Loading...

Loading...
کتب
۱۱۹ احادیث
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ حرہ میں قیام کیا، تو ایک شخص نے اس سے کہا: میری ایک اونٹنی کھو گئی ہے اگر تم اسے پانا تو اپنے پاس رکھ لینا، اس نے اسے پا لیا لیکن اس کے مالک کو نہیں پاس کا پھر وہ بیمار ہو گئی، تو اس کی بیوی نے کہا: اسے ذبح کر ڈالو، لیکن اس نے انکار کیا، پھر اونٹنی مر گئی تو اس کی بیوی نے کہا: اس کی کھال نکال لو تاکہ ہم اس کی چربی اور گوشت سکھا کر کھا سکیں، اس نے کہا: جب تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہیں لیتا ایسا نہیں کر سکتا چنانچہ وہ آپ کے پاس آیا اور اس کے متعلق آپ سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی اور چیز ہے جو تجھے ( مردار کھانے سے ) بے نیاز کرے اس شخص نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم کھاؤ ۔ راوی کہتے ہیں: اتنے میں اس کا مالک آ گیا، تو اس نے اسے سارا واقعہ بتایا تو اس نے کہا: تو نے اسے کیوں نہیں ذبح کر لیا؟ اس نے کہا: میں نے تم سے شرم محسوس کی ( اور بغیر اجازت ایسا کرنا میں نے مناسب نہیں سمجھا ) ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، ان رجلا، نزل الحرة ومعه اهله وولده فقال رجل ان ناقة لي ضلت فان وجدتها فامسكها . فوجدها فلم يجد صاحبها فمرضت فقالت امراته انحرها . فابى فنفقت فقالت اسلخها حتى نقدد شحمها ولحمها وناكله . فقال حتى اسال رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتاه فساله فقال " هل عندك غنى يغنيك " . قال لا . قال " فكلوها " . قال فجاء صاحبها فاخبره الخبر فقال " هلا كنت نحرتها " . قال استحييت منك
فجیع عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا: مردار میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کھانا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم شام کو دودھ پیتے ہیں اور صبح کو دودھ پیتے ہیں۔ ابونعیم کہتے ہیں: عقبہ نے مجھ سے اس کی تفسیر یہ کی کہ صبح کو ایک پیالہ پیتے ہیں اور شام کو ایک پیالہ پیتے ہیں میرا کل یہی کھانا ہے قسم ہے میرے والد کی میں بھوکا رہتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت حال میں ان کے لیے مردار کو حلال کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «غبوق» کے معنی دن کے آخری حصہ کے ہیں اور «صبوح» کے معنی دن کے شروع حصہ کے ہیں۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا الفضل بن دكين، حدثنا عقبة بن وهب بن عقبة العامري، قال سمعت ابي يحدث، عن الفجيع العامري، انه اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ما يحل لنا من الميتة قال " ما طعامكم " . قلنا نغتبق ونصطبح . قال ابو نعيم فسره لي عقبة قدح غدوة وقدح عشية . قال " ذاك - وابي - الجوع " . فاحل لهم الميتة على هذه الحال . قال ابو داود الغبوق من اخر النهار والصبوح من اول النهار
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے گندمی رنگ کے گیہوں کی سفید روٹی جو گھی اور دودھ میں چپڑی ہوئی ہو بہت محبوب ہے تو قوم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اسے بنا کر آپ کی خدمت میں لایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کس برتن میں تھا؟ اس نے کہا: سانڈا ( سوسمار ) کی کھال کے بنے ہوئے ایک برتن میں تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اسے اٹھا لے جاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اس حدیث میں وارد ایوب، ایوب سختیانی نہیں ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد العزيز بن ابي رزمة، اخبرنا الفضل بن موسى، عن حسين بن واقد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وددت ان عندي خبزة بيضاء من برة سمراء ملبقة بسمن ولبن " . فقام رجل من القوم فاتخذه فجاء به فقال " في اى شىء كان هذا " . قال في عكة ضب قال " ارفعه " . قال ابو داود هذا حديث منكر . قال ابو داود وايوب ليس هو السختياني
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پنیر لائی گئی آپ نے چھری منگائی اور بسم الله پڑھ کر اسے کاٹا۔
حدثنا يحيى بن موسى البلخي، حدثنا ابراهيم بن عيينة، عن عمرو بن منصور، عن الشعبي، عن ابن عمر، قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم بجبنة في تبوك فدعا بسكين فسمى وقطع
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا سفيان، عن محارب بن دثار، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " نعم الادام الخل
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، ومسلم بن ابراهيم، قالا حدثنا المثنى بن سعيد، عن طلحة بن نافع، عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " نعم الادام الخل
عطا بن ابی رباح کا بیان ہے کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے الگ رہے یا آپ نے فرمایا: ہماری مسجد سے الگ رہے، اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک طبق لایا گیا جس میں کچھ سبزیاں تھیں، آپ نے اس میں بو محسوس کی تو پوچھا: کس چیز کی سبزی ہے؟ تو اس میں جس چیز کی سبزی تھی آپ کو بتایا گیا، تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض ساتھیوں کے پاس لے جانے کو کہا جو آپ کے ساتھ تھے تو جب دیکھا کہ یہ لوگ بھی اسے کھانا ناپسند کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کھاؤ کیونکہ میں ایسی ذات سے سرگوشی کرتا ہوں جس سے تم نہیں کرتے ۔ احمد بن صالح کہتے ہیں: ابن وہب نے بدر کی تفسیر طبق سے کی ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، حدثني عطاء بن ابي رباح، ان جابر بن عبد الله، قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اكل ثوما او بصلا فليعتزلنا - او ليعتزل مسجدنا - وليقعد في بيته " . وانه اتي ببدر فيه خضرات من البقول فوجد لها ريحا فسال فاخبر بما فيها من البقول فقال " قربوها " . الى بعض اصحابه كان معه فلما راه كره اكلها قال " كل فاني اناجي من لا تناجي " . قال احمد بن صالح ببدر فسره ابن وهب طبق
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لہسن اور پیاز کا ذکر کیا گیا اور عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ان میں سب سے زیادہ سخت لہسن ہے کیا آپ اسے حرام کرتے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کھاؤ اور جو شخص اسے کھائے وہ اس مسجد ( مسجد نبوی ) میں اس وقت تک نہ آئے جب تک اس کی بو نہ جاتی رہے ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو، ان بكر بن سوادة، حدثه ان ابا النجيب مولى عبد الله بن سعد حدثه ان ابا سعيد الخدري حدثه انه، ذكر عند رسول الله صلى الله عليه وسلم الثوم والبصل قيل يا رسول الله واشد ذلك كله الثوم افتحرمه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " كلوه ومن اكله منكم فلا يقرب هذا المسجد حتى يذهب ريحه منه
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قبلہ کی جانب تھوکا تو اس کا تھوک قیامت کے دن اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لگا ہوا آئے گا، اور جس نے ان گندی سبزیوں کو کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الشيباني، عن عدي بن ثابت، عن زر بن حبيش، عن حذيفة، اظنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من تفل تجاه القبلة جاء يوم القيامة تفله بين عينيه ومن اكل من هذه البقلة الخبيثة فلا يقربن مسجدنا " . ثلاثا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس درخت ( لہسن ) سے کھائے وہ مسجدوں کے قریب نہ آئے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اكل من هذه الشجرة فلا يقربن المساجد
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں لہسن کھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد آیا میری ایک رکعت چھوٹ گئی تھی، جب میں مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن کی بو محسوس کی، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کر چکے تو فرمایا: جو شخص اس درخت ( لہسن ) سے کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے یہاں تک کہ اس کی بو جاتی رہے ۔ راوی کو شک ہے آپ نے «ريحها» کہا یا «ريحه» کہا، تو جب میں نے نماز پوری کر لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی آپ اپنا ہاتھ مجھے دیجئیے، وہ کہتے ہیں: میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کرتے کے آستین میں داخل کیا اور سینہ تک لے گیا، تو میرا سینہ بندھا ہوا نکلا آپ نے فرمایا: بلاشبہ تو معذور ہے ۱؎ ۔
حدثنا شيبان بن فروخ، حدثنا ابو هلال، حدثنا حميد بن هلال، عن ابي بردة، عن المغيرة بن شعبة، قال اكلت ثوما فاتيت مصلى النبي صلى الله عليه وسلم وقد سبقت بركعة فلما دخلت المسجد وجد النبي صلى الله عليه وسلم ريح الثوم فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاته قال " من اكل من هذه الشجرة فلا يقربنا حتى يذهب ريحها " . او " ريحه " . فلما قضيت الصلاة جيت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله والله لتعطيني يدك . قال فادخلت يده في كم قميصي الى صدري فاذا انا معصوب الصدر قال " ان لك عذرا
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو درختوں سے منع کیا، اور فرمایا: جو شخص انہیں کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور فرمایا: اگر تمہیں کھانا ضروری ہی ہو تو انہیں پکا کر مار دو ۔ راوی کہتے ہیں: آپ کی مراد پیاز اور لہسن سے تھی۔
حدثنا عباس بن عبد العظيم، حدثنا ابو عامر عبد الملك بن عمرو، حدثنا خالد بن ميسرة، - يعني العطار - عن معاوية بن قرة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن هاتين الشجرتين وقال " من اكلهما فلا يقربن مسجدنا " . وقال " ان كنتم لا بد اكليهما فاميتوهما طبخا " . قال يعني البصل والثوم
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں لہسن کھانے سے منع فرمایا گیا ہے مگر یہ کہ پکا ہوا ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شریک ( جن کا ذکر سند میں آیا ہے ) وہ شریک بن حنبل ہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا الجراح ابو وكيع، عن ابي اسحاق، عن شريك، عن علي، عليه السلام قال نهي عن اكل الثوم، الا مطبوخا . قال ابو داود شريك بن حنبل
ابوزیاد خیار بن سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پیاز کے متعلق پوچھا کیا تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری کھانا تناول کیا اس میں پیاز تھی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا ح، وحدثنا حيوة بن شريح، حدثنا بقية، عن بحير، عن خالد، عن ابي زياد، خيار بن سلمة انه سال عايشة عن البصل، فقالت ان اخر طعام اكله رسول الله صلى الله عليه وسلم طعام فيه بصل
یوسف بن عبداللہ بن سلام کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اور اس پر کھجور رکھا اور فرمایا: یہ اس کا سالن ہے ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، عن محمد بن ابي يحيى، عن يزيد الاعور، عن يوسف بن عبد الله بن سلام، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم اخذ كسرة من خبز شعير فوضع عليها تمرة وقال " هذه ادام هذه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر کے لوگ فاقہ سے ہوں گے ۱؎ ۔
حدثنا الوليد بن عتبة، حدثنا مروان بن محمد، حدثنا سليمان بن بلال، حدثني هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " بيت لا تمر فيه جياع اهله
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ پرانے کھجور لائے گئے تو آپ اس میں سے چن چن کر کیڑے ( سرسریاں ) نکالنے لگے۔
حدثنا محمد بن عمرو بن جبلة، حدثنا سلم بن قتيبة ابو قتيبة، عن همام، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم بتمر عتيق فجعل يفتشه يخرج السوس منه
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور لایا جاتا جس میں کیڑے ( سرسریاں ) ہوتے، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا همام، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يوتى بالتمر فيه دود فذكر معناه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی کھجوریں ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا الا یہ کہ تم اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لو۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى، حدثنا ابن فضيل، عن ابي اسحاق، عن جبلة بن سحيم، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الاقران الا ان تستاذن اصحابك
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ککڑی پکی ہوئی تازی کھجور کے ساتھ کھاتے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن عبد الله بن جعفر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان ياكل القثاء بالرطب