Loading...

Loading...
کتب
۱۱۹ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے چاہیئے کہ داہنے ہاتھ سے کھائے، اور جب پانی پیے تو داہنے ہاتھ سے پیئے اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا سفيان، عن الزهري، اخبرني ابو بكر بن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن جده ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اكل احدكم فلياكل بيمينه واذا شرب فليشرب بيمينه فان الشيطان ياكل بشماله ويشرب بشماله
عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بیٹے! قریب آ جاؤ اور اللہ کا نام ( بسم اللہ کہو ) لو داہنے ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے سامنے سے کھاؤ ۔
حدثنا محمد بن سليمان، لوين عن سليمان بن بلال، عن ابي وجزة، عن عمر بن ابي سلمة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ادن بنى فسم الله وكل بيمينك وكل مما يليك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گوشت چھری سے کاٹ کر مت کھاؤ، کیونکہ یہ اہل عجم کا طریقہ ہے بلکہ اسے دانت سے نوچ کر کھاؤ کیونکہ اس طرح زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا ابو معشر، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقطعوا اللحم بالسكين فانه من صنيع الاعاجم وانهسوه فانه اهنا وامرا " . قال ابو داود وليس هو بالقوي
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا اور اپنے ہاتھ سے گوشت کو ہڈی سے جدا کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہڈی اپنے منہ کے قریب کرو ( اور گوشت دانت سے نوچ کر کھاؤ ) کیونکہ یہ زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان نے صفوان سے نہیں سنا ہے اور یہ مرسل ( یعنی: منقطع ) ہے۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا ابن علية، عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن عبد الرحمن بن معاوية، عن عثمان بن ابي سليمان، عن صفوان بن امية، قال كنت اكل مع النبي صلى الله عليه وسلم فاخذ اللحم بيدي من العظم فقال " ادن العظم من فيك فانه اهنا وامرا " . قال ابو داود عثمان لم يسمع من صفوان وهو مرسل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «عراق» ( نلی ) ۱؎ میں سب سے زیادہ پسند بکری کی «عراق» ( نلی ) تھی۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا ابو داود، عن زهير، عن ابي اسحاق، عن سعد بن عياض، عن عبد الله بن مسعود، قال كان احب العراق الى رسول الله صلى الله عليه وسلم عراق الشاة
اسی سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دست کا گوشت بہت پسند تھا، ( ایک بار ) دست کے گوشت میں زہر ملا دیا گیا، آپ کا خیال تھا کہ یہودیوں نے زہر ملایا تھا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود، بهذا الاسناد قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يعجبه الذراع . قال وسم في الذراع وكان يرى ان اليهود هم سموه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کی دعوت کی جسے اس نے تیار کیا، تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے گیا، آپ کی خدمت میں جو کی روٹی اور شوربہ جس میں کدو اور گوشت کے ٹکڑے تھے پیش کی گئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکابی کے کناروں سے کدو ڈھونڈھتے ہوئے دیکھا، اس دن کے بعد سے میں بھی برابر کدو پسند کرنے لگا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، انه سمع انس بن مالك، يقول ان خياطا دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم لطعام صنعه - قال انس - فذهبت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الى ذلك الطعام فقرب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم خبزا من شعير ومرقا فيه دباء وقديد . قال انس فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتتبع الدباء من حوالى الصحفة فلم ازل احب الدباء بعد يوميذ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا روٹی کا ثرید اور حیس کا ثرید تھا ( جسے پنیر اور گھی سے تیار کیا جاتا تھا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف ہے۔
حدثنا محمد بن حسان السمتي، حدثنا المبارك بن سعيد، عن عمر بن سعيد، عن رجل، من اهل البصرة عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كان احب الطعام الى رسول الله صلى الله عليه وسلم الثريد من الخبز والثريد من الحيس . قال ابو داود وهو ضعيف
ہلب طائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ سے ایک شخص نے پوچھا: کھانے کی چیزوں میں بعض ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں جن کے کھانے میں میں حرج محسوس کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے دل میں کوئی شبہ نہ آنے دو ( اگر اس کے سلسلہ میں تم نے شک کیا اور اپنے اوپر سختی کی تو ) تم نے اس میں نصرانیت کے مشابہت کی ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا سماك بن حرب، حدثني قبيصة بن هلب، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وساله رجل فقال ان من الطعام طعاما اتحرج منه . فقال " لا يتخلجن في صدرك شىء ضارعت فيه النصرانية
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاست خور جانور کے گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبدة، عن محمد بن اسحاق، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اكل الجلالة والبانها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاست خور جانور کا دودھ ( پینے ) سے منع فرمایا۔
حدثنا ابن المثنى، حدثني ابو عامر، حدثنا هشام، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن لبن الجلالة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاظت کھانے والے اونٹ کی سواری کرنے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا احمد بن ابي سريج، اخبرني عبد الله بن جهم، حدثنا عمرو بن ابي قيس، عن ايوب السختياني، عن نافع، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الجلالة في الابل ان يركب عليها او يشرب من البانها
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑے کے گوشت کی ہمیں اجازت دی۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن عمرو بن دينار، عن محمد بن علي، عن جابر بن عبد الله، قال نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر عن لحوم الحمر واذن لنا في لحوم الخيل
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے خیبر کے دن گھوڑے، خچر اور گدھے ذبح کئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خچر اور گدھوں سے منع فرما دیا، اور گھوڑے سے ہمیں نہیں روکا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال ذبحنا يوم خيبر الخيل والبغال والحمير فنهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البغال والحمير ولم ينهنا عن الخيل
خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے، خچر اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ حیوۃ نے ہر دانت سے پھاڑ کر کھانے والے درندے کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مالک کا قول ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گھوڑے کے گوشت میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منسوخ ہے، خود صحابہ کی ایک جماعت نے گھوڑے کا گوشت کھایا جس میں عبداللہ بن زبیر، فضالہ بن عبید، انس بن مالک، اسماء بنت ابوبکر، سوید بن غفلہ، علقمہ شامل ہیں اور قریش عہد نبوی میں گھوڑے ذبح کرتے تھے۔
حدثنا سعيد بن شبيب، وحيوة بن شريح الحمصي، قال حيوة حدثنا بقية، عن ثور بن يزيد، عن صالح بن يحيى بن المقدام بن معديكرب، عن ابيه، عن جده، عن خالد بن الوليد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن اكل لحوم الخيل والبغال والحمير - زاد حيوة - وكل ذي ناب من السباع . قال ابو داود وهو قول مالك . قال ابو داود لا باس بلحوم الخيل وليس العمل عليه . قال ابو داود وهذا منسوخ قد اكل لحوم الخيل جماعة من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم ابن الزبير وفضالة بن عبيد وانس بن مالك واسماء ابنة ابي بكر وسويد بن غفلة وعلقمة وكانت قريش في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم تذبحها
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک قریب البلوغ لڑکا تھا، میں نے ایک خرگوش کا شکار کیا اور اسے بھونا پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس کا پچھلا دھڑ مجھ کو دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا میں اسے لے کر آیا تو آپ نے اسے قبول کیا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن هشام بن زيد، عن انس بن مالك، قال كنت غلاما حزورا فصدت ارنبا فشويتها فبعث معي ابو طلحة بعجزها الى النبي صلى الله عليه وسلم فاتيته بها فقبلها
محمد بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد خالد بن حویرث کو کہتے سنا کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما صفاح میں تھے ( محمد ( محمد بن خالد ) کہتے ہیں: وہ مکہ میں ایک جگہ کا نام ہے ) ایک شخص ان کے پاس خرگوش شکار کر کے لایا، اور کہنے لگا: عبداللہ بن عمرو! آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور میں بیٹھا ہوا تھا آپ نے نہ تو اسے کھایا اور نہ ہی اس کے کھانے سے منع فرمایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خیال تھا کہ اسے حیض آتا ہے۔
حدثنا يحيى بن خلف، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا محمد بن خالد، قال سمعت ابي خالد بن الحويرث، يقول ان عبد الله بن عمرو كان بالصفاح - قال محمد مكان بمكة - وان رجلا جاء بارنب قد صادها فقال يا عبد الله بن عمرو ما تقول قال قد جيء بها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا جالس فلم ياكلها ولم ينه عن اكلها وزعم انها تحيض
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کی خالہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بھیجا، آپ نے گھی اور پنیر کھایا اور گوہ کو گھن محسوس کرتے ہوئے چھوڑ دیا، اور آپ کے دستر خوان پر اسے کھایا گیا، اگر وہ حرام ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہیں کھایا جاتا۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان خالته، اهدت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم سمنا واضبا واقطا فاكل من السمن ومن الاقط وترك الاضب تقذرا واكل على مايدته ولو كان حراما ما اكل على مايدة رسول الله صلى الله عليه وسلم
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو آپ کی خدمت میں بھنا ہوا گوہ لایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود بعض عورتوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چیز کی خبر کر دو جسے آپ کھانا چاہتے ہیں، تو لوگوں نے عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) یہ گوہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔ خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں لیکن میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے ۔ ( یہ سن کر ) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، عن عبد الله بن عباس، عن خالد بن الوليد، انه دخل مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بيت ميمونة فاتي بضب محنوذ فاهوى اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده فقال بعض النسوة اللاتي في بيت ميمونة اخبروا النبي صلى الله عليه وسلم بما يريد ان ياكل منه فقالوا هو ضب . فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده . قال فقلت احرام هو يا رسول الله قال " لا ولكنه لم يكن بارض قومي فاجدني اعافه " . قال خالد فاجتررته فاكلته ورسول الله صلى الله عليه وسلم ينظر
ثابت بن ودیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لشکر میں تھے کہ ہم نے کئی گوہ پکڑے، میں نے ان میں سے ایک کو بھونا اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے سامنے رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی لی اور اس سے اس کی انگلیاں شمار کیں پھر فرمایا: بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ کر کے زمین میں چوپایا بنا دیا گیا لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ کون سا جانور ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو کھایا اور نہ ہی اس سے منع کیا۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا خالد، عن حصين، عن زيد بن وهب، عن ثابت بن وديعة، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في جيش فاصبنا ضبابا - قال - فشويت منها ضبا فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضعته بين يديه - قال - فاخذ عودا فعد به اصابعه ثم قال " ان امة من بني اسراييل مسخت دواب في الارض واني لا ادري اى الدواب هي " . قال فلم ياكل ولم ينه