Loading...

Loading...
کتب
۱۰۲ احادیث
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن عبد الله، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن عبد ربه، عن ابي عياض، عن عثمان بن عفان، وزيد بن ثابت، في المغلظة اربعون جذعة خلفة وثلاثون حقة وثلاثون بنات لبون وفي الخطا ثلاثون حقة وثلاثون بنات لبون وعشرون بنو لبون ذكور وعشرون بنات مخاض
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن عبد الله، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن عبد ربه، عن ابي عياض، عن عثمان بن عفان، وزيد بن ثابت، في المغلظة اربعون جذعة خلفة وثلاثون حقة وثلاثون بنات لبون وفي الخطا ثلاثون حقة وثلاثون بنات لبون وعشرون بنو لبون ذكور وعشرون بنات مخاض
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن عبد الله، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن زيد بن ثابت، في الدية المغلظة فذكر مثله سواء . قال ابو داود قال ابو عبيد وعن غير واحد اذا دخلت الناقة في السنة الرابعة فهو حق والانثى حقة لانه يستحق ان يحمل عليه ويركب فاذا دخل في الخامسة فهو جذع وجذعة فاذا دخل في السادسة والقى ثنيته فهو ثني وثنية فاذا دخل في السابعة فهو رباع ورباعية فاذا دخل في الثامنة والقى السن الذي بعد الرباعية فهو سديس وسدس فاذا دخل في التاسعة وفطر نابه وطلع فهو بازل فاذا دخل في العاشرة فهو مخلف ثم ليس له اسم ولكن يقال بازل عام وبازل عامين ومخلف عام ومخلف عامين الى ما زاد . وقال النضر بن شميل بنت مخاض لسنة وبنت لبون لسنتين وحقة لثلاث وجذعة لاربع والثني لخمس ورباع لست وسديس لسبع وبازل لثمان . قال ابو داود قال ابو حاتم والاصمعي والجذوعة وقت وليس بسن . قال ابو حاتم قال بعضهم فاذا القى رباعيته فهو رباع واذا القى ثنيته فهو ثني وقال ابو عبيد اذا القحت فهي خلفة فلا تزال خلفة الى عشرة اشهر فاذا بلغت عشرة اشهر فهي عشراء . قال ابو حاتم اذا القى ثنيته فهو ثني واذا القى رباعيته فهو رباع
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن عبد الله، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن زيد بن ثابت، في الدية المغلظة فذكر مثله سواء . قال ابو داود قال ابو عبيد وعن غير واحد اذا دخلت الناقة في السنة الرابعة فهو حق والانثى حقة لانه يستحق ان يحمل عليه ويركب فاذا دخل في الخامسة فهو جذع وجذعة فاذا دخل في السادسة والقى ثنيته فهو ثني وثنية فاذا دخل في السابعة فهو رباع ورباعية فاذا دخل في الثامنة والقى السن الذي بعد الرباعية فهو سديس وسدس فاذا دخل في التاسعة وفطر نابه وطلع فهو بازل فاذا دخل في العاشرة فهو مخلف ثم ليس له اسم ولكن يقال بازل عام وبازل عامين ومخلف عام ومخلف عامين الى ما زاد . وقال النضر بن شميل بنت مخاض لسنة وبنت لبون لسنتين وحقة لثلاث وجذعة لاربع والثني لخمس ورباع لست وسديس لسبع وبازل لثمان . قال ابو داود قال ابو حاتم والاصمعي والجذوعة وقت وليس بسن . قال ابو حاتم قال بعضهم فاذا القى رباعيته فهو رباع واذا القى ثنيته فهو ثني وقال ابو عبيد اذا القحت فهي خلفة فلا تزال خلفة الى عشرة اشهر فاذا بلغت عشرة اشهر فهي عشراء . قال ابو حاتم اذا القى ثنيته فهو ثني واذا القى رباعيته فهو رباع
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں سب برابر ہیں، ان کی دیت دس دس اونٹ ہیں ۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل، حدثنا عبدة، - يعني ابن سليمان - حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن غالب التمار، عن حميد بن هلال، عن مسروق بن اوس، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الاصابع سواء عشر عشر من الابل
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں تمام برابر ہیں میں نے عرض کیا، کیا ہر انگلی کی دیت دس دس اونٹ ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن غالب التمار، عن مسروق بن اوس، عن الاشعري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الاصابع سواء " . قلت عشر عشر قال " نعم " . قال ابو داود رواه محمد بن جعفر عن شعبة عن غالب قال سمعت مسروق بن اوس ورواه اسماعيل قال حدثني غالب التمار باسناد ابي الوليد ورواه حنظلة بن ابي صفية عن غالب باسناد اسماعيل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اور یہ برابر ہیں یعنی انگوٹھا اور چھنگلی ( کانی انگلی ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، ح وحدثنا ابن معاذ، حدثنا ابي ح، وحدثنا نصر بن علي، اخبرنا يزيد بن زريع، كلهم عن شعبة، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذه وهذه سواء " . قال يعني الابهام والخنصر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں سب برابر ہیں، دانت سب برابر ہیں، سامنے کے دانت ہوں، یا ڈاڑھ کے سب برابر ہیں، یہ بھی برابر اور وہ بھی برابر ۔
حدثنا عباس العنبري، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثني شعبة، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الاصابع سواء والاسنان سواء الثنية والضرس سواء هذه وهذه سواء " . قال ابو داود ورواه النضر بن شميل عن شعبة بمعنى عبد الصمد . قال ابو داود حدثناه الدارمي عن النضر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دانت سب برابر ہیں اور انگلیاں سب برابر ہیں ۔
حدثنا محمد بن حاتم بن بزيع، حدثنا علي بن الحسن، اخبرنا ابو حمزة، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الاسنان سواء والاصابع سواء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر کی انگلیوں کو برابر قرار دیا۔
حدثنا عبد الله بن عمر بن محمد بن ابان، حدثنا ابو تميلة، عن حسين المعلم، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم اصابع اليدين والرجلين سواء
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں جبکہ آپ اپنی پیٹھ کعبہ سے ٹیکے ہوئے تھے فرمایا: انگلیوں میں دس دس اونٹ ہیں ۔
حدثنا هدبة بن خالد، حدثنا همام، حدثنا حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته وهو مسند ظهره الى الكعبة " في الاصابع عشر عشر
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دانتوں میں پانچ پانچ ( اونٹ ) ہیں ۔
حدثنا زهير بن حرب ابو خيثمة، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " في الاسنان خمس خمس
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گاؤں والوں پر قتل خطا کی دیت کی قیمت چار سو دینار، یا اس کے برابر چاندی سے لگایا کرتے تھے، اور اس کی قیمت اونٹوں کی قیمتوں پر لگاتے، جب وہ مہنگے ہو جاتے تو آپ اس کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیتے، اور جب وہ سستے ہوتے تو آپ اس کی قیمت بھی گھٹا دیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ قیمت چار سو دینار سے لے کر آٹھ سو دینار تک پہنچی، اور اسی کے برابر چاندی سے ( دیت کی قیمت ) آٹھ ہزار درہم پہنچی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گائے بیل والوں پر ( دیت میں ) دو سو گایوں کا فیصلہ کیا، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریوں کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت کا مال مقتول کے وارثین کے درمیان ان کی قرابت کے مطابق تقسیم ہو گا، اب اگر اس سے کچھ بچ رہے تو وہ عصبہ کا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناک کے سلسلے میں فیصلہ کیا کہ اگر وہ کاٹ دی جائے تو پوری دیت لازم ہو گی۔ اور اگر اس کا بانسہ ( دونوں نتھنوں کے بیچ کی ہڈی ) کاٹا گیا ہو تو آدھی دیت لازم ہو گی، یعنی پچاس اونٹ یا اس کے برابر سونا یا چاندی، یا سو گائیں، یا ایک ہزار بکریاں۔ اور ہاتھ جب کاٹا گیا ہو تو اس میں آدھی لازم ہو گی، پیر میں بھی آدھی دیت ہو گی۔ اور مامومہ ۱؎ میں ایک تہائی دیت ہو گی، تینتیس اونٹ اور ایک اونٹ کا تہائی یا اس کی قیمت کے برابر سونا، چاندی، گائے یا بکری اور جائفہ ۲؎ میں بھی یہی دیت ہے۔ اور انگلیوں میں ہر انگلی میں دس اونٹ اور دانتوں میں ہر دانت میں پانچ اونٹ کی دیت ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: عورت کی جنایت کی دیت اس کے عصبات میں تقسیم ہو گی ( یعنی عورت اگر کوئی جنایت کرے تو اس کے عصبات کو دینا پڑے گا ) یعنی ان لوگوں کو جو ذوی الفروض سے بچا ہوا مال لے لیتے ہیں ( جیسے بیٹا، چچا، باپ، بھائی وغیرہ ) اور اگر وہ قتل کر دی گئی ہو تو اس کی دیت اس کے وارثوں میں تقسیم ہو گی ( نہ کہ عصبات میں ) اور وہی اپنے قاتل کو قتل کریں گے ( اگر قصاص لینا ہو ) ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاتل کے لیے کچھ بھی نہیں، اور اگر اس کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کا وارث سب سے قریبی رشتے دار ہو گا لیکن قاتل کسی چیز کا وارث نہ ہو گا ۔
قال ابو داود وجدت في كتابي عن شيبان، - ولم اسمعه منه - فحدثناه ابو بكر، - صاحب لنا ثقة - قال حدثنا شيبان، حدثنا محمد، - يعني ابن راشد - عن سليمان، - يعني ابن موسى - عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوم دية الخطا على اهل القرى اربعماية دينار او عدلها من الورق يقومها على اثمان الابل فاذا غلت رفع في قيمتها واذا هاجت رخصا نقص من قيمتها وبلغت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بين اربعماية دينار الى ثمانماية دينار او عدلها من الورق ثمانية الاف درهم وقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم على اهل البقر مايتى بقرة ومن كان دية عقله في الشاء فالفى شاة قال وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان العقل ميراث بين ورثة القتيل على قرابتهم فما فضل فللعصبة " . قال وقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في الانف اذا جدع الدية كاملة وان جدعت ثندوته فنصف العقل خمسون من الابل او عدلها من الذهب او الورق او ماية بقرة او الف شاة وفي اليد اذا قطعت نصف العقل وفي الرجل نصف العقل وفي المامومة ثلث العقل ثلاث وثلاثون من الابل وثلث او قيمتها من الذهب او الورق او البقر او الشاء والجايفة مثل ذلك وفي الاصابع في كل اصبع عشر من الابل وفي الاسنان في كل سن خمس من الابل وقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان عقل المراة بين عصبتها من كانوا لا يرثون منها شييا الا ما فضل عن ورثتها فان قتلت فعقلها بين ورثتها وهم يقتلون قاتلهم وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس للقاتل شىء وان لم يكن له وارث فوارثه اقرب الناس اليه ولا يرث القاتل شييا " . قال محمد هذا كله حدثني به سليمان بن موسى عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود محمد بن راشد من اهل دمشق هرب الى البصرة من القتل
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شبہ عمد کی دیت عمد کی دیت کی طرح سخت ہے، البتہ اس کے قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا ۔ خلیل کی محمد بن راشد سے روایت میں یہ اضافہ ہے یہ ( قتل شبہ عمد ) لوگوں کے درمیان ایک شیطانی فساد ہے کہ بلا کسی کینے اور بغیر ہتھیار اٹھائے خون ہو جاتا ہے اور قاتل کا پتا نہیں چلتا ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا محمد بن بكار بن بلال العاملي، اخبرنا محمد، - يعني ابن راشد - عن سليمان، - يعني ابن موسى - عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " عقل شبه العمد مغلظ مثل عقل العمد ولا يقتل صاحبه " . قال وزادنا خليل عن ابن راشد " وذلك ان ينزو الشيطان بين الناس فتكون دماء في عميا في غير ضغينة ولا حمل سلاح
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مواضح» ۱؎ میں دیت پانچ اونٹ ہے ۔
حدثنا ابو كامل، فضيل بن حسين ان خالد بن الحارث، حدثهم قال اخبرنا حسين، - يعني المعلم - عن عمرو بن شعيب، ان اباه، اخبره عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " في المواضح خمس
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی آنکھ میں جو اپنی جگہ باقی رہے لیکن بینائی جاتی رہے، تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا۔
حدثنا محمود بن خالد السلمي، حدثنا مروان، - يعني ابن محمد - حدثنا الهيثم بن حميد، حدثني العلاء بن الحارث، حدثني عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في العين القايمة السادة لمكانها بثلث الدية
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مار کر اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو قتل کر دیا، وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: ہم اس کی دیت کیوں کر ادا کریں جو نہ رویا، نہ کھایا، نہ پیا، اور نہ ہی چلایا، ( اس نے یہ بات مقفّٰی عبارت میں کہی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دیہاتیوں کی طرح مقفّی و مسجّع عبارت بولتے ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غرہ ( لونڈی یا غلام ) کی دیت کا فیصلہ کیا، اور اسے عورت کے عاقلہ ( وارثین ) کے ذمہ ٹھہرایا۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، حدثنا شعبة، عن منصور، عن ابراهيم، عن عبيد بن نضلة، عن المغيرة بن شعبة، ان امراتين، كانتا تحت رجل من هذيل فضربت احداهما الاخرى بعمود فقتلتها وجنينها فاختصموا الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال احد الرجلين كيف ندي من لا صاح ولا اكل ولا شرب ولا استهل . فقال " اسجع كسجع الاعراب " . وقضى فيه بغرة وجعله على عاقلة المراة
اس سند سے منصور سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول عورت کی دیت قاتل عورت کے عصبات پر ٹھہرائی، اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ ( غلام یا لونڈی ) ٹھہرایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسی طرح حکم نے مجاہد سے مجاہد نے مغیرہ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، باسناده ومعناه . وزاد فجعل النبي صلى الله عليه وسلم دية المقتولة على عصبة القاتلة وغرة لما في بطنها . قال ابو داود وكذلك رواه الحكم عن مجاهد عن المغيرة
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، تو عمر نے کہا: میرے پاس اپنے ساتھ اس شخص کو لاؤ جو اس کی گواہی دے، تو وہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو لے کر ان کے پاس آئے۔ ہارون کی روایت میں اتنا اضافہ ہے تو انہوں نے اس کی گواہی دی یعنی اس بات کی کہ کوئی آدمی عورت کے پیٹ میں مارے جو اسقاط حمل کا سبب بن جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے معلوم ہوا اسقاط حمل کو املاص اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے معنی ازلاق یعنی پھسلانے کے ہیں گویا عورت ولادت سے قبل ہی مار کی وجہ سے حمل کو پھسلا دیتی ہے اسی طرح ہاتھ یا کسی اور چیز سے جو چیز پھسل کر گر جائے تو اس کی تعبیر «مَلِصَ» سے کی جاتی ہے یعنی وہ پھسل گیا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وهارون بن عباد الازدي، - المعنى - قالا حدثنا وكيع، عن هشام، عن عروة، عن المسور بن مخرمة، ان عمر، استشار الناس في املاص المراة فقال المغيرة بن شعبة شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى فيها بغرة عبد او امة . فقال ايتني بمن يشهد معك . فاتاه بمحمد بن مسلمة - زاد هارون - فشهد له يعني ضرب الرجل بطن امراته . قال ابو داود بلغني عن ابي عبيد انما سمي املاصا لان المراة تزلقه قبل وقت الولادة وكذلك كل ما زلق من اليد وغيره فقد ملص
عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید اور حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، عروہ نے اپنے باپ زبیر سے روایت کیا ہے کہ عمر نے کہا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، عن هشام، عن ابيه، عن المغيرة، عن عمر، بمعناه . قال ابو داود رواه حماد بن زيد وحماد بن سلمة عن هشام بن عروة، عن ابيه، ان عمر، قال
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے متعلق پوچھا تو حمل بن مالک بن نابغہ کھڑے ہوئے، اور بولے: میں دونوں عورتوں کے بیچ میں تھا، ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی سے مارا تو وہ مر گئی اور اس کا جنین بھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جنین کے سلسلے میں ایک غلام یا لونڈی کی دیت کا، اور قاتلہ کو قتل کر دیئے جانے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل نے کہا: «مسطح» چوپ یعنی ( روٹی پکانے کی لکڑی ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابو عبید نے کہا:«مسطح» خیمہ کی لکڑیوں میں سے ایک لکڑی ہے۔
حدثنا محمد بن مسعود المصيصي، حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، قال اخبرني عمرو بن دينار، انه سمع طاوسا، عن ابن عباس، عن عمر، انه سال عن قضية النبي، صلى الله عليه وسلم في ذلك فقام اليه حمل بن مالك بن النابغة فقال كنت بين امراتين فضربت احداهما الاخرى بمسطح فقتلتها وجنينها فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في جنينها بغرة وان تقتل . قال ابو داود قال النضر بن شميل المسطح هو الصوبج . قال ابو داود وقال ابو عبيد المسطح عود من اعواد الخباء
طاؤس کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے، آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی البتہ اس کا ذکر نہیں کیا کہ وہ قتل کی جائے، اور انہوں نے «بغرة عبد أو أمة» کا اضافہ کیا ہے، راوی کہتے ہیں: اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اکبر! اگر ہم یہ حکم نہ سنے ہوتے تو اس کے خلاف فیصلہ دیتے۔
حدثنا عبد الله بن محمد الزهري، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن طاوس، قال قام عمر رضى الله عنه على المنبر فذكر معناه لم يذكر وان تقتل . زاد بغرة عبد او امة . قال فقال عمر الله اكبر لو لم اسمع بهذا لقضينا بغير هذا