Loading...

Loading...
کتب
۵۰ احادیث
مزیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ داخل ہوئے اور آپ کی تلوار سونا اور چاندی سے مزین تھی، راوی طالب کہتے ہیں: میں نے ہود بن عبداللہ سے چاندی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہود کے دادا کا نام مزیدہ عصری ہے، ۳- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن صدران ابو جعفر البصري، حدثنا طالب بن حجير، عن هود بن عبد الله بن سعد، عن جده، مزيدة قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفتح وعلى سيفه ذهب وفضة . قال طالب فسالته عن الفضة فقال كانت قبيعة السيف فضة . قال ابو عيسى وفي الباب عن انس . وهذا حديث غريب . وجد هود اسمه مزيدة العصري
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اسی طرح اس حدیث کو ہمام، قتادہ سے اور قتادہ، انس سے روایت کرتے ہیں، بعض لوگوں نے قتادہ کے واسطہ سے، سعید بن ابی الحسن سے بھی روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا وهب بن جرير بن حازم، حدثنا ابي، عن قتادة، عن انس، قال كانت قبيعة سيف رسول الله صلى الله عليه وسلم من فضة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وهكذا روي عن همام عن قتادة عن انس وقد روى بعضهم عن قتادة عن سعيد بن ابي الحسن قال كانت قبيعة سيف رسول الله صلى الله عليه وسلم من فضة
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر دو زرہیں تھیں ۱؎، آپ چٹان پر چڑھنے لگے، لیکن نہیں چڑھ سکے، آپ نے طلحہ بن عبیداللہ کو اپنے نیچے بٹھایا، پھر آپ ان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہو گئے، زبیر کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”طلحہ نے ( اپنے عمل سے جنت ) واجب کر لی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں صفوان بن امیہ اور سائب بن یزید رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا يونس بن بكير، عن محمد بن اسحاق، عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن ابيه، عن جده عبد الله بن الزبير، عن الزبير بن العوام، قال كان على النبي صلى الله عليه وسلم درعان يوم احد فنهض الى الصخرة فلم يستطع فاقعد طلحة تحته فصعد النبي صلى الله عليه وسلم عليه حتى استوى على الصخرة فقال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اوجب طلحة " . قال ابو عيسى وفي الباب عن صفوان بن امية والسايب بن يزيد . وهذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث محمد بن اسحاق
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا، آپ سے کہا گیا: ابن خطل ۱؎ کعبہ کے پردوں میں لپٹا ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲ – ہم میں سے اکثر لوگوں کے نزدیک زہری سے مالک کے علاوہ کسی نے اسے روایت نہیں کی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، قال دخل النبي صلى الله عليه وسلم عام الفتح وعلى راسه المغفر فقيل له ابن خطل متعلق باستار الكعبة . فقال " اقتلوه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرف كبير احد رواه غير مالك عن الزهري
عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر ( بھلائی ) بندھی ہوئی ہے، خیر سے مراد اجر اور غنیمت ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابو سعید خدری، جریر، ابوہریرہ، اسماء بنت یزید، مغیرہ بن شعبہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- امام احمد بن حنبل کہتے ہیں، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جہاد کا حکم ہر امام کے ساتھ قیامت تک باقی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبثر بن القاسم، عن حصين، عن الشعبي، عن عروة البارقي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الخير معقود في نواصي الخيل الى يوم القيامة الاجر والمغنم " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن عمر وابي سعيد وجرير وابي هريرة واسماء بنت يزيد والمغيرة بن شعبة وجابر . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح . وعروة هو ابن ابي الجعد البارقي ويقال هو عروة بن الجعد . قال احمد بن حنبل وفقه هذا الحديث ان الجهاد مع كل امام الى يوم القيامة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرخ رنگ کے گھوڑوں میں برکت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف شیبان کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن الصباح الهاشمي البصري، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا شيبان يعني ابن عبد الرحمن، حدثنا عيسى بن علي بن عبد الله بن عباس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يمن الخيل في الشقر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث شيبان
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر گھوڑے وہ ہیں جو کالے رنگ کے ہوں، جن کی پیشانی اور اوپر کا ہونٹ سفید ہو، پھر ان کے بعد وہ گھوڑے ہیں جن کے چاروں پیر اور پیشانی سفید ہو، اگر گھوڑا کالے رنگ کا نہ ہو تو انہیں صفات کا سرخ سیاہی مائل عمدہ گھوڑا ہے“۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا ابن لهيعة، عن يزيد بن ابي حبيب، عن على بن رباح، عن ابي قتادة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خير الخيل الادهم الاقرح الارثم ثم الاقرح المحجل طلق اليمين فان لم يكن ادهم فكميت على هذه الشية
یزید بن ابی حبیب سے اسی سند سے اسی معنی کی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي، عن يحيى بن ايوب، عن يزيد بن ابي حبيب، بهذا الاسناد نحوه بمعناه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھوڑوں میں سے «شکال» گھوڑا ناپسند تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے عبداللہ بن یزید خثعمی سے، بسند «أبي زرعة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، ابوزرعہ عمرو بن جریر کا نام ہرم ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان، قال حدثني سلم بن عبد الرحمن النخعي، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كره الشكال من الخيل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه شعبة عن عبد الله بن يزيد الخثعمي عن ابي زرعة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . وابو زرعة بن عمرو بن جرير اسمه هرم . حدثنا محمد بن حميد الرازي حدثنا جرير عن عمارة بن القعقاع قال قال لي ابراهيم النخعي اذا حدثتني فحدثني عن ابي زرعة فانه حدثني مرة بحديث ثم سالته بعد ذلك بسنين فما اخرم منه حرفا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «تضمیر» کیے ہوئے گھوڑوں کی مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک دوڑ کرائی، ان دونوں کے درمیان چھ میل کا فاصلہ ہے، اور جو «تضمیر» کیے ہوئے نہیں تھے ان کو ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک گھڑ دوڑ کرائی، ان دونوں کے درمیان ایک میل کا فاصلہ ہے، گھڑ دوڑ کے مقابلہ میں میں بھی شامل تھا، چنانچہ میرا گھوڑا مجھے لے کر ایک دیوار کود گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ثوری کی روایت سے یہ حدیث صحیح حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، جابر، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن وزير الواسطي، حدثنا اسحاق بن يوسف الازرق، عن سفيان، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اجرى المضمر من الخيل من الحفياء الى ثنية الوداع وبينهما ستة اميال وما لم يضمر من الخيل من ثنية الوداع الى مسجد بني زريق وبينهما ميل وكنت فيمن اجرى فوثب بي فرسي جدارا . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي هريرة وجابر وعايشة وانس . وهذا حديث صحيح حسن غريب من حديث الثوري
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”مقابلہ صرف تیر، اونٹ اور گھوڑوں میں جائز ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن ابن ابي ذيب، عن نافع بن ابي نافع، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا سبق الا في نصل او خف او حافر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع اور مامور بندے تھے، آپ نے ہم کو دوسروں کی بنسبت تین چیزوں کا خصوصی حکم دیا: ہم کو حکم دیا ۱؎ کہ پوری طرح وضو کریں، صدقہ نہ کھائیں اور گھوڑی پر گدھا نہ چھوڑیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سفیان ثوری نے ابوجہضم سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث کی سند یوں بیان کی، «عن عبيد الله بن عبد الله بن عباس عن ابن عباس»، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ثوری کی حدیث غیر محفوظ ہے، اس میں ثوری سے وہم ہوا ہے، صحیح وہ روایت ہے جسے اسماعیل بن علیہ اور عبدالوارث بن سعید نے ابوجہضم سے، ابوجہضم عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس سے، اور عبیداللہ نے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کی ہے، ۴- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا ابو جهضم، موسى بن سالم عن عبد الله بن عبيد الله بن عباس، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم عبدا مامورا ما اختصنا دون الناس بشيء الا بثلاث امرنا ان نسبغ الوضوء وان لا ناكل الصدقة وان لا ننزي حمارا على فرس . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي . وهذا حديث حسن صحيح . وروى سفيان الثوري هذا عن ابي جهضم فقال عن عبيد الله بن عبد الله بن عباس عن ابن عباس . قال وسمعت محمدا يقول حديث الثوري غير محفوظ ووهم فيه الثوري والصحيح ما روى اسماعيل ابن علية وعبد الوارث بن سعيد عن ابي جهضم عن عبد الله بن عبيد الله بن عباس عن ابن عباس
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مجھے اپنے ضعیفوں اور کمزوروں میں تلاش کرو، اس لیے کہ تم اپنے ضعیفوں اور کمزوروں کی ( دعاؤں کی برکت کی ) وجہ سے رزق دیئے جاتے ہو اور تمہاری مدد کی جاتی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن محمد بن موسى، حدثنا عبد الله بن المبارك، قال اخبرنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثنا زيد بن ارطاة، عن جبير بن نفير، عن ابي الدرداء، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ابغوني ضعفاءكم فانما ترزقون وتنصرون بضعفايكم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے مسافروں کی اس جماعت کے ساتھ نہیں رہتے ہیں جس میں کتا یا گھنٹی ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، عائشہ، ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تصحب الملايكة رفقة فيها كلب ولا جرس " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عمر وعايشة وام حبيبة وام سلمة . وهذا حديث حسن صحيح
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لشکر روانہ کیا ۱؎، ایک پر علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کو اور دوسرے پر خالد بن ولید رضی الله عنہ کو امیر مقرر کیا اور فرمایا: ”جب جنگ ہو تو علی امیر ہوں گے ۲؎“، علی رضی الله عنہ نے ایک قلعہ فتح کیا اور اس میں سے ایک لونڈی لے لی، خالد بن ولید رضی الله عنہ نے مجھ کو خط کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روانہ کیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے خط پڑھا تو آپ کا رنگ متغیر ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: ”اس آدمی کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: میں اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں میں تو صرف قاصد ہوں، لہٰذا آپ خاموش ہو گئے ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس کو صرف احوص بن جواب کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابن عمر سے بھی حدیث مروی ہے، ۳- «يشي به» کا معنی چغل خوری ہے۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد، حدثنا الاحوص بن الجواب ابو الجواب، عن يونس بن ابي اسحاق، عن ابي اسحاق، عن البراء، ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث جيشين وامر على احدهما علي بن ابي طالب وعلى الاخر خالد بن الوليد وقال " اذا كان القتال فعلي " . قال فافتتح علي حصنا فاخذ منه جارية فكتب معي خالد بن الوليد الى النبي صلى الله عليه وسلم يشي به فقدمت على النبي صلى الله عليه وسلم فقرا الكتاب فتغير لونه ثم قال " ما ترى في رجل يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله " . قال قلت اعوذ بالله من غضب الله وغضب رسوله وانما انا رسول . فسكت . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن عمر . وهذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث الاحوص بن جواب . معنى قوله يشي به يعني النميمة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر آدمی نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے، چنانچہ لوگوں کا امیر ان کا نگہبان ہے اور وہ اپنی رعایا کے بارے میں جواب دہ ہے، اسی طرح مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور ان کے بارے میں جواب دہ ہے، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے، غلام اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، انس اور ابوموسیٰ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابوموسیٰ کی حدیث غیر محفوظ ہے، اور انس کی حدیث بھی غیر محفوظ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسے ابراہیم بن بشار رمادی نے بسند «سفيان بن عيينة عن بريد بن عبد الله بن أبي بردة عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اس حدیث کو کئی لوگوں نے بسند «سفيان عن بريد عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، مگر یہ مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اسحاق بن ابراہیم نے بسند «معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے: بیشک اللہ تعالیٰ ہر نگہبان سے پوچھے گا اس چیز کے بارے میں جس کی نگہبانی کے لیے اس کو رکھا ہے، امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: یہ روایت غیر محفوظ ہے، صحیح وہی ہے جو «عن معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
ام حصین احمسیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ کے جسم پر ایک چادر تھی جسے اپنی بغل کے نیچے سے لپیٹے ہوئے تھے، ( گویا میں ) آپ کے بازو کا پھڑکتا ہوا گوشت دیکھ رہی ہوں، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگو! اللہ سے ڈرو، اور اگر کان کٹا ہوا حبشی غلام بھی تمہارا حاکم بنا دیا جائے تو اس کی بات مانو اور اس کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہارے لیے کتاب اللہ کو قائم کرے“ ( یعنی کتاب اللہ کے موافق حکم دے ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ( یہ حدیث ) دوسری سندوں سے بھی ام حصین سے مروی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور عرباض بن ساریہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى النيسابوري، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا يونس بن ابي اسحاق، عن العيزار بن حريث، عن ام الحصين الاحمسية، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب في حجة الوداع وعليه برد قد التفع به من تحت ابطه قالت فانا انظر الى عضلة عضده ترتج سمعته يقول " يا ايها الناس اتقوا الله وان امر عليكم عبد حبشي مجدع فاسمعوا له واطيعوا ما اقام لكم كتاب الله " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي هريرة وعرباض بن سارية . وهذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن ام حصين
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک معصیت کا حکم نہ دیا جائے مسلمان پر سمع و طاعت لازم ہے خواہ وہ پسند کرے یا ناپسند کرے، اور اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ اس کے لیے سننا ضروری ہے اور نہ اطاعت کرنا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، عمران بن حصین اور حکم بن عمر و غفاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " السمع والطاعة على المرء المسلم فيما احب وكره ما لم يومر بمعصية فان امر بمعصية فلا سمع عليه ولا طاعة " . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي وعمران بن حصين والحكم بن عمرو الغفاري . وهذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا يحيى بن ادم، عن قطبة بن عبد العزيز، عن الاعمش، عن ابي يحيى، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التحريش بين البهايم
مجاہد سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند میں راوی نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے، ۲- کہا جاتا ہے، قطبہ کی ( اگلی ) حدیث سے یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، اس حدیث کو شریک نے بطریق «مجاهد عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں ابویحییٰ کا ذکر نہیں کیا ہے، ۳- اور ابومعاویہ نے اس کو بطریق «الأعمش عن مجاهد عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے، ابویحییٰ سے مراد ابویحییٰ قتات کوفی ہیں، کہا جاتا ہے ان کا نام زاذان ہے، ۴- اس باب میں طلحہ، جابر، ابوسعید اور عکراش بن ذؤیب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔