Loading...

Loading...
کتب
۱۱۹ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تربوز یا خربوزہ پکی ہوئی تازہ کھجور کے ساتھ کھاتے تھے اور فرماتے تھے: ہم اس ( کھجور ) کی گرمی کو اس ( تربوز ) کی ٹھنڈک سے اور اس ( تربوز ) کی ٹھنڈک کو اس ( کھجور ) کی گرمی سے توڑتے ہیں ۔
حدثنا سعيد بن نصير، حدثنا ابو اسامة، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ياكل البطيخ بالرطب فيقول " نكسر حر هذا ببرد هذا وبرد هذا بحر هذا
بسر سلمی کے لڑکے عبداللہ و عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپ کی خدمت میں مکھن اور کھجور پیش کیا، آپ مکھن اور کھجور پسند کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن الوزير، حدثنا الوليد بن مزيد، قال سمعت ابن جابر، قال حدثني سليم بن عامر، عن ابنى، بسر السلميين قالا دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقدمنا زبدا وتمرا وكان يحب الزبد والتمر
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کرتے تھے تو ہم مشرکین کے برتن اور مشکیزے پاتے تو انہیں کام میں لاتے تو آپ اس کی وجہ سے ہم پر کوئی نکیر نہیں فرماتے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبد الاعلى، واسماعيل، عن برد بن سنان، عن عطاء، عن جابر، قال كنا نغزو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فنصيب من انية المشركين واسقيتهم فنستمتع بها فلا يعيب ذلك عليهم
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہا: ہم اہل کتاب کے پڑوس میں رہتے، وہ اپنی ہانڈیوں میں سور کا گوشت پکاتے ہیں اور اپنے برتنوں میں شراب پیتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں ان کے علاوہ برتن مل جائیں تو ان میں کھاؤ پیئو، اور اگر ان کے علاوہ برتن نہ ملیں تو انہیں پانی سے دھو ڈالو پھر ان میں کھاؤ اور پیو ۔
حدثنا نصر بن عاصم، حدثنا محمد بن شعيب، اخبرنا عبد الله بن العلاء بن زبر، عن ابي عبيد الله، مسلم بن مشكم عن ابي ثعلبة الخشني، انه سال رسول الله صلى الله عليه وسلم قال انا نجاور اهل الكتاب وهم يطبخون في قدورهم الخنزير ويشربون في انيتهم الخمر . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان وجدتم غيرها فكلوا فيها واشربوا وان لم تجدوا غيرها فارحضوها بالماء وكلوا واشربوا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو ہم پر امیر بنا کر قریش کا ایک قافلہ پکڑنے کے لیے روانہ کیا اور زاد سفر کے لیے ہمارے ساتھ کھجور کا ایک تھیلہ تھا، اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں تھا، ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں ہر روز ایک ایک کھجور دیا کرتے تھے، ہم لوگ اسے اس طرح چوستے تھے جیسے بچہ چوستا ہے، پھر پانی پی لیتے، اس طرح وہ کھجور ہمارے لیے ایک دن اور ایک رات کے لیے کافی ہو جاتی، نیز ہم اپنی لاٹھیوں سے درخت کے پتے جھاڑتے پھر اسے پانی میں تر کر کے کھاتے، پھر ہم ساحل سمندر پر چلے توریت کے ٹیلہ جیسی ایک چیز ظاہر ہوئی، جب ہم لوگ اس کے قریب آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایک مچھلی ہے جسے عنبر کہتے ہیں۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مردار ہے اور ہمارے لیے جائز نہیں۔ پھر وہ کہنے لگے: نہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے لوگ ہیں اور اللہ کے راستے میں ہیں اور تم مجبور ہو چکے ہو لہٰذا اسے کھاؤ، ہم وہاں ایک مہینہ تک ٹھہرے رہے اور ہم تین سو آدمی تھے یہاں تک کہ ہم ( کھا کھا کر ) موٹے تازے ہو گئے، جب ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: وہ رزق تھا جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا تھا، کیا تمہارے پاس اس کے گوشت سے کچھ بچا ہے، اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ ہم نے اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے اسے کھایا۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا ابو الزبير، عن جابر، قال بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وامر علينا ابا عبيدة بن الجراح نتلقى عيرا لقريش وزودنا جرابا من تمر لم نجد له غيره فكان ابو عبيدة يعطينا تمرة تمرة كنا نمصها كما يمص الصبي ثم نشرب عليها من الماء فتكفينا يومنا الى الليل وكنا نضرب بعصينا الخبط ثم نبله بالماء فناكله وانطلقنا على ساحل البحر فرفع لنا كهيية الكثيب الضخم فاتيناه فاذا هو دابة تدعى العنبر فقال ابو عبيدة ميتة ولا تحل لنا ثم قال لا بل نحن رسل رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي سبيل الله وقد اضطررتم اليه فكلوا فاقمنا عليه شهرا ونحن ثلاثماية حتى سمنا فلما قدمنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكرنا ذلك له فقال " هو رزق اخرجه الله لكم فهل معكم من لحمه شىء فتطعمونا منه " . فارسلنا منه الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاكل
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک چوہیا گھی میں گر گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی، آپ نے فرمایا: ( جس جگہ گری ہے ) اس کے آس پاس کا گھی نکال کر پھینک دو اور ( باقی ) کھاؤ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، حدثنا الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن ميمونة، ان فارة، وقعت، في سمن فاخبر النبي صلى الله عليه وسلم فقال " القوا ما حولها وكلوا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب چوہیا گھی میں گر جائے تو اگر گھی جما ہو تو چوہیا اور اس کے اردگرد کا حصہ پھینک دو ( اور باقی کھا لو ) اور اگر گھی پتلا ہو تو اس کے قریب مت جاؤ ۔ حسن کہتے ہیں: عبدالرزاق نے کہا: اس روایت کو بسا اوقات معمر نے: «عن الزهري عن عبيدالله بن عبدالله عن ابن عباس عن ميمونة عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» کے طریق سے بیان کیا ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، والحسن بن علي، - واللفظ للحسن - قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا وقعت الفارة في السمن فان كان جامدا فالقوها وما حولها وان كان مايعا فلا تقربوه " . قال الحسن قال عبد الرزاق وربما حدث به معمر عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس عن ميمونة عن النبي صلى الله عليه وسلم
اس سند سے بھی ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے زہری کی حدیث کے مثل روایت ہے جسے انہوں نے ابن مسیب کے واسطہ سے ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ) روایت کیا ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا عبد الرحمن بن بوذويه، عن معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن ميمونة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثل حديث الزهري عن ابن المسيب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اسے برتن میں ڈبو دو کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفاء، اور وہ اپنے اس بازو کو برتن کی طرف آگے بڑھا کر اپنا بچاؤ کرتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے، اس کے پوری مکھی کو ڈبو دینا چاہیئے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا بشر، - يعني ابن المفضل - عن ابن عجلان، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا وقع الذباب في اناء احدكم فامقلوه فان في احد جناحيه داء وفي الاخر شفاء وانه يتقي بجناحه الذي فيه الداء فليغمسه كله
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھاتے تو اپنی تینوں انگلیاں چاٹتے اور فرماتے: جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیئے کہ لقمہ صاف کر کے کھا لے اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پلیٹ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصہ میں اس کے لیے برکت ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اكل طعاما لعق اصابعه الثلاث وقال " اذا سقطت لقمة احدكم فليمط عنها الاذى ولياكلها ولا يدعها للشيطان " . وامرنا ان نسلت الصحفة وقال " ان احدكم لا يدري في اى طعامه يبارك له
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کسی کے لیے اس کا خادم کھانا بنائے پھر اسے اس کے پاس لے کر آئے اور اس نے اس کے بنانے میں گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے تو چاہیئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھائے تاکہ وہ بھی کھائے، اور یہ معلوم ہے کہ اگر کھانا تھوڑا ہو تو اس کے ہاتھ پر ایک یا دو لقمہ ہی رکھ دے ۔
حدثنا القعنبي، حدثنا داود بن قيس، عن موسى بن يسار، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا صنع لاحدكم خادمه طعاما ثم جاءه به وقد ولي حره ودخانه فليقعده معه لياكل فان كان الطعام مشفوها فليضع في يده منه اكلة او اكلتين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اپنا ہاتھ اس وقت تک رومال سے نہ پونچھے جب تک کہ اسے خود چاٹ نہ لے یا کسی کو چٹا نہ دے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اكل احدكم فلا يمسحن يده بالمنديل حتى يلعقها او يلعقها
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں سے کھاتے تھے اور اپنا ہاتھ جب تک چاٹ نہ لیتے پونچھتے نہیں تھے۔
حدثنا النفيلي، حدثنا ابو معاوية، عن هشام بن عروة، عن عبد الرحمن بن سعد، عن ابن كعب بن مالك، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان ياكل بثلاث اصابع ولا يمسح يده حتى يلعقها
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب دستر خوان اٹھایا جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «الحمد لله كثيرا طيبا مباركا فيه غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا» اللہ تعالیٰ کے لیے بہت سارا صاف ستھرا بابرکت شکر ہے، ایسا شکر نہیں جو ایک بار کفایت کرے اور چھوڑ دیا جائے اور اس کی حاجت نہ رہے اے ہمارے رب تو حمد کے لائق ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ثور، عن خالد بن معدان، عن ابي امامة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا رفعت المايدة قال " الحمد لله كثيرا طيبا مباركا فيه غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي هاشم الواسطي، عن اسماعيل بن رباح، عن ابيه، او غيره عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا فرغ من طعامه قال " الحمد لله الذي اطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھاتے یا پیتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعم وسقى، وسوغه، وجعل له مخرجا» ہر طرح کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، اسے خوشگوار بنایا اور اس کے نکلنے کی راہ بنائی ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني سعيد بن ابي ايوب، عن ابي عقيل القرشي، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن ابي ايوب الانصاري، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اكل او شرب قال " الحمد لله الذي اطعم وسقى وسوغه وجعل له مخرجا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سو جائے اور اس کے ہاتھ میں گندگی اور چکنائی ہو اور وہ اسے نہ دھوئے پھر اس کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نام وفي يده غمر ولم يغسله فاصابه شىء فلا يلومن الا نفسه
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ابوالہیثم بن تیہان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا بنایا پھر آپ کو اور صحابہ کرام کو بلایا، جب یہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: تم لوگ اپنے بھائی کا بدلہ چکاؤ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کا کیا بدلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کسی کے گھر جائے اور وہاں اسے کھلایا اور پلایا جائے اور وہ اس کے لیے دعا کرے تو یہی اس کا بدلہ ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن يزيد ابي خالد الدالاني، عن رجل، عن جابر بن عبد الله، قال صنع ابو الهيثم بن التيهان للنبي صلى الله عليه وسلم طعاما فدعا النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه فلما فرغوا قال " اثيبوا اخاكم " . قالوا يا رسول الله وما اثابته قال " ان الرجل اذا دخل بيته فاكل طعامه وشرب شرابه فدعوا له فذلك اثابته
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ آپ کی خدمت میں روٹی اور تیل لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا پھر آپ نے یہ دعا پڑھی: «أفطر عندكم الصائمون وأكل طعامكم الأبرار وصلت عليكم الملائكة» تمہارے پاس روزے دار افطار کیا کریں، نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، اور تمہارے لیے دعائیں کریں ۔
حدثنا مخلد بن خالد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ثابت، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم جاء الى سعد بن عبادة فجاء بخبز وزيت فاكل ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم " افطر عندكم الصايمون واكل طعامكم الابرار وصلت عليكم الملايكة