Loading...

Loading...
کتب
۲۴ احادیث
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بہن نے نذر مانی ہے کہ وہ چادر اوڑھے بغیر ننگے پاؤں چل کر خانہ کعبہ تک جائے گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سخت کوشی پر کچھ نہیں کرے گا! ۱؎ اسے چاہیئے کہ وہ سوار ہو جائے، چادر اوڑھ لے اور تین دن کے روزے رکھے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن يحيى بن سعيد، عن عبيد الله بن زحر، عن ابي سعيد الرعيني، عن عبد الله بن مالك اليحصبي، عن عقبة بن عامر، قال قلت يا رسول الله ان اختي نذرت ان تمشي الى البيت حافية غير مختمرة . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان الله لا يصنع بشقاء اختك شييا فلتركب ولتختمر ولتصم ثلاثة ايام " . قال وفي الباب عن ابن عباس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . والعمل على هذا عند اهل العلم وهو قول احمد واسحاق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس نے قسم کھائی اور اپنی قسم میں کہا: لات اور عزیٰ کی قسم ہے! وہ «لا إله إلا الله» کہے“ اور جس شخص نے کہا: ”آؤ جوا کھیلیں وہ صدقہ کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا ابو المغيرة، حدثنا الاوزاعي، حدثنا الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف منكم فقال في حلفه واللات والعزى فليقل لا اله الا الله ومن قال تعال اقامرك فليتصدق " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو المغيرة هو الخولاني الحمصي واسمه عبد القدوس بن الحجاج
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے جو ان کی ماں پر واجب تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے وہ مر گئیں، فتویٰ پوچھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی طرف سے نذر تم پوری کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، ان سعد بن عبادة، استفتى رسول الله صلى الله عليه وسلم في نذر كان على امه توفيت قبل ان تقضيه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اقضه عنها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوامامہ رضی الله عنہ اور دوسرے صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جو مسلمان کسی مسلمان کو آزاد کرے گا، تو یہ آزاد کرنا اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہو گا، اس آزاد کیے گئے مرد کا ہر عضو اس آزاد کرنے والے کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا، جو مسلمان دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرے گا، تو یہ دونوں اس کے لیے جہنم سے خلاصی کا باعث ہوں گی، ان دونوں آزاد عورتوں کا ہر عضو اس کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا، جو مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرے گی، تو یہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہو گی، اس آزاد کی گئی عورت کا ہر عضو اس آزاد کرنے والے کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث دلیل ہے کہ مردوں کے لیے مرد آزاد کرنا عورت کے آزاد کرنے سے افضل ہے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا وہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہو گا، اس آزاد کئے گئے مرد کا ہر عضو اس کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا“۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی جو اپنی سندوں کے اعتبار سے صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى حدثنا عمران بن عيينة هو اخو سفيان بن عيينة عن حصين عن سالم بن ابي الجعد عن ابي امامة وغيره من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ايما امري مسلم اعتق امرا مسلما كان فكاكه من النار يجزي كل عضو منه عضوا منه وايما امري مسلم اعتق امراتين مسلمتين كانتا فكاكه من النار يجزي كل عضو منهما عضوا منه وايما امراة مسلمة اعتقت امراة مسلمة كانت فكاكها من النار يجزي كل عضو منها عضوا منها قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه قال ابو عيسى وفي الحديث ما يدل على ان عتق الذكور للرجال افضل من عتق الاناث لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم من اعتق امرا مسلما كان فكاكه من النار يجزي كل عضو منه عضوا منه