Loading...

Loading...
کتب
۵۰ احادیث
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور اسے داغنے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا روح بن عبادة، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الوسم في الوجه والضرب . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک لشکر میں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، میں چودہ سال کا تھا، تو آپ نے مجھے ( جہاد میں لڑنے کے لیے ) قبول نہیں کیا، پھر مجھے آپ کے سامنے آئندہ سال ایک لشکر میں پیش کیا گیا اور میں پندرہ سال کا تھا، تو آپ نے مجھے ( لشکر میں ) قبول کر لیا، نافع کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو عمر بن عبدالعزیز سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: چھوٹے اور بڑے کے درمیان یہی حد ہے، پھر انہوں نے فرمان جاری کیا کہ جو پندرہ سال کا ہو جائے اسے مال غنیمت سے حصہ دیا جائے ۱؎۔
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے بیچ کھڑے ہو کر ان سے بیان کیا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے“ ۱؎، ( یہ سن کر ) ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اللہ کی راہ میں شہید ہو جاؤں، تو کیا میرے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اگر تم اللہ کی راہ میں شہید ہو گئے اس حال میں کہ تم صبر کرنے والے، ثواب کی امید رکھنے والے ہو، آگے بڑھنے والے ہو، پیچھے مڑنے والے نہ ہو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کیسے کہا ہے؟“ عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اللہ کی راہ میں شہید ہو جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اگر تم صبر کرنے والے، ثواب کی امید رکھنے والے ہو اور آگے بڑھنے والے ہو پیچھے مڑنے والے نہ ہو، سوائے قرض کے ۲؎، یہ مجھ سے جبرائیل نے ( ابھی ) کہا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بسند «سعيد المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، یحییٰ بن سعید انصاری اور کئی لوگوں نے اس کو بسند «سعيد المقبري عن عبد الله ابن أبي قتادة عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے، یہ روایت سعید مقبری کی روایت سے جو بواسطہ ابوہریرہ آئی ہے، زیادہ صحیح ہے، ۴- اس باب میں انس، محمد بن جحش اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، انه سمعه يحدث، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قام فيهم فذكر لهم ان الجهاد في سبيل الله والايمان بالله افضل الاعمال فقام رجل فقال يا رسول الله ارايت ان قتلت في سبيل الله ايكفر عني خطاياى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم ان قتلت في سبيل الله وانت صابر محتسب مقبل غير مدبر " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كيف قلت " . قلت ارايت ان قتلت في سبيل الله ايكفر عني خطاياى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم وانت صابر محتسب مقبل غير مدبر الا الدين فان جبريل قال لي ذلك " . قال ابو عيسى وفي الباب عن انس ومحمد بن جحش وابي هريرة . وهذا حديث حسن صحيح . وروى بعضهم هذا الحديث عن سعيد المقبري عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا وروى يحيى بن سعيد الانصاري وغير واحد نحو هذا عن سعيد المقبري عن عبد الله بن ابي قتادة عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم . وهذا اصح من حديث سعيد المقبري عن ابي هريرة
ہشام بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زخموں کی شکایت کی گئی ۱؎، آپ نے فرمایا: ”قبر کھودو اور اسے کشادہ اور اچھی بناؤ، ایک قبر میں دو یا تین آدمیوں کو دفن کرو، اور جسے زیادہ قرآن یاد ہو اسے ( قبلہ کی طرف ) آگے کرو“، ہشام بن عامر کہتے ہیں: میرے والد بھی وفات پائے تھے، چنانچہ ان کو ان کے دو ساتھیوں پر مقدم ( یعنی قبلہ کی طرف آگے ) کیا گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سفیان ثوری اور دوسرے لوگوں نے اس حدیث کو بسند «أيوب عن حميد بن هلال عن هشام بن عامر» روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں خباب، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ازهر بن مروان البصري، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن ايوب، عن حميد بن هلال، عن ابي الدهماء، عن هشام بن عامر، قال شكي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم الجراحات يوم احد فقال " احفروا واوسعوا واحسنوا وادفنوا الاثنين والثلاثة في قبر واحد وقدموا اكثرهم قرانا " . فمات ابي فقدم بين يدى رجلين . قال ابو عيسى وفي الباب عن خباب وجابر وانس . وهذا حديث حسن صحيح . وروى سفيان الثوري وغيره هذا الحديث عن ايوب عن حميد بن هلال عن هشام بن عامر . وابو الدهماء اسمه قرفة بن بهيس او بيهس
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب بدر کے دن قیدیوں کو لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے بارے میں تم لوگ کیا کہتے ہو“، پھر راوی نے اس حدیث میں ایک طویل قصہ بیان کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوعبیدہ نے اپنے باپ سے نہیں سنا ہے، ۳- ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا جو اپنے ساتھیوں سے زیادہ مشورہ لیتا ہو ۲؎، ۴- اس حدیث میں عمر، ابوایوب، انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن ابي عبيدة، عن عبد الله، قال لما كان يوم بدر وجيء بالاسارى قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما تقولون في هولاء الاسارى " . فذكر قصة في هذا الحديث طويلة . قال ابو عيسى وفي الباب عن عمر وابي ايوب وانس وابي هريرة . وهذا حديث حسن وابو عبيدة لم يسمع من ابيه . ويروى عن ابي هريرة قال ما رايت احدا اكثر مشورة لاصحابه من رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ مشرکین نے ایک مشرک کی لاش کو خریدنا چاہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچنے سے انکار کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف حکم کی روایت سے جانتے ہیں، اس کو حجاج بن ارطاۃ نے بھی حکم سے روایت کیا ہے، ۳- احمد بن حنبل کہتے ہیں: ابن ابی لیلیٰ کی حدیث قابل حجت نہیں ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابن ابی لیلیٰ صدوق ہیں لیکن ہم کو ان کی صحیح حدیثیں ان کی ضعیف حدیثوں سے پہچان نہیں پاتے، میں ان سے کچھ نہیں روایت کرتا ہوں، ابن ابی لیلیٰ صدوق ہیں فقیہ ہیں، لیکن بسا اوقات ان سے سندوں میں وہم ہو جاتا ہے، ۵- سفیان ثوری کہتے ہیں: ہمارے فقہاء ابن ابی لیلیٰ اور عبداللہ بن شبرمہ ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن ابن ابي ليلى، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، ان المشركين، ارادوا ان يشتروا، جسد رجل من المشركين فابى النبي صلى الله عليه وسلم ان يبيعهم اياه . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث الحكم . ورواه الحجاج بن ارطاة ايضا عن الحكم . وقال احمد بن الحسن سمعت احمد بن حنبل يقول ابن ابي ليلى لا يحتج بحديثه . وقال محمد بن اسماعيل ابن ابي ليلى صدوق ولكن لا يعرف صحيح حديثه من سقيمه ولا اروي عنه شييا . وابن ابي ليلى صدوق فقيه وانما يهم في الاسناد . حدثنا نصر بن علي قال حدثنا عبد الله بن داود عن سفيان الثوري قال فقهاونا ابن ابي ليلى وعبد الله بن شبرمة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک سریہ میں روانہ کیا، ( پھر ہم ) لوگ لڑائی سے بھاگ کھڑے ہوئے، مدینہ آئے تو شرم کی وجہ سے چھپ گئے اور ہم نے کہا: ہلاک ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم بھگوڑے ہیں، آپ نے فرمایا: ”بلکہ تم لوگ پیچھے ہٹ کر حملہ کرنے والے ہو اور میں تمہارا پشت پناہ ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف یزید بن ابی زیاد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- «فحاص الناس حيصة» کا معنی یہ ہے کہ لوگ لڑائی سے فرار ہو گئے، ۳- اور «بل أنتم العكارون» اس کو کہتے ہیں: جو فرار ہو کر اپنے امام ( کمانڈر ) کے پاس آ جائے تاکہ وہ اس کی مدد کرے نہ کہ لڑائی سے فرار ہونے کا ارادہ رکھتا ہو۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن يزيد بن ابي زياد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن ابن عمر، قال بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية فحاص الناس حيصة فقدمنا المدينة فاختبينا بها وقلنا هلكنا ثم اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلنا يا رسول الله نحن الفرارون . قال " بل انتم العكارون وانا فيتكم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن لا نعرفه الا من حديث يزيد بن ابي زياد . ومعنى قوله فحاص الناس حيصة يعني انهم فروا من القتال . ومعنى قوله " بل انتم العكارون " . والعكار الذي يفر الى امامه لينصره ليس يريد الفرار من الزحف
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ احد کے دن میری پھوپھی میرے باپ کو لے کر آئیں تاکہ انہیں ہمارے قبرستان میں دفن کریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک منادی نے پکارا: مقتولوں کو ان کی قتل گاہوں میں لوٹا دو ( دفن کرو ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور نبیح ثقہ ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، اخبرنا شعبة، عن الاسود بن قيس، قال سمعت نبيحا العنزي، يحدث عن جابر، قال لما كان يوم احد جاءت عمتي بابي لتدفنه في مقابرنا فنادى منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم ردوا القتلى الى مضاجعهم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال ابو عيسى ونبيح ثقة
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے تو لوگ آپ کے استقبال کے لیے ثنیۃ الوداع تک نکلے: میں بھی لوگوں کے ساتھ نکلا حالانکہ میں کم عمر تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، وسعيد بن عبد الرحمن المخزومي، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن السايب بن يزيد، قال لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم من تبوك خرج الناس يتلقونه الى ثنية الوداع . قال السايب فخرجت مع الناس وانا غلام . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اسود کے قبیلہ بنی نضیر کے اموال ان میں سے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور «فے» ۱؎ عطا کیا تھا، اس کے لیے مسلمانوں نے نہ تو گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ ہی اونٹ، یہ پورے کا پورا مال خالص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے لیے اس میں سے ایک سال کا خرچ الگ کر لیتے، پھر جو باقی بچتا اسے جہاد کی تیاری کے لیے گھوڑوں اور ہتھیاروں میں خرچ کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سفیان بن عیینہ نے اس حدیث کو معمر کے واسطہ سے ابن شہاب سے روایت کیا ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن ابن شهاب، عن مالك بن اوس بن الحدثان، قال سمعت عمر بن الخطاب، يقول كانت اموال بني النضير مما افاء الله على رسوله مما لم يوجف المسلمون عليه بخيل ولا ركاب وكانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم خالصا وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعزل نفقة اهله سنة ثم يجعل ما بقي في الكراع والسلاح عدة في سبيل الله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وروى سفيان بن عيينة هذا الحديث عن معمر عن ابن شهاب