Loading...

Loading...
کتب
۱۰۲ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم بن حذیفہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، ایک شخص نے اپنی زکاۃ کے سلسلہ میں ان سے جھگڑا کر لیا، ابوجہم نے اسے مارا تو اس کا سر زخمی ہو گیا، تو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اللہ کے رسول! قصاص دلوائیے، اس پر آپ نے ان سے فرمایا: تم اتنا اور اتنا لے لو لیکن وہ لوگ راضی نہیں ہوئے، تو آپ نے فرمایا: اچھا اتنا اور اتنا لے لو وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے تو آپ نے فرمایا: اچھا اتنا اور اتنا لے لو اس پر وہ رضامند ہو گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج شام کو میں لوگوں کے سامنے خطبہ دوں گا اور انہیں تمہاری رضا مندی کی خبر دوں گا لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، اور فرمایا: قبیلہ لیث کے یہ لوگ قصاص کے ارادے سے میرے پاس آئے ہیں تو میں نے ان کو اتنا اور اتنا مال پیش کیا اس پر یہ راضی ہو گئے ہیں ( پھر آپ نے انہیں مخاطب کر کے پوچھا: ) بتاؤ کیا تم لوگ راضی ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، تو مہاجرین ان پر جھپٹے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان سے باز رہنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ رک گئے، پھر آپ نے انہیں بلایا، اور کچھ اضافہ کیا پھر پوچھا: کیا اب تم راضی ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: میں لوگوں کو خطاب کروں گا، اور انہیں تمہاری رضا مندی کے بارے میں بتاؤں گا لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب کیا، اور پوچھا: کیا تم راضی ہو؟ وہ بولے: ہاں۔
حدثنا محمد بن داود بن سفيان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث ابا جهم بن حذيفة مصدقا فلاجه رجل في صدقته فضربه ابو جهم فشجه فاتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا القود يا رسول الله . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لكم كذا وكذا " . فلم يرضوا فقال " لكم كذا وكذا " . فلم يرضوا فقال " لكم كذا وكذا " . فرضوا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اني خاطب العشية على الناس ومخبرهم برضاكم " . فقالوا نعم . فخطب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ان هولاء الليثيين اتوني يريدون القود فعرضت عليهم كذا وكذا فرضوا ارضيتم " . قالوا لا . فهم المهاجرون بهم فامرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يكفوا عنهم فكفوا ثم دعاهم فزادهم فقال " ارضيتم " . فقالوا نعم . قال " اني خاطب على الناس ومخبرهم برضاكم " . قالوا نعم . فخطب النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ارضيتم " . قالوا نعم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک لڑکی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا: تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا، تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، چنانچہ اس یہودی کو پکڑا گیا، اس نے اقبال جرم کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچل دیا جائے۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا همام، عن قتادة، عن انس، ان جارية، وجدت، قد رض راسها بين حجرين فقيل لها من فعل بك هذا افلان افلان حتى سمي اليهودي فاومت براسها فاخذ اليهودي فاعترف فامر النبي صلى الله عليه وسلم ان يرض راسه بالحجارة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص آیا اور آپ کے اوپر جھک گیا تو اس کے چہرے پر خراش آ گئی تو آپ نے ایک لکڑی جو آپ کے پاس تھی اسے چبھو دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: آؤ قصاص لے لو ۱؎ وہ بولا: اللہ کے رسول! میں نے معاف کر دیا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، عن عمرو، - يعني ابن الحارث - عن بكير بن الاشج، عن عبيدة بن مسافع، عن ابي سعيد الخدري، قال بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يقسم قسما اقبل رجل فاكب عليه فطعنه رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرجون كان معه فجرح بوجهه فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " تعال فاستقد " . فقال بل عفوت يا رسول الله
ابوفراس کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا اور کہا: میں نے اپنے گورنر اس لیے نہیں بھیجے کہ وہ تمہاری کھالوں پہ ماریں، اور نہ اس لیے کہ وہ تمہارے مال لیں، لہٰذا اگر کسی کے ساتھ ایسا سلوک ہو تو وہ اسے مجھ تک پہنچائے، میں اس سے اسے قصاص دلواؤں گا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر کوئی شخص اپنی رعیت کو تادیباً سزا دے تو اس پر بھی آپ اس سے قصاص لیں گے، وہ بولے: ہاں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے قصاص لوں گا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنی ذات سے قصاص دلایا۔
حدثنا ابو صالح، اخبرنا ابو اسحاق الفزاري، عن الجريري، عن ابي نضرة، عن ابي فراس، قال خطبنا عمر بن الخطاب رضى الله عنه فقال اني لم ابعث عمالي ليضربوا ابشاركم ولا لياخذوا اموالكم فمن فعل به ذلك فليرفعه الى اقصه منه قال عمرو بن العاص لو ان رجلا ادب بعض رعيته اتقصه منه قال اي والذي نفسي بيده اقصه وقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اقص من نفسه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑنے والوں پر لازم ہے کہ وہ قصاص لینے سے باز رہیں، پہلے جو سب سے قریبی ہے وہ معاف کرے، پھر اس کے بعد والے خواہ وہ عورت ہی ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ عورتوں کا قتل کے سلسلے میں قصاص معاف کر دینا جائز ہے جب وہ مقتول کے اولیاء میں سے ہوں، اور مجھے ابو عبید کے واسطے سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کے قول «ينحجزوا» کے معنی قصاص سے باز رہنے کے ہیں۔
حدثنا داود بن رشيد، حدثنا الوليد، عن الاوزاعي، انه سمع حصنا، انه سمع ابا سلمة، يخبر عن عايشة، رضى الله عنها عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " على المقتتلين ان ينحجزوا الاول فالاول وان كانت امراة " . قال ابو داود بلغني ان عفو النساء في القتل جايز اذا كانت احدى الاولياء وبلغني عن ابي عبيد في قوله " ينحجزوا " . يكفوا عن القود
طاؤس کہتے ہیں کہ جو مارا جائے، اور ابن عبید کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کسی لڑائی یا دنگے میں جو لوگوں میں چھڑ گئی ہو غیر معروف پتھر، کوڑے، یا لاٹھی سے مارا جائے ۱؎ تو وہ قتل خطا ہے، اور اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہو گی، اور جو قصداً مارا جائے تو اس میں قصاص ہے ( البتہ ابن عبید کی روایت میں ہے کہ ) اس میں ہاتھ کا قصاص ہے، ۲؎ ( پھر دونوں کی روایت ایک ہے کہ ) جو کوئی اس کے بیچ بچاؤ میں پڑے ۳؎ تو اس پر اللہ کی لعنت، اور اس کا غضب ہو، اس کی نہ توبہ قبول ہو گی اور نہ فدیہ، یا اس کے فرض قبول ہوں گے نہ نفل اور سفیان کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد، ح وحدثنا ابن السرح، حدثنا سفيان، - وهذا حديثه - عن عمرو، عن طاوس، قال من قتل . وقال ابن عبيد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قتل في عميا في رمى يكون بينهم بحجارة او ضرب بالسياط او ضرب بعصا فهو خطا وعقله عقل الخطا ومن قتل عمدا فهو قود " . وقال ابن عبيد " قود يد " . ثم اتفقا " ومن حال دونه فعليه لعنة الله وغضبه لا يقبل منه صرف ولا عدل " . وحديث سفيان اتم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آگے راوی نے سفیان کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
حدثنا محمد بن ابي غالب، حدثنا سعيد بن سليمان، عن سليمان بن كثير، حدثنا عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر معنى حديث سفيان
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: جو غلطی سے مارا گیا تو اس کی دیت سو اونٹ ہے تیس بنت مخاض ۱؎ تیس بنت لبون ۲؎ تیس حقے ۳؎ اور دس نر اونٹ جو دو برس کے ہو چکے ہوں ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، قال حدثنا محمد بن راشد، ح وحدثنا هارون بن زيد بن ابي الزرقاء، حدثنا ابي، حدثنا محمد بن راشد، عن سليمان بن موسى، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى ان من قتل خطا فديته ماية من الابل ثلاثون بنت مخاض وثلاثون بنت لبون وثلاثون حقة وعشرة بني لبون ذكر
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت کی قیمت ۱؎ آٹھ سو دینار، یا آٹھ ہزار درہم تھی، اور اہل کتاب کی دیت اس وقت مسلمانوں کی دیت کی آدھی تھی، پھر اسی طرح حکم چلتا رہا، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا: سنو، اونٹوں کی قیمت بڑھ گئی ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے سونے والوں پر ایک ہزار دینار، اور چاندی والوں پر بارہ ہزار ( درہم ) دیت ٹھہرائی، اور گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑوں کی دیت مقرر کی، اور ذمیوں کی دیت چھوڑ دی، ان کی دیت میں ( مسلمانوں کی دیت کی طرح ) اضافہ نہیں کیا۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا عبد الرحمن بن عثمان، حدثنا حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال كانت قيمة الدية على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ثمانماية دينار او ثمانية الاف درهم ودية اهل الكتاب يوميذ النصف من دية المسلمين قال فكان ذلك كذلك حتى استخلف عمر رحمه الله فقام خطيبا فقال الا ان الابل قد غلت . قال ففرضها عمر على اهل الذهب الف دينار وعلى اهل الورق اثنى عشر الفا وعلى اهل البقر مايتى بقرة وعلى اهل الشاء الفى شاة وعلى اهل الحلل مايتى حلة . قال وترك دية اهل الذمة لم يرفعها فيما رفع من الدية
عطا بن ابی رباح سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے سلسلے میں فیصلہ فرمایا کہ اونٹ والوں پر سو اونٹ، گائے بیل والوں پر دو سو گائیں، بکری والوں پر دو ہزار بکریاں، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑے کپڑے، اور گیہوں والوں پر بھی کچھ مقرر کیا جو محمد ( محمد بن اسحاق ) کو یاد نہیں رہا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا محمد بن اسحاق، عن عطاء بن ابي رباح، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في الدية على اهل الابل ماية من الابل وعلى اهل البقر مايتى بقرة وعلى اهل الشاء الفى شاة وعلى اهل الحلل مايتى حلة وعلى اهل القمح شييا لم يحفظه محمد
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا پھر راوی نے ایسے ہی ذکر کیا جیسے موسیٰ کی روایت میں ہے البتہ اس میں اس طرح ہے کہ طَعام والوں پر کچھ مقرر کیا جو کہ مجھ کو یاد نہیں رہا۔
قال ابو داود قرات على سعيد بن يعقوب الطالقاني قال حدثنا ابو تميلة، حدثنا محمد بن اسحاق، قال ذكر عطاء عن جابر بن عبد الله، قال فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر مثل حديث موسى . قال وعلى اهل الطعام شييا لا احفظه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل خطا کی دیت میں بیس حقے، بیس جزعے، بیس بنت مخاض، بیس بنت لبون اور بیس ابن مخاض ہیں اور یہی عبداللہ بن مسعود کا قول ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد، حدثنا الحجاج، عن زيد بن جبير، عن خشف بن مالك الطايي، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " في دية الخطا عشرون حقة وعشرون جذعة وعشرون بنت مخاض وعشرون بنت لبون وعشرون بني مخاض ذكر " . وهو قول عبد الله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنی عدی کے ایک شخص کو قتل کر دیا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت بارہ ہزار ٹھہرائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن عیینہ نے عمرو سے، عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا زيد بن الحباب، عن محمد بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رجلا، من بني عدي قتل فجعل النبي صلى الله عليه وسلم ديته اثنى عشر الفا . قال ابو داود رواه ابن عيينة عن عمرو عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم لم يذكر ابن عباس
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مسدد کی روایت کے مطابق ) فتح مکہ کے دن مکہ میں خطبہ دیا، آپ نے تین بار اللہ اکبر کہا، پھر فرمایا: «لا إله إلا الله وحده صدق وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ تنہا ہے، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا لشکروں کو شکست دی ( یہاں تک کہ حدیث مجھ سے صرف مسدد نے بیان کی ہے صرف انہیں کے واسطہ سے میں نے اسے یاد کیا ہے اور اس کے بعد سے اخیر حدیث تک سلیمان اور مسدد دونوں نے مجھ سے بیان کیا ہے آگے یوں ہے ) سنو! وہ تمام فضیلتیں جو جاہلیت میں بیان کی جاتی تھیں اور خون یا مال کے جتنے دعوے کئے جاتے تھے وہ سب میرے پاؤں تلے ہیں ( یعنی لغو اور باطل ہیں ) سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی خدمت کے ( یہ اب بھی ان کے ہی سپرد رہے گی جن کے سپر د پہلے تھی پھر فرمایا: سنو! قتل خطا یعنی قتل شبہ عمد کوڑے یا لاٹھی سے ہونے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں ( اور مسدد والی روایت زیادہ کامل ہے ) ۔
حدثنا سليمان بن حرب، ومسدد، - المعنى - قالا حدثنا حماد، عن خالد، عن القاسم بن ربيعة، عن عقبة بن اوس، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب يوم الفتح بمكة فكبر ثلاثا ثم قال " لا اله الا الله وحده صدق وعده ونصر عبده وهزم الاحزاب وحده " . الى ها هنا حفظته عن مسدد ثم اتفقا " الا ان كل ماثرة كانت في الجاهلية تذكر وتدعى من دم او مال تحت قدمى الا ما كان من سقاية الحاج وسدانة البيت " . ثم قال " الا ان دية الخطا شبه العمد ما كان بالسوط والعصا ماية من الابل منها اربعون في بطونها اولادها " . وحديث مسدد اتم
اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، عن خالد، بهذا الاسناد نحو معناه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے دن یا فتح مکہ کے دن بیت اللہ یا کعبہ کی سیڑھی پر خطبہ دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن عیینہ نے بھی اسی طرح علی بن زید سے، علی بن زید نے قاسم بن ربیعہ سے، قاسم نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اور اسے ایوب سختیانی نے قاسم بن ربیعہ سے، قاسم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے خالد کی حدیث کے مثل روایت کی ہے۔ نیز اسے حماد بن سلمہ نے علی بن زید سے، علی بن زید نے یعقوب سدوسی سے، سدوسی نے عبداللہ بن عمرو سے، اور عبداللہ بن عمرو نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور زید اور ابوموسیٰ کا قول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مثل ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن علي بن زيد، عن القاسم بن ربيعة، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه قال خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفتح او فتح مكة على درجة البيت او الكعبة . قال ابو داود كذا رواه ابن عيينة ايضا عن علي بن زيد عن القاسم بن ربيعة عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم ورواه ايوب السختياني عن القاسم بن ربيعة عن عبد الله بن عمرو مثل حديث خالد ورواه حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن يعقوب السدوسي عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم وقول زيد وابي موسى مثل حديث النبي صلى الله عليه وسلم وحديث عمر رضى الله عنه
مجاہد کہتے ہیں عمر نے قتل شبہ عمد میں تیس حقہ، تیس جزعہ، چالیس گابھن اونٹنیوں ( جو چھ برس سے نو برس تک کی ہوں ) کی دیت کا فیصلہ کیا۔
حدثنا النفيلي، حدثنا سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، قال قضى عمر في شبه العمد ثلاثين حقة وثلاثين جذعة واربعين خلفة ما بين ثنية الى بازل عامها
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں شبہ عمد کی دیت میں تین قسم کے اونٹ ہوں گے، تینتیس حقہ، تینتیس جذعہ اور چونتیس ایسی اونٹنیاں جو چھ برس سے لے کر نو برس تک کی ہوں اور سب گابھن ہوں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، عن علي، رضى الله عنه انه قال في شبه العمد اثلاث ثلاث وثلاثون حقة وثلاث وثلاثون جذعة واربع وثلاثون ثنية الى بازل عامها كلها خلفة
وبه عن ابي اسحاق، عن علقمة، والاسود، قال عبد الله في شبه العمد خمس وعشرون حقة وخمس وعشرون جذعة وخمس وعشرون بنات لبون وخمس وعشرون بنات مخاض
وبه عن ابي اسحاق، عن علقمة، والاسود، قال عبد الله في شبه العمد خمس وعشرون حقة وخمس وعشرون جذعة وخمس وعشرون بنات لبون وخمس وعشرون بنات مخاض
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، قال قال علي رضى الله عنه في الخطا ارباعا خمس وعشرون حقة وخمس وعشرون جذعة وخمس وعشرون بنات لبون وخمس وعشرون بنات مخاض
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، قال قال علي رضى الله عنه في الخطا ارباعا خمس وعشرون حقة وخمس وعشرون جذعة وخمس وعشرون بنات لبون وخمس وعشرون بنات مخاض