Loading...

Loading...
کتب
۵۰ احادیث
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس «شانہ» ( کی ہڈی ) یا تختی لاؤ، پھر آپ نے لکھوایا ۱؎: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» ”یعنی جہاد سے بیٹھے رہنے والے مومن ( مجاہدین کے ) برابر نہیں ہو سکتے ہیں نابینا صحابی“، عمرو ابن ام مکتوم رضی الله عنہ آپ کے پیچھے تھے، انہوں نے پوچھا: کیا میرے لیے اجازت ہے؟ چنانچہ ( آیت کا ) یہ ٹکڑا نازل ہوا: «غير أول الضرر» “، ( معذورین کے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث بروایت «سليمان التيمي عن أبي إسحق» غریب ہے، اس حدیث کو شعبہ اور ثوری نے بھی ابواسحاق سے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس، جابر اور زید بن ثابت رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا المعتمر بن سليمان، عن ابيه، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ايتوني بالكتف او اللوح " . فكتب : ( لا يستوي القاعدون من المومنين ) وعمرو بن ام مكتوم خلف ظهره فقال هل لي من رخصة فنزلت : ( غير اولي الضرر ) . وفي الباب عن ابن عباس وجابر وزيد بن ثابت . وهذا حديث حسن صحيح وهو حديث غريب من حديث سليمان التيمي عن ابي اسحاق . وقد روى شعبة والثوري عن ابي اسحاق هذا الحديث
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے پوچھا: ”کیا تمہارے ماں باپ ( زندہ ) ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”ان کی خدمت کی کوشش میں لگے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، وشعبة، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ابي العباس، عن عبد الله بن عمرو، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم يستاذنه في الجهاد فقال " الك والدان " . قال نعم . قال " ففيهما فجاهد " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن عباس . وهذا حديث حسن صحيح . وابو العباس هو الشاعر الاعمى المكي واسمه السايب بن فروخ
ابن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم» کی تفسیر میں کہتے ہیں: عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی سہمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اکیلا ) سریہ بنا کر بھیجا ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى النيسابوري، حدثنا الحجاج بن محمد، حدثنا ابن جريج، في قوله : (اطيعوا الله واطيعوا الرسول واولي الامر منكم ) قال عبد الله بن حذافة بن قيس بن عدي السهمي بعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم على سرية . اخبرنيه يعلى بن مسلم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه الا من حديث ابن جريج
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ تنہائی کا وہ نقصان جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات میں تنہا نہ چلے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي البصري، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عاصم بن محمد، عن ابيه، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لو ان الناس يعلمون ما اعلم من الوحدة ما سرى راكب بليل " . يعني وحده
عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اکیلا سوار شیطان ہے، دو سوار بھی شیطان ہیں اور تین سوار قافلہ والے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن عبد الرحمن بن حرملة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الراكب شيطان والراكبان شيطانان والثلاثة ركب " . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث عاصم وهو ابن محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر وحديث عبد الله بن عمرو حديث حسن . قال محمد هو ثقة صدوق وعاصم بن عمر العمري ضعيف في الحديث لا اروي عنه شييا . وحديث عبد الله بن عمرو حديث حسن
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑائی دھوکہ و فریب کا نام ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، زید بن ثابت، عائشہ ابن عباس، اسماء بنت یزید بن سکن، کعب بن مالک اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، ونصر بن علي، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، سمع جابر بن عبد الله، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الحرب خدعة " . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي وزيد بن ثابت وعايشة وابن عباس وابي هريرة واسماء بنت يزيد بن السكن وكعب بن مالك وانس بن مالك . وهذا حديث حسن صحيح
ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ میں زید بن ارقم رضی الله عنہ کے بغل میں تھا کہ ان سے پوچھا گیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوات کیے؟ کہا: انیس ۱؎، میں نے پوچھا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنے غزوات میں شریک رہے؟ کہا: سترہ میں، میں نے پوچھا: کون سا غزوہ پہلے ہوا تھا؟ کہا: ذات العشیر یا ذات العُشیرہ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وهب بن جرير، وابو داود الطيالسي قالا حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، قال كنت الى جنب زيد بن ارقم فقيل له كم غزا النبي صلى الله عليه وسلم من غزوة قال تسع عشرة . فقلت كم غزوت انت معه قال سبع عشرة . قلت ايتهن كان اول قال ذات العشيراء او العسيراء . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام بدر میں رات کے وقت ہمیں مناسب جگہوں پر متعین کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوایوب سے بھی روایت ہے، یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا: محمد بن اسحاق کا سماع عکرمہ سے ثابت ہے، اور جب میں نے بخاری سے ملاقات کی تھی تو وہ محمد بن حمید الرازی کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے، پھر بعد میں ان کو ضعیف قرار دیا۔
حدثنا محمد بن حميد الرازي، حدثنا سلمة بن الفضل، عن محمد بن اسحاق، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن عبد الرحمن بن عوف، قال عبانا النبي صلى الله عليه وسلم ببدر ليلا . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي ايوب . وهذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . وسالت محمد بن اسماعيل عن هذا الحديث فلم يعرفه وقال محمد بن اسحاق سمع من عكرمة . وحين رايته كان حسن الراى في محمد بن حميد الرازي ثم ضعفه بعد
ابن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( غزوہ احزاب میں ) کفار کے لشکروں پر بد دعا کرتے ہوئے سنا، آپ نے ان الفاظ میں بد دعا کی «اللهم منزل الكتاب سريع الحساب اهزم الأحزاب اللهم اهزمهم وزلزلهم» ”کتاب نازل کرنے اور جلد حساب کرنے والے اللہ! کفار کے لشکروں کو شکست سے دوچار کر، ان کو شکست دے اور ان کے قدم اکھاڑ دے“۔ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود رضی الله عنہ سے بھی حدیث مروی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا اسماعيل بن ابي خالد، عن ابن ابي اوفى، قال سمعته يقول يعني النبي صلى الله عليه وسلم يدعو على الاحزاب فقال " اللهم منزل الكتاب سريع الحساب اهزم الاحزاب اللهم اهزمهم وزلزلهم " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن مسعود . وهذا حديث حسن صحيح
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کا پرچم سفید تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن آدم کی روایت سے جانتے ہیں اور یحییٰ شریک سے روایت کرتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: یحییٰ بن آدم شریک سے روایت کرتے ہیں، اور کہا: ہم سے کئی لوگوں نے «شريك عن عمار عن أبي الزبير عن جابر» کی سند سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور اس وقت آپ کے سر پر کالا عمامہ تھا، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اور ( محفوظ ) حدیث یہی ہے، ۳- «الدهن» قبیلہ بجیلہ کی ایک شاخ ہے، عمار دہنی معاویہ دہنی کے بیٹے ہیں، ان کی کنیت ابومعاویہ ہے، وہ کوفہ کے رہنے والے ہیں اور محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔
حدثنا محمد بن عمر بن الوليد الكندي الكوفي، وابو كريب ومحمد بن رافع قالوا حدثنا يحيى بن ادم، عن شريك، عن عمار يعني الدهني، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة ولواوه ابيض . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث يحيى بن ادم عن شريك . قال وسالت محمدا عن هذا الحديث فلم يعرفه الا من حديث يحيى بن ادم عن شريك وقال حدثنا غير واحد عن شريك عن عمار عن ابي الزبير عن جابر ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة وعليه عمامة سوداء . قال محمد والحديث هو هذا . قال ابو عيسى والدهن بطن من بجيلة وعمار الدهني هو عمار بن معاوية الدهني ويكنى ابا معاوية وهو كوفي وهو ثقة عند اهل الحديث
یونس بن عبید مولیٰ محمد بن قاسم کہتے ہیں کہ مجھ کو محمد بن قاسم نے براء بن عازب رضی الله عنہما کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے بارے میں سوال کرنے کے لیے بھیجا، براء نے کہا: ”آپ کا جھنڈا دھاری دار چوکور اور کالا تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف ابن ابی زائدہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں علی، حارث بن حسان اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- ابویعقوب ثقفی کا نام اسحاق بن ابراہیم ہے، ان سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بھی روایت کی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، حدثنا ابو يعقوب الثقفي، حدثنا يونس بن عبيد، مولى محمد بن القاسم قال بعثني محمد بن القاسم الى البراء بن عازب اساله عن راية، رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال كانت سوداء مربعة من نمرة . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي والحارث بن حسان وابن عباس . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث ابن ابي زايدة . وابو يعقوب الثقفي اسمه اسحاق بن ابراهيم وروى عنه ايضا عبيد الله بن موسى
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا کالا اور پرچم سفید تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عباس کی یہ روایت اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا يحيى بن اسحاق، وهو السالحاني حدثنا يزيد بن حيان، قال سمعت ابا مجلز، لاحق بن حميد يحدث عن ابن عباس، قال كانت راية رسول الله صلى الله عليه وسلم سوداء ولواوه ابيض . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه من حديث ابن عباس
مہلب بن ابی صفرۃ ان لوگوں سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”اگر رات میں تم پر دشمن حملہ کریں تو تم «حم لا ينصرون» کہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بعض لوگوں نے اسی طرح ثوری کی روایت کے مثل ابواسحاق سبیعی سے روایت کی ہے، اور ابواسحاق سے یہ حدیث بواسطہ «عن المهلب بن أبي صفرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے مرسل طریقہ سے بھی آئی ہے، ۲- اس باب میں سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن المهلب بن ابي صفرة، عمن سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان بيتكم العدو فقولوا: حم لا ينصرون " . قال ابو عيسى وفي الباب عن سلمة بن الاكوع . وهكذا روى بعضهم عن ابي اسحاق مثل رواية الثوري وروي عنه عن المهلب بن ابي صفرة عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا
ابن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے اپنی تلوار سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کی تلوار کی طرح بنائی، اور سمرہ رضی الله عنہ کا خیال تھا کہ انہوں نے اپنی تلوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلوار کی طرح بنائی تھی اور آپ کی تلوار قبیلہ بنو حنیفہ کے طرز پر بنائی گئی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یحییٰ بن سعید قطان نے عثمان بن سعد کاتب کے سلسلے میں کلام کیا ہے اور حافظہ میں انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔
حدثنا محمد بن شجاع البغدادي، حدثنا ابو عبيدة الحداد، عن عثمان بن سعد، عن ابن سيرين، قال صنعت سيفي على سيف سمرة بن جندب وزعم سمرة انه صنع سيفه على سيف رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان حنفيا . قال ابو عيسى هذ حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . وقد تكلم يحيى بن سعيد القطان في عثمان بن سعد الكاتب وضعفه من قبل حفظه
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مرالظہران ۱؎ پہنچے اور ہم کو دشمن سے مقابلہ کی خبر دی تو آپ نے روزہ توڑنے کا حکم دیا، لہٰذا ہم سب لوگوں نے روزہ توڑ دیا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر سے بھی روایت ہے۔
حدثنا احمد بن محمد بن موسى، انبانا عبد الله بن المبارك، انبانا سعيد بن عبد العزيز، عن عطية بن قيس، عن قزعة، عن ابي سعيد الخدري، قال لما بلغ النبي صلى الله عليه وسلم عام الفتح مر الظهران فاذننا بلقاء العدو فامرنا بالفطر فافطرنا اجمعون . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن عمر
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو گئے اس گھوڑے کو «مندوب» کہا جاتا تھا: کوئی گھبراہٹ کی بات نہیں تھی، اس گھوڑے کو ہم نے چال میں سمندر پایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود الطيالسي، قال انبانا شعبة، عن قتادة، حدثنا انس بن مالك، قال ركب النبي صلى الله عليه وسلم فرسا لابي طلحة يقال له مندوب فقال " ما كان من فزع وان وجدناه لبحرا " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن عمرو بن العاص . وهذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں گھبراہٹ کا ماحول تھا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے «مندوب» نامی گھوڑے کو ہم سے عاریۃ لیا ہم نے کوئی گھبراہٹ نہیں دیکھی اور گھوڑے کو چال میں ہم نے سمندر پایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، وابن ابي عدي، وابو داود قالوا حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال كان فزع بالمدينة فاستعار رسول الله صلى الله عليه وسلم فرسا لنا يقال له مندوب فقال " ما راينا من فزع وان وجدناه لبحرا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے جری ( نڈر ) ، سب سے سخی، اور سب سے بہادر تھے، ایک رات مدینہ والے گھبرا گئے، ان لوگوں نے کوئی آواز سنی، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار لٹکائے ابوطلحہ کے ایک ننگی پیٹھ والے گھوڑے پر سوار ہو کر لوگوں کے پاس پہنچے اور فرمایا: ”تم لوگ فکر نہ کرو، تم لوگ فکر نہ کرو“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے چال میں گھوڑے کو سمندر پایا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم من اجرا الناس واجود الناس واشجع الناس . قال وقد فزع اهل المدينة ليلة سمعوا صوتا قال فتلقاهم النبي صلى الله عليه وسلم على فرس لابي طلحة عرى وهو متقلد سيفه فقال " لم تراعوا لم تراعوا " . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " وجدته بحرا " . يعني الفرس . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم سے ایک آدمی نے کہا: ابوعمارہ! ۱؎ کیا آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے فرار ہو گئے تھے؟ کہا: نہیں، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری، بلکہ جلد باز لوگوں نے پیٹھ پھیری تھی، قبیلہ ہوازن نے ان پر تیروں سے حملہ کر دیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے، ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے ۲؎، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میں نبی ہوں، جھوٹا نہیں ہوں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان الثوري، حدثنا ابو اسحاق، عن البراء بن عازب، قال قال لنا رجل افررتم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم يا ابا عمارة قال لا والله ما ولى رسول الله صلى الله عليه وسلم ولكن ولى سرعان الناس تلقتهم هوازن بالنبل ورسول الله صلى الله عليه وسلم على بغلته وابو سفيان بن الحارث بن عبد المطلب اخذ بلجامها ورسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انا النبي لا كذب انا ابن عبد المطلب " . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي وابن عمر . وهذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ حنین کے دن ہماری صورت حالت یہ تھی کہ مسلمانوں کی دونوں جماعت پیٹھ پھیرے ہوئی تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سو آدمی بھی نہیں تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اسے ہم عبیداللہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن عمر بن علي المقدمي البصري، حدثني ابي، عن سفيان بن حسين، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال لقد رايتنا يوم حنين وان الفيتين لموليتين وما مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ماية رجل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه من حديث عبيد الله الا من هذا الوجه