Loading...

Loading...
کتب
۱۰۲ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حمل بن مالک کے قصے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں تو اس نے بچہ کو جسے بال اگے ہوئے تھے ساقط کر دیا، وہ مرا ہوا تھا اور عورت بھی مر گئی، تو آپ نے وارثوں پر دیت کا فیصلہ کیا، اس پر اس کے چچا نے کہا: اللہ کے نبی! اس نے تو ایک ایسا بچہ ساقط کیا ہے جس کے بال اگ آئے تھے، تو قاتل عورت کے باپ نے کہا: یہ جھوٹا ہے، اللہ کی قسم! نہ تو وہ چیخا، نہ پیا، اور نہ کھایا، اس جیسے کا خون تو معاف ( رائیگاں ) قرار دے دیا جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جاہلیت جیسی مسجع عبارت بولتے ہو جیسے کاہن بولتے ہیں، بچے کی دیت ایک غلام یا لونڈی کی دینی ہو گی ۔ ابن عباس کہتے ہیں: ان میں سے ایک کا نام ملیکہ اور دوسری کا ام غطیف تھا۔
حدثنا سليمان بن عبد الرحمن التمار، ان عمرو بن طلحة، حدثهم قال حدثنا اسباط، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، في قصة حمل بن مالك قال فاسقطت غلاما قد نبت شعره ميتا وماتت المراة فقضى على العاقلة الدية . فقال عمها انها قد اسقطت يا نبي الله غلاما قد نبت شعره . فقال ابو القاتلة انه كاذب انه والله ما استهل ولا شرب ولا اكل فمثله يطل . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اسجع الجاهلية وكهانتها اد في الصبي غرة " . قال ابن عباس كان اسم احداهما مليكة والاخرى ام غطيف
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کر دیا، ان میں سے ہر ایک کے شوہر بھی تھا، اور اولاد بھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عصبات پر ٹھہرائی اور اس کے شوہر اور اولاد سے کوئی مواخذہ نہیں کیا، مقتولہ کے عصبات نے کہا: کیا اس کی میراث ہمیں ملے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اس کی میراث تو اس کے شوہر اور اولاد کی ہو گی ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا مجالد، قال حدثنا الشعبي، عن جابر بن عبد الله، ان امراتين، من هذيل قتلت احداهما الاخرى ولكل واحدة منهما زوج وولد فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم دية المقتولة على عاقلة القاتلة وبرا زوجها وولدها . قال فقال عاقلة المقتولة ميراثها لنا قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ميراثها لزوجها وولدها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں جھگڑا ہوا، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا تو اسے قتل ہی کر ڈالا، تو لوگ مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ نے فیصلہ کیا: جنین کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے، اور عورت کی دیت کا فیصلہ کیا کہ یہ اس کے عصبہ پر ہو گی اور اس دیت کا وارث مقتولہ کی اولاد کو اور ان کے ساتھ کے لوگوں کو قرار دیا۔ حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی نے کہا: اللہ کے رسول! میں ایسی جان کی دیت کیوں ادا کروں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ بولا، اور نہ چیخا، ایسے کا خون تو لغو قرار دے دیا جاتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے آپ نے یہ بات اس کی اس «سجع» تعبیر کی وجہ سے کہی جو اس نے کی تھی۔
حدثنا وهب بن بيان، وابن السرح، قالا حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة عن ابي هريرة، قال اقتتلت امراتان من هذيل فرمت احداهما الاخرى بحجر فقتلتها فاختصموا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم دية جنينها غرة عبد او وليدة وقضى بدية المراة على عاقلتها وورثها ولدها ومن معهم فقال حمل بن مالك بن النابغة الهذلي يا رسول الله كيف اغرم دية من لا شرب ولا اكل ولا نطق ولا استهل فمثل ذلك يطل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما هذا من اخوان الكهان " . من اجل سجعه الذي سجع
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس قصے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں پھر وہ عورت، جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی یا غلام کا فیصلہ کیا تھا، مر گئی، تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی میراث اس کے بیٹوں کی ہے، اور دیت قاتلہ کے عصبہ پر ہو گی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن ابن المسيب، عن ابي هريرة، في هذه القصة قال ثم ان المراة التي قضى عليها بالغرة توفيت فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بان ميراثها لبنيها وان العقل على عصبتها
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے دوسری عورت کو پتھر مارا تو اس کا حمل گر گیا، یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا تو آپ نے اس بچہ کی دیت پانچ سو بکریاں مقرر فرمائی، اور لوگوں کو پتھر مارنے سے اسی دن سے منع فرما دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: روایت اسی طرح ہے پانچ سو بکریوں کی لیکن صحیح سو بکریاں ہے، اسی طرح عباس نے کہا ہے حالانکہ یہ وہم ہے۔
حدثنا عباس بن عبد العظيم، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا يوسف بن صهيب، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، ان امراة، حذفت امراة فاسقطت فرفع ذلك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل في ولدها خمسماية شاة ونهى يوميذ عن الحذف . قال ابو داود كذا الحديث خمسماية شاة . والصواب ماية شاة . قال ابو داود هكذا قال عباس وهو وهم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ کے بچے میں ایک غلام یا ایک لونڈی یا ایک گھوڑے یا ایک خچر کی دیت کا فیصلہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ اور خالد بن عبداللہ نے محمد بن عمرو سے روایت کیا ہے البتہ ان دونوں نے «أو فرس أو بغل» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، حدثنا عيسى، عن محمد، - يعني ابن عمرو - عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في الجنين بغرة عبد او امة او فرس او بغل . قال ابو داود روى هذا الحديث حماد بن سلمة وخالد بن عبد الله عن محمد بن عمرو لم يذكرا او فرس او بغل
شعبی کہتے ہیں کہ غرہ ( غلام یا لونڈی ) کی قیمت پانچ سو درہم ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ربیعہ نے کہا: غرہ ( غلام یا لونڈی ) پچاس دینار کا ہوتا ہے۔
حدثنا محمد بن سنان العوقي، حدثنا شريك، عن مغيرة، عن ابراهيم، وجابر، عن الشعبي، قال الغرة خمسماية درهم . قال ابو داود قال ربيعة الغرة خمسون دينارا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب غلام جسے قتل کر دیا جائے کی دیت میں فیصلہ فرمایا کہ قتل کے وقت جس قدر وہ بدل کتابت ادا کر چکا ہے اتنے حصہ کی دیت آزاد کی دیت کے مثل ہو گی اور جس قدر ادائیگی باقی ہے اتنے حصے کی دیت غلام کی دیت کے مثل ہو گی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد، وحدثنا اسماعيل، عن هشام، وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يعلى بن عبيد، حدثنا حجاج الصواف، جميعا عن يحيى بن ابي كثير، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في دية المكاتب يقتل يودى ما ادى من مكاتبته دية الحر وما بقي دية المملوك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مکاتب کوئی حد کا کام کرے یا ترکے کا وارث ہو تو جس قدر آزاد ہوا ہے وہ اسی قدر وارث ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وہیب نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے علی رضی اللہ عنہ سے اور علی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ اور حماد بن زید اور اسماعیل نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور اسماعیل بن علیہ نے اسے عکرمہ کا قول قرار دیا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا اصاب المكاتب حدا او ورث ميراثا يرث على قدر ما عتق منه " . قال ابو داود رواه وهيب عن ايوب عن عكرمة عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم وارسله حماد بن زيد واسماعيل عن ايوب عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم وجعله اسماعيل ابن علية قول عكرمة
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذمی معاہد کی دیت آزاد کی دیت کی آدھی ہے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسامہ بن زید لیثی اور عبدالرحمٰن بن حارث نے بھی عمرو بن شعیب سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔
حدثنا يزيد بن خالد بن موهب الرملي، حدثنا عيسى بن يونس، عن محمد بن اسحاق، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " دية المعاهد نصف دية الحر " . قال ابو داود رواه اسامة بن زيد الليثي وعبد الرحمن بن الحارث عن عمرو بن شعيب مثله
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک مزدور نے ایک شخص سے جھگڑا کیا اور اس کے ہاتھ کو منہ میں کر کے دانت سے دبایا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا دانت باہر نکل آیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے اسے لغو کر دیا، اور فرمایا: کیا چاہتے ہو کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دیدے، اور تم اسے سانڈ کی طرح چبا ڈالو ابن ابی ملیکہ نے اپنے دادا سے نقل کیا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے لغو قرار دیا اور کہا: ( اللہ کرے ) اس کا دانت نہ رہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن جريج، قال اخبرني عطاء، عن صفوان بن يعلى، عن ابيه، قال قاتل اجير لي رجلا فعض يده فانتزعها فندرت ثنيته فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فاهدرها وقال " اتريد ان يضع يده في فيك تقضمها كالفحل " . قال واخبرني ابن ابي مليكة عن جده ان ابا بكر رضي الله عنه اهدرها وقال بعدت سنه
اس سند سے بھی یعلیٰ بن امیہ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اتنا اضافہ ہے پھر آپ نے ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) دانت کاٹنے والے سے فرمایا: اگر تم چاہو تو یہ ہو سکتا ہے کہ تم بھی اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دے دو وہ اسے کاٹے پھر تم اسے اس کے منہ سے کھینچ لو اور اس کے دانتوں کی دیت باطل قرار دے دی۔
حدثنا زياد بن ايوب، اخبرنا هشيم، حدثنا حجاج، وعبد الملك، عن عطاء، عن يعلى بن امية، بهذا زاد ثم قال يعني النبي صلى الله عليه وسلم للعاض " ان شيت ان تمكنه من يدك فيعضها ثم تنزعها من فيه " . وابطل دية اسنانه
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو طب نہ جانتا ہو اور علاج کرے تو وہ ( مریض کا ) ضامن ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ولید کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا، ہمیں نہیں معلوم یہ صحیح ہے یا نہیں۔
حدثنا نصر بن عاصم الانطاكي، ومحمد بن الصباح بن سفيان، ان الوليد بن مسلم، اخبرهم عن ابن جريج، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من تطبب ولا يعلم منه طب فهو ضامن " . قال نصر قال حدثني ابن جريج . قال ابو داود هذا لم يروه الا الوليد لا ندري هو صحيح ام لا
عبدالعزیزبن عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں میرے والد کے پاس آنے والوں میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی قوم میں طبیب بن بیٹھے، حالانکہ اس سے پہلے اس کی طب دانی معروف نہ ہو اور مریض کا مرض بگڑ جائے اور اس کو نقصان لاحق ہو جائے تو وہ اس کا ضامن ہو گا ۔ عبدالعزیز کہتے ہیں: «اعنت نعت» سے نہیں ( بلکہ «عنت» سے ہے جس کے معنی ) رگ کاٹنے، زخم چیرنے یا داغنے کے ہیں۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا حفص، حدثنا عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز، حدثني بعض الوفد الذين، قدموا على ابي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما طبيب تطبب على قوم لا يعرف له تطبب قبل ذلك فاعنت فهو ضامن " . قال عبد العزيز اما انه ليس بالنعت انما هو قطع العروق والبط والكى
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا آپ نے فرمایا: سنو! جاہلیت کے خون یا مال کی جتنی فضیلتیں بھی تھیں جن کا ذکر کیا جاتا تھا یا جن کے دعوے کئے جاتے تھے وہ سب میرے قدموں تلے ہیں، سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی دیکھ ریکھ کے پھر فرمایا: سنو! قتل خطا جو کوڑے یا لاٹھی سے ہوا ہو شبہ عمد ہے، اس کی دیت سو اونٹ ہے، جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں گے ۔
حدثنا سليمان بن حرب، ومسدد، - المعنى - قالا حدثنا حماد، عن خالد، عن القاسم بن ربيعة، عن عقبة بن اوس، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم - قال مسدد - خطب يوم الفتح - ثم اتفقا - فقال " الا ان كل ماثرة كانت في الجاهلية من دم او مال تذكر وتدعى تحت قدمى الا ما كان من سقاية الحاج وسدانة البيت " . ثم قال " الا ان دية الخطا شبه العمد ما كان بالسوط والعصا ماية من الابل منها اربعون في بطونها اولادها
اس سند سے بھی خالد سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، عن خالد، بهذا الاسناد نحو معناه
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فقیر لوگوں کے ایک غلام نے کچھ مالدار لوگوں کے ایک غلام کا کان کاٹ لیا، تو جس غلام نے کان کاٹا تھا اس کے مالکان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! ہم فقیر لوگ ہیں، تو آپ نے ان پر کوئی دیت نہیں ٹھہرائی۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن ابي نضرة، عن عمران بن حصين، ان غلاما، لاناس فقراء قطع اذن غلام لاناس اغنياء فاتى اهله النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله انا اناس فقراء . فلم يجعل عليه شييا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اندھا دھند مارا جائے یا کسی دنگے فساد میں جو ان میں چھڑ گیا ہو، یا کسی پتھر یا کوڑے سے مارا جائے تو اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہو گی، اور جو جان بوجھ کر عمداً کسی کو قتل کرے تو وہ موجب قصاص ہے، اب اگر کوئی ان دونوں کے بیچ میں پڑ کر ( قاتل کو بچانا چاہے ) تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔
قال ابو داود حدثت عن سعيد بن سليمان، عن سليمان بن كثير، حدثنا عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قتل في عميا او رميا يكون بينهم بحجر او بسوط فعقله عقل خطا ومن قتل عمدا فقود يديه فمن حال بينه وبينه فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( جانور کا ) پاؤں باطل و رائیگاں ہے اس کی کوئی دیت نہیں ہو گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جانور پیر سے مار دے جب کہ وہ اس پہ سوار ہو تو اس کی کوئی دیت نہیں
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن يزيد، حدثنا سفيان بن حسين، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الرجل جبار " . قال ابو داود الدابة تضرب برجلها وهو راكب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانور کسی کو زخمی کر دے تو اس میں ہرجانہ نہیں ہے، کان میں ہلاک ہونے والے کا ہرجانہ نہیں ہے اور کنواں میں ہلاک ہو جانے والے کا ہرجانہ نہیں ہے ۱؎ اور رکاز میں پانچواں حصہ دینا ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جانور سے مراد وہ جانور ہے جو چھڑا کر بھاگ گیا ہو اور اس کے ساتھ کوئی نہ ہو اور دن ہو، رات نہ ہو۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة سمعا ابا هريرة، يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " العجماء جرحها جبار والمعدن جبار والبير جبار وفي الركاز الخمس " . قال ابو داود العجماء المنفلتة التي لا يكون معها احد وتكون بالنهار ولا تكون بالليل