Loading...

Loading...
کتب
۶۰ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس امت کے لیے ہر صدی کی ابتداء میں ایک ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، اخبرني سعيد بن ابي ايوب، عن شراحيل بن يزيد المعافري، عن ابي علقمة، عن ابي هريرة، فيما اعلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله يبعث لهذه الامة على راس كل ماية سنة من يجدد لها دينها " . قال ابو داود رواه عبد الرحمن بن شريح الاسكندراني لم يجز به شراحيل
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا: خالد بن معدان کی طرف چلے، میں بھی ان کے ساتھ چلا تو انہوں نے ہم سے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے صلح کے متعلق بیان کیا، جبیر نے کہا: ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ذی مخبر نامی ایک شخص کے پاس چلو چنانچہ ہم ان کے پاس آئے، جبیر نے ان سے صلح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: عنقریب تم رومیوں سے ایک پر امن صلح کرو گے، پھر تم اور وہ مل کر ایک ایسے دشمن سے لڑو گے جو تمہارے پیچھے ہے، اس پر فتح پاؤ گے، اور غنیمت کا مال لے کر صحیح سالم واپس ہو گے یہاں تک کہ ایک میدان میں اترو گے جو ٹیلوں والا ہو گا، پھر نصرانیوں میں سے ایک شخص صلیب اٹھائے گا اور کہے گا: صلیب غالب آئی، یہ سن کر مسلمانوں میں سے ایک شخص غصہ میں آئے گا اور اس کو مارے گا، اس وقت اہل روم عہد شکنی کریں گے اور لڑائی کے لیے اپنے لوگوں کو جمع کریں گے ۔
حدثنا النفيلي، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا الاوزاعي، عن حسان بن عطية، قال مال مكحول وابن ابي زكريا الى خالد بن معدان وملت معهم فحدثنا عن جبير بن نفير، عن الهدنة، قال قال جبير انطلق بنا الى ذي مخبر - رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم - فاتيناه فساله جبير عن الهدنة فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ستصالحون الروم صلحا امنا فتغزون انتم وهم عدوا من ورايكم فتنصرون وتغنمون وتسلمون ثم ترجعون حتى تنزلوا بمرج ذي تلول فيرفع رجل من اهل النصرانية الصليب فيقول غلب الصليب فيغضب رجل من المسلمين فيدقه فعند ذلك تغدر الروم وتجمع للملحمة
اس سند سے بھی حسان بن عطیہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے: پھر جلدی سے مسلمان اپنے ہتھیاروں کی طرف بڑھیں گے، اور لڑنے لگیں گے، تو اللہ تعالیٰ اس جماعت کو شہادت سے نوازے گا ۔
حدثنا مومل بن الفضل الحراني، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ابو عمرو، عن حسان بن عطية، بهذا الحديث زاد فيه " ويثور المسلمون الى اسلحتهم فيقتتلون فيكرم الله تلك العصابة بالشهادة " . قال ابو داود الا ان الوليد جعل الحديث عن جبير عن ذي مخبر عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود ورواه روح ويحيى بن حمزة وبشر بن بكر عن الاوزاعي كما قال عيسى
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیت المقدس کی آبادی مدینہ کی ویرانی ہو گی، مدینہ کی ویرانی لڑائیوں اور فتنوں کا ظہور ہو گا، فتنوں کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح ہو گی، اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا ظہور ہو گا پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس شخص یعنی معاذ بن جبل کی ران یا مونڈھے پر مارا جن سے آپ یہ بیان فرما رہے تھے، پھر فرمایا: یہ ایسے ہی یقینی ہے جیسے تمہارا یہاں ہونا یا بیٹھنا یقینی ہے ۔
حدثنا عباس العنبري، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، عن ابيه، عن مكحول، عن جبير بن نفير، عن مالك بن يخامر، عن معاذ بن جبل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عمران بيت المقدس خراب يثرب وخراب يثرب خروج الملحمة وخروج الملحمة فتح قسطنطينية وفتح القسطنطينية خروج الدجال " . ثم ضرب بيده على فخذ الذي حدث - او منكبه - ثم قال ان هذا لحق كما انك ها هنا او كما انك قاعد . يعني معاذ بن جبل
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑی جنگ، قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا نکلنا تینوں چیزیں سات مہینے کے اندر ہوں گی ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا عيسى بن يونس، عن ابي بكر بن ابي مريم، عن الوليد بن سفيان الغساني، عن يزيد بن قتيب السكوني، عن ابي بحرية، عن معاذ بن جبل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الملحمة الكبرى وفتح القسطنطينية وخروج الدجال في سبعة اشهر
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑی جنگ اور فتح قسطنطنیہ کے درمیان چھ سال کی مدت ہو گی اور ساتویں سال میں مسیح دجال کا ظہور ہو گا ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عیسیٰ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا حيوة بن شريح الحمصي، حدثنا بقية، عن بحير، عن خالد، عن ابن ابي بلال، عن عبد الله بن بسر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بين الملحمة وفتح المدينة ست سنين ويخرج المسيح الدجال في السابعة " . قال ابو داود هذا اصح من حديث عيسى
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں «وہن» ڈال دے گا تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! «وہن» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا بشر بن بكر، حدثنا ابن جابر، حدثني ابو عبد السلام، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوشك الامم ان تداعى عليكم كما تداعى الاكلة الى قصعتها " . فقال قايل ومن قلة نحن يوميذ قال " بل انتم يوميذ كثير ولكنكم غثاء كغثاء السيل ولينزعن الله من صدور عدوكم المهابة منكم وليقذفن الله في قلوبكم الوهن " . فقال قايل يا رسول الله وما الوهن قال " حب الدنيا وكراهية الموت
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دجال سے ) جنگ کے روز مسلمانوں کا جماؤ غوطہٰ میں ہو گا، جو اس شہر کے ایک جانب میں ہے جسے دمشق کہا جاتا ہے، جو شام کے بہترین شہروں میں سے ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثنا ابن جابر، حدثني زيد بن ارطاة، قال سمعت جبير بن نفير، يحدث عن ابي الدرداء، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان فسطاط المسلمين يوم الملحمة بالغوطة الى جانب مدينة يقال لها دمشق من خير مداين الشام
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان مدینہ میں محصور کر دیئے جائیں یہاں تک کہ ان کی عملداری صرف مقام سلاح تک رہ جائے ۔
قال ابو داود حدثت عن ابن وهب، قال حدثني جرير بن حازم، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوشك المسلمون ان يحاصروا الى المدينة حتى يكون ابعد مسالحهم سلاح
زہری کہتے ہیں سلاح خیبر کے قریب ( ایک جگہ ) ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، عن عنبسة، عن يونس، عن الزهري، قال وسلاح قريب من خيبر
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں ( بلائیں ) اکٹھی نہیں کرے گا کہ ایک تلوار تو خود اسی کی ہو، اور ایک تلوار اس کے دشمن کی ہو ۲؎ ۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة، حدثنا اسماعيل، ح وحدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا الحسن بن سوار، حدثنا اسماعيل، حدثنا سليمان بن سليم، عن يحيى بن جابر الطايي، - قال هارون في حديثه - عن عوف بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لن يجمع الله على هذه الامة سيفين سيفا منها وسيفا من عدوها
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حبشہ کے کافروں کو اس وقت تک چھوڑے رہو جب تک کہ وہ تم سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں، اور ترکوں کو بھی چھوڑے رہو جب تک کہ وہ تم سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں ۱؎ ۔
حدثنا عيسى بن محمد الرملي، حدثنا ضمرة، عن السيباني، عن ابي سكينة، - رجل من المحررين - عن رجل، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " دعوا الحبشة ما ودعوكم واتركوا الترك ما تركوكم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں جو ایک ایسی قوم ہو گی جن کے چہرے تہ بہ تہ جمی ہوئی ڈھالوں کے مانند ہونگے، اور وہ بالوں کے لباس پہنتے ہوں گے ۔
حدثنا قتيبة، حدثنا يعقوب، - يعني الاسكندراني - عن سهيل، - يعني ابن ابي صالح - عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى يقاتل المسلمون الترك قوما وجوههم كالمجان المطرقة يلبسون الشعر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے جن کی جوتیاں بالوں کی ہوں گی، اور قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور ناک چپٹی ہوں گی، اور ان کے چہرے اس طرح ہوں گے گویا تہ بہ تہ ڈھال ہیں ۔
حدثنا قتيبة، وابن السرح، وغيرهما، قالوا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، رواية - قال ابن السرح - ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما نعالهم الشعر ولا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما صغار الاعين ذلف الانف كان وجوههم المجان المطرقة
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تم سے ایک ایسی قوم لڑے گی جس کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی یعنی ترک، پھر فرمایا: تم انہیں تین بار پیچھے کھدیڑ دو گے، یہاں تک کہ تم انہیں جزیرہ عرب سے ملا دو گے، تو پہلی بار میں ان میں سے جو بھاگ گیا وہ نجات پا جائے گا، اور دوسری بار میں کچھ بچ جائیں گے، اور کچھ ہلاک ہو جائیں گے، اور تیسری بار میں ان کا بالکل خاتمہ ہی کر دیا جائے گا «أو کماقال» ( جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) ۱؎۔
حدثنا جعفر بن مسافر التنيسي، حدثنا خلاد بن يحيى، حدثنا بشير بن المهاجر، حدثنا عبد الله بن بريدة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم في حديث " يقاتلكم قوم صغار الاعين " . يعني الترك قال " تسوقونهم ثلاث مرار حتى تلحقوهم بجزيرة العرب فاما في السياقة الاولى فينجو من هرب منهم واما في الثانية فينجو بعض ويهلك بعض واما في الثالثة فيصطلمون " . او كما قال
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ دجلہ نامی ایک نہر کے قریب کے ایک نشیبی زمین پر اتریں گے جسے وہ لوگ بصرہ کہتے ہوں گے، اس پر ایک پل ہو گا، وہاں کے لوگ ( تعداد میں ) دیگر شہروں کے بالمقابل زیادہ ہوں گے، اور وہ مہاجرین کے شہروں میں سے ہو گا ( ابومعمر کی روایت میں ہے کہ وہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ہو گا ) ، پھر جب آخری زمانہ ہو گا تو وہاں قنطورہ ۱؎ کی اولاد ( اہل بصرہ کے قتل کے لیے ) آئیگی جن کے چہرے چوڑے، اور آنکھیں چھوٹی ہوں گی، یہاں تک کہ وہ نہر کے کنارے اتریں گے، پھر تین گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ تو بیل کی دم، اور صحرا کو اختیار کر کے ہلاک ہو جائے گا، اور ایک گروہ اپنی جانوں کو بچا کر کافر ہو جانے کو قبول کر لے گا، اور ایک گروہ اپنی اولاد کو اپنے پیچھے چھوڑ کر نکل کھڑا ہو گا، اور ان سے لڑے گا یہی لوگ شہداء ہوں گے ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثني ابي، حدثنا سعيد بن جمهان، حدثنا مسلم بن ابي بكرة، قال سمعت ابي يحدث، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ينزل ناس من امتي بغايط يسمونه البصرة عند نهر يقال له دجلة يكون عليه جسر يكثر اهلها وتكون من امصار المهاجرين " . قال ابن يحيى قال ابو معمر " وتكون من امصار المسلمين فاذا كان في اخر الزمان جاء بنو قنطوراء عراض الوجوه صغار الاعين حتى ينزلوا على شط النهر فيتفرق اهلها ثلاث فرق فرقة ياخذون اذناب البقر والبرية وهلكوا وفرقة ياخذون لانفسهم وكفروا وفرقة يجعلون ذراريهم خلف ظهورهم ويقاتلونهم وهم الشهداء
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ شہر بسائیں گے انہیں شہروں میں سے ایک شہر ہو گا جسے بصرہ یا بصیرہ کہا جاتا ہو گا، اگر تم اس سے گزرنا یا اس میں داخل ہونا تو اس کی سب شور زمین اس کی کلاء ۱؎ اس کے بازار اور اس کے امراء کے دروازوں سے اپنے آپ کو بچانا، اور اپنے آپ کو اس کے اطراف ہی میں رکھنا، کیونکہ اس میں «خسف» ( زمینوں کا دھنسنا ) «قذف» ( پتھر برسنا ) اور «رجف» ( زلزلہ ) ہو گا، اور کچھ لوگ رات صحیح سالم ہو کر گزاریں گے، اور صبح کو بندر اور سور ہو کر اٹھیں گے۔
حدثنا عبد الله بن الصباح، حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد، حدثنا موسى الحناط، - لا اعلمه الا ذكره - عن موسى بن انس، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له " يا انس ان الناس يمصرون امصارا وان مصرا منها يقال له البصرة او البصيرة فان انت مررت بها او دخلتها فاياك وسباخها وكلاءها وسوقها وباب امرايها وعليك بضواحيها فانه يكون بها خسف وقذف ورجف وقوم يبيتون يصبحون قردة وخنازير
صالح بن درہم کہتے ہیں کہ ہم حج کے ارادہ سے چلے تو اچانک ہمیں ایک شخص ملا ۱؎ جس نے ہم سے پوچھا: کیا تمہارے قریب میں کوئی ایسی بستی ہے جسے ابلّہ کہا جاتا ہو؟ ہم نے کہا: ہاں، ہے، پھر اس نے کہا: تم میں سے کون اس بات کی ضمانت لیتا ہے کہ وہ وہاں مسجد عشار میں میرے لیے دو یا چار رکعت نماز پڑھے؟ اور کہے: اس کا ثواب ابوہریرہ کو ملے کیونکہ میں نے اپنے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ قیامت کے دن مسجد عشّار سے ایسے شہداء اٹھائے گا جن کے علاوہ کوئی اور شہداء بدر کے ہم پلہ نہ ہوں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مسجد نہر ۲؎ کے متصل ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثني ابراهيم بن صالح بن درهم، قال سمعت ابي يقول، انطلقنا حاجين فاذا رجل فقال لنا الى جنبكم قرية يقال لها الابلة قلنا نعم . قال من يضمن لي منكم ان يصلي لي في مسجد العشار ركعتين او اربعا ويقول هذه لابي هريرة سمعت خليلي ابا القاسم صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله يبعث من مسجد العشار يوم القيامة شهداء لا يقوم مع شهداء بدر غيرهم " . قال ابو داود هذا المسجد مما يلي النهر
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل حبشہ کو چھوڑے رہو جب تک وہ تمہیں چھوڑے ہوئے ہیں ۱؎، کیونکہ کعبہ کے خزانے کو سوائے ایک باریک پنڈلیوں والے حبشی کے کوئی اور نہیں نکالے گا ۲؎ ۔
حدثنا القاسم بن احمد البغدادي، حدثنا ابو عامر، عن زهير بن محمد، عن موسى بن جبير، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اتركوا الحبشة ما تركوكم فانه لا يستخرج كنز الكعبة الا ذو السويقتين من الحبشة
ابوزرعہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ مروان کے پاس مدینہ آئے تو وہاں اسے ( قیامت کی ) نشانیوں کے متعلق بیان کرتے سنا کہ سب سے پہلی نشانی ظہور دجال کی ہو گی، تو میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، اور ان سے اسے بیان کیا، تو عبداللہ نے صرف اتنا کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ پہلی نشانی سورج کا پچھم سے طلوع ہونا ہے، یا بوقت چاشت لوگوں کے درمیان دابہ ( چوپایہ ) کا ظہور ہے، ان دونوں میں سے جو نشانی بھی پہلے واقع ہو دوسری بالکل اس سے متصل ہو گی، اور عبداللہ بن عمرو جن کے زیر مطالعہ آسمانی کتابیں رہا کرتی تھیں کہتے ہیں: میرا خیال ہے ان دونوں میں پہلے سورج کا پچھم سے نکلنا ہے۔
حدثنا مومل بن هشام، حدثنا اسماعيل، عن ابي حيان التيمي، عن ابي زرعة، قال جاء نفر الى مروان بالمدينة فسمعوه يحدث في الايات ان اولها الدجال قال فانصرفت الى عبد الله بن عمرو فحدثته فقال عبد الله لم يقل شييا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان اول الايات خروجا طلوع الشمس من مغربها او الدابة على الناس ضحى فايتهما كانت قبل صاحبتها فالاخرى على اثرها " . قال عبد الله وكان يقرا الكتب واظن اولهما خروجا طلوع الشمس من مغربها