Loading...

Loading...
کتب
۵۵ احادیث
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفران لگانے سے منع فرمایا ہے۔ اور اسماعیل کی روایت میں«عن التزعفر للرجال» کے بجائے «أن يتزعفرالرجل» ہے۔
حدثنا مسدد، ان حماد بن زيد، واسماعيل بن ابراهيم، حدثاهم عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التزعفر للرجال وقال عن اسماعيل ان يتزعفر الرجل
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں کہ فرشتے ان کے قریب نہیں جاتے: ایک کافر کی لاش کے پاس، دوسرے جو زعفران میں لت پت ہو اور تیسرے جنبی ( ناپاک ) إلا یہ کہ وہ وضو کر لے ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الاويسي، حدثنا سليمان بن بلال، عن ثور بن زيد، عن الحسن بن ابي الحسن، عن عمار بن ياسر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ثلاثة لا تقربهم الملايكة جيفة الكافر والمتضمخ بالخلوق والجنب الا ان يتوضا
ولید بن عقبہ کہتے ہیں کہ جب اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو ابن مکہ اپنے بچوں کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے، مجھے بھی آپ کی خدمت میں لایا گیا، لیکن مجھے خلوق لگا ہوا تھا اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔
حدثنا ايوب بن محمد الرقي، حدثنا عمر بن ايوب، عن جعفر بن برقان، عن ثابت بن الحجاج، عن عبد الله الهمداني، عن الوليد بن عقبة، قال لما فتح نبي الله صلى الله عليه وسلم مكة جعل اهل مكة ياتونه بصبيانهم فيدعو لهم بالبركة ويمسح رءوسهم قال فجيء بي اليه وانا مخلق فلم يمسني من اجل الخلوق
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس پر ( زعفران کی ) زردی کا نشان تھا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت کم کسی ایسے شخص کا سامنا فرماتے جس کے چہرہ پہ کوئی ایسی چیز ہوتی جسے آپ ناپسند فرماتے، چنانچہ جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش تم لوگ اسے حکم دیتے کہ وہ اسے اپنے سے دھو ڈالے ۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا سلم العلوي، عن انس بن مالك، ان رجلا، دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه اثر صفرة - وكان النبي صلى الله عليه وسلم قلما يواجه رجلا في وجهه بشىء يكرهه - فلما خرج قال " لو امرتم هذا ان يغسل هذا عنه
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو جو کان کی لو سے نیچے بال رکھے ہو اور سرخ جوڑے میں ملبوس ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا ( محمد بن سلیمان کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ) آپ کے بال دونوں شانوں سے لگ رہے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے اسرائیل نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے کہ وہ بال آپ کے دونوں شانوں سے لگ رہے تھے اور شعبہ کہتے ہیں: وہ آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچ رہے تھے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، ومحمد بن سليمان الانباري، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال ما رايت من ذي لمة احسن في حلة حمراء من رسول الله صلى الله عليه وسلم زاد محمد بن سليمان له شعر يضرب منكبيه . قال ابو داود وكذا رواه اسراييل عن ابي اسحاق قال يضرب منكبيه وقال شعبة يبلغ شحمة اذنيه
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم له شعر يبلغ شحمة اذنيه
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔
حدثنا مخلد بن خالد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ثابت، عن انس، قال كان شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم الى شحمة اذنيه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ کے آدھے کانوں تک رہتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، اخبرنا حميد، عن انس بن مالك، قال كان شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم الى انصاف اذنيه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال «وفرہ» ۱؎ سے بڑے اور «جمہ» ۲؎ سے چھوٹے تھے۔
حدثنا ابن نفيل، حدثنا عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم فوق الوفرة ودون الجمة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کا «سدل» کرتے یعنی انہیں لٹکا ہوا چھوڑ دیتے تھے، اور مشرکین اپنے سروں میں مانگ نکالتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن باتوں میں کوئی حکم نہ ملتا اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے اسی لیے آپ اپنی پیشانی کے بالوں کو لٹکا چھوڑ دیتے تھے پھر بعد میں آپ مانگ نکالنے لگے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم بن سعد، اخبرني ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، قال كان اهل الكتاب - يعني - يسدلون اشعارهم وكان المشركون يفرقون رءوسهم وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم تعجبه موافقة اهل الكتاب فيما لم يومر به فسدل رسول الله صلى الله عليه وسلم ناصيته ثم فرق بعد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں مانگ نکالنی چاہتی تو سر کے بیچ سے نکالتی، اور پیشانی کے بالوں کو دونوں آنکھوں کے بیچ کی سیدھ سے آدھا ایک طرف اور آدھا دوسری طرف لٹکا دیا کرتی تھی۔
حدثنا يحيى بن خلف، حدثنا عبد الاعلى، عن محمد، - يعني ابن اسحاق - قال حدثني محمد بن جعفر بن الزبير، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها قالت كنت اذا اردت ان افرق راس رسول الله صلى الله عليه وسلم صدعت الفرق من يافوخه وارسل ناصيته بين عينيه
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میرے بال لمبے تھے تو جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: نحوست ہے، نحوست تو میں واپس لوٹ گیا اور جا کر اسے کاٹ ڈالا، پھر دوسرے دن آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا: میں نے تیرے ساتھ کوئی برائی نہیں کی، یہ اچھا ہے ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا معاوية بن هشام، وسفيان بن عقبة السوايي، - هو اخو قبيصة - وحميد بن خوار عن سفيان الثوري، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، عن وايل بن حجر، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم ولي شعر طويل فلما راني رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ذباب ذباب " . قال فرجعت فجززته ثم اتيته من الغد فقال " اني لم اعنك وهذا احسن
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے اور ( اس وقت ) آپ کی چار چوٹیاں تھیں۔
حدثنا النفيلي، حدثنا سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، قال قالت ام هاني قدم النبي صلى الله عليه وسلم الى مكة وله اربع غداير تعني عقايص
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر کے گھر والوں کو تین دن کی مہلت دی پھر آپ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آج کے بعد میرے بھائی پر تم نہ رونا ۱؎ پھر فرمایا: میرے پاس میرے بھتیجوں کو بلاؤ تو ہمیں آپ کی خدمت میں لایا گیا، ایسا لگ رہا تھا گویا ہم چوزے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حجام کو بلاؤ اور آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے ہمارے سر مونڈے۔
حدثنا عقبة بن مكرم، وابن المثنى، قالا حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي قال، سمعت محمد بن ابي يعقوب، يحدث عن الحسن بن سعد، عن عبد الله بن جعفر، ان النبي صلى الله عليه وسلم امهل ال جعفر ثلاثا ان ياتيهم ثم اتاهم فقال " لا تبكوا على اخي بعد اليوم " . ثم قال " ادعوا لي بني اخي " . فجيء بنا كانا افرخ فقال " ادعوا لي الحلاق " . فامره فحلق رءوسنا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے، اور «قزع» یہ ہے کہ بچے کا سر مونڈ دیا جائے اور اس کے کچھ بال چھوڑ دئیے جائیں۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عثمان بن عثمان، - قال احمد كان رجلا صالحا - قال اخبرنا عمر بن نافع عن ابيه عن ابن عمر قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن القزع والقزع ان يحلق راس الصبي فيترك بعض شعره
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے، اور «قزع» یہ ہے کہ بچے کا سر مونڈ دیا جائے اور اس کی چوٹی چھوڑ دی جائے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، حدثنا ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن القزع وهو ان يحلق راس الصبي فتترك له ذوابة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے کچھ بال منڈے ہوئے تھے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے تو آپ نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا: یا تو پورا مونڈ دو، یا پورا چھوڑے رکھو ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى صبيا قد حلق بعض شعره وترك بعضه فنهاهم عن ذلك وقال " احلقوه كله او اتركوه كله
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک چوٹی تھی، میری ماں نے مجھ سے کہا: میں اس کو نہیں کاٹوں گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ازراہ شفقت ) اسے پکڑ کر کھینچتے تھے۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا زيد بن الحباب، عن ميمون بن عبد الله، عن ثابت البناني، عن انس بن مالك، قال كانت لي ذوابة فقالت لي امي لا اجزها كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمدها وياخذ بها
حجاج بن حسان کا بیان ہے ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، مجھ سے میری بہن مغیرہ نے بیان کیا: تو اس وقت لڑکا تھا اور تیرے سر پر دو چوٹیاں یا دو لٹیں تھیں تو انہوں نے تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی اور کہا: ان دونوں کو مونڈوا ڈالو، یا انہیں کاٹ ڈالو کیونکہ یہ یہود کا طریقہ ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا الحجاج بن حسان، قال دخلنا على انس بن مالك فحدثتني اختي المغيرة، قالت وانت يوميذ غلام ولك قرنان او قصتان فمسح راسك وبرك عليك وقال " احلقوا هذين او قصوهما فان هذا زي اليهود
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: پانچ چیزیں فطرت ہیں یا فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال مونڈنا، بغل کا بال اکھیڑنا، ناخن تراشنا اور مونچھ کاٹنا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد، عن ابي هريرة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم " الفطرة خمس او خمس من الفطرة الختان والاستحداد ونتف الابط وتقليم الاظفار وقص الشارب