Loading...

Loading...
کتب
۱۱۹ احادیث
ایک صحابی رسول سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو دعوت دینے والے ایک ساتھ دعوت دیں تو ان میں سے جس کا مکان قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو، کیونکہ جس کا مکان زیادہ قریب ہو گا وہ ہمسائیگی میں قریب تر ہو گا، اور اگر ان میں سے کوئی پہل کر جائے تو اس کی قبول کرو جس نے پہل کی ہو ۔
حدثنا هناد بن السري، عن عبد السلام بن حرب، عن ابي خالد الدالاني، عن ابي العلاء الاودي، عن حميد بن عبد الرحمن الحميري، عن رجل، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اجتمع الداعيان فاجب اقربهما بابا فان اقربهما بابا اقربهما جوارا وان سبق احدهما فاجب الذي سبق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے لیے رات کا کھانا چن دیا جائے اور نماز کے لیے اقامت بھی کہہ دی جائے تو ( نماز کے لیے ) نہ کھڑا ہو یہاں تک کہ ( کھانے سے ) فارغ ہو لے ۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا: جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا کھانا چن دیا جاتا یا ان کا کھانا موجود ہوتا تو اس وقت تک نماز کے لیے نہیں کھڑے ہوتے جب تک کہ کھانے سے فارغ نہ ہو لیتے اگرچہ اقامت اور امام کی قرآت کی آواز کان میں آ رہی ہو ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، ومسدد، - المعنى - قال احمد حدثني يحيى القطان، عن عبيد الله، قال حدثني نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا وضع عشاء احدكم واقيمت الصلاة فلا يقوم حتى يفرغ " . زاد مسدد وكان عبد الله اذا وضع عشاوه او حضر عشاوه لم يقم حتى يفرغ وان سمع الاقامة وان سمع قراءة الامام
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانے یا کسی اور کام کی وجہ سے نماز مؤخر نہ کی جائے ۔
حدثنا محمد بن حاتم بن بزيع، حدثنا معلى، - يعني ابن منصور - عن محمد بن ميمون، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا توخر الصلاة لطعام ولا لغيره
عبداللہ بن عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں تھا کہ عباد بن عبداللہ بن زبیر نے کہا: ہم نے سنا ہے کہ عشاء کی نماز سے پہلے شام کا کھانا شروع کر دیا جاتا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: افسوس ہے تم پر، ان کا شام کا کھانا ہی کیا تھا؟ کیا تم اسے اپنے والد کے کھانے کی طرح سمجھتے ہو؟ ۱؎۔
حدثنا علي بن مسلم الطوسي، حدثنا ابو بكر الحنفي، حدثنا الضحاك بن عثمان، عن عبد الله بن عبيد بن عمير، قال كنت مع ابي في زمان ابن الزبير الى جنب عبد الله بن عمر فقال عباد بن عبد الله بن الزبير انا سمعنا انه، يبدا بالعشاء قبل الصلاة . فقال عبد الله بن عمر ويحك ما كان عشاوهم اتراه كان مثل عشاء ابيك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے، تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، لوگوں نے عرض کیا: کیا ہم آپ کے پاس وضو کا پانی نہ لائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے وضو کرنے کا حکم صرف اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، حدثنا ايوب، عن عبد الله بن ابي مليكة، عن عبد الله بن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج من الخلاء فقدم اليه طعام فقالوا الا ناتيك بوضوء فقال " انما امرت بالوضوء اذا قمت الى الصلاة
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے۔ میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے اور کھانے کے بعد بھی ۔ سفیان کھانے سے پہلے وضو کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ضعیف ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا قيس، عن ابي هاشم، عن زاذان، عن سلمان، قال قرات في التوراة ان بركة الطعام الوضوء قبله فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " بركة الطعام الوضوء قبله والوضوء بعده " . وكان سفيان يكره الوضوء قبل الطعام . قال ابو داود وهو ضعيف
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑ کی گھاٹی سے قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آئے اس وقت ہمارے سامنے ڈھال پر کچھ کھجوریں رکھیں تھیں، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا تو آپ نے ہمارے ساتھ کھایا اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔
حدثنا احمد بن ابي مريم، حدثنا عمي، - يعني سعيد بن الحكم - حدثنا الليث بن سعد، اخبرني خالد بن يزيد، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، انه قال اقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم من شعب من الجبل وقد قضى حاجته وبين ايدينا تمر على ترس او حجفة فدعوناه فاكل معنا وما مس ماء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں لگایا، اگر رغبت ہوتی تو کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال ما عاب رسول الله صلى الله عليه وسلم طعاما قط ان اشتهاه اكله وان كرهه تركه
وحشی بن حرب حبشی حمصی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن پیٹ نہیں بھرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تم لوگ الگ الگ کھاتے ہو؟ لوگوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ مل کر اور بسم اللہ کر کے ( اللہ کا نام لے کر ) کھاؤ، تمہارے کھانے میں برکت ہو گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب تم کسی ولیمہ میں ہو اور کھانا رکھ دیا جائے تو گھر کے مالک ( میزبان ) کی اجازت کے بغیر کھانا نہ کھاؤ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، حدثنا الوليد بن مسلم، قال حدثني وحشي بن حرب، عن ابيه، عن جده، ان اصحاب النبي، صلى الله عليه وسلم قالوا يا رسول الله انا ناكل ولا نشبع . قال " فلعلكم تفترقون " . قالوا نعم . قال " فاجتمعوا على طعامكم واذكروا اسم الله عليه يبارك لكم فيه " . قال ابو داود اذا كنت في وليمة فوضع العشاء فلا تاكل حتى ياذن لك صاحب الدار
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر میں داخل ہوتے اور کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان ( اپنے چیلوں سے ) کہتا ہے: نہ یہاں تمہارے لیے سونے کی کوئی جگہ رہی، اور نہ کھانے کی کوئی چیز رہی، اور جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان کہتا ہے: چلو تمہیں سونے کا ٹھکانہ مل گیا، اور جب کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے: تمہیں سونے کی جگہ اور کھانا دونوں مل گیا ۔
حدثنا يحيى بن خلف، حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، قال اخبرني ابو الزبير، عن جابر بن عبد الله، سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اذا دخل الرجل بيته فذكر الله عند دخوله وعند طعامه قال الشيطان لا مبيت لكم ولا عشاء واذا دخل فلم يذكر الله عند دخوله قال الشيطان ادركتم المبيت فاذا لم يذكر الله عند طعامه قال ادركتم المبيت والعشاء
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں موجود ہوتے تو آپ کے شروع کرنے سے پہلے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا، ایک مرتبہ ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں موجود تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی ( دیہاتی ) آیا گویا کہ وہ دھکیل کر لایا جا رہا ہو، تو وہ کھانے میں ہاتھ ڈالنے چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک لڑکی آئی گویا وہ دھکیل کر لائی جا رہی ہو، تو وہ بھی اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنے چلی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا، اور فرمایا: شیطان اس کھانے میں شریک یا داخل ہو جاتا ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اور بلاشبہ اس اعرابی کو شیطان لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعہ کھانے میں شریک ہو جائے، اس لیے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، اور اس لڑکی کو بھی شیطان لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعہ، اس لیے میں نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن خيثمة، عن ابي حذيفة، عن حذيفة، قال كنا اذا حضرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم طعاما لم يضع احدنا يده حتى يبدا رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا حضرنا معه طعاما فجاء اعرابي كانما يدفع فذهب ليضع يده في الطعام فاخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده ثم جاءت جارية كانما تدفع فذهبت لتضع يدها في الطعام فاخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدها وقال " ان الشيطان ليستحل الطعام الذي لم يذكر اسم الله عليه وانه جاء بهذا الاعرابي يستحل به فاخذت بيده وجاء بهذه الجارية يستحل بها فاخذت بيدها فوالذي نفسي بيده ان يده لفي يدي مع ايديهما
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھائے تو اللہ کا نام لے، اگر شروع میں ( اللہ کا نام ) بسم اللہ بھول جائے تو اسے یوں کہنا چاہیئے بسم الله أوله وآخره ( اس کی ابتداء و انتہاء دونوں اللہ کے نام سے ) ۔
حدثنا مومل بن هشام، حدثنا اسماعيل، عن هشام، - يعني ابن ابي عبد الله الدستوايي - عن بديل، عن عبد الله بن عبيد، عن امراة، منهم يقال لها ام كلثوم عن عايشة، - رضى الله عنها - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا اكل احدكم فليذكر اسم الله تعالى فان نسي ان يذكر اسم الله تعالى في اوله فليقل بسم الله اوله واخره
مثنی بن عبدالرحمٰن خزاعی اپنے چچا امیہ بن مخشی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں (وہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص کھانا کھا رہا تھا اس نے بسم اللہ نہیں کیا یہاں تک کہ اس کا کھانا صرف ایک لقمہ رہ گیا تھا جب اس نے لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھایا تو کہا: اس کی ابتداء اور انتہاء اللہ کے نام سے یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: شیطان اس کے ساتھ برابر کھاتا رہا جب اس نے اللہ کا نام لیا تو جو کچھ اس کے پیٹ میں تھا اس نے قے کر دی ۱؎ ۔
حدثنا مومل بن الفضل الحراني، حدثنا عيسى، - يعني ابن يونس - حدثنا جابر بن صبح، حدثنا المثنى بن عبد الرحمن الخزاعي، عن عمه، امية بن مخشي - وكان من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم - قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا ورجل ياكل فلم يسم حتى لم يبق من طعامه الا لقمة فلما رفعها الى فيه قال بسم الله اوله واخره فضحك النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال " ما زال الشيطان ياكل معه فلما ذكر اسم الله عز وجل استقاء ما في بطنه " . قال ابو داود جابر بن صبح جد سليمان بن حرب من قبل امه
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ( کیونکہ یہ متکبرین کا طریقہ ہے ) ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن علي بن الاقمر، قال سمعت ابا جحيفة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا اكل متكيا
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ٹیک لگا کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھے گئے، اور نہ ہی آپ کے پیچھے دو آدمیوں کو چلتے دیکھا گیا ( بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیچ میں یا سب سے پیچھے چلا کرتے تھے ) ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت البناني، عن شعيب بن عبد الله بن عمرو، عن ابيه، قال ما ريي رسول الله صلى الله عليه وسلم ياكل متكيا قط ولا يطا عقبه رجلان
مصعب بن سلیم کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کہیں ) بھیجا جب میں لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ کو پایا کہ آپ کھجوریں کھا رہے ہیں، سرین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور دونوں پاؤں کھڑا کئے ہوئے ہیں۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا وكيع، عن مصعب بن سليم، قال سمعت انسا، يقول بعثني النبي صلى الله عليه وسلم فرجعت اليه فوجدته ياكل تمرا وهو مقع
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو پلیٹ کے اوپری حصے سے نہ کھائے بلکہ اس کے نچلے حصہ سے کھائے اس لیے کہ برکت اس کے اوپر والے حصہ میں نازل ہوتی ہے ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن عطاء بن السايب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اكل احدكم طعاما فلا ياكل من اعلى الصحفة ولكن لياكل من اسفلها فان البركة تنزل من اعلاها
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک لگن جسے غراء کہا جاتا تھا، اور جسے چار آدمی اٹھاتے تھے، جب اشراق کا وقت ہوا اور لوگوں نے اشراق کی نماز پڑھ لی تو وہ لگن لایا گیا، مطلب یہ ہے اس میں ثرید ۱؎ بھرا ہوا تھا تو سب اس کے اردگرد اکٹھا ہو گئے، جب لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئے ۲؎ ایک اعرابی کہنے لگا: بھلا یہ بیٹھنے کا کون سا طریقہ ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے نیک ( متواضع ) بندہ بنایا ہے، مجھے جبار و سرکش نہیں بنایا ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے کناروں سے کھاؤ اور اوپر کا حصہ چھوڑ دو کیونکہ اس میں برکت دی جاتی ہے ۔
حدثنا عمرو بن عثمان الحمصي، حدثنا ابي، حدثنا محمد بن عبد الرحمن بن عرق، حدثنا عبد الله بن بسر، قال كان للنبي صلى الله عليه وسلم قصعة يقال لها الغراء يحملها اربعة رجال فلما اضحوا وسجدوا الضحى اتي بتلك القصعة - يعني وقد ثرد فيها - فالتفوا عليها فلما كثروا جثى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال اعرابي ما هذه الجلسة قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان الله جعلني عبدا كريما ولم يجعلني جبارا عنيدا " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلوا من حواليها ودعوا ذروتها يبارك فيها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جگہ کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے: ایک تو اس دستر خوان پر بیٹھ کر جس پر شراب پی جا رہی ہو اور دوسری وہ جگہ جہاں آدمی اوندھے منہ لیٹ کر کھائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، جعفر کا سماع زہری سے ثابت نہیں ہے ( اس کی دلیل اگلی سند ہے ) ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا كثير بن هشام، عن جعفر بن برقان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن مطعمين عن الجلوس على مايدة يشرب عليها الخمر وان ياكل الرجل وهو منبطح على بطنه . قال ابو داود هذا الحديث لم يسمعه جعفر من الزهري وهو منكر
اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث مروی ہے۔
حدثنا هارون بن زيد بن ابي الزرقاء، حدثنا ابي، حدثنا جعفر، انه بلغه عن الزهري، بهذا الحديث