Loading...

Loading...
کتب
۱۱۹ احادیث
عبدالرحمٰن بن شبل اوسی انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عوف الطايي، ان الحكم بن نافع، حدثهم حدثنا ابن عياش، عن ضمضم بن زرعة، عن شريح بن عبيد، عن ابي راشد الحبراني، عن عبد الرحمن بن شبل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن اكل لحم الضب
سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( پانی کی چڑیا ) سرخاب کا گوشت کھایا۔
حدثنا الفضل بن سهل، حدثنا ابراهيم بن عبد الرحمن بن مهدي، حدثني بريه بن عمر بن سفينة، عن ابيه، عن جده، قال اكلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لحم حبارى
تلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا لیکن میں نے کیڑے مکوڑوں کی حرمت کے متعلق نہیں سنا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا غالب بن حجرة، حدثني ملقام بن تلب، عن ابيه، قال صحبت النبي صلى الله عليه وسلم فلم اسمع لحشرة الارض تحريما
نمیلہ کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا آپ سے سیہی ۱؎ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے یہ آیت پڑھی: «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما» اے نبی! آپ کہہ دیجئیے میں اسے اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا ان کے پاس موجود ایک بوڑھے شخص نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ ناپاک جانوروں میں سے ایک ناپاک جانور ہے ۔ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے تو بیشک وہ ایسا ہی ہے جو ہمیں معلوم نہیں۔
حدثنا ابراهيم بن خالد الكلبي ابو ثور، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عيسى بن نميلة، عن ابيه، قال كنت عند ابن عمر فسيل عن اكل القنفذ، فتلا { قل لا اجد فيما اوحي الى محرما } الاية قال قال شيخ عنده سمعت ابا هريرة يقول ذكر عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال " خبيثة من الخبايث " . فقال ابن عمر ان كان قال رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا فهو كما قال ما لم ندر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ بعض چیزوں کو کھاتے تھے اور بعض چیزوں کو ناپسندیدہ سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا، اپنی کتاب نازل کی اور حلال و حرام کو بیان فرمایا، تو جو چیز اللہ نے حلال کر دی وہ حلال ہے اور جو چیز حرام کر دی وہ حرام ہے اور جس سے سکوت فرمایا وہ معاف ہے، پھر ابن عباس نے آیت کریمہ: «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما» آپ کہہ دیجئیے میں اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا اخیر تک پڑھی۔
حدثنا محمد بن داود بن صبيح، حدثنا الفضل بن دكين، حدثنا محمد، - يعني ابن شريك المكي - عن عمرو بن دينار، عن ابي الشعثاء، عن ابن عباس، قال كان اهل الجاهلية ياكلون اشياء ويتركون اشياء تقذرا فبعث الله تعالى نبيه وانزل كتابه واحل حلاله وحرم حرامه فما احل فهو حلال وما حرم فهو حرام وما سكت عنه فهو عفو وتلا { قل لا اجد فيما اوحي الى محرما } الى اخر الاية
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکڑبگھا ( لگڑ بگڑ ) ۱؎ کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ شکار ہے اور جب محرم اس کا شکار کرے تو اسے ایک دنبے کا دم دینا پڑے گا
حدثنا محمد بن عبد الله الخزاعي، حدثنا جرير بن حازم، عن عبد الله بن عبيد، عن عبد الرحمن بن ابي عمار، عن جابر بن عبد الله، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الضبع فقال " هو صيد ويجعل فيه كبش اذا صاده المحرم
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھاڑ کھانے والے جانوروں میں سے ہر دانت والے جانور کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابي ادريس الخولاني، عن ابي ثعلبة الخشني، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن اكل كل ذي ناب من السبع
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت والے درندے، اور ہر پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن ميمون بن مهران، عن ابن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اكل كل ذي ناب من السبع وعن كل ذي مخلب من الطير
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! دانت والا درندہ حلال نہیں، اور نہ گھریلو گدھا، اور نہ کافر ذمی کا پڑا ہوا مال حلال ہے، سوائے اس مال کے جس سے وہ مستغنی اور بے نیاز ہو، اور جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بن کر جائے اور وہ لوگ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو اسے یہ حق ہے کہ اس کے عوض وہ اپنی مہمانی کے بقدر ان سے وصول کر لے ۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن مروان بن روبة التغلبي، عن عبد الرحمن بن ابي عوف، عن المقدام بن معديكرب، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الا لا يحل ذو ناب من السباع ولا الحمار الاهلي ولا اللقطة من مال معاهد الا ان يستغني عنها وايما رجل ضاف قوما فلم يقروه فان له ان يعقبهم بمثل قراه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرما دیا۔
حدثنا محمد بن بشار، عن ابن ابي عدي، عن ابن ابي عروبة، عن علي بن الحكم، عن ميمون بن مهران، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر عن اكل كل ذي ناب من السباع وعن كل ذي مخلب من الطير
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں نے خیبر کا غزوہ کیا، تو یہود آ کر شکایت کرنے لگے کہ لوگوں نے ان کے باڑوں کی طرف بہت جلدی کی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جو کافر تم سے عہد کر لیں ان کے اموال تمہارے لیے جائز نہیں ہیں سوائے ان کے جو جائز طریقے سے ہوں اور تمہارے لیے گھریلو گدھے، گھوڑے، خچر، ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے حرام ہیں ۔
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا محمد بن حرب، حدثني ابو سلمة، سليمان بن سليم عن صالح بن يحيى بن المقدام، عن جده المقدام بن معديكرب، عن خالد بن الوليد، قال غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر فاتت اليهود فشكوا ان الناس قد اسرعوا الى حظايرهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا لا تحل اموال المعاهدين الا بحقها وحرام عليكم حمر الاهلية وخيلها وبغالها وكل ذي ناب من السباع وكل ذي مخلب من الطير
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت سے منع فرمایا۔ ابن عبدالملک کی روایت میں بلی کھانے سے اور اس کی قیمت کھانے سے کے الفاظ ہیں۔
حدثنا احمد بن حنبل، ومحمد بن عبد الملك، قالا حدثنا عبد الرزاق، عن عمر بن زيد الصنعاني، انه سمع ابا الزبير، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الهر . قال ابن عبد الملك عن اكل الهر واكل ثمنها
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا، اور ہمیں گھوڑے کا گوشت کھانے کا حکم دیا۔ عمرو کہتے ہیں: ابوالشعثاء کو میں نے اس حدیث سے باخبر کیا تو انہوں نے کہا: حکم غفاری بھی ہم سے یہی کہتے تھے اور اس «بحر» ( عالم ) نے اس حدیث کا انکار کیا ہے ان کی مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تھی ۱؎۔
حدثنا ابراهيم بن حسن المصيصي، حدثنا حجاج، عن ابن جريج، اخبرني عمرو بن دينار، اخبرني رجل، عن جابر بن عبد الله، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر عن ان ناكل لحوم الحمر وامرنا ان ناكل لحوم الخيل قال عمرو فاخبرت هذا الخبر ابا الشعثاء فقال قد كان الحكم الغفاري فينا يقول هذا وابى ذلك البحر يريد ابن عباس
غالب بن ابجر کہتے ہیں ہمیں قحط سالی لاحق ہوئی اور ہمارے پاس گدھوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے تھے، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کو قحط سالی نے آ پکڑا ہے اور ہمارے پاس سوائے موٹے گدھوں کے کوئی مال نہیں جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلا سکیں اور آپ گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اہل و عیال کو اپنے موٹے گدھے کھلاؤ میں نے انہیں گاؤں گاؤں گھومنے کی وجہ سے حرام کیا ہے یعنی نجاست خور گدھوں کو حرام کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن سے مراد ابن معقل ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو شعبہ نے عبیدابوالحسن سے، عبید نے عبدالرحمٰن بن معقل سے عبدالرحمٰن بن معقل نے عبدالرحمٰن بن بشر سے انہوں نے مزینہ کے چند لوگوں سے روایت کیا کہ مزینہ کے سردار ابجر یا ابن ابجر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد، حدثنا عبيد الله، عن اسراييل، عن منصور، عن عبيد ابي الحسن، عن عبد الرحمن، عن غالب بن ابجر، قال اصابتنا سنة فلم يكن في مالي شىء اطعم اهلي الا شىء من حمر وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم حرم لحوم الحمر الاهلية فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله اصابتنا السنة ولم يكن في مالي ما اطعم اهلي الا سمان الحمر وانك حرمت لحوم الحمر الاهلية . فقال " اطعم اهلك من سمين حمرك فانما حرمتها من اجل جوال القرية " . يعني الجلالة . قال ابو داود عبد الرحمن هذا هو ابن معقل . قال ابو داود روى شعبة هذا الحديث عن عبيد ابي الحسن عن عبد الرحمن بن معقل عن عبد الرحمن بن بشر عن ناس من مزينة ان سيد مزينة ابجر او ابن ابجر سال النبي صلى الله عليه وسلم
ابن معقل مزینہ کے دو آدمیوں سے روایت کرتے ہیں اور ان میں سے ایک شخص دوسرے سے روایت کرتا ہے ایک کا نام عبداللہ بن عمرو بن عویم اور دوسرے کا نام غالب بن أبجر ہے۔ مسعر کہتے ہیں: میرا خیال ہے غالب ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات ( قحط والے معاملے ) کو لے کر آئے تھے۔
حدثنا محمد بن سليمان، حدثنا ابو نعيم، عن مسعر، عن ابن عبيد، عن ابن معقل، عن رجلين، من مزينة احدهما عن الاخر، احدهما عبد الله بن عمرو بن عويم والاخر غالب بن الابجر . قال مسعر ارى غالبا الذي اتى النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت سے اور نجاست خور جانور کی سواری کرنے اور اس کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
حدثنا سهل بن بكار، حدثنا وهيب، عن ابن طاوس، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر عن لحوم الحمر الاهلية وعن الجلالة عن ركوبها واكل لحمها
ابویعفور کہتے ہیں میں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا اور میں نے ان سے ٹڈی کے متعلق پوچھا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات غزوات کئے اور ہم اسے آپ کے ساتھ کھایا کرتے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، حدثنا شعبة، عن ابي يعفور، قال سمعت ابن ابي اوفى، وسالته، عن الجراد، فقال غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ست او سبع غزوات فكنا ناكله معه
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے بہت سے لشکر ہیں، نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ اسے حرام کرتا ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معتمر نے اپنے والد سلیمان سے، سلیمان نے ابوعثمان سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، انہوں نے سلمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے ( یعنی مرسلاً روایت کی ہے ) ۔
حدثنا محمد بن الفرج البغدادي، حدثنا ابن الزبرقان، حدثنا سليمان التيمي، عن ابي عثمان النهدي، عن سلمان، قال سيل النبي صلى الله عليه وسلم عن الجراد فقال " اكثر جنود الله لا اكله ولا احرمه " . قال ابو داود رواه المعتمر عن ابيه عن ابي عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم لم يذكر سلمان
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے ایسے ہی فرمایا: اللہ کے بہت سے لشکر ہیں ۔ علی کہتے ہیں: ان کا یعنی ابوالعوام کا نام فائد ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ نے ابوالعوام سے ابوالعوام نے ابوعثمان سے اور ابوعثمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور سلمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا نصر بن علي، وعلي بن عبد الله، قالا حدثنا زكرياء بن يحيى بن عمارة، عن ابي العوام الجزار، عن ابي عثمان النهدي، عن سلمان، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل فقال مثله فقال " اكثر جند الله " . قال علي اسمه فايد يعني ابا العوام . قال ابو داود رواه حماد بن سلمة عن ابي العوام عن ابي عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم لم يذكر سلمان
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر جس مچھلی کو باہر ڈال دے یا جس سے سمندر کا پانی سکڑ جائے تو اسے کھاؤ، اور جو اس میں مر کر اوپر آ جائے تو اسے مت کھاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو سفیان ثوری، ایوب اور حماد نے ابو الزبیر سے روایت کیا ہے، اور اسے جابر پر موقوف قرار دیا ہے اور یہ حدیث ایک ضعیف سند سے بھی مروی ہے جو اس طرح ہے: «عن ابن أبي ذئب عن أبي الزبير عن جابر عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» ۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا يحيى بن سليم الطايفي، حدثنا اسماعيل بن امية، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما القى البحر او جزر عنه فكلوه وما مات فيه وطفا فلا تاكلوه " . قال ابو داود روى هذا الحديث سفيان الثوري وايوب وحماد عن ابي الزبير اوقفوه على جابر وقد اسند هذا الحديث ايضا من وجه ضعيف عن ابن ابي ذيب عن ابي الزبير عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم