Loading...

Loading...
کتب
۱۰۲ احادیث
ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں پھر راوی نے مخلد بن خالد کی حدیث کا مفہوم اسی طرح ذکر کیا جیسے جابر کی روایت میں ہے، اس میں ہے کہ بشر بن براء بن معرور مر گئے، تو آپ نے یہودی عورت کو بلا بھیجا اور پوچھا: یہ تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ پھر راوی نے وہی باتیں ذکر کیں جو جابر کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ قتل کر دی گئی لیکن انہوں نے پچھنا لگوانے کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا ابراهيم بن خالد، حدثنا رباح، عن معمر، عن الزهري، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، عن امه، ان ام مبشر، - قال ابو سعيد بن الاعرابي كذا قال عن امه، والصواب، عن ابيه، عن ام مبشر، - دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم فذكر معنى حديث مخلد بن خالد نحو حديث جابر قال فمات بشر بن البراء بن معرور فارسل الى اليهودية فقال " ما حملك على الذي صنعت " . فذكر نحو حديث جابر فامر بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقتلت ولم يذكر الحجامة
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم اسے قتل کریں گے، اور جو اس کے اعضاء کاٹے گا ہم اس کے اعضاء کاٹیں گے ۔
حدثنا علي بن الجعد، حدثنا شعبة، ح وحدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قتل عبده قتلناه ومن جدع عبده جدعناه
اس سند سے بھی قتادہ سے بھی اسی کے مثل حدیث مروی ہے اس میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے غلام کو خصی کرے گا ہم اسے خصی کریں گے اس کے بعد راوی نے اسی طرح ذکر کیا جیسے شعبہ اور حماد کی حدیث میں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوداؤد طیالسی نے ہشام سے معاذ کی حدیث کی طرح نقل کیا ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، باسناده مثله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من خصى عبده خصيناه " . ثم ذكر مثل حديث شعبة وحماد . قال ابو داود ورواه ابو داود الطيالسي عن هشام مثل حديث معاذ
اس سند سے بھی قتادہ سے شعبہ کی سند والی روایت کے مثل مروی ہے اس میں اضافہ ہے کہ پھر حسن ( راوی حدیث ) اس حدیث کو بھول گئے چنانچہ وہ کہتے تھے: آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا سعيد بن عامر، عن ابن ابي عروبة، عن قتادة، باسناد شعبة مثله زاد ثم ان الحسن نسي هذا الحديث فكان يقول " لا يقتل حر بعبد
حسن بصری کہتے ہیں آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن قتادة، عن الحسن، قال لا يقاد الحر بالعبد
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص چیختا چلاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس کی ایک لونڈی تھی، آپ نے فرمایا: ستیاناس ہو تمہارا، بتاؤ کیا ہوا؟ اس نے کہا: برا ہوا، میرے آقا کی ایک لونڈی تھی اسے میں نے دیکھ لیا، تو اسے غیرت آئی، اس نے میرا ذکر کٹوا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کو میرے پاس لاؤ تو اسے بلایا گیا، مگر کوئی اسے نہ لا سکا تب آپ نے ( اس غلام سے ) فرمایا: جاؤ تم آزاد ہو اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری مدد کون کرے گا؟ آپ نے فرمایا: ہر مومن پر یا کہا: ہر مسلمان پر تیری مدد لازم ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جو آزاد ہوا اس کا نام روح بن دینار تھا، اور جس نے ذکر کاٹا تھا وہ زنباع تھا، یہ زنباع ابوروح ہیں جو غلام کے آقا تھے۔
حدثنا محمد بن الحسن بن تسنيم العتكي، حدثنا محمد بن بكر، اخبرنا سوار ابو حمزة، حدثنا عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال جاء رجل مستصرخ الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال جارية له يا رسول الله . فقال " ويحك ما لك " . قال شرا ابصر لسيده جارية له فغار فجب مذاكيره . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " على بالرجل " . فطلب فلم يقدر عليه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذهب فانت حر " . فقال يا رسول الله على من نصرتي قال " على كل مومن " . او قال " كل مسلم " . قال ابو داود الذي عتق كان اسمه روح بن دينار . قال ابو داود الذي جبه زنباع . قال ابو داود هذا زنباع ابو روح كان مولى العبد
سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل دونوں خیبر کی طرف چلے اور کھجور کے درختوں میں ( چلتے چلتے ) دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے، پھر عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے، تو ان لوگوں نے یہودیوں پر تہمت لگائی، ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور ان کے چچازاد بھائی حویصہ اور محیصہ اکٹھا ہوئے اور وہ سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عبدالرحمٰن بن سہل جو ان میں سب سے چھوٹے تھے اپنے بھائی کے معاملے میں بولنے چلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑوں کا لحاظ کرو ( اور انہیں گفتگو کا موقع دو ) یا یوں فرمایا: بڑے کو پہلے بولنے دو چنانچہ ان دونوں ( حویصہ اور محیصہ ) نے اپنے عزیز کے سلسلے میں گفتگو کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے پچاس آدمی یہودیوں کے کسی آدمی پر قسم کھائیں تو اسے رسی سے باندھ کر تمہارے حوالے کر دیا جائے ان لوگوں نے کہا: یہ ایسا معاملہ ہے جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے، پھر ہم کیسے قسم کھا لیں؟ آپ نے فرمایا: پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں کی قسم کے ذریعہ خود کو تم سے بچا لیں گے وہ بولے: اللہ کے رسول! یہ کافر لوگ ہیں ( ان کی قسموں کا کیا اعتبار؟ ) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی طرف سے دیت دے دی، سہل کہتے ہیں: ایک دن میں ان کے شتر خانے میں گیا، تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات مار دی، حماد نے یہی کہا یا اس جیسی کوئی بات کہی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے بشر بن مفضل اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے: کیا تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے ساتھی کے خون، یا اپنے قاتل کے مستحق ہوتے ہو؟ البتہ بشر نے لفظ دم یعنی خون کا ذکر نہیں کیا ہے، اور عبدہ نے یحییٰ سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے حماد نے کی ہے، اور اسے ابن عیینہ نے یحییٰ سے روایت کیا ہے، تو انہوں نے ابتداء «تبرئكم يهود بخمسين يمينا يحلفون» سے کی ہے اور استحقاق کا ذکر انہوں نے نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن عیینہ کا وہم ہے۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، ومحمد بن عبيد، - المعنى - قالا حدثنا حماد بن زيد، عن يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار، عن سهل بن ابي حثمة، ورافع بن خديج، ان محيصة بن مسعود، وعبد الله بن سهل، انطلقا قبل خيبر فتفرقا في النخل فقتل عبد الله بن سهل فاتهموا اليهود فجاء اخوه عبد الرحمن بن سهل وابنا عمه حويصة ومحيصة فاتوا النبي صلى الله عليه وسلم فتكلم عبد الرحمن في امر اخيه وهو اصغرهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الكبر الكبر " . او قال " ليبدا الاكبر " . فتكلما في امر صاحبهما فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقسم خمسون منكم على رجل منهم فيدفع برمته " . قالوا امر لم نشهده كيف نحلف قال " فتبريكم يهود بايمان خمسين منهم " . قالوا يا رسول الله قوم كفار . قال فوداه رسول الله صلى الله عليه وسلم من قبله . قال قال سهل دخلت مربدا لهم يوما فركضتني ناقة من تلك الابل ركضة برجلها . قال حماد هذا او نحوه . قال ابو داود رواه بشر بن المفضل ومالك عن يحيى بن سعيد قال فيه " اتحلفون خمسين يمينا وتستحقون دم صاحبكم او قاتلكم " ولم يذكر بشر دما وقال عبدة عن يحيى كما قال حماد ورواه ابن عيينة عن يحيى فبدا بقوله " تبريكم يهود بخمسين يمينا يحلفون " . ولم يذكر الاستحقاق قال ابو داود وهذا وهم من ابن عيينة
سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کے قبیلہ کے کچھ بڑوں سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما کسی پریشانی کی وجہ سے جس سے وہ دو چار ہوئے خیبر کی طرف نکلے پھر کسی نے آ کر محیصہ کو خبر دی کہ عبداللہ بن سہل مار ڈالے گئے اور انہیں کسی کنویں یا چشمے میں ڈال دیا گیا، وہ ( محیصہ ) یہود کے پاس آئے اور کہنے لگے: قسم اللہ کی! تم نے ہی انہیں قتل کیا ہے، وہ بولے: اللہ کی قسم ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ہے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل تینوں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) آئے، محیصہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کیونکہ وہی خیبر میں ساتھ تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑوں کو بڑائی دو آپ کی مراد عمر میں بڑائی سے تھی چنانچہ حویصہ نے گفتگو کی، پھر محیصہ نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا تو یہ لوگ تمہارے آدمی کی دیت دیں، یا لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں پھر آپ نے اس سلسلے میں انہیں خط لکھا تو انہوں نے اس کا جواب لکھا کہ اللہ کی قسم! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ہے، تو آپ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن سے پوچھا: کیا تم قسم کھاؤ گے کہ اپنے بھائی کے خون کا مستحق بن سکو؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس پر آپ نے فرمایا: تو پھر یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے اس پر وہ کہنے لگے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی، اور سو اونٹ بھیج دیے گئے یہاں تک کہ وہ ان کے مکان میں داخل کر دیے گئے، سہل کہتے ہیں: انہیں میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری ہے۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، اخبرنا ابن وهب، اخبرني مالك، عن ابي ليلى بن عبد الله بن عبد الرحمن بن سهل، عن سهل بن ابي حثمة، انه اخبره هو، ورجال، من كبراء قومه ان عبد الله بن سهل ومحيصة خرجا الى خيبر من جهد اصابهم فاتي محيصة فاخبر ان عبد الله بن سهل قد قتل وطرح في فقير او عين فاتى يهود فقال انتم والله قتلتموه . قالوا والله ما قتلناه . فاقبل حتى قدم على قومه فذكر لهم ذلك ثم اقبل هو واخوه حويصة - وهو اكبر منه - وعبد الرحمن بن سهل فذهب محيصة ليتكلم وهو الذي كان بخيبر فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " كبر كبر " . يريد السن فتكلم حويصة ثم تكلم محيصة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما ان يدوا صاحبكم واما ان يوذنوا بحرب " . فكتب اليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بذلك فكتبوا انا والله ما قتلناه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لحويصة ومحيصة وعبد الرحمن " اتحلفون وتستحقون دم صاحبكم " . قالوا لا . قال " فتحلف لكم يهود " . قالوا ليسوا مسلمين فوداه رسول الله صلى الله عليه وسلم من عنده فبعث اليهم ماية ناقة حتى ادخلت عليهم الدار . قال سهل لقد ركضتني منها ناقة حمراء
عمرو بن شعیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے قسامہ سے بنی نصر بن مالک کے ایک آدمی کو بحرۃالرغاء ۱؎میں لیۃالبحرہ ۲؎ کے کنارے پر قتل کیا، راوی کہتے ہیں: قاتل اور مقتول دونوں بنی نصر کے تھے، «ببحرة الرغاء على شطر لية البحر»کے یہ الفاظ محمود کے ہیں اور محمود اس حدیث کے سلسلہ میں سب سے زیادہ درست آدمی ہیں۔
حدثنا محمود بن خالد، وكثير بن عبيد، قالا حدثنا ح، وحدثنا محمد بن الصباح بن سفيان، اخبرنا الوليد، عن ابي عمرو، عن عمرو بن شعيب، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قتل بالقسامة رجلا من بني نصر بن مالك ببحرة الرغاء على شط لية البحرة قال القاتل والمقتول منهم . وهذا لفظ محمود ببحرة اقامه محمود وحده على شط لية البحرة
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری ان سے بیان کیا کہ ان کی قوم کے چند آدمی خیبر گئے، وہاں پہنچ کر وہ جدا ہو گئے، پھر اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا تو جن کے پاس اسے پایا ان سے ان لوگوں نے کہا: تم لوگوں نے ہی ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے، وہ کہنے لگے: ہم نے قتل نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہمیں قاتل کا پتا ہے چنانچہ ہم لوگ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، تو آپ نے ان سے فرمایا: تم اس پر گواہ لے کر آؤ کہ کس نے اسے مارا ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارے پاس گواہ نہیں ہے، اس پر آپ نے فرمایا: پھر وہ یعنی یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے وہ کہنے لگے: ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں ہوں گے، پھر آپ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کا خون ضائع ہو جائے چنانچہ آپ نے اس کی دیت زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ خود دے دی۔
حدثنا الحسن بن محمد بن الصباح الزعفراني، حدثنا ابو نعيم، حدثنا سعيد بن عبيد الطايي، عن بشير بن يسار، زعم ان رجلا، من الانصار يقال له سهل بن ابي حثمة اخبره ان نفرا من قومه انطلقوا الى خيبر فتفرقوا فيها فوجدوا احدهم قتيلا فقالوا للذين وجدوه عندهم قتلتم صاحبنا فقالوا ما قتلناه ولا علمنا قاتلا . فانطلقنا الى نبي الله صلى الله عليه وسلم قال فقال لهم " تاتوني بالبينة على من قتل هذا " . قالوا ما لنا بينة . قال " فيحلفون لكم " . قالوا لا نرضى بايمان اليهود . فكره نبي الله صلى الله عليه وسلم ان يبطل دمه فوداه ماية من ابل الصدقة
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی خیبر میں قتل کر دیا گیا، تو اس کے وارثین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے ساتھی کے مقتول ہو جانے کی گواہی دیں؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں پر تو مسلمانوں میں سے کوئی نہیں تھا، وہ تو سب کے سب یہودی ہیں اور وہ اس سے بڑے جرم کی بھی جرات کر لیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان میں پچاس افراد منتخب کر کے ان سے قسم لے لو لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوئے، تو آپ نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کی۔
حدثنا الحسن بن علي بن راشد، اخبرنا هشيم، عن ابي حيان التيمي، حدثنا عباية بن رفاعة، عن رافع بن خديج، قال اصبح رجل من الانصار مقتولا بخيبر فانطلق اولياوه الى النبي صلى الله عليه وسلم فذكروا ذلك له فقال " لكم شاهدان يشهدان على قتل صاحبكم " . قالوا يا رسول الله لم يكن ثم احد من المسلمين وانما هم يهود وقد يجتريون على اعظم من هذا . قال " فاختاروا منهم خمسين فاستحلفوهم " . فابوا فوداه النبي صلى الله عليه وسلم من عنده
عبدالرحمٰن بن بجید کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم، سہل کو اس حدیث میں وہم ہو گیا ہے، واقعہ یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو لکھا کہ تمہارے بیچ ایک مقتول ملا ہے تو تم اس کی دیت ادا کرو، تو انہوں نے جواب میں لکھا: ہم اللہ کی پچاس قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا، اور نہ ہمیں اس کے قاتل کا پتا ہے، وہ کہتے ہیں: اس پر اس کی دیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے سو اونٹ ( خود ) ادا کی۔
حدثنا عبد العزيز بن يحيى الحراني، حدثني محمد، - يعني ابن سلمة - عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن ابراهيم بن الحارث، عن عبد الرحمن بن بجيد، قال ان سهلا والله اوهم الحديث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب الى يهود " انه قد وجد بين اظهركم قتيل فدوه " . فكتبوا يحلفون بالله خمسين يمينا ما قتلناه ولا علمنا قاتلا . قال فوداه رسول الله صلى الله عليه وسلم من عنده ماية ناقة
انصار کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہود سے کہا: تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں تو انہوں نے انکار کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا: تم اپنا حق ثابت کرو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم ایسی بات پر قسم کھائیں جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت یہود سے دلوائی اس لیے کہ وہ انہیں کے درمیان پایا گیا تھا۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، وسليمان بن يسار، عن رجال، من الانصار ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لليهود وبدا بهم " يحلف منكم خمسون رجلا " . فابوا فقال للانصار " استحقوا " . قالوا نحلف على الغيب يا رسول الله فجعلها رسول الله صلى الله عليه وسلم دية على يهود لانه وجد بين اظهرهم
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا: کس نے تیرے ساتھ یہ کیا ہے؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر اس یہودی کو پکڑا گیا، تو اس نے اعتراف کیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا جائے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا همام، عن قتادة، عن انس، ان جارية، وجدت، قد رض راسها بين حجرين فقيل لها من فعل بك هذا افلان افلان حتى سمي اليهودي فاومت براسها فاخذ اليهودي فاعترف فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يرض راسه بالحجارة
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے انصار کی ایک لونڈی کو اس کے زیور کی وجہ سے قتل کر دیا، پھر اسے ایک کنوئیں میں ڈال کر اس کا سر پتھر سے کچل دیا، تو اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے تو اسے رجم کر دیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ایوب سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس، ان يهوديا، قتل جارية من الانصار على حلي لها ثم القاها في قليب ورضخ راسها بالحجارة فاخذ فاتي به النبي صلى الله عليه وسلم فامر به ان يرجم حتى يموت فرجم حتى مات . قال ابو داود رواه ابن جريج عن ايوب نحوه
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی اپنے زیور پہنے ہوئی تھی اس کے سر کو ایک یہودی نے پتھر سے کچل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے، ابھی اس میں جان باقی تھی، آپ نے اس سے پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ فلاں نے تجھے قتل کیا ہے؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا؟ فلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے پھر سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا فلاں نے کیا ہے؟ اس نے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اسے دو پتھروں کے درمیان ( کچل کر ) مار ڈالا گیا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابن ادريس، عن شعبة، عن هشام بن زيد، عن جده، انس ان جارية، كان عليها اوضاح لها فرضخ راسها يهودي بحجر فدخل عليها رسول الله صلى الله عليه وسلم وبها رمق فقال لها " من قتلك فلان قتلك " . فقالت لا . براسها . قال " من قتلك فلان قتلك " . قالت لا . براسها . قال " فلان قتلك " . قالت نعم . براسها فامر به رسول الله صلى الله عليه وسلم فقتل بين حجرين
قیس بن عباد سے کہتے ہیں کہ میں اور اشتر دونوں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کوئی خاص بات بتائی ہے جو عام لوگوں کو نہ بتائی ہو؟ وہ بولے: نہیں، سوائے اس چیز کے جو میری اس کتاب میں ہے۔ مسدد کہتے ہیں: پھر انہوں نے ایک کتاب نکالی، احمد کے الفاظ یوں ہیں اپنی تلوار کے غلاف سے ایک کتاب ( نکالی ) اس میں یہ لکھا تھا: سب مسلمانوں کا خون برابر ہے اور وہ غیروں کے مقابل ( باہمی نصرت و معاونت میں ) گویا ایک ہاتھ ہیں، اور ان میں کا ایک ادنی بھی ان کے امان کا پاس و لحاظ رکھے گا ۱؎، آگاہ رہو! کہ کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی کوئی ذمی معاہد جب تک وہ معاہد ہے قتل کیا جائے گا، اور جو شخص کوئی نئی بات نکالے گا تو اس کی ذمے داری اسی کے اوپر ہو گی، اور جو نئی بات نکالے گا، یا نئی بات نکالنے والے کسی شخص ( بدعتی ) کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ مسدد کہتے ہیں: ابن ابی عروبہ سے منقول ہے کہ انہوں نے ایک کتاب نکالی۔
حدثنا احمد بن حنبل، ومسدد، قالا حدثنا يحيى بن سعيد، اخبرنا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن الحسن، عن قيس بن عباد، قال انطلقت انا والاشتر، الى علي عليه السلام فقلنا هل عهد اليك رسول الله صلى الله عليه وسلم شييا لم يعهده الى الناس عامة قال لا الا ما في كتابي هذا - قال مسدد قال - فاخرج كتابا - وقال احمد كتابا من قراب سيفه - فاذا فيه " المومنون تكافا دماوهم وهم يد على من سواهم ويسعى بذمتهم ادناهم الا لا يقتل مومن بكافر ولا ذو عهد في عهده من احدث حدثا فعلى نفسه ومن احدث حدثا او اوى محدثا فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين " . قال مسدد عن ابن ابي عروبة فاخرج كتابا
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: … پھر راوی نے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ان کا ادنی شخص بھی امان دے سکتا ہے اور مال غنیمت میں عمدہ جانور اور کمزور جانور والے دونوں برابر ہیں، جو لشکر سے باہر نکلے اور لڑے اور وہ جو لشکر میں بیٹھا رے دونوں برابر ہیں۔
حدثنا عبيد الله بن عمر، حدثنا هشيم، عن يحيى بن سعيد، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر نحو حديث علي زاد فيه " ويجير عليهم اقصاهم ويرد مشدهم على مضعفهم ومتسريهم على قاعدهم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں سعد نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت دی ( میں تو اسے قتل کر دوں گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! جو تمہارے سردار کہہ رہے ہیں ( عبدالوہاب کے الفاظ ہیں، ( سنو ) جو سعد کہہ رہے ہیں ) ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، وعبد الوهاب بن نجدة الحوطي، - المعنى واحد - قالا حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان سعد بن عبادة، قال يا رسول الله الرجل يجد مع امراته رجلا ايقتله قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا " . قال سعد بلى والذي اكرمك بالحق . قال النبي صلى الله عليه وسلم " اسمعوا الى ما يقول سيدكم " . قال عبد الوهاب " الى ما يقول سعد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: بتائیے اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا چار گواہ لانے تک اسے مہلت دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان سعد بن عبادة، قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم ارايت لو وجدت مع امراتي رجلا امهله حتى اتي باربعة شهداء قال " نعم