احادیث
#3930
سنن ابی داؤد - The Book of Manumission of Slaves
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے بدل کتابت میں تعاون کے لیے ان کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں نے اپنے لوگوں سے نو اوقیہ پر مکاتبت کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، لہٰذا آپ میری مدد کیجئے، تو انہوں نے کہا: اگر تمہارے لوگ چاہیں تو میں ایک ہی دفعہ انہیں دے دوں، اور تمہیں آزاد کر دوں البتہ تمہاری ولاء میری ہو گی ؛ چنانچہ وہ اپنے لوگوں کے پاس گئیں پھر راوی پوری حدیث زہری والی روایت کی طرح بیان کی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے آخر میں یہ اضافہ کیا کہ: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ دوسروں سے کہتے ہیں: تم آزاد کر دو اور ولاء میں لوں گا ( کیسی لغو بات ہے ) ولاء تو اس کا حق ہے جو آزاد کرے ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت جاءت بريرة لتستعين في كتابتها فقالت اني كاتبت اهلي على تسع اواق في كل عام اوقية فاعينيني . فقالت ان احب اهلك ان اعدها عدة واحدة واعتقك ويكون ولاوك لي فعلت . فذهبت الى اهلها وساق الحديث نحو الزهري زاد في كلام النبي صلى الله عليه وسلم في اخره " ما بال رجال يقول احدهم اعتق يا فلان والولاء لي انما الولاء لمن اعتق
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- The Book of Manumission of Slaves
- Hadith Index
- #3930
- Book Index
- 5
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidSahih
- Shuaib Al ArnautSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Bukhari (2563) Sahih Muslim (1504)
