Loading...

Loading...
کتب
۲۹ احادیث
ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ شکاری ہیں؟ ( شکار کے احکام بتائیے؟ ) آپ نے فرمایا: ”جب تم ( شکار کے لیے ) اپنا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام یعنی بسم اللہ پڑھ لو پھر وہ تمہارے لیے شکار کو روک رکھے تو اسے کھاؤ؟ میں نے کہا: اگرچہ وہ شکار کو مار ڈالے، آپ نے فرمایا: ”اگرچہ مار ڈالے، میں نے عرض کیا: ہم لوگ تیر انداز ہیں ( تو اس کے بارے میں فرمائیے؟ ) آپ نے فرمایا: ”تمہارا تیر جو شکار کرے اسے کھاؤ“، میں نے عرض کیا: ہم سفر کرنے والے لوگ ہیں، یہود و نصاریٰ اور مجوس کی بستیوں سے گزرتے ہیں اور ان کے برتنوں کے علاوہ ہمارے پاس کوئی برتن نہیں ہوتا ( تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا لیں؟ ) آپ نے فرمایا: ”اگر تم اس کے علاوہ کوئی برتن نہ پاس کو تو اسے پانی سے دھو لو پھر اس میں کھاؤ پیو“ ۱؎۔ اس باب میں عدی بن حاتم سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوثعلبہ خشنی کا نام جرثوم ہے، انہیں جرثم بن ناشب اور جرثم بن قیس بھی کہا جاتا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا الحجاج، عن مكحول، عن ابي ثعلبة، والحجاج، عن الوليد بن ابي مالك، عن عايذ الله بن عبد الله، انه سمع ابا ثعلبة الخشني، قال قلت يا رسول الله انا اهل صيد . قال " اذا ارسلت كلبك وذكرت اسم الله عليه فامسك عليك فكل " . قلت وان قتل قال " وان قتل " . قلت انا اهل رمى . قال " ما ردت عليك قوسك فكل " . قال قلت انا اهل سفر نمر باليهود والنصارى والمجوس فلا نجد غير انيتهم . قال " فان لم تجدوا غيرها فاغسلوها بالماء ثم كلوا فيها واشربوا " . قال وفي الباب عن عدي بن حاتم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وعايذ الله بن عبد الله هو ابو ادريس الخولاني واسم ابي ثعلبة الخشني جرثوم ويقال جرثم بن ناشر ويقال ابن قيس
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ اپنے سدھائے ۱؎ ہوئے کتے ( شکار کے لیے ) روانہ کرتے ہیں ( یہ کیا ہے؟ ) آپ نے فرمایا: ”وہ جو کچھ تمہارے لیے روک رکھیں اسے کھاؤ“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ شکار کو مار ڈالیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگرچہ وہ ( شکار کو ) مار ڈالیں ( پھر بھی حلال ہے ) جب تک ان کے ساتھ دوسرا کتا شریک نہ ہو“، عدی بن حاتم کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ «معراض» ( ہتھیار کی چوڑان ) سے شکار کرتے ہیں، ( اس کا کیا حکم ہے؟ ) آپ نے فرمایا: ”جو ( ہتھیار کی نوک سے ) پھٹ جائے اسے کھاؤ اور جو اس کے عرض ( بغیر دھاردار حصے یعنی چوڑان ) سے مر جائے اسے مت کھاؤ۔ اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث روایت کی گئی ہے، مگر اس میں ہے «وسئل عن المعراض» ”یعنی آپ سے معراض کے بارے میں پوچھا گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں مجوسیوں کے کتے کے شکار سے منع کیا گیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ مجوسی کے کتے کے شکار کی اجازت نہیں دیتے۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا وكيع، حدثنا شريك، عن الحجاج، عن القاسم بن ابي بزة، عن سليمان اليشكري، عن جابر بن عبد الله، قال نهينا عن صيد، كلب المجوس . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم لا يرخصون في صيد كلب المجوس . والقاسم بن ابي بزة هو القاسم بن نافع المكي
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باز کے شکار کے متعلق پوچھا؟ تو آپ نے فرمایا: ”وہ تمہارے لیے جو روک رکھے اسے کھاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند «عن مجالد عن الشعبي» سے جانتے ہیں۔ ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ باز اور شکرے کے شکار میں مضائقہ نہیں سمجھتے، ۳- مجاہد کہتے ہیں: باز وہ پرندہ ہے جس سے شکار کیا جاتا ہے، یہ اس «جوارح» میں داخل ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ «وما علمتم من الجوارح» میں کیا ہے انہوں نے «جوارح» کی تفسیر کتے اور اس پرندے سے کی ہے جن سے شکار کیا جاتا ہے، ۴- بعض اہل علم نے باز کے شکار کی رخصت دی ہے اگرچہ وہ شکار میں سے کچھ کھا لے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی تعلیم کا مطلب ہے کہ جب اسے شکار کے لیے چھوڑا جائے تو وہ حکم قبول کرے، جب کہ بعض لوگوں نے اسے مکروہ کہا ہے، لیکن اکثر فقہاء کہتے ہیں: باز کا شکار کھایا جائے گا چاہے وہ شکار کا کچھ حصہ کھا لے۔
حدثنا نصر بن علي، وهناد، وابو عمار قالوا حدثنا عيسى بن يونس، عن مجالد، عن الشعبي، عن عدي بن حاتم، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صيد البازي فقال " ما امسك عليك فكل " . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه الا من حديث مجالد عن الشعبي . والعمل على هذا عند اهل العلم لا يرون بصيد البزاة والصقور باسا . وقال مجاهد البزاة هو الطير الذي يصاد به من الجوارح التي قال الله تعالى: (وما علمتم من الجوارح ) فسر الكلاب والطير الذي يصاد به . وقد رخص بعض اهل العلم في صيد البازي وان اكل منه وقالوا انما تعليمه اجابته . وكرهه بعضهم والفقهاء اكثرهم قالوا ياكل وان اكل منه
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار کو تیر مارتا ہوں پھر اگلے دن اس میں اپنا تیر پاتا ہوں ( اس شکار کا کیا حکم ہے؟ ) آپ نے فرمایا: ”جب تمہیں معلوم ہو جائے کہ تمہارے ہی تیر نے شکار کو مارا ہے اور تم اس میں کسی اور درندے کا اثر نہ دیکھو تو اسے کھاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث ابوبشر سے اور عبدالملک بن میسرہ نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے عدی بن حاتم سے روایت کی ہے، دونوں روایتیں صحیح ہیں، ۳- اس باب میں ابوثعلبہ خشنی سے بھی روایت ہے، ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، اخبرنا شعبة، عن ابي بشر، قال سمعت سعيد بن جبير، يحدث عن عدي بن حاتم، قال قلت يا رسول الله ارمي الصيد فاجد فيه من الغد سهمي قال " اذا علمت ان سهمك قتله ولم تر فيه اثر سبع فكل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم . وروى شعبة هذا الحديث عن ابي بشر وعبد الملك بن ميسرة عن سعيد بن جبير عن عدي بن حاتم وكلا الحديثين صحيح . وفي الباب عن ابي ثعلبة الخشني
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنا تیر پھینکتے وقت اس پر اللہ کا نام ( یعنی بسم اللہ ) پڑھو، پھر اگر اسے مرا ہوا پاؤ تو بھی کھا لو، سوائے اس کے کہ اسے پانی میں گرا ہوا پاؤ تو نہ کھاؤ اس لیے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ پانی نے اسے مارا ہے یا تمہارے تیر نے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا عبد الله بن المبارك، اخبرني عاصم الاحول، عن الشعبي، عن عدي بن حاتم، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصيد فقال " اذا رميت بسهمك فاذكر اسم الله فان وجدته قد قتل فكل الا ان تجده قد وقع في ماء فلا تاكل فانك لا تدري الماء قتله او سهمك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سدھائے ہوئے کتے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا روانہ کرو، اور ( بھیجتے وقت اس پر ) اللہ کا نام ( یعنی بسم اللہ ) پڑھ لو تو تمہارے لیے جو کچھ وہ روک رکھے اسے کھاؤ اور اگر وہ شکار سے کچھ کھا لے تو مت کھاؤ، اس لیے کہ اس نے شکار اپنے لیے روکا ہے“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے اگر ہمارے کتے کے ساتھ دوسرے کتے شریک ہو جائیں؟“ آپ نے فرمایا: ”تم نے اللہ کا نام ( یعنی بسم اللہ ) اپنے ہی کتے پر پڑھا ہے دوسرے کتے پر نہیں“۔ سفیان ( ثوری ) کہتے ہیں: آپ نے اس کے لیے اس کا کھانا درست نہیں سمجھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ذبیحہ اور شکار کے سلسلے میں صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم اور دوسرے لوگوں کے نزدیک اسی پر عمل ہے کہ جب وہ پانی میں گر جائیں تو انہیں کوئی نہ کھائے اور بعض لوگ ذبیحہ کے بارے میں کہتے ہیں: جب اس کا گلا کاٹ دیا جائے، پھر پانی میں گرے اور مر جائے تو اسے کھایا جائے گا، عبداللہ بن مبارک کا یہی قول ہے، ۲- اہل علم کا اس مسئلہ میں کہ جب کتا شکار کا کچھ حصہ کھا لے اختلاف ہے، اکثر اہل علم کہتے ہیں: جب کتا شکار سے کھا لے تو اسے مت کھاؤ، سفیان ثوری، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۳- جب کہ صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم اور دوسرے لوگوں نے کھانے کی رخصت دی ہے، اگرچہ اس میں سے کتے نے کھا لیا ہو۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن مجالد، عن الشعبي، عن عدي بن حاتم، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صيد الكلب المعلم قال " اذا ارسلت كلبك المعلم وذكرت اسم الله فكل ما امسك عليك فان اكل فلا تاكل فانما امسك على نفسه " . قلت يا رسول الله ارايت ان خالطت كلابنا كلاب اخر قال " انما ذكرت اسم الله على كلبك ولم تذكر على غيره " . قال سفيان اكره له اكله . قال ابو عيسى والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم في الصيد والذبيحة اذا وقعا في الماء ان لا ياكل . وقال بعضهم في الذبيحة اذا قطع الحلقوم فوقع في الماء فمات فيه فانه يوكل وهو قول عبد الله بن المبارك . وقد اختلف اهل العلم في الكلب اذا اكل من الصيد فقال اكثر اهل العلم اذا اكل الكلب منه فلا تاكل . وهو قول سفيان وعبد الله بن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . وقد رخص بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم في الاكل منه وان اكل الكلب منه
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر کے تیر کے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جسے تم نے دھار سے مارا ہے اسے کھاؤ اور جسے عرض ( بغیر دھاردار حصہ یعنی چوڑان ) سے مارا ہے تو وہ «وقيذ» ہے ۱؎۔ اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کی قوم کے ایک آدمی نے ایک یا دو خرگوش کا شکار کان اور ان کو پتھر سے ذبح کیا ۱؎، پھر ان کو لٹکائے رکھا یہاں تک کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اس کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی روایت میں شعبی کے شاگردوں کا اختلاف ہے، داود بن أبی ہند بسند الشعبی عن محمد بن صفوان رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں، اور عاصم الأحول بسند الشعبی عن صفوان بن محمد یا محمد بن صفوان روایت کرتے ہیں، ( صفوان بن محمد کے بجائے محمد بن صفوان زیادہ صحیح ہے ) جابر جعفی بھی بسند «شعبي عن جابر بن عبد الله» قتادہ کی حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں، اس بات کا احتمال ہے کہ شعبی کی روایت دونوں سے ہو ۳؎، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: جابر کی شعبی سے روایت غیر محفوظ ہے، ۳- اس باب میں محمد بن صفوان، رافع اور عدی بن حاتم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- بعض اہل علم نے پتھر سے ذبح کرنے کی رخصت دی ہے ۲؎، ۵- یہ لوگ خرگوش کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، ۶- بعض لوگ خرگوش کھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى القطعي، حدثنا عبد الاعلى، عن سعيد، عن قتادة، عن الشعبي، عن جابر بن عبد الله، ان رجلا، من قومه صاد ارنبا او اثنين فذبحهما بمروة فتعلقهما حتى لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم فساله فامره باكلهما . قال وفي الباب عن محمد بن صفوان ورافع وعدي بن حاتم . قال ابو عيسى وقد رخص بعض اهل العلم ان يذكي بمروة ولم يروا باكل الارنب باسا وهو قول اكثر اهل العلم وقد كره بعضهم اكل الارنب . وقد اختلف اصحاب الشعبي في رواية هذا الحديث فروى داود بن ابي هند عن الشعبي عن محمد بن صفوان . وروى عاصم الاحول عن الشعبي عن صفوان بن محمد او محمد بن صفوان . ومحمد بن صفوان اصح . وروى جابر الجعفي عن الشعبي عن جابر بن عبد الله نحو حديث قتادة عن الشعبي ويحتمل ان رواية الشعبي عنهما . قال محمد حديث الشعبي عن جابر غير محفوظ
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مجثمة» کے کھانے سے منع فرمایا۔ «مجثمة» اس جانور یا پرندہ کو کہتے ہیں، جسے باندھ کر تیر سے مارا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو الدرداء کی حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں عرباض بن ساریہ، انس، ابن عمر، ابن عباس، جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن ابي ايوب الافريقي، عن صفوان بن سليم، عن سعيد بن المسيب، عن ابي الدرداء، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اكل المجثمة وهي التي تصبر بالنبل . قال وفي الباب عن عرباض بن سارية وانس وابن عمر وابن عباس وجابر وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث ابي الدرداء حديث غريب
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح خیبر کے دن ہر کچلی والے درندے ۱؎ پنجے والے پرندے ۲؎، پالتو گدھے کے گوشت، «مجثمة» اور «خليسة» سے منع فرمایا، آپ نے حاملہ ( لونڈی جو نئی نئی مسلمانوں کی قید میں آئے ) کے ساتھ جب تک وہ بچہ نہ جنے جماع کرنے سے بھی منع فرمایا۔ راوی محمد بن یحییٰ قطعی کہتے ہیں: ابوعاصم سے «مجثمة» کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: پرندے یا کسی دوسرے جانور کو باندھ کر اس پر تیر اندازی کی جائے ( یہاں تک کہ وہ مر جائے ) اور ان سے «خليسة» کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: «خليسة» وہ جانور ہے، جس کو بھیڑیا یا درندہ پکڑے اور اس سے کوئی آدمی اسے چھین لے پھر وہ جانور ذبح کئے جانے سے پہلے اس کے ہاتھ میں مر جائے۔
حدثنا محمد بن يحيى، وغير، واحد، قالوا حدثنا ابو عاصم، عن وهب ابي خالد، قال حدثتني ام حبيبة بنت العرباض، وهو ابن سارية عن ابيها، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى يوم خيبر عن لحوم كل ذي ناب من السبع وعن كل ذي مخلب من الطير وعن لحوم الحمر الاهلية وعن المجثمة وعن الخليسة وان توطا الحبالى حتى يضعن ما في بطونهن . قال محمد بن يحيى سيل ابو عاصم عن المجثمة قال ان ينصب الطير او الشىء فيرمى . وسيل عن الخليسة فقال الذيب او السبع يدركه الرجل فياخذه منه فيموت في يده قبل ان يذكيها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جاندار کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى، حدثنا عبد الرزاق، عن الثوري، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يتخذ شيء فيه الروح غرضا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اهل العلم
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنین ۱؎ کی ماں کا ذبح ہی جنین کے ذبح کے لیے کافی ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یہ اس سند کے علاوہ سے بھی ابو سعید خدری سے ہے، ۳- اس باب میں جابر، ابوامامہ، ابو الدرداء، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ کرام اور ان کے علاوہ لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن مجالد، ح قال وحدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا حفص بن غياث، عن مجالد، عن ابي الوداك، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ذكاة الجنين ذكاة امه " . قال وفي الباب عن جابر وابي امامة وابي الدرداء وابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير هذا الوجه عن ابي سعيد . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . وابو الوداك اسمه جبر بن نوف
ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی دانت والے درندے سے منع فرمایا ۱؎۔ اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھے، خچر کے گوشت، ہر کچلی دانت والے درندے اور پنجہ والے پرندے کو حرام کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، عرباض بن ساریہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو النضر، هاشم بن القاسم حدثنا عكرمة بن عمار، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن جابر، قال حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم - يعني يوم خيبر - الحمر الانسية ولحوم البغال وكل ذي ناب من السباع وذي مخلب من الطير . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعرباض بن سارية وابن عباس . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی دانت والے درندے کو حرام قرار دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- صحابہ کرام اور دیگر لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حرم كل ذي ناب من السباع . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وهو قول عبد الله بن المبارك والشافعي واحمد واسحاق
ابوواقد حارث بن عوف لیثی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، وہاں کے لوگ ( زندہ ) اونٹوں کے کوہان اور ( زندہ ) بکریوں کی پٹھ کاٹتے تھے، آپ نے فرمایا: ”زندہ جانور کا کاٹا ہوا گوشت مردار ہے“ ۱؎۔ اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو صرف زید بن اسلم کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
ابوالعشراء کے والد اسامہ بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ذبح ( شرعی ) صرف حلق اور لبہ ہی میں ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”اگر اس کی ران میں بھی تیر مار دو تو کافی ہو گا“، یزید بن ہارون کہتے ہیں: یہ حکم ضرورت کے ساتھ خاص ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف حماد بن سلمہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس حدیث کے علاوہ ابو العشراء کی کوئی اور حدیث ان کے باپ سے ہم نہیں جانتے ہیں، ابوالعشراء کے نام کے سلسلے میں اختلاف ہے: بعض لوگ کہتے ہیں: ان کا نام اسامہ بن قھطم ہے، اور کہا جاتا ہے ان کا نام یسار بن برز ہے اور ابن بلز بھی کہا جاتا ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا نام عطارد ہے دادا کی طرف ان کی نسبت کی گئی ہے، ۳- اس باب میں رافع بن خدیج سے بھی روایت آئی ہے۔
حدثنا هناد، ومحمد بن العلاء، قال حدثنا وكيع، عن حماد بن سلمة، ح وقال احمد بن منيع حدثنا يزيد بن هارون، انبانا حماد بن سلمة، عن ابي العشراء، عن ابيه، قال قلت يا رسول الله اما تكون الذكاة الا في الحلق واللبة قال " لو طعنت في فخذها لاجزا عنك " . قال احمد بن منيع قال يزيد بن هارون هذا في الضرورة . قال وفي الباب عن رافع بن خديج . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث حماد بن سلمة . ولا نعرف لابي العشراء عن ابيه غير هذا الحديث واختلفوا في اسم ابي العشراء فقال بعضهم اسمه اسامة بن قهطم ويقال اسمه يسار بن برز ويقال ابن بلز ويقال اسمه عطارد نسب الى جده
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چھپکلی ۱؎ کو پہلی چوٹ میں مارے گا اس کو اتنا ثواب ہو گا، اگر اس کو دوسری چوٹ میں مارے گا تو اس کو اتنا ثواب ہو گا اور اگر اس کو تیسری چوٹ میں مارے گا تو اس کو اتنا ثواب ہو گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، سعد، عائشہ اور ام شریک سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قتل وزغة بالضربة الاولى كان له كذا وكذا حسنة فان قتلها في الضربة الثانية كان له كذا وكذا حسنة فان قتلها في الضربة الثالثة كان له كذا وكذا حسنة " . قال وفي الباب عن ابن مسعود وسعد وعايشة وام شريك . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سانپوں کو مارو، خاص طور سے اس سانپ کو مارو جس کی پیٹھ پہ دو ( کالی ) لکیریں ہوتی ہیں اور اس سانپ کو جس کی دم چھوٹی ہوتی ہے اس لیے کہ یہ دونوں بینائی کو زائل کر دیتے ہیں اور حمل کو گرا دیتے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے وہ ابولبابہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد گھروں میں رہنے والے سانپوں کو جنہیں «عوامر» ( بستیوں میں رہنے والے سانپ ) کہا جاتا ہے، مارنے سے منع فرمایا ۲؎: ابن عمر اس حدیث کو زید بن خطاب ۳؎ سے بھی روایت کرتے ہیں، ۳- اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، ابوہریرہ اور سہل بن سعد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: سانپوں کے اقسام میں سے اس سانپ کو بھی مارنا مکروہ ہے جو پتلا ( اور سفید ) ہوتا ہے گویا کہ وہ چاندی ہو، وہ چلنے میں بل نہیں کھاتا بلکہ سیدھا چلتا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقتلوا الحيات واقتلوا ذا الطفيتين والابتر فانهما يلتمسان البصر ويسقطان الحبل " . قال وفي الباب عن ابن مسعود وعايشة وابي هريرة وسهل بن سعد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي عن ابن عمر عن ابي لبابة ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى بعد ذلك عن قتل حيات البيوت وهي العوامر ويروى عن ابن عمر عن زيد بن الخطاب ايضا . وقال عبد الله بن المبارك انما يكره من قتل الحيات قتل الحية التي تكون دقيقة كانها فضة ولا تلتوي في مشيتها