Loading...

Loading...
کتب
۶۰ احادیث
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے، میں نے کہا: آپ اللہ کی قسم کھا رہے ہیں؟ تو بولے: میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسم کھاتے سنا ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان پر کوئی نکیر نہیں فرمائی ۱؎۔
حدثنا ابن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن محمد بن المنكدر، قال رايت جابر بن عبد الله يحلف بالله ان ابن صايد الدجال، فقلت تحلف بالله فقال اني سمعت عمر يحلف على ذلك عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم ينكره رسول الله صلى الله عليه وسلم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابن صیاد ہم کو یوم حرہ ۱؎ کو غائب ملا۔
حدثنا احمد بن ابراهيم، حدثنا عبيد الله، - يعني ابن موسى - حدثنا شيبان، عن الاعمش، عن سالم، عن جابر، قال فقدنا ابن صياد يوم الحرة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تیس دجال ظاہر نہ ہو جائیں، وہ سب یہی کہیں گے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن العلاء، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون دجالون كلهم يزعم انه رسول الله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ تیس جھوٹے دجال ظاہر نہ ہو جائیں، اور ان میں سے ہر ایک اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھے گا ۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا محمد، - يعني ابن عمرو - عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا دجالا كلهم يكذب على الله وعلى رسوله
ابراہیم کہتے ہیں: عبیدہ سلمانی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی تو میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ اسے یعنی مختار ( ابن ابی عبید ثقفی ) کو بھی انہیں دجالوں میں سے ایک سمجھتے ہیں تو عبیدہ کہنے لگے: وہ تو ان کا سردار ہے۔
حدثنا عبد الله بن الجراح، عن جرير، عن مغيرة، عن ابراهيم، قال قال عبيدة السلماني بهذا الخبر قال فذكر نحوه فقلت له اترى هذا منهم - يعني المختار - فقال عبيدة اما انه من الرءوس
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی خرابی جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئی یہ تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا تو کہتا کہ اللہ سے ڈرو اور جو تم کر رہے ہو اس سے باز آ جاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے درست نہیں ہے، پھر دوسرے دن اس سے ملتا تو اس کے ساتھ کھانے پینے اور اس کی ہم نشینی اختیار کرنے سے یہ چیزیں ( غلط کاریاں ) اس کے لیے مانع نہ ہوتیں، تو جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ نے بھی بعضوں کے دل کو بعضوں کے دل کے ساتھ ملا دیا پھر آپ نے آیت کریمہ «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم» سے لے کر۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ کے قول «فاسقون» بنی اسرائیل کے کافروں پر داود علیہ السلام اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی زبانی لعنت کی گئی ( سورۃ المائدہ: ۷۸ ) تک کی تلاوت کی، پھر فرمایا: ہرگز ایسا نہیں، قسم اللہ کی! تم ضرور اچھی باتوں کا حکم دو گے، بری باتوں سے روکو گے، ظالم کے ہاتھ پکڑو گے، اور اسے حق کی طرف موڑے رکھو گے اور حق و انصاف ہی پر اسے قائم رکھو گے یعنی زبردستی اسے اس پر مجبور کرتے رہو گے۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا يونس بن راشد، عن علي بن بذيمة، عن ابي عبيدة، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اول ما دخل النقص على بني اسراييل كان الرجل يلقى الرجل فيقول يا هذا اتق الله ودع ما تصنع فانه لا يحل لك ثم يلقاه من الغد فلا يمنعه ذلك ان يكون اكيله وشريبه وقعيده فلما فعلوا ذلك ضرب الله قلوب بعضهم ببعض " . ثم قال { لعن الذين كفروا من بني اسراييل على لسان داود وعيسى ابن مريم } الى قوله { فاسقون } ثم قال " كلا والله لتامرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر ولتاخذن على يدى الظالم ولتاطرنه على الحق اطرا ولتقصرنه على الحق قصرا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے اس میں یہ اضافہ ہے: اللہ تم میں سے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں سے ملا دے گا، پھر تم پر بھی لعنت کرے گا جیسے ان پر لعنت کی ہے ۔
حدثنا خلف بن هشام، حدثنا ابو شهاب الحناط، عن العلاء بن المسيب، عن عمرو بن مرة، عن سالم، عن ابي عبيدة، عن ابن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه زاد " او ليضربن الله بقلوب بعضكم على بعض ثم ليلعننكم كما لعنهم " . قال ابو داود رواه المحاربي عن العلاء بن المسيب عن عبد الله بن عمرو بن مرة عن سالم الافطس عن ابي عبيدة عن عبد الله رواه خالد الطحان عن العلاء عن عمرو بن مرة عن ابي عبيدة
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: لوگو! تم آیت کریمہ «عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» اے ایمان والو اپنی فکر کرو جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ ہے وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ( سورۃ المائدہ: ۱۰۵ ) پڑھتے ہو اور اسے اس کے اصل معنی سے پھیر کر دوسرے معنی پر محمول کر دیتے ہو۔ وھب کی روایت جسے انہوں نے خالد سے روایت کیا ہے، میں ہے: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں، اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لے ۔ اور عمرو کی حدیث میں جسے انہوں نے ہشیم سے روایت کی ہے مذکور ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس قوم میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں، پھر وہ اسے روکنے پر قادر ہو اور نہ روکے تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو عذاب میں گرفتار کر لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے ابواسامہ اور ایک جماعت نے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے خالد نے کیا ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: اس میں یہ بات بھی ہے کہ ایسی کوئی قوم نہیں جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور زیادہ تر افراد گناہ کے کام میں ملوث ہوں اور ان پر عذاب نہ آئے۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، ح وحدثنا عمرو بن عون، اخبرنا هشيم، - المعنى - عن اسماعيل، عن قيس، قال قال ابو بكر بعد ان حمد الله، واثنى، عليه يا ايها الناس انكم تقرءون هذه الاية وتضعونها على غير مواضعها { عليكم انفسكم لا يضركم من ضل اذا اهتديتم } قال عن خالد وانا سمعنا النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان الناس اذا راوا الظالم فلم ياخذوا على يديه اوشك ان يعمهم الله بعقاب " . وقال عمرو عن هشيم واني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من قوم يعمل فيهم بالمعاصي ثم يقدرون على ان يغيروا ثم لا يغيروا الا يوشك ان يعمهم الله منه بعقاب " . قال ابو داود رواه كما قال خالد ابو اسامة وجماعة . وقال شعبة فيه " ما من قوم يعمل فيهم بالمعاصي هم اكثر ممن يعمله
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو آدمی کسی ایسی قوم میں ہو جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور وہ اسے روکنے پر قدرت رکھتا ہو اور نہ روکے تو اللہ اسے مرنے سے پہلے ضرور کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو الاحوص، حدثنا ابو اسحاق، - اظنه - عن ابن جرير، عن جرير، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من رجل يكون في قوم يعمل فيهم بالمعاصي يقدرون على ان يغيروا عليه فلا يغيروا الا اصابهم الله بعذاب من قبل ان يموتوا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کوئی منکر دیکھے، اور اپنے ہاتھ سے اسے روک سکتا ہو تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر وہ ہاتھ سے نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اپنی زبان سے بھی نہ روک سکے تو اپنے دل میں اسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے ۔
حدثنا محمد بن العلاء، وهناد بن السري، قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن اسماعيل بن رجاء، عن ابيه، عن ابي سعيد، وعن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، عن ابي سعيد الخدري، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من راى منكرا فاستطاع ان يغيره بيده فليغيره بيده " . وقطع هناد بقية الحديث - وفاه ابن العلاء - " فان لم يستطع فبلسانه فان لم يستطع بلسانه فبقلبه وذلك اضعف الايمان
ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں نے ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ابوثعلبہ! آپ آیت کریمہ «عليكم أنفسكم» کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! تم نے اس کے متعلق ایک جانکار شخص سے سوال کیا ہے، میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ( کہ کیا اس آیت کی رو سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ضرورت باقی نہیں رہی؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم بھلی بات کا حکم دو، اور بری بات سے روکو، یہاں تک کہ تم یہ نہ دیکھ لو کہ بخیلی کی تابعداری ہو رہی ہو اور خواہش نفس کی پیروی کی جاتی ہو اور دنیا کو ترجیح دیا جاتا ہو اور ہر صاحب رائے کا اپنی رائے میں مگن ہونا دیکھ لو، تو اس وقت تم اپنی ذات کو لازم پکڑنا اور عوام کو چھوڑ دینا کیونکہ اس کے بعد صبر کے دن ہوں گے ان میں صبر کرنا ایسے ہی ہو گا جیسے چنگاری ہاتھ میں لینا، ان دنوں میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے برابر جو اسی جیسا عمل کرتے ہوں ثواب ملے گا اور ان کے علاوہ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ ثواب ایسے پچاس شخصوں کا ہو گا جو انہیں میں سے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ تم میں سے پچاس شخصوں کا ۔
حدثنا ابو الربيع، سليمان بن داود العتكي حدثنا ابن المبارك، عن عتبة بن ابي حكيم، قال حدثني عمرو بن جارية اللخمي، حدثني ابو امية الشعباني، قال سالت ابا ثعلبة الخشني فقلت يا ابا ثعلبة كيف تقول في هذه الاية { عليكم انفسكم } قال اما والله لقد سالت عنها خبيرا سالت عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " بل ايتمروا بالمعروف وتناهوا عن المنكر حتى اذا رايت شحا مطاعا وهوى متبعا ودنيا موثرة واعجاب كل ذي راى برايه فعليك - يعني بنفسك - ودع عنك العوام فان من ورايكم ايام الصبر الصبر فيه مثل قبض على الجمر للعامل فيهم مثل اجر خمسين رجلا يعملون مثل عمله " . وزادني غيره قال يا رسول الله اجر خمسين منهم قال " اجر خمسين منكم
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس زمانہ میں کیا حال ہو گا؟ یا آپ نے یوں فرمایا: عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ چھن اٹھیں گے، اچھے لوگ سب مر جائیں گے، اور کوڑا کرکٹ یعنی برے لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کے عہد و پیمان اور ان کی امانتوں کا معاملہ بگڑ چکا ہو گا ( یعنی لوگ بدعہدی اور امانتوں میں خیانت کریں گے ) آپس میں اختلاف کریں گے اور اس طرح ہو جائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا، تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت ہم کیا کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بات تمہیں بھلی لگے اسے اختیار کرو، اور جو بری لگے اسے چھوڑ دو، اور خاص کر اپنی فکر کرو، عام لوگوں کی فکر چھوڑ دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اس سند کے علاوہ سے بھی مروی ہے۔
حدثنا القعنبي، ان عبد العزيز بن ابي حازم، حدثهم عن ابيه، عن عمارة بن عمرو، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كيف بكم وبزمان " . او " يوشك ان ياتي زمان يغربل الناس فيه غربلة تبقى حثالة من الناس قد مرجت عهودهم واماناتهم واختلفوا فكانوا هكذا " . وشبك بين اصابعه فقالوا وكيف بنا يا رسول الله قال " تاخذون ما تعرفون وتذرون ما تنكرون وتقبلون على امر خاصتكم وتذرون امر عامتكم " . قال ابو داود هكذا روي عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير وجه
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران آپ نے فتنہ کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوگوں کو دیکھو کہ ان کے عہد فاسد ہو گئے ہوں، اور ان سے امانتداریاں کم ہو گئیں ہوں اور آپ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا کہ ان کا حال اس طرح ہو گیا ہو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یہ سن کر میں آپ کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ مجھے آپ پر قربان فرمائے! ایسے وقت میں میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر کو لازم پکڑنا، اور اپنی زبان پر قابو رکھنا، اور جو چیز بھلی لگے اسے اختیار کرنا، اور جو بری ہو اسے چھوڑ دینا، اور صرف اپنی فکر کرنا عام لوگوں کی فکر چھوڑ دینا ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا الفضل بن دكين، حدثنا يونس بن ابي اسحاق، عن هلال بن خباب ابي العلاء، قال حدثني عكرمة، حدثني عبد الله بن عمرو بن العاص، قال بينما نحن حول رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ ذكر الفتنة فقال " اذا رايتم الناس قد مرجت عهودهم وخفت اماناتهم وكانوا هكذا " . وشبك بين اصابعه قال فقمت اليه فقلت كيف افعل عند ذلك جعلني الله فداك قال " الزم بيتك واملك عليك لسانك وخذ بما تعرف ودع ما تنكر وعليك بامر خاصة نفسك ودع عنك امر العامة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ یا ظالم حاکم کے پاس انصاف کی بات کہنی ہے ۔
حدثنا محمد بن عبادة الواسطي، حدثنا يزيد، - يعني ابن هارون - اخبرنا اسراييل، حدثنا محمد بن جحادة، عن عطية العوفي، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افضل الجهاد كلمة عدل عند سلطان جاير " . او " امير جاير
عرس بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب زمین پر گناہ کے کام کئے جاتے ہوں تو جو شخص وہاں حاضر رہا اور اسے ناپسند کیا یا برا جانا اس کی مثال اس شخص کے مانند ہے جس نے اسے دیکھا ہی نہ ہو، اور جو شخص وہاں حاضر نہ تھا لیکن اسے پسند کیا تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو وہاں حاضر تھا ( یعنی اسے بھی گناہ سے رضا مندی کے باعث گناہ ملے گا ) ۔
حدثنا محمد بن العلاء، اخبرنا ابو بكر، حدثنا مغيرة بن زياد الموصلي، عن عدي بن عدي، عن العرس بن عميرة الكندي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا عملت الخطيية في الارض كان من شهدها فكرهها " . وقال مرة " انكرها " . " كمن غاب عنها ومن غاب عنها فرضيها كان كمن شهدها
عدی بن عدی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: جس نے اس کو دیکھا اور ناپسند کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اسے دیکھا ہی نہیں ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابو شهاب، عن مغيرة بن زياد، عن عدي بن عدي، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه قال " من شهدها فكرهها كان كمن غاب عنها
ابوالبختری کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس وقت تک ہلاک نہیں ہوں گے جب تک ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے یا وہ خود اپنا عذر زائل نہ کر لیں ۔
حدثنا سليمان بن حرب، وحفص بن عمر، قالا حدثنا شعبة، - وهذا لفظه - عن عمرو بن مرة، عن ابي البختري، قال اخبرني من، سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول وقال سليمان حدثني رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لن يهلك الناس حتى يعذروا او يعذروا من انفسهم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری عمر میں ایک رات ہمیں عشاء پڑھائی، پھر جب سلام پھیرا تو کھڑے ہوئے اور فرمایا: تمہیں پتا ہے، آج کی رات کے سو سال بعد اس وقت جتنے آدمی اس روئے زمین پر ہیں ان میں سے کوئی بھی ( زندہ ) باقی نہیں رہے گا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سو سال کے بعد کے متعلق احادیث بیان کرنے میں غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ سو برس بعد قیامت آ جائے گی، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ آج روئے زمین پر جتنے لوگ زندہ ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی زندہ نہ رہے گا مطلب یہ تھا کہ یہ نسل ختم ہو جائے گی، اور دوسری نسل آ جائے گی۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، قال اخبرني سالم بن عبد الله، وابو بكر بن سليمان ان عبد الله بن عمر، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة صلاة العشاء في اخر حياته فلما سلم قام فقال " ارايتم ليلتكم هذه فان على راس ماية سنة منها لا يبقى ممن هو على ظهر الارض احد " . قال ابن عمر فوهل الناس في مقالة رسول الله صلى الله عليه وسلم تلك فيما يتحدثون عن هذه الاحاديث عن ماية سنة وانما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يبقى ممن هو اليوم على ظهر الارض يريد ان ينخرم ذلك القرن
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس امت کو قیامت کے دن کے آدھے دن سے کم باقی نہیں رکھے گا ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن سهل، حدثنا حجاج بن ابراهيم، حدثنا ابن وهب، حدثني معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جبير، عن ابيه، عن ابي ثعلبة الخشني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لن يعجز الله هذه الامة من نصف يوم
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں کہ میری امت اتنی تو عاجز نہ ہو گی کہ اللہ اس کو آدھے دن کی مہلت نہ دے ۔ سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا ابو المغيرة، حدثني صفوان، عن شريح بن عبيد، عن سعد بن ابي وقاص، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اني لارجو ان لا تعجز امتي عند ربها ان يوخرهم نصف يوم " . قيل لسعد وكم نصف يوم قال خمسماية سنة