Loading...

Loading...
کتب
۵۵ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کے خوب کترنے، اور داڑھیوں کے بڑھانے کا حکم دیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن ابي بكر بن نافع، عن ابيه، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر باحفاء الشوارب واعفاء اللحى
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیر ناف کے بال مونڈنے، ناخن کاٹنے، مونچھیں تراشنے اور بغل کے بال اکھاڑنے کی چالیس دن میں ایک بار کی تحدید فرما دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے جعفر بن سلیمان نے ابوعمران سے اور انہوں نے انس سے روایت کیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں «وقَّتَ لنا» کے بجائے «وُقِّتَ لنا» بصیغہ مجہول ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا صدقة الدقيقي، حدثنا ابو عمران الجوني، عن انس بن مالك، قال وقت لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حلق العانة وتقليم الاظفار وقص الشارب ونتف الابط اربعين يوما مرة . قال ابو داود رواه جعفر بن سليمان عن ابي عمران عن انس لم يذكر النبي صلى الله عليه وسلم قال وقت لنا وهذا اصح
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حج و عمرہ کے سوا ہمیشہ داڑھیوں کو لٹکتا رہنے دیتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «استحداد» کے معنی زیر ناف مونڈنے کے ہیں۔
حدثنا ابن نفيل، حدثنا زهير، قرات على عبد الملك بن ابي سليمان وقراه عبد الملك على ابي الزبير ورواه ابو الزبير عن جابر، قال كنا نعفي السبال الا في حج او عمرة . قال ابو داود الاستحداد حلق العانة
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید بال نہ اکھیڑو، اس لیے کہ جس مسلمان کا کوئی بال حالت اسلام میں سفید ہوا ہو ( سفیان کی روایت میں ہے ) تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا ( اور یحییٰ کی روایت میں ہے ) اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا اور اس سے ایک گناہ مٹا دے گا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، ح وحدثنا مسدد، حدثنا سفيان، - المعنى - عن ابن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تنتفوا الشيب ما من مسلم يشيب شيبة في الاسلام " . قال عن سفيان " الا كانت له نورا يوم القيامة " . وقال في حديث يحيى " الا كتب الله له بها حسنة وحط عنه بها خطيية
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ اپنی داڑھیاں نہیں رنگتے ہیں، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو ، یعنی انہیں خضاب سے رنگا کرو۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي سلمة، وسليمان بن يسار، عن ابي هريرة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان اليهود والنصارى لا يصبغون فخالفوهم
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد ) ابوقحافہ کو لایا گیا، ان کا سر اور ان کی داڑھی ثغامہ ( نامی سفید رنگ کے پودے ) کے مانند سفید تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کسی چیز سے بدل دو اور سیاہی سے بچو ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، واحمد بن سعيد الهمداني، قالا حدثنا ابن وهب، حدثنا ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال اتي بابي قحافة يوم فتح مكة وراسه ولحيته كالثغامة بياضا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " غيروا هذا بشىء واجتنبوا السواد
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے اچھی چیز جس سے اس بڑھاپے ( بال کی سفیدی ) کو بدلا جائے حناء ( مہندی ) اور کتم ( وسمہ ) ہے ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن سعيد الجريري، عن عبد الله بن بريدة، عن ابي الاسود الديلي، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان احسن ما غير به هذا الشيب الحناء والكتم
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تو دیکھا کہ آپ کے سر کے بال کان کی لو تک ہیں، ان میں مہندی لگی ہوئی ہے، اور آپ کے جسم مبارک پر سبز رنگ کی دو چادریں ہیں۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا عبيد الله، - يعني ابن اياد - قال حدثنا اياد، عن ابي رمثة، قال انطلقت مع ابي نحو النبي صلى الله عليه وسلم فاذا هو ذو وفرة بها ردع حناء وعليه بردان اخضران
اس سند سے ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں مروی ہے کہ میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ اپنی وہ چیز دکھائیں جو آپ کی پشت پر ہے کیونکہ میں طبیب ہوں، آپ نے فرمایا: طبیب تو اللہ ہے، بلکہ تو رفیق ہے ( مریض کو تسکین اور دلاسے دیتا ہے ) طبیب تو وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابن ادريس، قال سمعت ابن ابجر، عن اياد بن لقيط، عن ابي رمثة، في هذا الخبر قال فقال له ابي ارني هذا الذي بظهرك فاني رجل طبيب . قال " الله الطبيب بل انت رجل رفيق طبيبها الذي خلقها
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے ایک شخص سے یا میرے والد سے پوچھا: یہ کون ہے؟ وہ بولے: میرا بیٹا ہے، آپ نے فرمایا: یہ تمہارا بوجھ نہیں اٹھائے گا، تم جو کرو گے اس کی باز پرس تم سے ہو گی، آپ نے اپنی داڑھی میں مہندی لگا رکھی تھی ۔
حدثنا ابن بشار، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن اياد بن لقيط، عن ابي رمثة، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم انا وابي فقال لرجل او لابيه " من هذا " . قال ابني . قال " لا تجني عليه " . وكان قد لطخ لحيته بالحناء
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خضاب لگایا ہی نہیں، ہاں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے لگایا ہے۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس، انه سيل عن خضاب النبي، صلى الله عليه وسلم فذكر انه لم يخضب ولكن قد خضب ابو بكر وعمر رضي الله عنهما
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھال کی سبتی جوتیاں پہنتے تھے جس پر بال نہیں ہوتے تھے، اور اپنی داڑھی ورس ۱؎ اور زعفران سے رنگتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کرتے تھے۔
حدثنا عبد الرحيم بن مطرف ابو سفيان، حدثنا عمرو بن محمد، حدثنا ابن ابي رواد، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يلبس النعال السبتية ويصفر لحيته بالورس والزعفران وكان ابن عمر يفعل ذلك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک شخص گزرا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ نے فرمایا: یہ کتنا اچھا ہے پھر ایک اور شخص گزرا جس نے مہندی اور کتم کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ نے فرمایا: یہ اس سے بھی اچھا ہے اتنے میں ایک تیسرا شخص زرد خضاب لگا کے گزرا تو آپ نے فرمایا: یہ ان سب سے اچھا ہے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا محمد بن طلحة، عن حميد بن وهب، عن ابن طاوس، عن طاوس، عن ابن عباس، قال مر على النبي صلى الله عليه وسلم رجل قد خضب بالحناء فقال " ما احسن هذا " . قال فمر اخر قد خضب بالحناء والكتم فقال " هذا احسن من هذا " . قال فمر اخر قد خضب بالصفرة فقال " هذا احسن من هذا كله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخر زمانے میں کچھ لوگ کبوتر کے سینے کی طرح سیاہ خضاب لگائیں گے وہ جنت کی بو تک نہ پائیں گے ۔
حدثنا ابو توبة، حدثنا عبيد الله، عن عبد الكريم الجزري، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يكون قوم يخضبون في اخر الزمان بالسواد كحواصل الحمام لا يريحون رايحة الجنة
ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو اپنے گھر والوں میں سب سے اخیر میں فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کرتے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے تشریف لائے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے دروازے پر ایک ٹاٹ یا پردہ لٹکا رکھا تھا اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما دونوں کو چاندی کے دو کنگن پہنا رکھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو گھر میں داخل نہیں ہوئے تو وہ سمجھ گئیں کہ آپ کے اندر آنے سے یہی چیز مانع رہی ہے جو آپ نے دیکھا ہے، تو انہوں نے دروازے سے پردہ اتار دیا، پھر دونوں صاحبزادوں کے کنگن کو اتار لیا، اور کاٹ کر ان کے سامنے ڈال دیا، تو وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتے ہوئے آئے، آپ نے ان سے کٹے ہوئے ٹکڑے لے کر فرمایا: ثوبان! اسے مدینہ میں فلاں گھر والوں کو جا کر دے آؤ پھر فرمایا: یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں مجھے یہ ناپسند ہے کہ یہ اپنے مزے دنیا ہی میں لوٹ لیں، اے ثوبان! فاطمہ کے لیے مونگوں والا ایک ہار اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید کر لے آؤ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن محمد بن جحادة، عن حميد الشامي، عن سليمان المنبهي، عن ثوبان، مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سافر كان اخر عهده بانسان من اهله فاطمة واول من يدخل عليها اذا قدم فاطمة فقدم من غزاة له وقد علقت مسحا او سترا على بابها وحلت الحسن والحسين قلبين من فضة فقدم فلم يدخل فظنت ان ما منعه ان يدخل ما راى فهتكت الستر وفككت القلبين عن الصبيين وقطعته بينهما فانطلقا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهما يبكيان فاخذه منهما وقال " يا ثوبان اذهب بهذا الى ال فلان " . اهل بيت بالمدينة " ان هولاء اهل بيتي اكره ان ياكلوا طيباتهم في حياتهم الدنيا يا ثوبان اشتر لفاطمة قلادة من عصب وسوارين من عاج