Loading...

Loading...
کتب
۶۰ احادیث
حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمرے کے زیر سایہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے، ہم نے قیامت کا ذکر کیا تو ہماری آوازیں بلند ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک نہیں ہو گی، یا قائم نہیں ہو گی جب تک کہ اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں: سورج کا پچھم سے طلوع ہونا، دابہ ( چوپایہ ) کا ظہور، یاجوج و ماجوج کا خروج، ظہور دجال، ظہور عیسیٰ بن مریم، ظہور دخان ( دھواں ) اور تین جگہوں: مغرب، مشرق اور جزیرہ عرب میں خسف ( دھنسنا ) اور سب سے آخر میں یمن کی طرف سے عدن کے گہرائی میں سے ایک آگ ظاہر ہو گی وہ ہانک کر لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی ۔
حدثنا مسدد، وهناد، - المعنى - قال مسدد حدثنا ابو الاحوص، حدثنا فرات القزاز، عن عامر بن واثلة، - وقال هناد عن ابي الطفيل، - عن حذيفة بن اسيد الغفاري، قال كنا قعودا نتحدث في ظل غرفة لرسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرنا الساعة فارتفعت اصواتنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لن تكون - او لن تقوم - الساعة حتى يكون قبلها عشر ايات طلوع الشمس من مغربها وخروج الدابة وخروج ياجوج وماجوج والدجال وعيسى ابن مريم والدخان وثلاث خسوف خسف بالمغرب وخسف بالمشرق وخسف بجزيرة العرب واخر ذلك تخرج نار من اليمن من قعر عدن تسوق الناس الى المحشر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک سورج پچھم سے نہ نکل آئے، تو جب سورج نکلے گا اور لوگ اس کو دیکھ لیں گے تو جو بھی روئے زمین پر ہو گا ایمان لے آئے گا، لیکن یہی وہ وقت ہو گا جب کسی کو بھی جو اس سے پہلے ایمان نہ لے آیا ہو اور اپنے ایمان میں خیر نہ کما لیا ہو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا ۔
حدثنا احمد بن ابي شعيب الحراني، حدثنا محمد بن الفضيل، عن عمارة، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى تطلع الشمس من مغربها فاذا طلعت وراها الناس امن من عليها فذاك حين { لا ينفع نفسا ايمانها لم تكن امنت من قبل او كسبت في ايمانها خيرا } " . الاية
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ فرات کے اندر سونے کا خزانہ نکلے تو جو کوئی وہاں موجود ہو اس میں سے کچھ نہ لے ۔
حدثنا عبد الله بن سعيد الكندي، حدثني عقبة بن خالد السكوني، حدثنا عبيد الله، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوشك الفرات ان يحسر عن كنز من ذهب فمن حضره فلا ياخذ منه شييا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے مگر اس میں ہے کہ سونے کا پہاڑ ظاہر ہو جائے گا ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن سعيد الكندي، حدثني عقبة، - يعني ابن خالد - حدثني عبيد الله، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله الا انه قال " يحسر عن جبل من ذهب
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ اکٹھا ہوئے تو حذیفہ نے کہا: دجال کے ساتھ جو چیز ہو گی میں اسے خوب جانتا ہوں، اس کے ساتھ ایک نہر پانی کی ہو گی اور ایک آگ کی، جس کو تم آگ سمجھتے ہو گے وہ پانی ہو گا، اور جس کو پانی سمجھتے ہو گے وہ آگ ہو گی، تو جو تم میں سے اسے پائے اور پانی پینا چاہے تو چاہیئے کہ وہ اس میں سے پئے جسے وہ آگ سمجھ رہا ہے کیونکہ وہ اسے پانی پائے گا۔ ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔
حدثنا الحسن بن عمرو، حدثنا جرير، عن منصور، عن ربعي بن حراش، قال اجتمع حذيفة وابو مسعود فقال حذيفة لانا بما مع الدجال اعلم منه ان معه بحرا من ماء ونهرا من نار فالذي ترون انه نار ماء والذي ترون انه ماء نار فمن ادرك ذلك منكم فاراد الماء فليشرب من الذي يرى انه نار فانه سيجده ماء . قال ابو مسعود البدري هكذا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا گیا جس نے اپنی امت کو کانے اور جھوٹے دجال سے ڈرایا نہ ہو، تو خوب سن لو کہ وہ کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے، اور اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ یعنی پیشانی پر کافر لکھا ہو گا ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت انس بن مالك، يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ما بعث نبي الا قد انذر امته الدجال الاعور الكذاب الا وانه اعور وان ربكم ليس باعور وان بين عينيه مكتوبا كافر
شعبہ سے ک ف ر مروی ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، عن محمد بن جعفر، عن شعبة، ك ف ر
انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے: اسے ہر مسلمان پڑھ لے گا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن شعيب بن الحبحاب، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الحديث قال " يقروه كل مسلم
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو دجال کے متعلق سنے کہ وہ ظاہر ہو چکا ہے تو وہ اس سے دور ہی رہے کیونکہ قسم ہے اللہ کی! آدمی اس کے پاس آئے گا تو یہی سمجھے گا کہ وہ مومن ہے، اور وہ اس کا ان مشتبہ چیزوں کی وجہ سے جن کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہو گا تابع ہو جائے گا راوی کو شک ہے کہ «مما یُبعث بہ» کہا ہے یا «لما یُبعث بہ» ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جرير، حدثنا حميد بن هلال، عن ابي الدهماء، قال سمعت عمران بن حصين، يحدث قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سمع بالدجال فلينا عنه فوالله ان الرجل لياتيه وهو يحسب انه مومن فيتبعه مما يبعث به من الشبهات او لما يبعث به من الشبهات " . هكذا قال
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں دجال کے متعلق تمہیں اتنی باتیں بتا چکا ہوں کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ تم اسے یاد نہ رکھ سکو گے ( تو یاد رکھو ) مسیح دجال پستہ قد ہو گا، چلنے میں اس کے دونوں پاؤں کے بیچ فاصلہ رہے گا، اس کے بال گھونگھریالے ہوں گے، کانا ہو گا، آنکھ مٹی ہوئی ہو گی، نہ ابھری ہوئی اور نہ اندر گھسی ہوئی، پھر اس پر بھی اگر تمہیں اشتباہ ہو جائے تو یاد رکھو تمہارا رب کانا نہیں ہے ۔
حدثنا حيوة بن شريح، حدثنا بقية، حدثني بحير، عن خالد بن معدان، عن عمرو بن الاسود، عن جنادة بن ابي امية، عن عبادة بن الصامت، انه حدثهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اني قد حدثتكم عن الدجال حتى خشيت ان لا تعقلوا ان مسيح الدجال رجل قصير افحج جعد اعور مطموس العين ليس بناتية ولا جحراء فان البس عليكم فاعلموا ان ربكم ليس باعور " . قال ابو داود عمرو بن الاسود ولي القضاء
نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا: اگر وہ ظاہر ہوا اور میں تم میں موجود رہا تو تمہارے بجائے میں اس سے جھگڑوں گا، اور اگر وہ ظاہر ہوا اور میں تم میں نہیں رہا تو آدمی خود اس سے نپٹے گا، اور اللہ ہی ہر مسلمان کے لیے میرا خلیفہ ہے، پس تم میں سے جو اس کو پائے تو اس پر سورۃ الکہف کی ابتدائی آیتیں پڑھے کیونکہ یہ تمہیں اس کے فتنے سے بچائیں گی ۔ ہم نے عرض کیا: وہ کتنے دنوں تک زمین پر رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن تک، اس کا ایک دن ایک سال کے برابر ہو گا، اور ایک دن ایک مہینہ کے، اور ایک دن ایک ہفتہ کے، اور باقی دن تمہارے اور دنوں کی طرح ہوں گے ۔ تو ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! جو دن ایک سال کے برابر ہو گا، کیا اس میں ایک دن اور رات کی نماز ہمارے لیے کافی ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تم اس دن اندازہ کر لینا، اور اسی حساب سے نماز پڑھنا، پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دمشق کے مشرق میں سفید منارہ کے پاس اتریں گے، اور اسے ( یعنی دجال کو ) باب لد ۱؎ کے پاس پائیں گے اور وہیں اسے قتل کر دیں گے ۔
حدثنا صفوان بن صالح الدمشقي الموذن، حدثنا الوليد، حدثنا ابن جابر، حدثنا يحيى بن جابر الطايي، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن ابيه، عن النواس بن سمعان الكلابي، قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال فقال " ان يخرج وانا فيكم فانا حجيجه دونكم وان يخرج ولست فيكم فامرو حجيج نفسه والله خليفتي على كل مسلم فمن ادركه منكم فليقرا عليه فواتح سورة الكهف فانها جواركم من فتنته " . قلنا وما لبثه في الارض قال " اربعون يوما يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وساير ايامه كايامكم " . فقلنا يا رسول الله هذا اليوم الذي كسنة اتكفينا فيه صلاة يوم وليلة قال " لا اقدروا له قدره ثم ينزل عيسى ابن مريم عند المنارة البيضاء شرقي دمشق فيدركه عند باب لد فيقتله
ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور نمازوں کا ذکر سابقہ حدیث کی طرح کیا ہے۔
حدثنا عيسى بن محمد، حدثنا ضمرة، عن السيباني، عن عمرو بن عبد الله، عن ابي امامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وذكر الصلوات مثل معناه
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کر لیں وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ہشام دستوائی نے قتادہ سے روایت کیا ہے مگر اس میں ہے: جس نے سورۃ الکہف کی آخری آیتیں یاد کیں ، شعبہ نے بھی قتادہ سے کہف کے آخر سے کے الفاظ روایت کئے ہیں۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن سالم بن ابي الجعد، عن معدان بن ابي طلحة، عن حديث ابي الدرداء، يرويه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حفظ عشر ايات من اول سورة الكهف عصم من فتنة الدجال " . قال ابو داود وكذا قال هشام الدستوايي عن قتادة الا انه قال " من حفظ من خواتيم سورة الكهف " . وقال شعبة عن قتادة " من اخر الكهف
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اور ان یعنی عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں، یقیناً وہ اتریں گے، جب تم انہیں دیکھنا تو پہچان لینا، وہ ایک درمیانی قد و قامت کے شخص ہوں گے، ان کا رنگ سرخ و سفید ہو گا، ہلکے زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوں گے، ایسا لگے گا کہ ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے گو وہ تر نہ ہوں گے، تو وہ لوگوں سے اسلام کے لیے جہاد کریں گے، صلیب توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے اور جزیہ معاف کر دیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں سوائے اسلام کے سارے مذاہب کو ختم کر دے گا، وہ مسیح دجال کو ہلاک کریں گے، پھر اس کے بعد دنیا میں چالیس سال تک زندہ رہیں گے، پھر ان کی وفات ہو گی تو مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے ۔
حدثنا هدبة بن خالد، حدثنا همام بن يحيى، عن قتادة، عن عبد الرحمن بن ادم، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس بيني وبينه نبي - يعني عيسى - وانه نازل فاذا رايتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض بين ممصرتين كان راسه يقطر وان لم يصبه بلل فيقاتل الناس على الاسلام فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويهلك الله في زمانه الملل كلها الا الاسلام ويهلك المسيح الدجال فيمكث في الارض اربعين سنة ثم يتوفى فيصلي عليه المسلمون
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء پڑھنے میں دیر کی، پھر نکلے تو فرمایا: مجھے ایک بات نے روک لیا، جسے تمیم داری ایک آدمی کے متعلق بیان کر رہے تھے، تو میں سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرے میں تھا، تمیم کہتے ہیں کہ ناگاہ میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہی ہے، تو میں نے پوچھا: تم کون ہو؟ وہ بولی: میں جساسہ۱؎ ہوں، تم اس محل کی طرف جاؤ، تو میں اس محل میں آیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں ایک شخص ہے جو اپنے بال کھینچ رہا ہے، وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، اور آسمان و زمین کے درمیان میں اچھلتا ہے، میں نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ تو اس نے کہا: میں دجال ہوں، کیا امیوں کے نبی کا ظہور ہو گیا؟ میں نے کہا: ہاں ( وہ ظاہر ہو چکے ہیں ) اس نے پوچھا: لوگوں نے ان کی اطاعت کی ہے یا نافرمانی؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ لوگوں نے ان کی اطاعت کی ہے، تو اس نے کہا: یہ بہتر ہے ان کے لیے ۔
حدثنا النفيلي، حدثنا عثمان بن عبد الرحمن، حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن فاطمة بنت قيس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخر العشاء الاخرة ذات ليلة ثم خرج فقال " انه حبسني حديث كان يحدثنيه تميم الداري عن رجل كان في جزيرة من جزاير البحر فاذا انا بامراة تجر شعرها قال ما انت قالت انا الجساسة اذهب الى ذلك القصر فاتيته فاذا رجل يجر شعره مسلسل في الاغلال ينزو فيما بين السماء والارض فقلت من انت قال انا الدجال خرج نبي الاميين بعد قلت نعم . قال اطاعوه ام عصوه قلت بل اطاعوه . قال ذاك خير لهم
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو پکارتے سنا: لوگو! نماز کے لیے جمع ہو جاؤ ، تو میں نکلی اور جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، پھر جب آپ نے نماز ختم فرمائی تو ہنستے ہوئے منبر پر جا بیٹھے، اور فرمایا: ہر شخص اپنی جگہ پر بیٹھا رہے پھر فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں کیوں اکٹھا کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں جہنم سے ڈرانے اور جنت کا شوق دلانے کے لیے نہیں اکٹھا کیا ہے، بلکہ میں نے تمہیں یہ بتلانے کے لیے اکٹھا کیا ہے کہ تمیم داری نے جو نصرانی شخص تھے آ کر مجھ سے بیعت کی ہے، اور اسلام لے آئے ہیں، انہوں نے مجھ سے ایک واقعہ بیان کیا ہے جو اس بات کے مطابق ہے جو میں نے تمہیں دجال کے متعلق بتائی ہے، انہوں نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ وہ ایک سمندری کشتی پر سوار ہوئے، ان کے ہمراہ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمی بھی تھے، تو پورے ایک مہینہ بھر سمندر کی لہریں ان کے ساتھ کھیلتی رہیں پھر سورج ڈوبتے وقت وہ ایک جزیرہ کے پاس جا لگے، وہاں سے چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ میں داخل ہوئے، وہاں انہیں ایک لمبی دم اور زیادہ بالوں والا ایک دابہ ( جانور ) ملا، لوگوں نے اس سے کہا: کم بخت تو کیا چیز ہے؟ اس نے جواب دیا: میں جساسہ ہوں، تم اس شخص کے پاس جاؤ جو اس گھر میں ہے، وہ تمہاری خبروں کا بہت مشتاق ہے، جب ہم سے اس نے اس شخص کا نام لیا تو ہم اس جانور سے ڈرے کہ کہیں یہ شیطان نہ ہو، پھر وہاں سے جلدی سے بھاگے اور اس گھر میں جا پہنچے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عظیم الجثہ اور انتہائی طاقتور انسان ہے کہ اس جیسا انسان ہم نے کبھی نہیں دیکھا، جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے اور اس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے ہیں، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی ۱؎ اور ان سے بیسان ۲؎ کے کھجوروں، اور زعر ۳؎ کے چشموں کا حال پوچھا، اور نبی امی کے متعلق دریافت کیا، پھر اس نے اپنے متعلق بتایا کہ میں مسیح دجال ہوں، اور قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شام کے سمندر میں ہے، یا یمن کے سمندر میں، ( پھر آپ نے کہا: ) نہیں، بلکہ مشرق کی سمت میں ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے دو بار مشرق کی جانب اشارہ کیا۔ فاطمہ کہتی ہیں: یہ حدیث میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی ہے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حدثنا حجاج بن ابي يعقوب، حدثنا عبد الصمد، حدثنا ابي قال، سمعت حسينا المعلم، حدثنا عبد الله بن بريدة، حدثنا عامر بن شراحيل الشعبي، عن فاطمة بنت قيس، قالت سمعت منادي، رسول الله صلى الله عليه وسلم ينادي ان الصلاة جامعة . فخرجت فصليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة جلس على المنبر وهو يضحك قال " ليلزم كل انسان مصلاه " . ثم قال " هل تدرون لم جمعتكم " . قالوا الله ورسوله اعلم . قال " اني ما جمعتكم لرهبة ولا رغبة ولكن جمعتكم ان تميما الداري كان رجلا نصرانيا فجاء فبايع واسلم وحدثني حديثا وافق الذي حدثتكم عن الدجال حدثني انه ركب في سفينة بحرية مع ثلاثين رجلا من لخم وجذام فلعب بهم الموج شهرا في البحر وارفيوا الى جزيرة حين مغرب الشمس فجلسوا في اقرب السفينة فدخلوا الجزيرة فلقيتهم دابة اهلب كثيرة الشعر قالوا ويلك ما انت قالت انا الجساسة انطلقوا الى هذا الرجل في هذا الدير فانه الى خبركم بالاشواق . قال لما سمت لنا رجلا فرقنا منها ان تكون شيطانة فانطلقنا سراعا حتى دخلنا الدير فاذا فيه اعظم انسان رايناه قط خلقا واشده وثاقا مجموعة يداه الى عنقه " . فذكر الحديث وسالهم عن نخل بيسان وعن عين زغر وعن النبي الامي قال اني انا المسيح وانه يوشك ان يوذن لي في الخروج قال النبي صلى الله عليه وسلم " وانه في بحر الشام او بحر اليمن لا بل من قبل المشرق ما هو " . مرتين واوما بيده قبل المشرق قالت حفظت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم . وساق الحديث
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر آپ منبر پر چڑھے، اس سے پہلے آپ صرف جمعہ ہی کو منبر پر چڑھتے تھے، پھر راوی نے اسی قصہ کا ذکر کیا ہے۔
حدثنا محمد بن صدران، حدثنا المعتمر، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن مجالد بن سعيد، عن عامر، قال حدثتني فاطمة بنت قيس، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى الظهر ثم صعد المنبر وكان لا يصعد عليه الا يوم جمعة قبل يوميذ ثم ذكر هذه القصة . قال ابو داود وابن صدران بصري غرق في البحر مع ابن مسور لم يسلم منهم غيره
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر فرمایا: کچھ لوگ سمندر میں سفر کر رہے تھے کہ اسی دوران ان کا کھانا ختم ہو گیا تو ان کو ایک جزیرہ نظر آیا اور وہ روٹی کی تلاش میں نکلے، ان کی ملاقات جساسہ سے ہوئی ولید بن عبداللہ کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ سے پوچھا: جساسہ کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ایک عورت تھی جو اپنی کھال اور سر کے بال کھینچ رہی تھی، اس جساسہ نے کہا: اس محل میں ( چلو ) پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے اور دجال نے بیسان کے کھجور کے درختوں، اور زغر کے چشموں کے متعلق دریافت کیا، اس میں ہے یہی مسیح ہے ۔ ولید بن عبداللہ کہتے ہیں: اس پر ابن ابی سلمہ نے مجھ سے کہا: اس حدیث میں کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو مجھے یاد نہیں ہیں۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: جابر نے پورے وثوق سے کہا: یہی ابن صیاد ۱؎ ہے، تو میں نے کہا: وہ تو مر چکا ہے، اس پر انہوں نے کہا: مر جانے دو، میں نے کہا: وہ تو مسلمان ہو گیا تھا، کہا: ہو جانے دو، میں نے کہا: وہ مدینہ میں آیا تھا، کہا: آنے دو، اس سے کیا ہوتا ہے۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى، اخبرنا ابن فضيل، عن الوليد بن عبد الله بن جميع، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم على المنبر " انه بينما اناس يسيرون في البحر فنفد طعامهم فرفعت لهم جزيرة فخرجوا يريدون الخبز فلقيتهم الجساسة " . قلت لابي سلمة وما الجساسة قال امراة تجر شعر جلدها وراسها . قالت في هذا القصر فذكر الحديث وسال عن نخل بيسان وعن عين زغر قال هو المسيح فقال لي ابن ابي سلمة ان في هذا الحديث شييا ما حفظته قال شهد جابر انه هو ابن صياد قلت فانه قد مات . قال وان مات . قلت فانه اسلم . قال وان اسلم . قلت فانه قد دخل المدينة . قال وان دخل المدينة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جس میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے، وہ بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، وہ ایک کمسن لڑکا تھا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا احساس اس وقت تک نہ ہو سکا جب تک آپ نے اپنے ہاتھ سے اس کی پشت پر مار نہ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو ابن صیاد نے آپ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا، اور بولا: ہاں، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں، پھر ابن صیاد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو آپ نے اس سے فرمایا: میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: تیرے پاس کیا چیز آتی ہے؟ وہ بولا: سچی اور جھوٹی باتیں آتی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو معاملہ تیرے اوپر مشتبہ ہو گیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تیرے لیے ایک بات چھپائی ہے اور آپ نے اپنے دل میں «يوم تأتي السماء بدخان مبين» ( سورۃ الدخان: ۱۰ ) والی آیت چھپا لی، تو ابن صیاد نے کہا: وہ چھپی ہوئی چیز «دُخ» ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہٹ جا، تو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکے گا ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ بولے: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے، میں اس کی گردن مار دوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ ( دجال ) ہے تو تم اس پر قادر نہ ہو سکو گے، اور اگر وہ نہیں ہے تو پھر اس کے قتل میں کوئی بھلائی نہیں ۔
حدثنا ابو عاصم، خشيش بن اصرم حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم مر بابن صايد في نفر من اصحابه فيهم عمر بن الخطاب وهو يلعب مع الغلمان عند اطم بني مغالة وهو غلام فلم يشعر حتى ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم ظهره بيده ثم قال " اتشهد اني رسول الله " . قال فنظر اليه ابن صياد فقال اشهد انك رسول الاميين . ثم قال ابن صياد للنبي صلى الله عليه وسلم اتشهد اني رسول الله فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " امنت بالله ورسله " . ثم قال له النبي صلى الله عليه وسلم " ما ياتيك " . قال ياتيني صادق وكاذب . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " خلط عليك الامر " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني قد خبات لك خبيية " . وخبا له { يوم تاتي السماء بدخان مبين } قال ابن صياد هو الدخ . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اخسا فلن تعدو قدرك " . فقال عمر يا رسول الله ايذن لي فاضرب عنقه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان يكن فلن تسلط عليه " . يعني الدجال " والا يكن هو فلا خير في قتله
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: قسم اللہ کی مجھے اس میں شک نہیں کہ مسیح دجال ابن صیاد ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب، - يعني ابن عبد الرحمن - عن موسى بن عقبة، عن نافع، قال كان ابن عمر يقول والله ما اشك ان المسيح الدجال ابن صياد