Loading...

Loading...
کتب
۴۳ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( مشترک ) غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے تو جتنا حصہ باقی بچا ہے وہ بھی اسی کے مال سے آزاد ہو گا بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ غلام کی قیمت کو پہنچ سکے ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اعتق شركا له في عبد عتق منه ما بقي في ماله اذا كان له ما يبلغ ثمن العبد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک شخص اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر آزاد کرنے والا مالدار ہو تو اس غلام کی واجبی قیمت ٹھہرائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ پھر وہ غلام آزاد کر دیا جائے گا ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن سالم، عن ابيه، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم " اذا كان العبد بين اثنين فاعتق احدهما نصيبه فان كان موسرا يقوم عليه قيمة لا وكس ولا شطط ثم يعتق
تلب بن ثعلبہ تمیمی عنبری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باقی قیمت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ احمد کہتے ہیں: ( صحابی کا نام ) تلب تائے فوقانیہ سے ہے نہ کہ ثلب ثائے مثلثہ سے اور راوی حدیث شعبہ ہکلے تھے یعنی ان کی زبان سے تاء ادا نہیں ہوتی تھی وہ تاء کو ثاء کہتے تھے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن خالد، عن ابي بشر العنبري، عن ابن التلب، عن ابيه، ان رجلا، اعتق نصيبا له من مملوك فلم يضمنه النبي صلى الله عليه وسلم . قال احمد انما هو بالتاء - يعني التلب - وكان شعبة الثغ لم يبين التاء من الثاء
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو وہ ( ملکیت میں آتے ہی ) آزاد ہو جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن بکر برسانی نے حماد بن سلمہ سے، حماد نے قتادہ اور عاصم سے، انہوں نے حسن سے، حسن نے سمرہ سے، سمرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اس حدیث کو حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور انہیں اس میں شک ہے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، وموسى بن اسماعيل، قالا حدثنا حماد بن سلمة، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم وقال موسى في موضع اخر عن سمرة بن جندب فيما يحسب حماد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ملك ذا رحم محرم فهو حر " . قال ابو داود روى محمد بن بكر البرساني عن حماد بن سلمة عن قتادة وعاصم عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل ذلك الحديث . قال ابو داود ولم يحدث ذلك الحديث الا حماد بن سلمة وقد شك فيه
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو وہ ( ملکیت میں آتے ہی ) آزاد ہو جائے گا۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا عبد الوهاب، عن سعيد، عن قتادة، ان عمر بن الخطاب، - رضى الله عنه - قال من ملك ذا رحم محرم فهو حر
حسن کہتے ہیں جو کسی قرابت دار محرم کا مالک ہو جائے تو ( وہ ملکیت میں آتے ہی ) آزاد ہو جائے گا۔
حدثنا محمد بن سليمان، حدثنا عبد الوهاب، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، قال من ملك ذا رحم محرم فهو حر
جابر بن زید اور حسن سے بھی اسی کے ہم مثل مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید حماد ( حماد بن سلمہ ) سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن سعيد، عن قتادة، عن جابر بن زيد، والحسن، مثله . قال ابو داود سعيد احفظ من حماد
بنی خارجہ قیس عیلان کی ایک خاتون سلامہ بنت معقل کہتی ہیں کہ جاہلیت میں مجھے میرے چچا لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ بیچ دیا، ان سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، پھر وہ مر گئے تو ان کی بیوی کہنے لگی: قسم اللہ کی اب تو ان کے قرضہ میں بیچی جائے گی، یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بنی خارجہ قیس عیلان کی ایک خاتون ہوں، جاہلیت میں میرے چچا مدینہ لے کر آئے اور ابوالیسر بن عمرو کے بھائی حباب بن عمرو کے ہاتھ مجھے بیچ دیا ان سے میرے بطن سے عبدالرحمٰن بن حباب پیدا ہوئے، اب ان کی بیوی کہتی ہے: قسم اللہ کی تو ان کے قرض میں بیچی جائے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: حباب کا وارث کون ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: ان کے بھائی ابوالیسر بن عمرو ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہلا بھیجا کہ اسے ( سلامہ کو ) آزاد کر دو، اور جب تم سنو کہ میرے پاس غلام اور لونڈی آئے ہیں تو میرے پاس آنا، میں تمہیں اس کا عوض دوں گا، سلامہ کہتی ہیں: یہ سنا تو ان لوگوں نے مجھے آزاد کر دیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام اور لونڈی آئے تو آپ نے میرے عوض میں انہیں ایک غلام دے دیا۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن خطاب بن صالح، مولى الانصاري عن امه، عن سلامة بنت معقل، - امراة من خارجة قيس عيلان - قالت قدم بي عمي في الجاهلية فباعني من الحباب بن عمرو اخي ابي اليسر بن عمرو فولدت له عبد الرحمن بن الحباب ثم هلك فقالت امراته الان والله تباعين في دينه فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله اني امراة من خارجة قيس عيلان قدم بي عمي المدينة في الجاهلية فباعني من الحباب بن عمرو اخي ابي اليسر بن عمرو فولدت له عبد الرحمن بن الحباب فقالت امراته الان والله تباعين في دينه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ولي الحباب " . قيل اخوه ابو اليسر بن عمرو فبعث اليه فقال " اعتقوها فاذا سمعتم برقيق قدم على فاتوني اعوضكم منها " . قالت فاعتقوني وقدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم رقيق فعوضهم مني غلاما
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ام ولد ۱؎ کو بیچا کرتے تھے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے ہمیں اس کے بیچنے سے روک دیا چنانچہ ہم رک گئے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن قيس، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال بعنا امهات الاولاد على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وابي بكر فلما كان عمر نهانا فانتهينا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا اور اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیچنے کا حکم دیا تو وہ سات سویا نو سو میں بیچا گیا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا هشيم، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، واسماعيل بن ابي خالد، عن سلمة بن كهيل، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله، ان رجلا، اعتق غلاما له عن دبر منه ولم يكن له مال غيره فامر به النبي صلى الله عليه وسلم فبيع بسبعماية او بتسعماية
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ مجھ سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے یہی روایت بیان کی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس غلام کی قیمت کے زیادہ حقدار تم ہو اور اللہ اس سے بےپرواہ ہے ( یعنی اگر آزاد ہوتا تو اللہ زیادہ خوش ہوتا پر وہ بے نیاز ہے، اور بندہ محتاج ہے ) ۔
حدثنا جعفر بن مسافر، حدثنا بشر بن بكر، اخبرنا الاوزاعي، حدثني عطاء بن ابي رباح، حدثني جابر بن عبد الله، بهذا زاد وقال - يعني النبي صلى الله عليه وسلم - " انت احق بثمنه والله اغنى عنه
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک ابومذکور نامی انصاری نے اپنے یعقوب نامی ایک غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کر دیا، اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: اسے کون خریدتا ہے؟ چنانچہ نعیم بن عبداللہ بن نحام نے آٹھ سو درہم میں اسے خرید لیا تو آپ نے اسے انصاری کو دے دیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی محتاج ہو تو اسے اپنی ذات سے شروع کرنا چاہیئے، پھر جو اپنے سے بچ رہے تو اسے اپنے بال بچوں پر صرف کرے پھر اگر ان سے بچ رہے تو اپنے قرابت داروں پر خرچ کرے یا فرمایا: اپنے ذی رحم رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر ان سے بھی بچ رہے تو یہاں وہاں خرچ کرے ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا ايوب، عن ابي الزبير، عن جابر، ان رجلا، من الانصار يقال له ابو مذكور اعتق غلاما له يقال له يعقوب عن دبر ولم يكن له مال غيره فدعا به رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " من يشتريه " . فاشتراه نعيم بن عبد الله بن النحام بثمانماية درهم فدفعها اليه ثم قال " اذا كان احدكم فقيرا فليبدا بنفسه فان كان فيها فضل فعلى عياله فان كان فيها فضل فعلى ذي قرابته " . او قال " على ذي رحمه فان كان فضلا فها هنا وها هنا
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اسے سخت سست کہا پھر انہیں بلایا اور ان کے تین حصے کئے: پھر ان میں قرعہ اندازی کی پھر ان میں سے دو کو ( جن کے نام قرعہ میں نکلے ) آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي المهلب، عن عمران بن حصين، ان رجلا، اعتق ستة اعبد عند موته ولم يكن له مال غيرهم فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال له قولا شديدا ثم دعاهم فجزاهم ثلاثة اجزاء فاقرع بينهم فاعتق اثنين وارق اربعة
اس سند سے بھی ابوقلابہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اور اس میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سخت سست کہا۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن المختار - حدثنا خالد، عن ابي قلابة، باسناده ومعناه ولم يقل فقال له قولا شديدا
ابوزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے … آگے انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اس میں یہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اس کے دفن کئے جانے سے پہلے موجود ہوتا تو وہ مسلمانوں کے قبرستان میں نہ دفنایا جاتا ۔
حدثنا وهب بن بقية، حدثنا خالد بن عبد الله، - هو الطحان - عن خالد، عن ابي قلابة، عن ابي زيد، ان رجلا، من الانصار بمعناه وقال - يعني النبي صلى الله عليه وسلم - " لو شهدته قبل ان يدفن لم يدفن في مقابر المسلمين
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ کے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا پھر یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی پھر دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی باقی رکھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن يحيى بن عتيق، وايوب، عن محمد بن سيرين، عن عمران بن حصين، ان رجلا، اعتق ستة اعبد عند موته ولم يكن له مال غيرهم فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فاقرع بينهم فاعتق اثنين وارق اربعة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی غلام کو آزاد کرے اور اس کے پاس مال ہو تو غلام کا مال آزاد کرنے والے کا ہے اِلا یہ کہ مالک اس کو غلام کو دیدے ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني ابن لهيعة، والليث بن سعد، عن عبيد الله بن ابي جعفر، عن بكير بن الاشج، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اعتق عبدا وله مال فمال العبد له الا ان يشترطه السيد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زنا کا بچہ تینوں میں سب سے برا ہے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی راہ میں ایک کوڑا دینا میرے نزدیک ولد الزنا کو آزاد کرنے سے بہتر ہے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا جرير، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ولد الزنا شر الثلاثة " . وقال ابو هريرة لان امتع بسوط في سبيل الله عز وجل احب الى من ان اعتق ولد زنية
غریف بن دیلمی کہتے ہیں ہم واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجئے جس میں کوئی زیادتی و کمی نہ ہو، تو وہ ناراض ہو گئے اور بولے: تم میں سے کوئی قرآن پڑھتا ہے اور اس کے گھر میں مصحف لٹک رہا ہے تو وہ اس میں کمی و زیادتی کرتا ہے، ہم نے کہا: ہمارا مقصد یہ ہے کہ آپ ہم سے ایسی حدیث بیان کریں جسے آپ نے ( براہ راست ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک ساتھی کا مسئلہ لے کر آئے جس نے قتل کا ارتکاب کر کے اپنے اوپر جہنم کو واجب کر لیا تھا، آپ نے فرمایا: اس کی طرف سے غلام آزاد کرو، اللہ تعالیٰ اس کے ہرہر جوڑ کے بدلہ اس کا ہر جوڑ جہنم سے آزاد کر دے گا ۔
حدثنا عيسى بن محمد الرملي، حدثنا ضمرة، عن ابراهيم بن ابي عبلة، عن الغريف بن الديلمي، قال اتينا واثلة بن الاسقع فقلنا له حدثنا حديثا، ليس فيه زيادة ولا نقصان فغضب وقال ان احدكم ليقرا ومصحفه معلق في بيته فيزيد وينقص . قلنا انما اردنا حديثا سمعته من النبي صلى الله عليه وسلم . قال اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في صاحب لنا اوجب - يعني - النار بالقتل فقال " اعتقوا عنه يعتق الله بكل عضو منه عضوا منه من النار
ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف کے محل کا محاصرہ کیا۔ معاذ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کو طائف کا محل اور طائف کا قلعہ دونوں کہتے سنا ہے۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کی راہ میں تیر مارا تو اس کے لیے ایک درجہ ہے پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: جس مسلمان مرد نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ شخص کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا، اور جس عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر ہڈی کے لیے اس کے آزاد کردہ عورت کی ہر ہڈی کو جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن سالم بن ابي الجعد، عن معدان بن ابي طلحة اليعمري، عن ابي نجيح السلمي، قال حاصرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بقصر الطايف - قال معاذ سمعت ابي يقول بقصر الطايف بحصن الطايف كل ذلك - فسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من بلغ بسهم في سبيل الله عز وجل فله درجة " . وساق الحديث وسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ايما رجل مسلم اعتق رجلا مسلما فان الله عز وجل جاعل وقاء كل عظم من عظامه عظما من عظام محرره من النار وايما امراة اعتقت امراة مسلمة فان الله جاعل وقاء كل عظم من عظامها عظما من عظام محررها من النار يوم القيامة