتهم ان النبي صلى الله عليه وسلم شبر لفاطمة شبرا من نطاقها . قال ابو عيسى وروى بعضهم عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن عن امه عن ام سلمة . وفي هذا الحديث رخصة للنساء في جر الازار لانه يكون استر لهن
ابوبردہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی الله عنہا نے ہمارے سامنے ایک اونی چادر اور موٹا تہ بند نکالا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات انہی دونوں کپڑوں میں ہوئی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی اور ابن مسعود رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا ايوب، عن حميد بن هلال، عن ابي بردة، قال اخرجت الينا عايشة كساء ملبدا وازارا غليظا فقالت قبض روح رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذين . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي وابن مسعود . وحديث عايشة حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس دن موسیٰ علیہ السلام سے ان کے رب نے گفتگو کی اس دن موسیٰ علیہ السلام کے بدن پر پرانی چادر، اونی جبہ، اونی ٹوپی، اور اونی سراویل ( پائجامہ ) تھا اور ان کے جوتے مرے ہوئے گدھے کے چمڑے کے تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حمید اعرج کی روایت سے جانتے ہیں، حمید سے مراد حمید بن علی کوفی ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا کہ حمید بن علی اعرج منکرالحدیث ہیں اور حمید بن قیس اعرج مکی جو مجاہد کے شاگرد ہیں، وہ ثقہ ہیں، ۳- «کمہ» : چھوٹی ٹوپی کو کہتے ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا خلف بن خليفة، عن حميد الاعرج، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كان على موسى يوم كلمه ربه كساء صوف وجبة صوف وكمة صوف وسراويل صوف وكانت نعلاه من جلد حمار ميت " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث حميد الاعرج . وحميد هو ابن علي الكوفي . قال سمعت محمدا يقول حميد بن علي الاعرج منكر الحديث وحميد بن قيس الاعرج المكي صاحب مجاهد ثقة . والكمة القلنسوة الصغيرة
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں علی، عمر، ابن حریث، ابن عباس اور رکانہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن حماد بن سلمة، عن ابي الزبير، عن جابر، قال دخل النبي صلى الله عليه وسلم مكة يوم الفتح وعليه عمامة سوداء . قال وفي الباب عن علي وعمرو بن حريث وابن عباس وركانة . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمامہ باندھتے تو اسے اپنے شانوں کے بیچ لٹکا لیتے۔ نافع کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما اپنے عمامہ کو شانوں کے بیچ لٹکاتے تھے۔ عبیداللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے قاسم اور سالم کو بھی ایسا کرتے ہوئے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، لیکن ان کی حدیث سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا يحيى بن محمد المدني، عن عبد العزيز بن محمد، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اعتم سدل عمامته بين كتفيه . قال نافع وكان ابن عمر يسدل عمامته بين كتفيه . قال عبيد الله ورايت القاسم وسالما يفعلان ذلك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وفي الباب عن علي ولا يصح حديث علي في هذا من قبل اسناده
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی، «قسی» ( ایک ریشمی کپڑا ) کا لباس، رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے اور «معصفر» ( کسم سے رنگے ہوئے زرد ) کپڑے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سلمة بن شبيب، والحسن بن علي الخلال، وغير، واحد، قالوا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابراهيم بن عبد الله بن حنين، عن ابيه، عن علي بن ابي طالب، قال نهاني النبي صلى الله عليه وسلم عن التختم بالذهب وعن لباس القسي وعن القراءة في الركوع والسجود وعن لباس المعصفر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمران کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابن عمر، ابوہریرہ اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا يوسف بن حماد المعني البصري، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن ابي التياح، حدثنا حفص الليثي، قال اشهد على عمران بن حصين انه حدثنا انه، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التختم بالذهب . قال وفي الباب عن علي وابن عمر وابي هريرة ومعاوية . قال ابو عيسى حديث عمران حديث حسن . وابو التياح اسمه يزيد بن حميد
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ ( عقیق ) حبشہ کا بنا ہوا تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، وغير، واحد، عن عبد الله بن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، عن انس، قال كان خاتم النبي صلى الله عليه وسلم من ورق وكان فصه حبشيا . قال وفي الباب عن ابن عمر وبريدة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه