Loading...

Loading...
کتب
۶۸ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اگر تم ( آخرت میں ) مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو دنیا سے مسافر کے سامان سفر کے برابر حاصل کرنے پر اکتفا کرو، مالداروں کی صحبت سے بچو اور کسی کپڑے کو اس وقت تک پرانا نہ سمجھ یہاں تک کہ اس میں پیوند لگا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف صالح بن حسان کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: صالح بن حسان منکر حدیث ہیں اور صالح بن ابی حسان جن سے ابن ابی ذئب نے روایت کی ہے وہ ثقہ ہیں،
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا سعيد بن محمد الوراق، وابو يحيى الحماني قالا حدثنا صالح بن حسان، عن عروة، عن عايشة، قالت قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اردت اللحوق بي فليكفيك من الدنيا كزاد الراكب واياك ومجالسة الاغنياء ولا تستخلقي ثوبا حتى ترقعيه " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث صالح بن حسان . قال وسمعت محمدا يقول صالح بن حسان منكر الحديث وصالح بن ابي حسان الذي روى عنه ابن ابي ذيب ثقة . قال ابو عيسى ومعنى قوله " واياك ومجالسة الاغنياء " . هو نحو ما روي عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " من راى من فضل عليه في الخلق والرزق فلينظر الى من هو اسفل منه ممن فضل هو عليه فانه اجدر ان لا يزدري نعمة الله عليه " . ويروى عن عون بن عبد الله بن عتبة قال صحبت الاغنياء فلم ار احدا اكثر هما مني ارى دابة خيرا من دابتي وثوبا خيرا من ثوبي وصحبت الفقراء فاسترحت
ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اس حال میں آئے کہ آپ کی چار چوٹیاں تھیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ام ہانی سے مجاہد کا سماع میں نہیں جانتا ہوں۔
ابوکبشہ انماری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی آستینیں کشادہ تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث منکر ہے، ۲- عبداللہ بن بسر بصرہ کے رہنے والے ہیں، محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، یحییٰ بن سعید وغیرہ نے انہیں ضعیف کہا ہے، ۳- «بطح» چوڑی اور کشادہ چیز کو کہتے ہیں۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا محمد بن حمران، عن ابي سعيد، وهو عبد الله بن بسر قال سمعت ابا كبشة الانماري، يقول كانت كمام اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بطحا . قال ابو عيسى هذا حديث منكر . وعبد الله بن بسر بصري هو ضعيف عند اهل الحديث ضعفه يحيى بن سعيد وغيره . وبطح يعني واسعة
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی یا میری پنڈلی کا گوشت پکڑا اور فرمایا: ”یہ تہبند کی جگہ ہے، اگر اس پر راضی نہ ہو تو تھوڑا اور نیچا کر لو، پھر اگر اور نیچا کرنا چاہو تو تہ بند ٹخنوں سے نیچا نہیں کر سکتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، ثوری اور شعبہ نے بھی اس کو ابواسحاق سبیعی سے روایت کیا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن مسلم بن نذير، عن حذيفة، قال اخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بعضلة ساقي او ساقه فقال " هذا موضع الازار فان ابيت فاسفل فان ابيت فلا حق للازار في الكعبين " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . رواه الثوري وشعبة عن ابي اسحاق
محمد بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی لڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پچھاڑ دیا، رکانہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”ہمارے اور مشرکوں کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامہ باندھنے کا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی سند قائم ( صحیح ) نہیں ہے، ۳- ہم ابوالحسن عسقلانی اور ابن رکانہ کو نہیں جانتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا محمد بن ربيعة، عن ابي الحسن العسقلاني، عن ابي جعفر بن محمد بن ركانة، عن ابيه، ان ركانة، صارع النبي صلى الله عليه وسلم فصرعه النبي صلى الله عليه وسلم قال ركانة سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان فرق ما بيننا وبين المشركين العمايم على القلانس " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب واسناده ليس بالقايم . ولا نعرف ابا الحسن العسقلاني ولا ابن ركانة
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہنمیوں کا زیور پہنے ہو؟“ پھر وہ آپ کے پاس پیتل کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے کہ تم سے بتوں کی بدبو آ رہی ہے؟ پھر وہ آپ کے پاس سونے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جنتیوں کا زیور پہنے ہو؟ اس نے پوچھا: میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں؟ آپ نے فرمایا: ”چاندی کی اور ( وزن میں ) ایک مثقال سے کم رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے، ۳- عبداللہ بن مسلم کی کنیت ابوطیبہ ہے اور وہ عبداللہ بن مسلم مروزی ہیں۔
حدثنا محمد بن حميد، حدثنا زيد بن حباب، وابو تميلة يحيى بن واضح عن عبد الله بن مسلم، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم وعليه خاتم من حديد فقال " ما لي ارى عليك حلية اهل النار " . ثم جاءه وعليه خاتم من صفر فقال " ما لي اجد منك ريح الاصنام " . ثم اتاه وعليه خاتم من ذهب فقال " ما لي ارى عليك حلية اهل الجنة " . قال من اى شيء اتخذه قال " من ورق ولا تتمه مثقالا " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وفي الباب عن عبد الله بن عمرو . وعبد الله بن مسلم يكنى ابا طيبة وهو مروزي
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قسي» ( ایک ریشمی کپڑا ) سرخ ( رنگ کا ریشمی ) زین پوش اور اس انگلی اور اس انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا اور انہوں نے شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عاصم بن كليب، عن ابن ابي موسى، قال سمعت عليا، يقول نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم عن القسي والميثرة الحمراء وان البس خاتمي في هذه وفي هذه . واشار الى السبابة والوسطى . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابن ابي موسى هو ابو بردة بن ابي موسى واسمه عامر بن عبد الله بن قيس
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ کپڑا جسے آپ پہنتے تھے وہ دھاری دار یمنی چادر تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن انس، قال كان احب الثياب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبسها الحبرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب