Loading...

Loading...
کتب
۵۵ احادیث
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پابندی سے ) کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے البتہ ناغہ کے ساتھ ہو ( تو جائز ہے ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن هشام بن حسان، عن الحسن، عن عبد الله بن مغفل، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الترجل الا غبا
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے پاس مصر گئے، جب وہاں پہنچے تو عرض کیا: میں یہاں آپ سے ملاقات کے لیے نہیں آیا ہوں، ہم نے اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی مجھے امید ہے کہ اس کے متعلق آپ کو کچھ ( مزید ) علم ہو، انہوں نے پوچھا: وہ کون سی حدیث ہے؟ فرمایا: وہ اس اس طرح ہے، پھر انہوں نے فضالہ سے کہا: کیا بات ہے میں آپ کو پراگندہ سر دیکھ رہا ہوں حالانکہ آپ اس سر زمین کے حاکم ہیں؟ تو ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں زیادہ عیش عشرت سے منع فرماتے تھے، پھر انہوں نے پوچھا: آپ کے پیر میں جوتیاں کیوں نظر نہیں آتیں؟ تو وہ بولے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کبھی کبھی ننگے پیر رہنے کا بھی حکم دیتے تھے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يزيد المازني، اخبرنا الجريري، عن عبد الله بن بريدة، ان رجلا، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم رحل الى فضالة بن عبيد وهو بمصر فقدم عليه فقال اما اني لم اتك زايرا ولكني سمعت انا وانت حديثا من رسول الله صلى الله عليه وسلم رجوت ان يكون عندك منه علم . قال وما هو قال كذا وكذا قال فما لي اراك شعثا وانت امير الارض قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ينهانا عن كثير من الارفاه . قال فما لي لا ارى عليك حذاء قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يامرنا ان نحتفي احيانا
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ نے ایک روز آپ کے پاس دنیا کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ بیشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے، بیشک سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے اس سے مراد ترک زینت و آرائش اور خستہ حالی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ ابوامامہ بن ثعلبہ انصاری ہیں۔
حدثنا النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن عبد الله بن ابي امامة، عن عبد الله بن كعب بن مالك، عن ابي امامة، قال ذكر اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما عنده الدنيا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا تسمعون الا تسمعون ان البذاذة من الايمان ان البذاذة من الايمان " . يعني التقحل . قال ابو داود هو ابو امامة بن ثعلبة الانصاري
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خوشبو کی ایک ڈبیہ تھی جس سے آپ خوشبو لگایا کرتے تھے۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا ابو احمد، عن شيبان بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن المختار، عن موسى بن انس، عن انس بن مالك، قال كانت للنبي صلى الله عليه وسلم سكة يتطيب منها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس بال ہوں تو اسے چاہیئے کہ وہ انہیں اچھی طرح رکھے ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، حدثني ابن ابي الزناد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من كان له شعر فليكرمه
کریمہ بنت ہمام کا بیان ہے کہ ایک عورت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے مہندی کے خضاب کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں، میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بو ناپسند فرماتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مراد سر کے بال کا خضاب ہے۔
حدثنا عبيد الله بن عمر، حدثنا يحيى بن سعيد، عن علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، قال حدثتني كريمة بنت همام، ان امراة، اتت عايشة - رضى الله عنها - فسالتها عن خضاب الحناء فقالت لا باس به ولكني اكرهه كان حبيبي رسول الله صلى الله عليه وسلم يكره ريحه . قال ابو داود تعني خضاب شعر الراس
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھ سے بیعت لے لیجئیے، تو آپ نے فرمایا: جب تک تم اپنی دونوں ہتھیلیوں کا رنگ نہیں بدلو گی میں تم سے بیعت نہیں لوں گا، گویا وہ دونوں کسی درندے کی ہتھیلیاں ہیں ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثتني غبطة بنت عمرو المجاشعية، قالت حدثتني عمتي ام الحسن، عن جدتها، عن عايشة، رضى الله عنها ان هندا بنت عتبة، قالت يا نبي الله بايعني . قال " لا ابايعك حتى تغيري كفيك كانهما كفا سبع
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اشارہ کیا، اس کے ہاتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا ایک خط تھا، آپ نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا، اور فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا تو اس نے عرض کیا: نہیں، بلکہ یہ عورت کا ہاتھ ہے، تو آپ نے فرمایا: اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخن کے رنگ بدلے ہوتی یعنی مہندی سے۔
حدثنا محمد بن محمد الصوري، حدثنا خالد بن عبد الرحمن، حدثنا مطيع بن ميمون، عن صفية بنت عصمة، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت اومت امراة من وراء ستر بيدها كتاب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقبض النبي صلى الله عليه وسلم يده فقال " ما ادري ايد رجل ام يد امراة " . قالت بل امراة . قال " لو كنت امراة لغيرت اظفارك " . يعني بالحناء
حمید بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے جس سال حج کیا میں نے آپ کو منبر پر کہتے سنا، آپ نے بالوں کا ایک گچھا جو ایک پہرے دار کے ہاتھ میں تھا لے کر کہا: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان جیسی چیزوں سے منع کرتے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: بنی اسرائیل ہلاک ہو گئے جس وقت ان کی عورتوں نے یہ کام شروع کیا ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، انه سمع معاوية بن ابي سفيان، عام حج وهو على المنبر وتناول قصة من شعر كانت في يد حرسي يقول يا اهل المدينة اين علماوكم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن مثل هذه ويقول " انما هلكت بنو اسراييل حين اتخذ هذه نساوهم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اس عورت پر جو دوسری عورت کے بال میں بال کو جوڑے، اور اس عورت پر اپنے بالوں میں اور بال جڑوائے، اور اس عورت پر دوسری عورت کا بدن گودے، اور نیل بھرے، اور اس عورت پر جو اپنا بدن گودوائے ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، ومسدد، قالا حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال حدثني نافع، عن عبد الله، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ نے جسم میں گودنے لگانے والیوں اور گودنے لگوانے والیوں پر لعنت کی ہے، ( محمد کی روایت میں ہے ) اور بال جوڑنے والیوں پر، ( اور عثمان کی روایت میں ہے ) اور اپنے بال اکھیڑنے والیوں پر، جو زیب و زینت کے واسطہ منہ کے روئیں اکھیڑتی ہیں، اور خوبصورتی کے لیے اپنے دانتوں میں کشادگی کرانے والیوں، اور اللہ کی بنائی ہوئی صورت کو بدلنے والیوں پر۔ تو یہ خبر قبیلہ بنی اسد کی ایک عورت ( ام یعقوب نامی ) کو پہنچی جو قرآن پڑھا کرتی تھی، تو وہ عبداللہ بن مسعود کے پاس آئی اور کہنے لگی: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں پر اور بال جوڑنے والیوں اور بال اکھیڑنے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والیوں پر خوبصورتی کے لیے جو اللہ کی بنائی ہوئی شکل تبدیل کر دیتی ہیں پر لعنت کی ہے؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: میں ان پر کیوں نہ لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہو اور وہ اللہ کی کتاب کی رو سے بھی ملعون ہوں؟ تو اس عورت نے کہا: میں تو پورا قرآن پڑھ چکی ہوں لیکن یہ مسئلہ مجھے اس میں کہیں نہیں ملا؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم نے اسے پڑھا ہوتا تو یہ مسئلہ ضرور پاتی پھر آپ نے آیت کریمہ «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» اور تمہیں جو کچھ رسول دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں رک جاؤ ( الحشر: ۷ ) پڑھی تو وہ بولی: میں نے تو اس میں سے بعض چیزیں آپ کی بیوی کو بھی کرتے دیکھا ہے، آپ نے کہا: اچھا اندر جاؤ اور دیکھو تو وہ اندر گئیں پھر باہر آئیں تو آپ نے پوچھا: تم نے کیا دیکھا ہے؟ تو اس عورت نے کہا: مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی تو آپ نے فرمایا: اگر وہ ایسا کرتی تو پھر میرے ساتھ نہ رہتی۔
حدثنا محمد بن عيسى، وعثمان بن ابي شيبة، - المعنى - قالا حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال لعن الله الواشمات والمستوشمات . قال محمد والواصلات وقال عثمان والمتنمصات ثم اتفقا والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله عز وجل . فبلغ ذلك امراة من بني اسد يقال لها ام يعقوب . زاد عثمان كانت تقرا القران ثم اتفقا فاتته فقالت بلغني عنك انك لعنت الواشمات والمستوشمات . قال محمد والواصلات وقال عثمان والمتنمصات ثم اتفقا والمتفلجات قال عثمان للحسن المغيرات خلق الله تعالى . فقال وما لي لا العن من لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في كتاب الله تعالى قالت لقد قرات ما بين لوحى المصحف فما وجدته . فقال والله لين كنت قراتيه لقد وجدتيه ثم قرا { وما اتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا } قالت اني ارى بعض هذا على امراتك . قال فادخلي فانظري . فدخلت ثم خرجت فقال ما رايت وقال عثمان فقالت ما رايت . فقال لو كان ذلك ما كانت معنا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ملعون قرار دی گئی ہے بال جوڑنے والی، اور جڑوانے والی، بال اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی، اور بغیر کسی بیماری کے گودنے لگانے والی اور گودنے لگوانے والی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «واصلة» اس عورت کو کہتے ہیں جو عورتوں کے بال میں بال جوڑے، اور «مستوصلة» اسے کہتے ہیں جو ایسا کروائے، اور «نامصة» وہ عورت ہے جو ابرو کے بال اکھیڑ کر باریک کرے، اور«متنمصة» وہ ہے جو ایسا کروائے، اور «واشمة» وہ عورت ہے جو چہرہ میں سرمہ یا سیاہی سے خال ( تل ) بنائے، اور «مستوشمة» وہ ہے جو ایسا کروائے۔
حدثنا ابن السرح، حدثنا ابن وهب، عن اسامة، عن ابان بن صالح، عن مجاهد بن جبر، عن ابن عباس، قال لعنت الواصلة والمستوصلة والنامصة والمتنمصة والواشمة والمستوشمة من غير داء . قال ابو داود وتفسير الواصلة التي تصل الشعر بشعر النساء والمستوصلة المعمول بها والنامصة التي تنقش الحاجب حتى ترقه والمتنمصة المعمول بها والواشمة التي تجعل الخيلان في وجهها بكحل او مداد والمستوشمة المعمول بها
سعید بن جبیر کہتے ہیں بالوں کی چوٹیاں بنا کر کسی چیز سے باندھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گویا وہ اس بات کی طرف جا رہے ہیں کہ جس سے منع کیا گیا ہے وہ دوسری عورت کے بال اپنے بال میں جوڑنا ہے نہ کہ اپنے بالوں کی چوٹی باندھنی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد کہتے تھے: چوٹی باندھنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدثنا محمد بن جعفر بن زياد، قال حدثنا شريك، عن سالم، عن سعيد بن جبير، قال لا باس بالقرامل . قال ابو داود كانه يذهب الى ان المنهي، عنه شعور النساء . قال ابو داود كان احمد يقول القرامل ليس به باس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے خوشبو کا ( تحفہ ) پیش کیا جائے تو وہ اسے لوٹائے نہیں کیونکہ وہ خوشبودار ہے اور اٹھانے میں ہلکا ہے ۱؎ ۔
حدثنا الحسن بن علي، وهارون بن عبد الله، - المعنى - ان ابا عبد الرحمن المقري، حدثهم عن سعيد بن ابي ايوب، عن عبيد الله بن ابي جعفر، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من عرض عليه طيب فلا يرده فانه طيب الريح خفيف المحمل
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت عطر لگائے پھر وہ لوگوں کے پاس سے اس لیے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ ایسی اور ایسی ہے آپ نے ( ایسی عورت کے متعلق ) بڑی سخت بات کہی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، اخبرنا ثابت بن عمارة، حدثني غنيم بن قيس، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا استعطرت المراة فمرت على القوم ليجدوا ريحها فهي كذا وكذا " . قال قولا شديدا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے ایک عورت ملی جس سے آپ نے خوشبو پھوٹتے محسوس کیا، اور اس کے کپڑے ہوا سے اڑ رہے تھے تو آپ نے کہا: جبار کی بندی! تم مسجد سے آئی ہو؟ وہ بولی: ہاں، انہوں نے کہا: تم نے مسجد جانے کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے؟ بولی: ہاں، آپ نے کہا: میں نے اپنے حبیب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اس عورت کی نماز قبول نہیں کی جاتی جو اس مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے، جب تک واپس لوٹ کر جنابت کا غسل نہ کر لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اعصار» غبار ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، عن عاصم بن عبيد الله، عن عبيد الله، مولى ابي رهم عن ابي هريرة، قال لقيته امراة وجد منها ريح الطيب ينفح ولذيلها اعصار فقال يا امة الجبار جيت من المسجد قالت نعم . قال وله تطيبت قالت نعم . قال اني سمعت حبي ابا القاسم صلى الله عليه وسلم يقول " لا تقبل صلاة لامراة تطيبت لهذا المسجد حتى ترجع فتغتسل غسلها من الجنابة " . قال ابو داود الاعصار غبار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے خوشبو کی دھونی لے رکھی ہو تو وہ ہمارے ساتھ عشاء کے لیے ( مسجد میں ) نہ آئے ( بلکہ وہ گھر ہی میں پڑھ لے ) ۔ ابن نفیل کی روایت میں «العشاء» کے بجائے «عشاء الآخرة» ہے ( یعنی عشاء کی صلاۃ ) ۔
حدثنا النفيلي، وسعيد بن منصور، قالا حدثنا عبد الله بن محمد ابو علقمة، قال حدثني يزيد بن خصيفة، عن بسر بن سعيد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما امراة اصابت بخورا فلا تشهدن معنا العشاء " . قال ابن نفيل " عشاء الاخرة
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس رات کو آیا، میرے دونوں ہاتھ پھٹے ہوئے تھے تو ان لوگوں نے اس میں زعفران کا خلوق ( ایک مرکب خوشبو ہے ) لگا دیا، پھر میں صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا تو آپ نے نہ میرے سلام کا جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا: جا کر اسے دھو ڈالو میں نے جا کر اسے دھو دیا، پھر آیا، اور میرے ہاتھ پر خلوق کا اثر ( دھبہ ) باقی رہ گیا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے میرے سلام کا جواب دیا اور نہ خوش آمدید کہا اور فرمایا: جا کر اسے دھو ڈالو میں گیا اور میں نے اسے دھویا، پھر آ کر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور خوش آمدید کہا، اور فرمایا: فرشتے کافر کے جنازہ میں کوئی خیر لے کر نہیں آتے، اور نہ اس شخص کے جو زعفران ملے ہو، نہ جنبی کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو رخصت دی کہ وہ سونے، کھانے، یا پینے کے وقت وضو کر لے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا عطاء الخراساني، عن يحيى بن يعمر، عن عمار بن ياسر، قال قدمت على اهلي ليلا وقد تشققت يداى فخلقوني بزعفران فغدوت على النبي صلى الله عليه وسلم فسلمت عليه فلم يرد على ولم يرحب بي فقال " اذهب فاغسل هذا عنك " . فذهبت فغسلته ثم جيت وقد بقي على منه ردع فسلمت فلم يرد على ولم يرحب بي وقال " اذهب فاغسل هذا عنك " . فذهبت فغسلته ثم جيت فسلمت عليه فرد على ورحب بي وقال " ان الملايكة لا تحضر جنازة الكافر بخير ولا المتضمخ بالزعفران ولا الجنب " . قال ورخص للجنب اذا نام او اكل او شرب ان يتوضا
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے خود اپنے ہاتھوں میں خلوق ملا، پہلی روایت زیادہ کامل ہے اس میں دھونے کا ذکر ہے ۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عمر بن عطاء سے پوچھا: وہ لوگ محرم تھے؟ کہا: نہیں، بلکہ سب مقیم تھے۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا محمد بن بكر، اخبرنا ابن جريج، اخبرني عمر بن عطاء بن ابي الخوار، انه سمع يحيى بن يعمر، يخبر عن رجل، اخبره عن عمار بن ياسر، - زعم عمر ان يحيى، سمى ذلك الرجل فنسي عمر اسمه - ان عمارا قال تخلقت بهذه القصة . والاول اتم بكثير فيه ذكر الغسل قال قلت لعمر وهم حرم قال لا القوم مقيمون
ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا جس کے بدن میں کچھ بھی خلوق ( زعفران سے مرکب خوشبو ) لگی ہو ۔
حدثنا زهير بن حرب الاسدي، حدثنا محمد بن عبد الله بن حرب الاسدي، حدثنا ابو جعفر الرازي، عن الربيع بن انس، عن جديه، قالا سمعنا ابا موسى، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقبل الله تعالى صلاة رجل في جسده شىء من خلوق " . قال ابو داود جداه زيد وزياد