Loading...

Loading...
کتب
۱۰۲ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قریظہ اور نضیر دو ( یہودی ) قبیلے تھے، نضیر قریظہ سے زیادہ باعزت تھے، جب قریظہ کا کوئی آدمی نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا تو اسے اس کے بدلے قتل کر دیا جاتا، اور جب نضیر کا کوئی آدمی قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا تو سو وسق کھجور فدیہ دے کر اسے چھڑا لیا جاتا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو نضیر کے ایک آدمی نے قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کر دیا، تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسے ہمارے حوالے کرو، ہم اسے قتل کریں گے، نضیر نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کریں گے، چنانچہ وہ لوگ آپ کے پاس آئے تو آیت «وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط» اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو اتری، اور انصاف کی بات یہ تھی کہ جان کے بدلے جان لی جائے، پھر آیت «أفحكم الجاهلية يبغون» کیا یہ لوگ جاہلیت کے فیصلہ کو پسند کرتے ہیں؟ نازل ہوئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قریظہ اور نضیر دونوں ہارون علیہ السلام کی اولاد ہیں۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا عبيد الله، - يعني ابن موسى - عن علي بن صالح، عن سماك بن حرب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كان قريظة والنضير - وكان النضير اشرف من قريظة - فكان اذا قتل رجل من قريظة رجلا من النضير قتل به واذا قتل رجل من النضير رجلا من قريظة فودي بماية وسق من تمر فلما بعث النبي صلى الله عليه وسلم قتل رجل من النضير رجلا من قريظة فقالوا ادفعوه الينا نقتله . فقالوا بيننا وبينكم النبي صلى الله عليه وسلم فاتوه فنزلت { وان حكمت فاحكم بينهم بالقسط } والقسط النفس بالنفس ثم نزلت { افحكم الجاهلية يبغون } . قال ابو داود قريظة والنضير جميعا من ولد هارون النبي عليه السلام
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نے میرے والد سے پوچھا: یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میرے والد نے کہا: ہاں رب کعبہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچ مچ؟ انہوں نے کہا: میں اس کی گواہی دیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، کیونکہ میں اپنے والد کے مشابہ تھا، اور میرے والد نے قسم کھائی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! نہ یہ تمہارے جرم میں پکڑا جائے گا، اور نہ تم اس کے جرم میں اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «ولا تزر وازرة وزر أخرى» کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی ( الانعام: ۱۶۴، الاسراء: ۱۵، الفاطر: ۱۸ ) ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا عبيد الله، - يعني ابن اياد - حدثنا اياد، عن ابي رمثة، قال انطلقت مع ابي نحو النبي صلى الله عليه وسلم ثم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لابي " ابنك هذا " . قال اي ورب الكعبة قال " حقا " . قال اشهد به . قال فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم ضاحكا من ثبت شبهي في ابي ومن حلف ابي على . ثم قال " اما انه لا يجني عليك ولا تجني عليه " . وقرا رسول الله صلى الله عليه وسلم { ولا تزر وازرة وزر اخرى}
ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو ( اپنے کسی رشتہ دار کے ) قتل ہونے، یا زخمی ہونے کی تکلیف پہنچی ہو اسے تین میں سے ایک چیز کا اختیار ہو گا: یا تو قصاص لے لے، یا معاف کر دے، یا دیت لے لے، اگر وہ ان کے علاوہ کوئی چوتھی بات کرنا چاہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لو، اور جس نے ان ( اختیارات ) میں زیادتی کی تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا محمد بن اسحاق، عن الحارث بن فضيل، عن سفيان بن ابي العوجاء، عن ابي شريح الخزاعي، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اصيب بقتل او خبل فانه يختار احدى ثلاث اما ان يقتص واما ان يعفو واما ان ياخذ الدية فان اراد الرابعة فخذوا على يديه ومن اعتدى بعد ذلك فله عذاب اليم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ایسا مقدمہ لایا جاتا جس میں قصاص لازم ہوتا تو میں نے آپ کو یہی دیکھا کہ ( پہلے ) آپ اس میں معاف کر دینے کا حکم دیتے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد الله بن بكر بن عبد الله المزني، عن عطاء بن ابي ميمونة، عن انس بن مالك، قال ما رايت النبي صلى الله عليه وسلم رفع اليه شىء فيه قصاص الا امر فيه بالعفو
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص قتل کر دیا گیا تو یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش کیا گیا، آپ نے اس ( قاتل ) کو مقتول کے وارث کے حوالے کر دیا، قاتل کہنے لگا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میرا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہ تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وارث سے فرمایا: سنو! اگر یہ سچا ہے اور تم نے اسے قتل کر دیا، تو تم جہنم میں جاؤ گے یہ سن کر اس نے قاتل کو چھوڑ دیا، اس کے دونوں ہاتھ ایک تسمے سے بندھے ہوئے تھے، وہ اپنا تسمہ گھسیٹتا ہوا نکلا، تو اس کا نام ذوالنسعۃ یعنی تسمہ والا پڑ گیا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، اخبرنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قتل رجل على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فرفع ذلك الى النبي صلى الله عليه وسلم فدفعه الى ولي المقتول فقال القاتل يا رسول الله والله ما اردت قتله . قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم للولي " اما انه ان كان صادقا ثم قتلته دخلت النار " . قال فخلى سبيله . قال وكان مكتوفا بنسعة فخرج يجر نسعته فسمي ذا النسعة
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک قاتل لایا گیا، اس کی گردن میں تسمہ تھا آپ نے مقتول کے وارث کو بلوایا، اور اس سے پوچھا: کیا تم معاف کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیا دیت لو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیا تم قتل کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا لے جاؤ اسے چنانچہ جب وہ ( اسے لے کر ) چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تم اسے معاف کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دیت لو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم قتل کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ چوتھی بار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! اگر تم اسے معاف کر دو گے تو یہ اپنا اور مقتول دونوں کا گناہ اپنے سر پر اٹھائے گا یہ سن کر اس نے اسے معاف کر دیا۔ وائل کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا وہ اپنے گلے میں پڑا تسمہ گھسیٹ رہا تھا۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة الجشمي، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عوف، حدثنا حمزة ابو عمر العايذي، حدثني علقمة بن وايل، حدثني وايل بن حجر، قال كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم اذ جيء برجل قاتل في عنقه النسعة قال فدعا ولي المقتول فقال " اتعفو " . قال لا . قال " افتاخذ الدية " . قال لا . قال " افتقتل " . قال نعم . قال " اذهب به " . فلما ولى قال " اتعفو " . قال لا . قال " افتاخذ الدية " . قال لا . قال " افتقتل " . قال نعم . قال " اذهب به " . فلما كان في الرابعة قال " اما انك ان عفوت عنه يبوء باثمه واثم صاحبه " . قال فعفا عنه . قال فانا رايته يجر النسعة
اس سند سے بھی علقمہ بن وائل سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثني جامع بن مطر، حدثني علقمة بن وايل، باسناده ومعناه
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص ایک حبشی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اس نے میرے بھتیجے کو قتل کیا ہے، آپ نے اس سے پوچھا: تم نے اسے کیسے قتل کر دیا؟ وہ بولا: میں نے اس کے سر پر کلہاڑی ماری اور وہ مر گیا، میرا ارادہ اس کے قتل کا نہیں تھا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس مال ہے کہ تم اس کی دیت ادا کر سکو اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: بتاؤ اگر میں تمہیں چھوڑ دوں تو کیا تم لوگوں سے مانگ کر اس کی دیت اکٹھی کر سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا تمہارے مالکان اس کی دیت ادا کر دیں گے؟ اس نے کہا: نہیں، تب آپ نے اس شخص ( مقتول کے وارث ) سے فرمایا: اسے لے جاؤ جب وہ اسے قتل کرنے کے لیے لے کر چلا تو آپ نے فرمایا: اگر یہ اس کو قتل کر دے گا تو اسی کی طرح ہو جائے گا وہ آپ کی بات سن رہا تھا جب اس کے کان میں یہ بات پہنچی تو اس نے کہا: وہ یہ ہے، آپ جو چاہیں اس کے سلسلے میں حکم فرمائیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، وہ اپنا اور تمہارے بھتیجے کا گناہ لے کر لوٹے گا اور جہنمیوں میں سے ہو گا چنانچہ اس نے اسے چھوڑ دیا۔
حدثنا محمد بن عوف الطايي، حدثنا عبد القدوس بن الحجاج، حدثنا يزيد بن عطاء الواسطي، عن سماك، عن علقمة بن وايل، عن ابيه، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم بحبشي فقال ان هذا قتل ابن اخي . قال " كيف قتلته " . قال ضربت راسه بالفاس ولم ارد قتله . قال " هل لك مال تودي ديته " . قال لا . قال " افرايت ان ارسلتك تسال الناس تجمع ديته " . قال لا . قال " فمواليك يعطونك ديته " . قال لا . قال للرجل " خذه " . فخرج به ليقتله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما انه ان قتله كان مثله " . فبلغ به الرجل حيث يسمع قوله فقال هو ذا فمر فيه ما شيت . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارسله - وقال مرة دعه - يبوء باثم صاحبه واثمه فيكون من اصحاب النار " . قال فارسله
ابوامامہ بن سہل کہتے ہیں کہ ہم عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، آپ گھر میں محصور تھے، گھر میں داخل ہونے کا ایک راستہ ایسا تھا کہ جو اس میں داخل ہو جاتا وہ باہر سطح زمین پر کھڑے لوگوں کی گفتگو سن سکتا تھا، عثمان اس میں داخل ہوئے اور ہمارے پاس لوٹے تو ان کا رنگ متغیر تھا، کہنے لگے: ان لوگوں نے ابھی ابھی مجھے قتل کرنے کی دھمکی دی ہے، تو ہم نے عرض کیا: امیر المؤمنین! آپ کی ان سے حفاظت کے لیے اللہ کافی ہے، اس پر انہوں نے کہا: آخر یہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: تین باتوں کے بغیر کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں: ایک یہ کہ اسلام لانے کے بعد وہ کفر کا ارتکاب کرے، دوسرے یہ کہ شادی شدہ ہو کر زنا کرے، اور تیسرے یہ کہ ناحق کسی کو قتل کر دے تو اللہ کی قسم! میں نے نہ تو جاہلیت میں، اور نہ اسلام لانے کے بعد کبھی زنا کیا، اور جب سے اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہے میں نے کبھی نہیں چاہا کہ میرا دین اس کے بجائے کوئی اور ہو، اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، تو آخر کس بنیاد پر مجھے یہ قتل کریں گے؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان اور ابوبکر رضی اللہ عنہما نے تو جاہلیت میں بھی شراب سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی تھی۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن يحيى بن سعيد، عن ابي امامة بن سهل، قال كنا مع عثمان وهو محصور في الدار وكان في الدار مدخل من دخله سمع كلام من على البلاط فدخله عثمان فخرج الينا وهو متغير لونه فقال انهم ليتواعدونني بالقتل انفا . قلنا يكفيكهم الله يا امير المومنين . قال ولم يقتلونني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يحل دم امري مسلم الا باحدى ثلاث كفر بعد اسلام او زنا بعد احصان او قتل نفس بغير نفس " . فوالله ما زنيت في جاهلية ولا اسلام قط ولا احببت ان لي بديني بدلا منذ هداني الله ولا قتلت نفسا فبم يقتلونني قال ابو داود عثمان وابو بكر رضى الله عنهما تركا الخمر في الجاهلية
زبیر بن عوام اور ان والد عوام رضی اللہ عنہما (یہ دونوں جنگ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے) سے روایت ہے کہ محلم بن جثامہ لیثی نے اسلام کے زمانے میں قبیلہ اشجع کے ایک شخص کو قتل کر دیا، اور یہی پہلی دیت ہے جس کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، تو عیینہ نے اشجعی کے قتل کے متعلق گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ عطفان سے تھا، اور اقرع بن حابس نے محلم کی جانب سے گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ خندف سے تھا تو آوازیں بلند ہوئیں، اور شور و غل بڑھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیینہ! کیا تم دیت قبول نہیں کر سکتے؟ عیینہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، اس وقت تک نہیں جب تک میں اس کی عورتوں کو وہی رنج و غم نہ پہنچا دوں جو اس نے میری عورتوں کو پہنچایا ہے، پھر آوازیں بلند ہوئیں اور شور و غل بڑھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیینہ! کیا تم دیت قبول نہیں کر سکتے؟ عیینہ نے پھر اسی طرح کی بات کہی یہاں تک کہ بنی لیث کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے مکیتل کہا جاتا تھا، وہ ہتھیار باندھے تھا اور ہاتھ میں سپر لیے ہوئے تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! شروع اسلام میں اس نے جو غلطی کی ہے، اسے میں یوں سمجھتا ہوں جیسے چند بکریاں چشمے پر آئیں اور ان پر تیر پھینکے جائیں تو پہلے پہل آنے والیوں کو تیر لگے، اور پچھلی انہیں دیکھ کر ہی بھاگ جائیں، آج ایک طریقہ نکالئے اور کل اسے بدل دیجئیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچاس اونٹ ابھی فوراً دے دو، اور پچاس مدینے لوٹ کر دینا ۔ اور یہ واقعہ ایک سفر کے دوران پیش آیا تھا، محلم لمبا گندمی رنگ کا ایک شخص تھا، وہ لوگوں کے کنارے بیٹھا تھا، آخر کار جب وہ چھوٹ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ بیٹھا، اور اس کی آنکھیں اشک بار تھیں اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے گناہ کیا ہے جس کی خبر آپ کو پہنچی ہے، اب میں توبہ کرتا ہوں، آپ اللہ سے میری مغفرت کی دعا فرمائیے، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ آواز بلند فرمایا: کیا تم نے اسے ابتداء اسلام میں اپنے ہتھیار سے قتل کیا ہے، اے اللہ! محلم کو نہ بخشنا ابوسلمہ نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ یہ سن کر محلم کھڑا ہوا، وہ اپنی چادر کے کونے سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا، ابن اسحاق کہتے ہیں: محلم کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اس کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل کا کہنا ہے کہ «غير» کے معنی دیت کے ہیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، قال حدثنا محمد بن اسحاق، فحدثني محمد بن جعفر بن الزبير، قال سمعت زياد بن ضميرة الضمري، ح وحدثنا وهب بن بيان، واحمد بن سعيد الهمداني، قالا حدثنا ابن وهب، اخبرني عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن عبد الرحمن بن الحارث، عن محمد بن جعفر، انه سمع زياد بن سعد بن ضميرة السلمي، - وهذا حديث وهب وهو اتم - يحدث عروة بن الزبير عن ابيه - قال موسى - وجده وكانا شهدا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حنينا - ثم رجعنا الى حديث وهب - ان محلم بن جثامة الليثي قتل رجلا من اشجع في الاسلام وذلك اول غير قضى به رسول الله صلى الله عليه وسلم فتكلم عيينة في قتل الاشجعي لانه من غطفان وتكلم الاقرع بن حابس دون محلم لانه من خندف فارتفعت الاصوات وكثرت الخصومة واللغط فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا عيينة الا تقبل الغير " . فقال عيينة لا والله حتى ادخل على نسايه من الحرب والحزن ما ادخل على نسايي . قال ثم ارتفعت الاصوات وكثرت الخصومة واللغط فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا عيينة الا تقبل الغير " . فقال عيينة مثل ذلك ايضا الى ان قام رجل من بني ليث يقال له مكيتل عليه شكة وفي يده درقة فقال يا رسول الله اني لم اجد لما فعل هذا في غرة الاسلام مثلا الا غنما وردت فرمي اولها فنفر اخرها اسنن اليوم وغير غدا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خمسون في فورنا هذا وخمسون اذا رجعنا الى المدينة " . وذلك في بعض اسفاره ومحلم رجل طويل ادم وهو في طرف الناس فلم يزالوا حتى تخلص فجلس بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم وعيناه تدمعان فقال يا رسول الله اني قد فعلت الذي بلغك واني اتوب الى الله تبارك وتعالى فاستغفر الله عز وجل لي يا رسول الله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقتلته بسلاحك في غرة الاسلام اللهم لا تغفر لمحلم " . بصوت عال زاد ابو سلمة فقام وانه ليتلقى دموعه بطرف ردايه قال ابن اسحاق فزعم قومه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم استغفر له بعد ذلك . قال ابو داود قال النضر بن شميل الغير الدية
ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو خزاعہ کے لوگو! تم نے ہذیل کے اس شخص کو قتل کیا ہے، اور میں اس کی دیت دلاؤں گا، میری اس گفتگو کے بعد کوئی قتل کیا گیا تو مقتول کے لوگوں کو دو باتوں کا اختیار ہو گا یا وہ دیت لے لیں یا قتل کر ڈالیں ۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن ابي ذيب، قال حدثني سعيد بن ابي سعيد، قال سمعت ابا شريح الكعبي، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا انكم يا معشر خزاعة قتلتم هذا القتيل من هذيل واني عاقله فمن قتل له بعد مقالتي هذه قتيل فاهله بين خيرتين ان ياخذوا العقل او يقتلوا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا: جس کا کوئی قتل کیا گیا تو اسے اختیار ہے یا تو دیت لے لے، یا قصاص میں قتل کرے یہ سن کر یمن کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے ابوشاہ کہا جاتا تھا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے یہ لکھ دیجئیے ( عباس بن ولید کی روایت «اکتب لی» کے بجائے «اکتبوا لی» یہ صیغۂ جمع ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کے لیے لکھ دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اکتبوا لی» سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ ہے۔
حدثنا عباس بن الوليد بن مزيد، اخبرنا ابي، حدثنا الاوزاعي، حدثني يحيى، ح وحدثنا احمد بن ابراهيم، حدثني ابو داود، حدثنا حرب بن شداد، حدثنا يحيى بن ابي كثير، حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، حدثنا ابو هريرة، قال لما فتحت مكة قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " من قتل له قتيل فهو بخير النظرين اما ان يودى او يقاد " . فقام رجل من اهل اليمن يقال له ابو شاه فقال يا رسول الله اكتب لي - قال العباس اكتبوا لي - فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكتبوا لابي شاه " . وهذا لفظ حديث احمد . قال ابو داود اكتبوا لي يعني خطبة النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کافر کے بدلے مومن کو قتل نہیں کیا جائے گا، اور جو کسی مومن کو دانستہ طور پر قتل کرے گا، وہ مقتول کے وارثین کے حوالے کر دیا جائے گا، وہ چاہیں تو اسے قتل کریں اور چاہیں تو دیت لے لیں ۔
حدثنا مسلم، حدثنا محمد بن راشد، حدثنا سليمان بن موسى، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يقتل مومن بكافر ومن قتل مومنا متعمدا دفع الى اولياء المقتول فان شاءوا قتلوه وان شاءوا اخذوا الدية
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اسے ہرگز نہیں معاف کروں گا ۱؎ جو دیت لینے کے بعد بھی ( قاتل کو ) قتل کر دے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا مطر الوراق، - واحسبه - عن الحسن، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا اعفي من قتل بعد اخذه الدية
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود بکری لے کر آئی، آپ نے اس میں سے کچھ کھا لیا، تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے اس سلسلے میں اس سے پوچھا، تو اس نے کہا: میرا ارادہ آپ کو مار ڈالنے کا تھا، آپ نے فرمایا: اللہ تجھے کبھی مجھ پر مسلط نہیں کرے گا صحابہ نے عرض کیا: کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں، آپ نے فرمایا: نہیں چنانچہ میں اس کا اثر برابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسوڑھوں میں دیکھا کرتا تھا۔
حدثنا يحيى بن حبيب بن عربي، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، عن هشام بن زيد، عن انس بن مالك، ان امراة، يهودية اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم بشاة مسمومة فاكل منها فجيء بها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالها عن ذلك فقالت اردت لاقتلك . فقال " ما كان الله ليسلطك على ذلك " . او قال " على " . قال فقالوا الا نقتلها قال " لا " . فما زلت اعرفها في لهوات رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زہر آلود بکری بھیجی، لیکن آپ نے اس عورت سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرحب کی ایک یہودی بہن تھی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا۔
حدثنا داود بن رشيد، حدثنا عباد بن العوام، ح وحدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عباد، عن سفيان بن حسين، عن الزهري، عن سعيد، وابي، سلمة - قال هارون - عن ابي هريرة، ان امراة، من اليهود اهدت الى النبي صلى الله عليه وسلم شاة مسمومة - قال - فما عرض لها النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود هذه اخت مرحب اليهودية التي سمت النبي صلى الله عليه وسلم
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ خیبر کی ایک یہودی عورت نے بھنی ہوئی بکری میں زہر ملایا، پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں بھیجا، آپ نے دست کا گوشت لے کر اس میں سے کچھ کھایا، آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت نے بھی کھایا، پھر ان سے آپ نے فرمایا: اپنے ہاتھ روک لو اور آپ نے اس یہودیہ کو بلا بھیجا، اور اس سے سوال کیا: کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا؟ یہودیہ بولی: آپ کو کس نے بتایا؟ آپ نے فرمایا: دست کے اسی گوشت نے مجھے بتایا جو میرے ہاتھ میں ہے وہ بولی: ہاں ( میں نے ملایا تھا ) ، آپ نے پوچھا: اس سے تیرا کیا ارادہ تھا؟ وہ بولی: میں نے سوچا: اگر نبی ہوں گے تو زہر نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اگر نہیں ہوں گے تو ہم کو ان سے نجات مل جائے گی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا، کوئی سزا نہیں دی، اور آپ کے بعض صحابہ جنہوں نے بکری کا گوشت کھایا تھا انتقال کر گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے گوشت کھانے کی وجہ سے اپنے شانوں کے درمیان پچھنے لگوائے، جسے ابوہند نے آپ کو سینگ اور چھری سے لگایا، ابوہند انصار کے قبیلہ بنی بیاضہ کے غلام تھے۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال كان جابر بن عبد الله يحدث ان يهودية، من اهل خيبر سمت شاة مصلية ثم اهدتها لرسول الله صلى الله عليه وسلم فاخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم الذراع فاكل منها واكل رهط من اصحابه معه ثم قال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارفعوا ايديكم " . وارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم الى اليهودية فدعاها فقال لها " اسممت هذه الشاة " . قالت اليهودية من اخبرك قال " اخبرتني هذه في يدي " . للذراع . قالت نعم . قال " فما اردت الى ذلك " . قالت قلت ان كان نبيا فلن يضره وان لم يكن استرحنا منه . فعفا عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يعاقبها وتوفي بعض اصحابه الذين اكلوا من الشاة واحتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم على كاهله من اجل الذي اكل من الشاة حجمه ابو هند بالقرن والشفرة وهو مولى لبني بياضة من الانصار
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کی ایک یہودی عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھنی ہوئی بکری تحفہ میں بھیجی، پھر راوی نے ویسے ہی بیان کیا جیسے جابر کی حدیث میں ہے، ابوسلمہ کہتے ہیں: پھر بشر بن براء بن معرور انصاری فوت ہو گئے، تو آپ نے اس یہودی عورت کو بلا بھیجا اور فرمایا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا جیسے جابر کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلسلہ میں حکم دیا: تو وہ قتل کر دی گئی، اور انہوں نے پچھنا لگوانے کا ذکر نہیں کیا ہے ۱؎۔
حدثنا وهب بن بقية، حدثنا خالد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اهدت له يهودية بخيبر شاة مصلية نحو حديث جابر قال فمات بشر بن البراء بن معرور الانصاري فارسل الى اليهودية " ما حملك على الذي صنعت " . فذكر نحو حديث جابر فامر بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقتلت ولم يذكر امر الحجامة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور صدقہ نہیں کھاتے تھے، نیز اسی سند سے ایک اور مقام پر ابوہریرہ کے ذکر کے بغیر صرف ابوسلمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے اور صدقہ نہیں کھاتے تھے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ کو خیبر کی ایک یہودی عورت نے ایک بھنی ہوئی بکری تحفہ میں بھیجی جس میں اس نے زہر ملا رکھا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا اور لوگوں نے بھی کھایا، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: اپنے ہاتھ روک لو، اس ( گوشت ) نے مجھے بتایا ہے کہ وہ زہر آلود ہے چنانچہ بشر بن براء بن معرور انصاری مر گئے، تو آپ نے اس یہودی عورت کو بلا کر فرمایا: ایسا کرنے پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا؟ وہ بولی: اگر آپ نبی ہیں تو جو میں نے کیا ہے وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور اگر آپ بادشاہ ہیں تو میں نے لوگوں کو آپ سے نجات دلا دی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ قتل کر دی گئی، پھر آپ نے اپنی اس تکلیف کے بارے میں فرمایا: جس میں آپ نے وفات پائی کہ میں برابر خیبر کے اس کھانے کے اثر کو محسوس کرتا رہا یہاں تک کہ اب وہ وقت آ گیا کہ اس نے میری شہ رگ کاٹ دی۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبل الهدية ولا ياكل الصدقة . وحدثنا وهب بن بقية في موضع اخر عن خالد عن محمد بن عمرو عن ابي سلمة ولم يذكر ابا هريرة قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبل الهدية ولا ياكل الصدقة . زاد فاهدت له يهودية بخيبر شاة مصلية سمتها فاكل رسول الله صلى الله عليه وسلم منها واكل القوم فقال " ارفعوا ايديكم فانها اخبرتني انها مسمومة " . فمات بشر بن البراء بن معرور الانصاري فارسل الى اليهودية " ما حملك على الذي صنعت " . قالت ان كنت نبيا لم يضرك الذي صنعت وان كنت ملكا ارحت الناس منك . فامر بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقتلت ثم قال في وجعه الذي مات فيه " ما زلت اجد من الاكلة التي اكلت بخيبر فهذا اوان قطعت ابهري
کعب بن مالک روایت کرتے ہیں کہ ام مبشر رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مرض میں جس میں آپ نے وفات پائی کہا: اللہ کے رسول! آپ کا شک کس چیز پر ہے؟ میرے بیٹے کے سلسلہ میں میرا شک تو اس زہر آلود بکری پر ہے جو اس نے آپ کے ساتھ خیبر میں کھائی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے سلسلہ میں بھی میرا شک اسی پر ہے، اور اب یہ وقت آ چکا ہے کہ اس نے میری شہ رگ کاٹ دی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرزاق نے کبھی اس حدیث کو معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے اور کبھی معمر نے اسے زہری سے اور، زہری نے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کے واسطہ سے بیان کیا ہے۔ اور عبدالرزاق نے ذکر کیا ہے کہ معمر اس حدیث کو ان سے کبھی مرسلاً روایت کرتے تو وہ اسے لکھ لیتے اور کبھی مسنداً روایت کرتے تو بھی وہ اسے بھی لکھ لیتے، اور ہمارے نزدیک دونوں صحیح ہے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: جب ابن مبارک معمر کے پاس آئے تو معمر نے وہ تمام حدیثیں جنہیں وہ موقوفاً روایت کرتے تھے ان سے متصلًا روایت کیں۔
حدثنا مخلد بن خالد، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن الزهري، عن ابن كعب بن مالك، عن ابيه، ان ام مبشر، قالت للنبي صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي مات فيه ما يتهم بك يا رسول الله فاني لا اتهم بابني شييا الا الشاة المسمومة التي اكل معك بخيبر . وقال النبي صلى الله عليه وسلم " وانا لا اتهم بنفسي الا ذلك فهذا اوان قطعت ابهري " . قال ابو داود وربما حدث عبد الرزاق بهذا الحديث مرسلا عن معمر عن الزهري عن النبي صلى الله عليه وسلم وربما حدث به عن الزهري عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك وذكر عبد الرزاق ان معمرا كان يحدثهم بالحديث مرة مرسلا فيكتبونه ويحدثهم مرة به فيسنده فيكتبونه وكل صحيح عندنا قال عبد الرزاق فلما قدم ابن المبارك على معمر اسند له معمر احاديث كان يوقفها