Loading...

Loading...
کتب
۴۳ احادیث
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکاتب ۱؎ اس وقت تک غلام ہے جب تک اس کے بدل کتابت ( آزادی کی قیمت ) میں سے ایک درہم بھی اس کے ذمہ باقی ہے ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا ابو بدر، حدثني ابو عتبة، اسماعيل بن عياش حدثني سليمان بن سليم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المكاتب عبد ما بقي عليه من مكاتبته درهم
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس غلام نے سو اوقیہ پر مکاتبت کی ہو پھر اس نے اسے ادا کر دیا ہو سوائے دس اوقیہ کے تو وہ غلام ہی ہے ( ایسا نہیں ہو گا کہ جتنا اس نے ادا کر دیا اتنا وہ آزاد ہو جائے ) اور جس غلام نے سو دینار پر مکاتبت کی ہو پھر وہ اسے ادا کر دے سوائے دس دینار کے تو وہ غلام ہی رہے گا ( جب تک اسے پورا نہ ادا کر دے ) ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثني عبد الصمد، حدثنا همام، حدثنا عباس الجريري، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ايما عبد كاتب على ماية اوقية فاداها الا عشرة اواق فهو عبد وايما عبد كاتب على ماية دينار فاداها الا عشرة دنانير فهو عبد " . قال ابو داود ليس هو عباس الجريري قالوا هو وهم ولكنه هو شيخ اخر
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مکاتب غلام نبھان کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب تم عورتوں میں سے کسی کا کوئی مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا مال ہو جس سے وہ اپنا بدل کتابت ادا کر لے جائے تو تمہیں اس سے پردہ کرنا چاہیئے ( کیونکہ اب وہ آزاد کی طرح ہے ) ۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن نبهان، مكاتب ام سلمة قال سمعت ام سلمة، تقول قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان كان لاحداكن مكاتب فكان عنده ما يودي فلتحتجب منه
عروہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے بدل کتابت کی ادائیگی میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں ابھی اس میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اپنے آدمیوں سے جا کر پوچھ لو اگر انہیں یہ منظور ہو کہ تمہارا بدل کتابت ادا کر کے تمہاری ولاء ۱؎ میں لے لوں تو میں یہ کرتی ہوں، بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے آدمیوں سے جا کر اس کا ذکر کیا تو انہوں نے ولاء دینے سے انکار کیا اور کہا: اگر وہ اسے ثواب کی نیت سے کرنا چاہتی ہیں تو کریں، تمہاری ولاء ہماری ہی ہو گی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: تم خرید کر اسے آزاد کر دو ولاء تو اسی کی ہو گی جو آزاد کرے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( مسجد میں خطبہ کے لیے ) کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کا کیا حال ہے وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں، جو شخص بھی ایسی شرط لگائے جو اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو اس کی شرط صحیح نہ ہو گی اگرچہ وہ سو بار شرط لگائے، اللہ ہی کی شرط سچی اور مضبوط شرط ہے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، وقتيبة بن سعيد، قالا حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، ان عايشة، رضى الله عنها اخبرته ان بريرة جاءت عايشة تستعينها في كتابتها ولم تكن قضت من كتابتها شييا فقالت لها عايشة ارجعي الى اهلك فان احبوا ان اقضي عنك كتابتك ويكون ولاوك لي فعلت . فذكرت ذلك بريرة لاهلها فابوا وقالوا ان شاءت ان تحتسب عليك فلتفعل ويكون لنا ولاوك . فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابتاعي فاعتقي فانما الولاء لمن اعتق " . ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما بال اناس يشترطون شروطا ليست في كتاب الله من اشترط شرطا ليس في كتاب الله فليس له وان شرطه ماية مرة شرط الله احق واوثق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے بدل کتابت میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے لوگوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، لہٰذا آپ میری مدد کیجئے، تو انہوں نے کہا: اگر تمہارے لوگ چاہیں تو میں ایک ہی دفعہ انہیں دے دوں، اور تمہیں آزاد کر دوں البتہ تمہاری ولاء میری ہو گی ؛ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کے پاس گئیں پھر راوی پوری حدیث زہری والی روایت کی طرح بیان کی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ دوسروں سے کہتے ہیں: تم آزاد کر دو اور ولاء میں لوں گا ( کیسی لغو بات ہے ) ولاء تو اس کا حق ہے جو آزاد کرے ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت جاءت بريرة لتستعين في كتابتها فقالت اني كاتبت اهلي على تسع اواق في كل عام اوقية فاعينيني . فقالت ان احب اهلك ان اعدها عدة واحدة واعتقك ويكون ولاوك لي فعلت . فذهبت الى اهلها وساق الحديث نحو الزهري زاد في كلام النبي صلى الله عليه وسلم في اخره " ما بال رجال يقول احدهم اعتق يا فلان والولاء لي انما الولاء لمن اعتق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام المؤمنین جویریہ بنت حارث بن مصطلق رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئیں تو جویریہ نے ان سے مکاتبت کر لی، اور وہ ایک خوبصورت عورت تھیں جسے ہر شخص دیکھنے لگتا تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بدل کتابت میں تعاون مانگنے کے لیے آئیں، جب وہ دروازہ پر آ کر کھڑی ہوئیں تو میری نگاہ ان پر پڑی مجھے ان کا آنا اچھا نہ لگا اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ عنقریب آپ بھی ان کی وہی ملاحت دیکھیں گے جو میں نے دیکھی ہے، اتنے میں وہ بولیں: اللہ کے رسول! میں جویریہ بنت حارث ہوں، میرا جو حال تھا وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ۱؎ ثابت بن قیس کے حصہ میں گئی ہوں، میں نے ان سے مکاتبت کر لی ہے، اور آپ کے پاس اپنے بدل کتابت میں تعاون مانگنے آئی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس سے بہتر کی رغبت رکھتی ہو؟ وہ بولیں: وہ کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارا بدل کتابت ادا کر دیتا ہوں اور تم سے شادی کر لیتا ہوں وہ بولیں: میں کر چکی ( یعنی مجھے یہ بخوشی منظور ہے ) ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر جب لوگوں نے ایک دوسرے سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ سے شادی کر لی ہے تو بنی مصطلق کے جتنے قیدی ان کے ہاتھوں میں تھے سب کو چھوڑ دیا انہیں آزاد کر دیا، اور کہنے لگے کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرال والے ہیں، ہم نے کوئی عورت اتنی برکت والی نہیں دیکھی جس کی وجہ سے اس کی قوم کو اتنا زبردست فائدہ ہوا ہو، ان کی وجہ سے بنی مصطلق کے سو قیدی آزاد ہوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے اس بات کی کہ ولی خود نکاح کر سکتا ہے۔
حدثنا عبد العزيز بن يحيى ابو الاصبغ الحراني، حدثني محمد، - يعني ابن سلمة - عن ابن اسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزبير، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت وقعت جويرية بنت الحارث بن المصطلق في سهم ثابت بن قيس بن شماس او ابن عم له فكاتبت على نفسها وكانت امراة ملاحة تاخذها العين - قالت عايشة رضى الله عنها - فجاءت تسال رسول الله صلى الله عليه وسلم في كتابتها فلما قامت على الباب فرايتها كرهت مكانها وعرفت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيرى منها مثل الذي رايت فقالت يا رسول الله انا جويرية بنت الحارث وانما كان من امري ما لا يخفى عليك واني وقعت في سهم ثابت بن قيس بن شماس واني كاتبت على نفسي فجيتك اسالك في كتابتي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فهل لك الى ما هو خير منه " . قالت وما هو يا رسول الله قال " اودي عنك كتابتك واتزوجك " . قالت قد فعلت قالت فتسامع - تعني الناس - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد تزوج جويرية فارسلوا ما في ايديهم من السبى فاعتقوهم وقالوا اصهار رسول الله صلى الله عليه وسلم فما راينا امراة كانت اعظم بركة على قومها منها اعتق في سببها ماية اهل بيت من بني المصطلق . قال ابو داود هذا حجة في ان الولي هو يزوج نفسه
سفینہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا، وہ مجھ سے بولیں: میں تمہیں آزاد کرتی ہوں، اور شرط لگاتی ہوں کہ تم جب تک زندہ رہو گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہو گے، تو میں نے ان سے کہا: اگر آپ مجھ سے یہ شرط نہ بھی لگاتیں تو بھی میں جیتے جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے جدا نہ ہوتا، پھر انہوں نے مجھے اسی شرط پر آزاد کر دیا۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا عبد الوارث، عن سعيد بن جمهان، عن سفينة، قال كنت مملوكا لام سلمة فقالت اعتقك واشترط عليك ان تخدم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما عشت . فقلت ان لم تشترطي على ما فارقت رسول الله صلى الله عليه وسلم ما عشت فاعتقتني واشترطت على
اسامہ بن عمیر الہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو نافذ کر دیا۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا همام، ح وحدثنا محمد بن كثير، - المعنى - اخبرنا همام، عن قتادة، عن ابي المليح، - قال ابو الوليد - عن ابيه، ان رجلا، اعتق شقصا له من غلام فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " ليس لله شريك " . زاد ابن كثير في حديثه فاجاز النبي صلى الله عليه وسلم عتقه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص نے کسی غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو نافذ کر دیا اور اس سے اس کے بقیہ قیمت کا تاوان دلایا۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا همام، عن قتادة، عن النضر بن انس، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة، ان رجلا، اعتق شقصا له من غلام فاجاز النبي صلى الله عليه وسلم عتقه وغرمه بقية ثمنه
قتادہ اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس نے کسی ایسے غلام کو جو اس کے اور کسی اور کے درمیان مشترک ہے آزاد کیا تو اس کے ذمہ اس کی مکمل خلاصی ہو گی ۱؎ ، یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، ح وحدثنا احمد بن علي بن سويد، حدثنا روح، قالا حدثنا شعبة، عن قتادة، باسناده عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اعتق مملوكا بينه وبين اخر فعليه خلاصه " . وهذا لفظ ابن سويد
قتادہ اس سند سے بھی روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو وہ غلام اس کے مال سے پورا آزاد ہو گا اگر اس کے پاس مال ہے ۔ اور ابن مثنی نے نضر بن انس کا ذکر نہیں کیا ہے، اور یہ ابن سوید کے الفاظ ہیں۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي ح، وحدثنا احمد بن علي بن سويد، حدثنا روح، حدثنا هشام بن ابي عبد الله، عن قتادة، باسناده ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اعتق نصيبا له في مملوك عتق من ماله ان كان له مال " . ولم يذكر ابن المثنى النضر بن انس وهذا لفظ ابن سويد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے مکمل خلاصی دلائے اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اور شریکوں کے حصوں کے بقدر اس سے محنت کرائی جائے گی، بغیر اسے مشقت میں ڈالے ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا ابان، - يعني العطار - حدثنا قتادة، عن النضر بن انس، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من اعتق شقيصا في مملوكه فعليه ان يعتقه كله ان كان له مال والا استسعي العبد غير مشقوق عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگر وہ مالدار ہے تو اس پر اس کی مکمل خلاصی لازم ہو گی اور اگر وہ مالدار نہیں ہے تو غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اس قیمت میں دوسرے شریک کے حصہ کے بقدر اس سے اس طرح محنت کرائی جائے گی کہ وہ مشقت میں نہ پڑے ( یہ علی کے الفاظ ہیں ) ۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا يزيد، - يعني ابن زريع - ح وحدثنا علي بن عبد الله، حدثنا محمد بن بشر، - وهذا لفظه - عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن النضر بن انس، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اعتق شقصا له - او شقيصا له - في مملوك فخلاصه عليه في ماله ان كان له مال فان لم يكن له مال قوم العبد قيمة عدل ثم استسعي لصاحبه في قيمته غير مشقوق عليه " . قال ابو داود في حديثهما جميعا " فاستسعي غير مشقوق عليه " . وهذا لفظ علي
اس سند سے سعید سے بھی اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے روح بن عبادہ نے سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے انہوں نے «سعایہ» کا ذکر نہیں کیا ہے، اور اسے جریر بن حازم اور موسیٰ بن خلف نے قتادہ سے یزید بن زریع کی سند سے اسی کے مفہوم کے ساتھ روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں «سعایہ» کا ذکر کیا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى، وابن ابي عدي، عن سعيد، باسناده ومعناه . قال ابو داود ورواه روح بن عبادة عن سعيد بن ابي عروبة، لم يذكر السعاية ورواه جرير بن حازم وموسى بن خلف جميعا عن قتادة، باسناد يزيد بن زريع ومعناه وذكرا فيه السعاية
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( مشترک ) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگا کر ہر ایک شریک کو اس کے حصہ کے مطابق ادا کرے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی حصہ آزاد رہے گا ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اعتق شركا له في مملوك اقيم عليه قيمة العدل فاعطى شركاءه حصصهم واعتق عليه العبد والا فقد عتق منه ما عتق
اس سند سے بھی اسی مفہوم کی روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے۔ راوی کہتے ہیں: نافع نے کبھی «فقد عتق منه ما عتق» کی روایت کی ہے اور کبھی نہیں کی ہے۔
حدثنا مومل، حدثنا اسماعيل، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه قال وكان نافع ربما قال " فقد عتق منه ما عتق " . وربما لم يقله
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے ایوب کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ «وإلا عتق منه ما عتق»نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا حصہ ہے یا نافع کا قول ہے۔
حدثنا سليمان بن داود، حدثنا حماد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث قال ايوب فلا ادري هو في الحديث عن النبي صلى الله عليه وسلم او شىء قاله نافع والا عتق منه ما عتق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( مشترک ) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو اس پر اس کی مکمل آزادی لازم ہے اگر اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اس کی قیمت کو پہنچ سکے، اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو صرف اس کا حصہ آزاد ہو گا ( اور باقی شرکاء کو اختیار ہو گا چاہیں تو آزاد کریں اور چاہیں تو غلام رہنے دیں ) ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عيسى بن يونس، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اعتق شركا من مملوك له فعليه عتقه كله ان كان له ما يبلغ ثمنه وان لم يكن له مال عتق نصيبه
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ابراہیم بن موسیٰ کی روایت کے ہم معنی روایت مرفوعاً مروی ہے۔
حدثنا مخلد بن خالد، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا يحيى بن سعيد، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعنى ابراهيم بن موسى
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مالک کی روایت کے ہم معنی روایت مرفوعاً مروی ہے مگر اس میں: «وإلا فقد عتق منه ما عتق» کا ٹکڑا مذکور نہیں اور «وأعتق عليه العبد» کے ٹکڑے ہی پر روایت ختم ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن محمد بن اسماء، حدثنا جويرية، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعنى مالك ولم يذكر " والا فقد عتق منه ما عتق " . انتهى حديثه الى " واعتق عليه العبد " . على معناه