Loading...

Loading...
کتب
۲۴ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معصیت کے کاموں میں نذر جائز نہیں ہے، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ زہری نے اس کو ابوسلمہ سے نہیں سنا ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس حدیث کو کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، انہیں میں موسیٰ بن عقبہ اور ابن ابی عتیق ہیں، ان دونوں نے زہری سے بطریق: «سليمان بن أرقم عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: وہ حدیث یہی ہے ( اور آگے آ رہی ہے ) ، ۳- اس باب میں ابن عمر، جابر اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو صفوان، عن يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نذر في معصية وكفارته كفارة يمين " . قال وفي الباب عن ابن عمر وجابر وعمران بن حصين . قال ابو عيسى هذا حديث لا يصح لان الزهري لم يسمع هذا الحديث من ابي سلمة . قال سمعت محمدا يقول روى غير واحد منهم موسى بن عقبة وابن ابي عتيق عن الزهري عن سليمان بن ارقم عن يحيى بن ابي كثير عن ابي سلمة عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال محمد والحديث هو هذا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی معصیت پر مبنی کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور ابوصفوان کی اس حدیث سے جسے وہ یونس سے روایت کرتے ہیں، زیادہ صحیح ہے، ۳- ابوصفوان مکی ہیں، ان کا نام عبداللہ بن سعید بن عبدالملک بن مروان ہے، ان سے حمیدی اور کئی بڑے بڑے محدثین نے روایت کی ہے، ۴- اہل علم صحابہ کی ایک جماعت اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: اللہ کی معصیت کے سلسلے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے، ان دونوں نے زہری کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جسے وہ ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ عائشہ سے روایت کرتے ہیں، ۵- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: معصیت میں کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس میں کوئی کفارہ بھی نہیں، مالک اور شافعی کا یہی قول ہے۔
حدثنا ابو اسماعيل الترمذي، - واسمه محمد بن اسماعيل بن يوسف حدثنا ايوب بن سليمان بن بلال، حدثنا ابو بكر بن ابي اويس، عن سليمان بن بلال، عن موسى بن عقبة، ومحمد بن عبد الله بن ابي عتيق، عن الزهري، عن سليمان بن ارقم، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا نذر في معصية الله وكفارته كفارة يمين " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب وهو اصح من حديث ابي صفوان عن يونس . وابو صفوان هو مكي واسمه عبد الله بن سعيد بن عبد الملك بن مروان وقد روى عنه الحميدي وغير واحد من جلة اهل الحديث . وقال قوم من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم لا نذر في معصية الله وكفارته كفارة يمين . وهو قول احمد واسحاق واحتجا بحديث الزهري عن ابي سلمة عن عايشة . وقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم لا نذر في معصية ولا كفارة في ذلك . وهو قول مالك والشافعي
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نذر مانے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو وہ اللہ کی اطاعت کرے، اور جو شخص نذر مانے کہ وہ اللہ کی نافرمانی کرے گا تو وہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے“۔ اس سند سے بھی عائشہ رضی الله عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے بھی قاسم بن محمد سے روایت کیا ہے، ۳- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا یہی قول ہے، مالک اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے اور جب نذر اللہ کی نافرمانی کی بابت ہو تو اس میں قسم کا کفارہ نہیں ہے۔
ثابت بن ضحاک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ کے اختیار میں جو چیز نہیں ہے اس میں نذر صحیح نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسحاق بن يوسف الازرق، عن هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي قلابة، عن ثابت بن الضحاك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس على العبد نذر فيما لا يملك " . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وعمران بن حصين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غیر متعین نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو بكر بن عياش، حدثني محمد، مولى المغيرة بن شعبة حدثني كعب بن علقمة، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كفارة النذر اذا لم يسم كفارة يمين " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبدالرحمٰن! منصب امارت کا مطالبہ نہ کرو، اس لیے کہ اگر تم نے اسے مانگ کر حاصل کیا تو تم اسی کے سپرد کر دیئے جاؤ گے ۱؎، اور اگر وہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی مدد و توفیق تمہارے شامل ہو گی، اور جب تم کسی کام پر قسم کھاؤ پھر دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھو تو جسے تم بہتر سمجھتے ہو اسے ہی کرو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبدالرحمٰن بن سمرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، جابر، عدی بن حاتم، ابو الدرداء، انس، عائشہ، عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، ام سلمہ اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا المعتمر بن سليمان، عن يونس، هو ابن عبيد حدثنا الحسن، عن عبد الرحمن بن سمرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا عبد الرحمن لا تسال الامارة فانك ان اتتك عن مسالة وكلت اليها وان اتتك عن غير مسالة اعنت عليها واذا حلفت على يمين فرايت غيرها خيرا منها فايت الذي هو خير ولتكفر عن يمينك " . وفي الباب عن علي وجابر وعدي بن حاتم وابي الدرداء وانس وعايشة وعبد الله بن عمرو وابي هريرة وام سلمة وابي موسى . قال ابو عيسى حديث عبد الرحمن بن سمرة حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی کسی امر پر قسم کھائے، اور اس کے علاوہ کام کو اس سے بہتر سمجھے تو وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور وہ کام کرے ( جسے وہ بہتر سمجھتا ہے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۳- اکثر اہل علم صحابہ اور دیگر لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کرنا صحیح ہے، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: «حانث» ہونے ( یعنی قسم توڑنے ) کے بعد ہی کفارہ ادا کیا جائے گا، ۵- سفیان ثوری کہتے ہیں: اگر کوئی «حانث» ہونے ( یعنی قسم توڑنے ) کے بعد کفارہ ادا کرے تو میرے نزدیک زیادہ اچھا ہے اور اگر «حانث» ہونے سے پہلے کفارہ ادا کرے تو بھی درست ہے ۱؎۔
حدثنا قتيبة، عن مالك بن انس، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حلف على يمين فراى غيرها خيرا منها فليكفر عن يمينه وليفعل " . قال وفي الباب عن ام سلمة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان الكفارة قبل الحنث تجزي وهو قول مالك بن انس والشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم لا يكفر الا بعد الحنث . قال سفيان الثوري ان كفر بعد الحنث احب الى وان كفر قبل الحنث اجزاه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور ساتھ ہی ان شاءاللہ کہا، تو اس قسم کو توڑنے کا کفارہ نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو عبیداللہ بن عمرو وغیرہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر سے موقوفا روایت کیا ہے، اسی طرح اس حدیث کو سالم بن علیہ نے ابن عمر رضی الله عنہما سے موقوفاً روایت کی ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ ایوب سختیانی کے سوا کسی اور نے بھی اسے مرفوعاً روایت کیا ہے، اسماعیل بن ابراہیم کہتے ہیں: ایوب اس کو کبھی مرفوعاً روایت کرتے تھے اور کبھی مرفوعاً نہیں روایت کرتے تھے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۴- اکثر اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ جب قسم کے ساتھ «إن شاء اللہ» کا جملہ ملا ہو تو اس قسم کو توڑنے کا کفارہ نہیں ہے، سفیان ثوری، اوزاعی، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثني ابي وحماد بن سلمة، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من حلف على يمين فقال ان شاء الله فقد استثنى فلا حنث عليه " . قال وفي الباب عن ابي هريرة . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن . وقد رواه عبيد الله بن عمر وغيره عن نافع عن ابن عمر موقوفا . وهكذا روي عن سالم عن ابن عمر رضى الله عنهما موقوفا . ولا نعلم احدا رفعه غير ايوب السختياني وقال اسماعيل بن ابراهيم وكان ايوب احيانا يرفعه واحيانا لا يرفعه . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان الاستثناء اذا كان موصولا باليمين فلا حنث عليه وهو قول سفيان الثوري والاوزاعي ومالك بن انس وعبد الله بن المبارك والشافعي واحمد واسحاق
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا، وہ «حانث» نہیں ہوا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: اس حدیث میں غلطی ہے، اس میں عبدالرزاق سے غلطی ہوئی ہے، انہوں نے اس کو معمر کی حدیث سے اختصار کر دیا ہے، معمر اس کو بسند «ابن طاؤس عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”سلیمان بن داود علیہما السلام نے کہا: ( اللہ کی قسم! ) آج رات میں ستر بیویوں کے پاس ضرور جاؤں گا، ہر عورت سے ایک لڑکا پیدا ہو گا، وہ ستر بیویوں کے پاس گئے، ان میں سے کسی عورت نے بچہ نہیں جنا، صرف ایک عورت نے آدھے ( ناقص ) بچے کو جنم دیا“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر انہوں ( سلیمان علیہ السلام ) نے «إن شاء اللہ» کہہ دیا ہوتا تو ویسے ہی ہوتا جیسا انہوں نے کہا تھا“، اسی طرح یہ حدیث پوری تفصیل کے ساتھ عبدالرزاق سے آئی ہے، عبدالرزاق نے بسند «معمر عن ابن طاؤس عن أبيه» روایت کی ہے اس میں «على سبعين امرأة» کے بجائے «سبعين امرأة» ہے، یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے دیگر سندوں سے آئی ہے، ( اس میں یہ ہے کہ ) وہ نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یوں ) روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”سلیمان بن داود نے کہا: آج رات میں سو بیویوں کے پاس ضرور جاؤں گا“۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من حلف على يمين فقال ان شاء الله لم يحنث " . قال ابو عيسى سالت محمد بن اسماعيل عن هذا فقال هذا حديث خطا اخطا فيه عبد الرزاق اختصره من حديث معمر عن ابن طاوس عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان سليمان بن داود قال لاطوفن الليلة على سبعين امراة تلد كل امراة غلاما . فطاف عليهن فلم تلد امراة منهن الا امراة نصف غلام " . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو قال ان شاء الله لكان كما قال " . هكذا روي عن عبد الرزاق عن معمر عن ابن طاوس عن ابيه هذا الحديث بطوله وقال " سبعين امراة " . وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " قال سليمان بن داود لاطوفن الليلة على ماية امراة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ کو کہتے سنا: میرے باپ کی قسم! میرے باپ کی قسم! آپ نے ( انہیں بلا کر ) فرمایا: ”سنو! اللہ نے تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے منع فرمایا ہے“، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم اس کے بعد میں نے ( باپ دادا کی ) قسم نہیں کھائی، نہ جان بوجھ کر اور نہ ہی کسی کی بات نقل کرتے ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ثابت بن ضحاک، ابن عباس، ابوہریرہ، قتیلہ اور عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابو عبید کہتے ہیں کہ عمر کے قول «ولا آثرا» کے یہ معنی ہیں «لم آثره عن غيري» ( میں نے دوسرے کی طرف سے بھی نقل نہیں کیا ) عرب اس جملہ کو «لم أذكره عن غيري» کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، سمع النبي صلى الله عليه وسلم عمر وهو يقول وابي وابي فقال " الا ان الله ينهاكم ان تحلفوا بابايكم " . فقال عمر فوالله ما حلفت به بعد ذلك ذاكرا ولا اثرا . قال وفي الباب عن ثابت بن الضحاك وابن عباس وابي هريرة وقتيلة وعبد الرحمن بن سمرة . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . قال ابو عيسى قال ابو عبيد معنى قوله ولا اثرا . اى لم اثره عن غيري يقول لم اذكره عن غيري
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ کو ایک قافلہ میں پایا، وہ اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تم لوگوں کو باپ، دادا کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے، قسم کھانے والا اللہ کی قسم کھائے ورنہ چپ چاپ رہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ادرك عمر وهو في ركب وهو يحلف بابيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله ينهاكم ان تحلفوا بابايكم ليحلف حالف بالله او ليسكت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
سعد بن عبیدہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی الله عنہما نے ایک آدمی کو کہتے سنا: ایسا نہیں قسم ہے کعبہ کی، تو اس سے کہا: غیر اللہ کی قسم نہ کھائی جائے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کی تفسیر بعض اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «فقد كفر أو أشرك» تنبیہ و تغلیظ کے طور پر ہے، اس کی دلیل ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر کو کہتے سنا: میرے باپ کی قسم، میرے باپ کی قسم! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ باپ، دادا کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے“، نیز ابوہریرہ رضی الله عنہ کی ( روایت ) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لات اور عزیٰ کی قسم کھائی وہ «لا إله إلا الله» کہے، امام ترمذی کہتے ہیں: ۳- یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی طرح ہے ”بیشک ریا، شرک ہے، ۴- بعض اہل علم نے آیت کریمہ «فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا» ( الکہف: ۱۱۰ ) کی یہ تفسیر کی ہے کہ وہ ریا نہ کرے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن الحسن بن عبيد الله، عن سعد بن عبيدة، ان ابن عمر، سمع رجلا، يقول لا والكعبة . فقال ابن عمر لا يحلف بغير الله فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من حلف بغير الله فقد كفر او اشرك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وفسر هذا الحديث عند بعض اهل العلم ان قوله " فقد كفر او اشرك " على التغليظ . والحجة في ذلك حديث ابن عمر ان النبي صلى الله عليه وسلم سمع عمر يقول وابي وابي . فقال " الا ان الله ينهاكم ان تحلفوا بابايكم " . وحديث ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " من قال في حلفه واللات والعزى فليقل لا اله الا الله " . قال ابو عيسى هذا مثل ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ان الرياء شرك " . وقد فسر بعض اهل العلم هذه الاية : ( ومن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ) الاية قال لا يرايي
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ تک ( پیدل ) چل کر جائے گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کے ( پیدل ) چلنے سے بے نیاز ہے، اسے حکم دو کہ وہ سوار ہو کر جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب عورت ( حج کو پیدل ) چل کر جانے کی نذر مان لے تو وہ سوار ہو جائے اور ایک بکری دم میں دے۔
حدثنا عبد القدوس بن محمد العطار البصري، حدثنا عمرو بن عاصم، عن عمران القطان، عن حميد، عن انس، قال نذرت امراة ان تمشي، الى بيت الله فسيل نبي الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فقال " ان الله لغني عن مشيها مروها فلتركب " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعقبة بن عامر وابن عباس . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وقالوا اذا نذرت امراة ان تمشي فلتركب ولتهد شاة
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بوڑھے کے قریب سے گزرے جو اپنے دو بیٹوں کے سہارے ( حج کے لیے ) چل رہا تھا، آپ نے پوچھا: کیا معاملہ ہے ان کا؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! انہوں نے ( پیدل ) چلنے کی نذر مانی ہے، آپ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل اس کے اپنی جان کو عذاب دینے سے بے نیاز ہے“، پھر آپ نے اس کو سوار ہونے کا حکم دیا۔ اس سند سے بھی انس رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ اور یہ صحیح حدیث ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر مت مانو، اس لیے کہ نذر تقدیر کے سامنے کچھ کام نہیں آتی، صرف بخیل اور کنجوس کا مال اس طریقہ سے نکال لیا جاتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، وہ لوگ نذر کو مکروہ سمجھتے ہیں، ۴- عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: نذر کے اندر کراہیت کا مفہوم طاعت اور معصیت دونوں سے متعلق ہے، اگر کسی نے اطاعت کی نذر مانی اور اسے پورا کیا تو اسے اس نذر کے پورا کرنے کا اجر ملے گا، لیکن یہ نذر مکروہ ہو گی ۲؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تنذروا فان النذر لا يغني من القدر شييا وانما يستخرج به من البخيل " . قال وفي الباب عن ابن عمر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم كرهوا النذر . وقال عبد الله بن المبارك معنى الكراهية في النذر في الطاعة والمعصية وان نذر الرجل بالطاعة فوفى به فله فيه اجر ويكره له النذر
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات مسجد الحرام میں اعتکاف کروں گا، ( تو اس کا حکم بتائیں؟ ) آپ نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا مسلک اسی حدیث کے موافق ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی اسلام لائے، اور اس کے اوپر جاہلیت کی نذر طاعت واجب ہو تو اسے پوری کرے، ۴- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ بغیر روزے کے اعتکاف نہیں ہے اور دوسرے اہل علم کہتے ہیں کہ معتکف پر روزہ واجب نہیں ہے الا یہ کہ وہ خود اپنے اوپر ( نذر مانتے وقت ) روزہ واجب کر لے، ان لوگوں نے عمر رضی الله عنہ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ انہوں نے جاہلیت میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نذر پوری کرنے کا حکم دیا ( اور روزے کا کوئی ذکر نہیں کیا ) ، احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا يحيى بن سعيد القطان، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر، قال قلت يا رسول الله اني كنت نذرت ان اعتكف ليلة في المسجد الحرام في الجاهلية . قال " اوف بنذرك " . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وابن عباس . قال ابو عيسى حديث عمر حديث حسن صحيح . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا الحديث قالوا اذا اسلم الرجل وعليه نذر طاعة فليف به . وقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم لا اعتكاف الا بصوم . وقال اخرون من اهل العلم ليس على المعتكف صوم الا ان يوجب على نفسه صوما . واحتجوا بحديث عمر انه نذر ان يعتكف ليلة في الجاهلية فامره النبي صلى الله عليه وسلم بالوفاء . وهو قول احمد واسحاق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھاتے تھے تو اکثر «لا ومقلب القلوب» کہتے تھے ”نہیں، دلوں کے بدلنے والے کی قسم“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، وعبد الله بن جعفر، عن موسى بن عقبة، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، قال كثيرا ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحلف بهذه اليمين " لا ومقلب القلوب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے ایک مومن غلام کو آزاد کیا، اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کے ایک ایک عضو کو آگ سے آزاد کرے گا، یہاں تک کہ اس ( غلام ) کی شرمگاہ کے بدلے اس کی شرمگاہ کو آزاد کرے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح، غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، عمرو بن عبسہ، ابن عباس، واثلہ بن اسقع، ابوامامہ، عقبہ بن عامر اور کعب بن مرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن الهاد، عن عمر بن علي بن الحسين بن علي بن ابي طالب، عن سعيد ابن مرجانة، عن ابي هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من اعتق رقبة مومنة اعتق الله منه بكل عضو منه عضوا من النار حتى يعتق فرجه بفرجه " . قال وفي الباب عن عايشة وعمرو بن عبسة وابن عباس وواثلة بن الاسقع وابي امامة وعقبة بن عامر وكعب بن مرة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وابن الهاد اسمه يزيد بن عبد الله بن اسامة بن الهاد وهو مدني ثقة قد روى عنه مالك بن انس وغير واحد من اهل العلم
سوید بن مقرن مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صورت حال یہ تھی کہ ہم سات بھائی تھے، ہمارے پاس ایک ہی خادمہ تھی، ہم میں سے کسی نے اس کو طمانچہ مار دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اس کو آزاد کر دیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے حصین بن عبدالرحمٰن سے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، بعض لوگوں نے اپنی روایت میں یہ ذکر کیا ہے کہ سوید بن مقرن مزنی نے «لطمها على وجهها» کہا یعنی ”اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا“۔ ۳- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا المحاربي، عن شعبة، عن حصين، عن هلال بن يساف، عن سويد بن مقرن المزني، قال لقد رايتنا سبعة اخوة ما لنا خادم الا واحدة فلطمها احدنا فامرنا النبي صلى الله عليه وسلم ان نعتقها . قال وفي الباب عن ابن عمر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روى غير واحد هذا الحديث عن حصين بن عبد الرحمن فذكر بعضهم في الحديث قال لطمها على وجهها
ثابت بن ضحاک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کی جھوٹی قسم کھائی وہ ویسے ہی ہو گیا جیسے اس نے کہا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ جب کوئی اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کی قسم کھائے اور یہ کہے: اگر اس نے ایسا ایسا کیا تو یہودی یا نصرانی ہو گا، پھر اس نے وہ کام کر لیا، تو بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس نے بہت بڑا گناہ کیا لیکن اس پر کفارہ واجب نہیں ہے، یہ اہل مدینہ کا قول ہے، مالک بن انس بھی اسی کے قائل ہیں اور ابو عبید نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے، ۳- اور صحابہ و تابعین وغیرہ میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس صورت میں اس پر کفارہ واجب ہے، سفیان، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسحاق بن يوسف الازرق، عن هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي قلابة، عن ثابت بن الضحاك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف بملة غير الاسلام كاذبا فهو كما قال " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد اختلف اهل العلم في هذا اذا حلف الرجل بملة سوى الاسلام فقال هو يهودي او نصراني ان فعل كذا وكذا ففعل ذلك الشىء فقال بعضهم قد اتى عظيما ولا كفارة عليه وهو قول اهل المدينة وبه يقول مالك بن انس والى هذا القول ذهب ابو عبيد . وقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين وغيرهم عليه في ذلك الكفارة وهو قول سفيان واحمد واسحاق