احادیث
#4503
سنن ابی داؤد - Types of Blood-Wit
زبیر بن عوام اور ان والد عوام رضی اللہ عنہما (یہ دونوں جنگ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے) سے روایت ہے کہ محلم بن جثامہ لیثی نے اسلام کے زمانے میں قبیلہ اشجع کے ایک شخص کو قتل کر دیا، اور یہی پہلی دیت ہے جس کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، تو عیینہ نے اشجعی کے قتل کے متعلق گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ عطفان سے تھا، اور اقرع بن حابس نے محلم کی جانب سے گفتگو کی اس لیے کہ وہ قبیلہ خندف سے تھا تو آوازیں بلند ہوئیں، اور شور و غل بڑھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیینہ! کیا تم دیت قبول نہیں کر سکتے؟ عیینہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، اس وقت تک نہیں جب تک میں اس کی عورتوں کو وہی رنج و غم نہ پہنچا دوں جو اس نے میری عورتوں کو پہنچایا ہے، پھر آوازیں بلند ہوئیں اور شور و غل بڑھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیینہ! کیا تم دیت قبول نہیں کر سکتے؟ عیینہ نے پھر اسی طرح کی بات کہی یہاں تک کہ بنی لیث کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے مکیتل کہا جاتا تھا، وہ ہتھیار باندھے تھا اور ہاتھ میں سپر لیے ہوئے تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! شروع اسلام میں اس نے جو غلطی کی ہے، اسے میں یوں سمجھتا ہوں جیسے چند بکریاں چشمے پر آئیں اور ان پر تیر پھینکے جائیں تو پہلے پہل آنے والیوں کو تیر لگے، اور پچھلی انہیں دیکھ کر ہی بھاگ جائیں، آج ایک طریقہ نکالئے اور کل اسے بدل دیجئیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچاس اونٹ ابھی فوراً دے دو، اور پچاس مدینے لوٹ کر دینا ۔ اور یہ واقعہ ایک سفر کے دوران پیش آیا تھا، محلم لمبا گندمی رنگ کا ایک شخص تھا، وہ لوگوں کے کنارے بیٹھا تھا، آخر کار جب وہ چھوٹ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ بیٹھا، اور اس کی آنکھیں اشک بار تھیں اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے گناہ کیا ہے جس کی خبر آپ کو پہنچی ہے، اب میں توبہ کرتا ہوں، آپ اللہ سے میری مغفرت کی دعا فرمائیے، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ آواز بلند فرمایا: کیا تم نے اسے ابتداء اسلام میں اپنے ہتھیار سے قتل کیا ہے، اے اللہ! محلم کو نہ بخشنا ابوسلمہ نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ یہ سن کر محلم کھڑا ہوا، وہ اپنی چادر کے کونے سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا، ابن اسحاق کہتے ہیں: محلم کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اس کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل کا کہنا ہے کہ «غير» کے معنی دیت کے ہیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، قال حدثنا محمد بن اسحاق، فحدثني محمد بن جعفر بن الزبير، قال سمعت زياد بن ضميرة الضمري، ح وحدثنا وهب بن بيان، واحمد بن سعيد الهمداني، قالا حدثنا ابن وهب، اخبرني عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن عبد الرحمن بن الحارث، عن محمد بن جعفر، انه سمع زياد بن سعد بن ضميرة السلمي، - وهذا حديث وهب وهو اتم - يحدث عروة بن الزبير عن ابيه - قال موسى - وجده وكانا شهدا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حنينا - ثم رجعنا الى حديث وهب - ان محلم بن جثامة الليثي قتل رجلا من اشجع في الاسلام وذلك اول غير قضى به رسول الله صلى الله عليه وسلم فتكلم عيينة في قتل الاشجعي لانه من غطفان وتكلم الاقرع بن حابس دون محلم لانه من خندف فارتفعت الاصوات وكثرت الخصومة واللغط فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا عيينة الا تقبل الغير " . فقال عيينة لا والله حتى ادخل على نسايه من الحرب والحزن ما ادخل على نسايي . قال ثم ارتفعت الاصوات وكثرت الخصومة واللغط فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا عيينة الا تقبل الغير " . فقال عيينة مثل ذلك ايضا الى ان قام رجل من بني ليث يقال له مكيتل عليه شكة وفي يده درقة فقال يا رسول الله اني لم اجد لما فعل هذا في غرة الاسلام مثلا الا غنما وردت فرمي اولها فنفر اخرها اسنن اليوم وغير غدا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خمسون في فورنا هذا وخمسون اذا رجعنا الى المدينة " . وذلك في بعض اسفاره ومحلم رجل طويل ادم وهو في طرف الناس فلم يزالوا حتى تخلص فجلس بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم وعيناه تدمعان فقال يا رسول الله اني قد فعلت الذي بلغك واني اتوب الى الله تبارك وتعالى فاستغفر الله عز وجل لي يا رسول الله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقتلته بسلاحك في غرة الاسلام اللهم لا تغفر لمحلم " . بصوت عال زاد ابو سلمة فقام وانه ليتلقى دموعه بطرف ردايه قال ابن اسحاق فزعم قومه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم استغفر له بعد ذلك . قال ابو داود قال النضر بن شميل الغير الدية
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Types of Blood-Wit
- Hadith Index
- #4503
- Book Index
- 10
Grades
- Al-AlbaniDaif
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidDaif
- Shuaib Al ArnautDaif
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
