Loading...

Loading...
کتب
۱۱۹ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ولیمہ کی دعوت میں مدعو کیا جائے تو اسے چاہیئے کہ اس میں آئے ۱؎ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا دعي احدكم الى الوليمة فلياتها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مفہوم کی حدیث بیان فرمائی اس میں اتنا اضافہ ہے کہ اگر روزے سے نہ ہو تو کھا لے، اور اگر روزے سے ہو تو ( کھانے اور کھلانے والوں کے لیے بخشش و برکت کی ) دعا کرے ۔
حدثنا مخلد بن خالد، حدثنا ابو اسامة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بمعناه زاد " فان كان مفطرا فليطعم وان كان صايما فليدع
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی اپنے بھائی کو ولیمے کی یا اسی طرح کی کوئی دعوت دے تو وہ اسے قبول کرے ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا دعا احدكم اخاه فليجب عرسا كان او نحوه
اس سند سے بھی نافع سے ایوب کی روایت جیسی حدیث مروی ہے۔
حدثنا ابن المصفى، حدثنا بقية، حدثنا الزبيدي، عن نافع، باسناد ايوب ومعناه
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو دعوت دی جائے اسے دعوت قبول کرنی چاہیئے پھر اگر چاہے تو کھائے اور چاہے تو نہ کھائے ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من دعي فليجب فان شاء طعم وان شاء ترك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے دعوت دی گئی اور اس نے قبول نہیں کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، اور جو بغیر دعوت کے گیا تو وہ چور بن کر داخل ہوا اور لوٹ مار کر نکلا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابان بن طارق مجہول راوی ہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا درست بن زياد، عن ابان بن طارق، عن طارق، عن نافع، قال قال عبد الله بن عمر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من دعي فلم يجب فقد عصى الله ورسوله ومن دخل على غير دعوة دخل سارقا وخرج مغيرا " . قال ابو داود ابان بن طارق مجهول
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں صرف مالدار بلائے جائیں اور غریب و مسکین چھوڑ دیئے جائیں، اور جو ( ولیمہ کی ) دعوت میں نہیں آیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۱؎۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن الاعرج، عن ابي هريرة، انه كان يقول شر الطعام طعام الوليمة يدعى لها الاغنياء ويترك المساكين ومن لم يات الدعوة فقد عصى الله ورسوله
ثابت کہتے ہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں میں سے کسی کے نکاح میں زینب کے نکاح کی طرح ولیمہ کرتے نہیں دیکھا، آپ نے ان کے نکاح میں ایک بکری کا ولیمہ کیا۔
حدثنا مسدد، وقتيبة بن سعيد، قالا حدثنا حماد، عن ثابت، قال ذكر تزويج زينب بنت جحش عند انس بن مالك فقال ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اولم على احد من نسايه ما اولم عليها اولم بشاة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں ستو اور کھجور کا ولیمہ کیا۔
حدثنا حامد بن يحيى، حدثنا سفيان، حدثنا وايل بن داود، عن ابنه، بكر بن وايل عن الزهري، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم اولم على صفية بسويق وتمر
عبداللہ بن عثمان ثقفی بنو ثقیف کے ایک کانے شخص سے روایت کرتے ہیں ( جسے اس کی بھلائیوں کی وجہ سے معروف کہا جاتا تھا، یعنی خیر کے پیش نظر اس کی تعریف کی جاتی تھی، اگر اس کا نام زہیر بن عثمان نہیں تو مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کیا نام تھا ) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ پہلے روز حق ہے، دوسرے روز بہتر ہے، اور تیسرے روز شہرت و ریاکاری ہے ۔ قتادہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا کہ سعید بن مسیب کو پہلے دن دعوت دی گئی تو انہوں نے قبول کیا اور دوسرے روز بھی دعوت دی گئی تو اسے بھی قبول کیا اور تیسرے روز دعوت دی گئی تو قبول نہیں کیا اور کہا: ( دعوت دینے والے ) نام و نمود والے اور ریا کار لوگ ہیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن الحسن، عن عبد الله بن عثمان الثقفي، عن رجل، اعور من ثقيف كان يقال له معروفا - اى يثنى عليه خيرا ان لم يكن اسمه زهير بن عثمان فلا ادري ما اسمه - ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الوليمة اول يوم حق والثاني معروف واليوم الثالث سمعة ورياء " . قال قتادة وحدثني رجل ان سعيد بن المسيب دعي اول يوم فاجاب ودعي اليوم الثاني فاجاب ودعي اليوم الثالث فلم يجب وقال اهل سمعة ورياء
اس سند سے بھی سعید بن مسیب سے یہی واقعہ مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ پہلے اور دوسرے روز انہوں نے دعوت قبول کر لی پھر جب تیسرے روز انہیں دعوت دی گئی تو قبول نہیں کیا اور قاصد کو کنکری ماری۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، بهذه القصة قال فدعي اليوم الثالث فلم يجب وحصب الرسول
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ایک اونٹ یا ایک گائے ذبح کی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن محارب بن دثار، عن جابر، قال لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة نحر جزورا او بقرة
ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرنی چاہیئے، اس کا جائزہ ایک دن اور ایک رات ہے اور ضیافت تین دن تک ہے اور اس کے بعد صدقہ ہے، اور اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس کے پاس اتنے عرصے تک قیام کرے کہ وہ اسے مشقت اور تنگی میں ڈال دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: امام مالک سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان «جائزته يوم وليلة» کے متعلق پوچھا گیا: تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ میزبان ایک دن اور ایک رات تک اس کی عزت و اکرام کرے، تحفہ و تحائف سے نوازے، اور اس کی حفاظت کرے اور تین دن تک ضیافت کرے ۱؎۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن سعيد المقبري، عن ابي شريح الكعبي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من كان يومن بالله واليوم الاخر فليكرم ضيفه جايزته يومه وليلته الضيافة ثلاثة ايام وما بعد ذلك فهو صدقة ولا يحل له ان يثوي عنده حتى يحرجه " . قال ابو داود قري على الحارث بن مسكين وانا شاهد اخبركم اشهب قال وسيل مالك عن قول النبي صلى الله عليه وسلم " جايزته يوم وليلة " . فقال يكرمه ويتحفه ويحفظه يوما وليلة وثلاثة ايام ضيافة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہمانداری تین روز تک ہے، اور جو اس کے علاوہ ہو وہ صدقہ ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، ومحمد بن محبوب، قالا حدثنا حماد، عن عاصم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الضيافة ثلاثة ايام فما سوى ذلك فهو صدقة
ابوکریمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان پر مہمان کی ایک رات کی ضیافت حق ہے، جو کسی مسلمان کے گھر میں رات گزارے تو ایک دن کی مہمانی اس پر قرض ہے، چاہے تو اسے وصول کر لے اور چاہے تو چھوڑ دے ۔
حدثنا مسدد، وخلف بن هشام، قالا حدثنا ابو عوانة، عن منصور، عن عامر، عن ابي كريمة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليلة الضيف حق على كل مسلم فمن اصبح بفنايه فهو عليه دين ان شاء اقتضى وان شاء ترك
ابوکریمہ مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی قوم کے پاس بطور مہمان آئے اور صبح تک ویسے ہی محروم رہے تو ہر مسلمان پر اس کی مدد لازم ہے یہاں تک کہ وہ ایک رات کی مہمانی اس کی زراعت اور مال سے لے لے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، حدثني ابو الجودي، عن سعيد بن ابي المهاجر، عن المقدام ابي كريمة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما رجل اضاف قوما فاصبح الضيف محروما فان نصره حق على كل مسلم حتى ياخذ بقرى ليلة من زرعه وماله
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں ( جہاد یا کسی دوسرے کام کے لیے ) بھیجتے ہیں تو ( بسا اوقات ) ہم کسی قوم میں اترتے ہیں اور وہ لوگ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے تو اس سلسلے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: اگر تم کسی قوم میں جاؤ اور وہ لوگ تمہارے لیے ان چیزوں کا انتظام کر دیں جو مہمان کے لیے چاہیئے تو اسے تم قبول کرو اور اگر وہ نہ کریں تو ان سے مہمانی کا حق جو ان کے حسب حال ہو لے لو ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس شخص کے لیے دلیل ہے جس کا حق کسی کے ذمہ ہو تو وہ اپنا حق لے سکتا ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر، انه قال قلنا يا رسول الله انك تبعثنا فننزل بقوم فما يقروننا فما ترى فقال لنا رسول الله " ان نزلتم بقوم فامروا لكم بما ينبغي للضيف فاقبلوا فان لم يفعلوا فخذوا منهم حق الضيف الذي ينبغي لهم " . قال ابو داود وهذه حجة للرجل ياخذ الشىء اذا كان له حقا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم» ( سورۃ النساء: ۲۹ ) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت: «ليس عليكم جناح أن تأكلوا من بيوتكم ….. أشتاتا» ( سورۃ النساء: ۶۱ ) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔
حدثنا احمد بن محمد المروزي، حدثني علي بن الحسين بن واقد، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال { لا تاكلوا اموالكم بينكم بالباطل الا ان تكون تجارة عن تراض منكم } فكان الرجل يحرج ان ياكل عند احد من الناس بعد ما نزلت هذه الاية فنسخ ذلك الاية التي في النور قال { ليس عليكم جناح } { ان تاكلوا من بيوتكم } الى قوله { اشتاتا } كان الرجل الغني يدعو الرجل من اهله الى الطعام قال اني لاجنح ان اكل منه . والتجنح الحرج ويقول المسكين احق به مني . فاحل في ذلك ان ياكلوا مما ذكر اسم الله عليه واحل طعام اهل الكتاب
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو باہم فخر کرنے والوں کی دعوت کھانے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جریر سے روایت کرنے والوں میں سے اکثر لوگ اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کرتے ہیں نیز ہارون نحوی نے بھی اس میں ابن عباس کا ذکر کیا ہے اور حماد بن زید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے ۱؎۔
حدثنا هارون بن زيد بن ابي الزرقاء، حدثنا ابي، حدثنا جرير بن حازم، عن الزبير بن خريت، قال سمعت عكرمة، يقول كان ابن عباس يقول ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن طعام المتباريين ان يوكل . قال ابو داود اكثر من رواه عن جرير لا يذكر فيه ابن عباس وهارون النحوي ذكر فيه ابن عباس ايضا وحماد بن زيد لم يذكر ابن عباس
سفینہ ابوعبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ کی دعوت کی اور ان کے لیے کھانا بنایا ( اور بھیج دیا ) تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کاش ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرما لیتے چنانچہ انہوں نے آپ کو بلوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا ہاتھ دروازے کے دونوں پٹ پر رکھا، تو کیا دیکھتے ہیں کہ گھر کے ایک کونے میں ایک منقش پردہ لگا ہوا ہے، ( یہ دیکھ کر ) آپ لوٹ گئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جا کر ملئیے اور دیکھئیے آپ کیوں لوٹے جا رہے ہیں؟ ( علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا اور پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں واپس جا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے یا کسی نبی کے لیے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی آرائش و زیبائش والے گھر میں داخل ہو ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، اخبرنا حماد، عن سعيد بن جمهان، عن سفينة ابي عبد الرحمن، ان رجلا، اضاف علي بن ابي طالب فصنع له طعاما فقالت فاطمة لو دعونا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاكل معنا . فدعوه فجاء فوضع يده على عضادتى الباب فراى القرام قد ضرب به في ناحية البيت فرجع فقالت فاطمة لعلي الحقه فانظر ما رجعه . فتبعته فقلت يا رسول الله ما ردك فقال " انه ليس لي او لنبي ان يدخل بيتا مزوقا