Loading...

Loading...
کتب
۸۴ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ایسے انسان کے پاس سے گزرے جس کی ناک میں ناتھ ڈال کر لے جایا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی ناتھ کاٹ دی، اور حکم دیا کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جاؤ۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرني الاحول، ان طاوسا، اخبره عن ابن عباس، : ان النبي صلى الله عليه وسلم مر وهو يطوف بالكعبة بانسان يقوده بخزامة في انفه، فقطعها النبي صلى الله عليه وسلم بيده وامره ان يقوده بيده
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی اور پیدل جانے کی طاقت نہیں رکھتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ) کہا: اللہ تعالیٰ کو تمہاری بہن کے پیدل جانے کی پرواہ نہیں، ( تم اپنی بہن سے کہو کہ ) وہ سوار ہو جائیں اور ( نذر کے کفارہ کے طور پر ) ایک اونٹ کی قربانی دے دیں ۔
حدثنا احمد بن حفص بن عبد الله السلمي، قال حدثني ابي قال، حدثني ابراهيم، - يعني ابن طهمان - عن مطر، عن عكرمة، عن ابن عباس، : ان اخت، عقبة بن عامر نذرت ان تحج، ماشية وانها لا تطيق ذلك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " ان الله لغني عن مشى اختك، فلتركب ولتهد بدنة
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میری بہن نے بیت اللہ پیدل جانے کی نذر مانی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری بہن کے پیدل بیت اللہ جانے کا اللہ کوئی ثواب نہ دے گا ۔
حدثنا شعيب بن ايوب، حدثنا معاوية بن هشام، عن سفيان، عن ابيه، عن عكرمة، عن عقبة بن عامر الجهني، انه قال للنبي صلى الله عليه وسلم : ان اختي نذرت ان تمشي الى البيت . فقال : " ان الله لا يصنع بمشى اختك الى البيت شييا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ سے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو مکہ پر فتح نصیب کیا تو میں بیت المقدس میں دو رکعت ادا کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہیں پڑھ لو ( یعنی مسجد الحرام میں اس لیے کہ اس سے افضل ہے اور سہل تر ہے ) ، اس نے پھر وہی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: یہیں پڑھ لو پھر اس نے ( سہ بارہ ) وہی بات پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تمہاری مرضی ( چاہو تو یہاں پڑھ لو اور بیت المقدس جانا چاہو تو وہاں چلے جاؤ ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا حماد، قال اخبرنا حبيب المعلم، عن عطاء بن ابي رباح، عن جابر بن عبد الله، : ان رجلا، قام يوم الفتح فقال : يا رسول الله اني نذرت لله ان فتح الله عليك مكة ان اصلي في بيت المقدس ركعتين . قال : " صل ها هنا " ثم اعاد عليه فقال : " صل ها هنا " ثم اعاد عليه فقال : " شانك اذا " . قال ابو داود : روي نحوه عن عبد الرحمن بن عوف عن النبي صلى الله عليه وسلم
عمر بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بعض صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر تم یہاں ( یعنی مسجد الحرام میں ) نماز پڑھ لیتے تو تمہارے بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی جگہ پر کافی ہوتا ( وہاں جانے کی ضرورت نہ رہتی ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے انصاری نے ابن جریج سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے حفص بن عمر کے بجائے جعفر بن عمر کہا ہے اور عمرو بن حنۃ کے بجائے عمر بن حیۃ کہا ہے: اور کہا ہے ان دونوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا ہے۔
حدثنا مخلد بن خالد، قال حدثنا ابو عاصم، ح وحدثنا عباس العنبري، - المعنى - قال حدثنا روح، عن ابن جريج، قال اخبرني يوسف بن الحكم بن ابي سفيان، انه سمع حفص بن عمر بن عبد الرحمن بن عوف، وعمرا، وقال، عباس : ابن حنة اخبراه عن عمر بن عبد الرحمن بن عوف، عن رجال، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الخبر . زاد فقال النبي صلى الله عليه وسلم " والذي بعث محمدا بالحق لو صليت ها هنا لاجزا عنك صلاة في بيت المقدس " . قال ابو داود : رواه الانصاري عن ابن جريج فقال جعفر بن عمرو، وقال عمرو بن حية وقال اخبراه عن عبد الرحمن بن عوف وعن رجال من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اور کہا کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی جسے وہ پوری نہ کر سکیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کی جانب سے پوری کر دو ۔
حدثنا القعنبي، قال قرات على مالك عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن عبد الله بن عباس، : ان سعد بن عبادة، استفتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : ان امي ماتت وعليها نذر لم تقضه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقضه عنها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت بحری سفر پر نکلی اس نے نذر مانی کہ اگر وہ بخیریت پہنچ گئی تو وہ مہینے بھر کا روزہ رکھے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے بخیریت پہنچا دیا مگر روزہ نہ رکھ پائی تھی کہ موت آ گئی، تو اس کی بیٹی یا بہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( مسئلہ پوچھنے ) آئی تو اس کی جانب سے آپ نے اسے روزے رکھنے کا حکم دیا۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا هشيم، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، : ان امراة، ركبت البحر فنذرت ان نجاها الله ان تصوم شهرا، فنجاها الله فلم تصم حتى ماتت، فجاءت ابنتها او اختها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فامرها ان تصوم عنها
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا: میں نے ایک باندی اپنی والدہ کو دی تھی، اب وہ مر گئیں اور وہی باندی چھوڑ گئیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تمہارا اجر مل گیا اور باندی بھی تمہیں وراثت میں مل گئی اس نے کہا: وہ مر گئیں اور ان کے ذمہ ایک مہینے کا روزہ تھا، پھر عمرو ( عمرو بن عون ) کی حدیث ( نمبر ۳۳۰۸ ) کی طرح ذکر کیا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا عبد الله بن عطاء، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، بريدة : ان امراة، اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت : كنت تصدقت على امي بوليدة، وانها ماتت وتركت تلك الوليدة . قال : " قد وجب اجرك، ورجعت اليك في الميراث " . قالت : وانها ماتت وعليها صوم شهر . فذكر نحو حديث عمرو
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ میری والدہ کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے کیا میں اس کی جانب سے رکھ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اگر تمہاری والدہ کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتی؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا قرض تو اور بھی زیادہ ادا کئے جانے کا مستحق ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، قال سمعت الاعمش، ح وحدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، - المعنى - عن مسلم البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، : ان امراة، جاءت الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت : انه كان على امها صوم شهر افاقضيه عنها فقال : " لو كان على امك دين اكنت قاضيته " . قالت : نعم . قال : " فدين الله احق ان يقضى
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، عن عبيد الله بن ابي جعفر، عن محمد بن جعفر بن الزبير، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال : " من مات وعليه صيام صام عنه وليه
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ میں آپ کے سر پر دف بجاؤں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( بجا کر ) اپنی نذر پوری کر لو اس نے کہا: میں نے ایسی ایسی جگہ قربانی کرنے کی نذر ( بھی ) مانی ہے جہاں جاہلیت کے زمانہ کے لوگ ذبح کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کسی صنم ( بت ) کے لیے؟ اس نے کہا: نہیں، پوچھا: کسی وثن ( بت ) کے لیے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نذر پوری کر لو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا الحارث بن عبيد ابو قدامة، عن عبيد الله بن الاخنس، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، : ان امراة، اتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت : يا رسول الله اني نذرت ان اضرب على راسك بالدف . قال : " اوفي بنذرك " . قالت : اني نذرت ان اذبح بمكان كذا وكذا، مكان كان يذبح فيه اهل الجاهلية . قال : " لصنم " . قالت : لا . قال : " لوثن " . قالت : لا . قال : " اوفي بنذرك
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ثابت بن ضحاک نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ ( ایک جگہ کا نام ہے ) میں اونٹ ذبح کرے گا تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت وہاں تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کفار کی عیدوں میں سے کوئی عید وہاں منائی جاتی تھی؟ لوگوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نذر پوری کر لو البتہ گناہ کی نذر پوری کرنا جائز نہیں اور نہ اس چیز میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہیں ۔
حدثنا داود بن رشيد، حدثنا شعيب بن اسحاق، عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، قال حدثني ابو قلابة، قال حدثني ثابت بن الضحاك، قال : نذر رجل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ينحر ابلا ببوانة، فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : اني نذرت ان انحر ابلا ببوانة . فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " هل كان فيها وثن من اوثان الجاهلية يعبد " . قالوا : لا . قال : " هل كان فيها عيد من اعيادهم " . قالوا : لا . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " اوف بنذرك، فانه لا وفاء لنذر في معصية الله ولا فيما لا يملك ابن ادم
میمونہ بنت کردم کہتی ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، اور لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں نے آپ پر اپنی نظریں گاڑ دیں، میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے آپ اپنی ایک اونٹنی پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معلمین مکتب کے درہ کے طرح ایک درہ تھا، میں نے بدویوں اور لوگوں کو کہتے ہوئے سنا: شن شن ( درے کی آواز جو تیزی سے مارتے اور گھماتے وقت نکلتی ہے ) تو میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئے اور ( جا کر ) آپ کے قدم پکڑ لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعتراف و اقرار کیا، آپ کھڑے ہو گئے اور ان کی باتیں آپ نے توجہ سے سنیں، پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ اگر میرے یہاں لڑکا پیدا ہو گا تو میں بوانہ کی دشوار گزار پہاڑیوں میں بہت سی بکریوں کی قربانی کروں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے پچاس بکریاں کہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا وہاں کوئی بت بھی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اللہ کے لیے جو نذر مانی ہے اسے پوری کرو انہوں نے ( بکریاں ) اکٹھا کیں، اور انہیں ذبح کرنے لگے، ان میں سے ایک بکری بدک کر بھاگ گئی تو وہ اسے ڈھونڈنے لگے اور کہہ رہے تھے اے اللہ! میری نذر پوری کر دے پھر وہ اسے پا گئے تو ذبح کیا۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا عبد الله بن يزيد بن مقسم الثقفي، من اهل الطايف قال حدثتني سارة بنت مقسم الثقفي، انها سمعت ميمونة بنت كردم، قالت : خرجت مع ابي في حجة رسول الله صلى الله عليه وسلم فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وسمعت الناس يقولون : رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعلت ابده بصري، فدنا اليه ابي وهو على ناقة له معه درة كدرة الكتاب، فسمعت الاعراب والناس يقولون : الطبطبية الطبطبية، فدنا اليه ابي فاخذ بقدمه قالت : فاقر له ووقف فاستمع منه فقال : يا رسول الله اني نذرت ان ولد لي ولد ذكر ان انحر على راس بوانة في عقبة من الثنايا عدة من الغنم . قال : لا اعلم الا انها قالت خمسين . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " هل بها من الاوثان شىء " . قال : لا . قال : " فاوف بما نذرت به لله " . قالت : فجمعها فجعل يذبحها فانفلتت منها شاة فطلبها، وهو يقول : اللهم اوف عني نذري . فظفرها فذبحها
میمونہ اپنے والد کردم بن سفیان سے اسی جیسی لیکن اس سے قدرے اختصار کے ساتھ روایت کرتی ہیں آپ نے پوچھا: کیا وہاں کوئی بت ہے یا جاہلیت کی عیدوں میں سے کوئی عید ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: یہ میری والدہ ہیں ان کے ذمہ نذر ہے، اور پیدل حج کرنا ہے، کیا میں اسے ان کی طرف سے پورا کر دوں؟ اور ابن بشار نے کبھی یوں کہا ہے: کیا ہم ان کی طرف سے اسے پورا کر دیں؟ ( جمع کے صیغے کے ساتھ ) آپ نے فرمایا: ہاں ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو بكر الحنفي، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن عمرو بن شعيب، عن ميمونة بنت كردم بن سفيان، عن ابيها، نحوه مختصر منه شىء قال : " هل بها وثن او عيد من اعياد الجاهلية " . قال : لا . قلت : ان امي هذه عليها نذر ومشى افاقضيه عنها وربما قال ابن بشار : انقضيه عنها قال : " نعم
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عضباء ۱؎ بنو عقیل کے ایک شخص کی تھی، حاجیوں کی سواریوں میں آگے چلنے والی تھی، وہ شخص گرفتار کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بندھا ہوا لایا گیا، اس وقت آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور آپ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے، اس نے کہا: محمد! آپ نے مجھے اور حاجیوں کی سواریوں میں آگے جانے والی میری اونٹنی ( عضباء ) کو کس بنا پر پکڑ رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے تمہارے حلیف ثقیف کے گناہ کے جرم میں پکڑ رکھا ہے ۔ راوی کہتے ہیں: ثقیف نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخصوں کو قید کر لیا تھا۔ اس نے جو بات کہی اس میں یہ بات بھی کہی کہ میں مسلمان ہوں، یا یہ کہا کہ میں اسلام لے آیا ہوں، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے ( آپ نے کوئی جواب نہیں دیا ) تو اس نے پکارا: اے محمد! اے محمد! عمران کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحم دل اور نرم مزاج تھے، اس کے پاس لوٹ آئے، اور پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میں مسلمان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم یہ پہلے کہتے جب تم اپنے معاملے کے مختار تھے تو تم بالکل بچ جاتے اس نے کہا: اے محمد! میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا کھلاؤ، میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلاؤ۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: یہی تمہارا مقصد ہے یا: یہی اس کا مقصد ہے ۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ دو آدمیوں کے بدلے فدیہ میں دے دیا گیا ۲؎ اور عضباء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کے لیے روک لیا ( یعنی واپس نہیں کیا ) ۔ پھر مشرکین نے مدینہ کے جانوروں پر حملہ کیا اور عضباء کو پکڑ لے گئے، تو جب اسے لے گئے اور ایک مسلمان عورت کو بھی پکڑ لے گئے، جب رات ہوتی تو وہ لوگ اپنے اونٹوں کو اپنے کھلے میدانوں میں سستانے کے لیے چھوڑ دیتے، ایک رات وہ سب سو گئے، تو عورت ( نکل بھاگنے کے ارادہ ) سے اٹھی تو وہ جس اونٹ پر بھی ہاتھ رکھتی وہ بلبلانے لگتا یہاں تک کہ وہ عضباء کے پاس آئی، وہ ایک سیدھی سادی سواری میں مشاق اونٹنی کے پاس آئی اور اس پر سوار ہو گئی اس نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے اسے بچا دیا تو وہ اسے ضرور قربان کر دے گی۔ جب وہ مدینہ پہنچی تو اونٹنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی حیثیت سے پہچان لی گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی، آپ نے اسے بلوایا، چنانچہ اسے بلا کر لایا گیا، اس نے اپنی نذر کے متعلق بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتنا برا ہے جو تم نے اسے بدلہ دینا چاہا، اللہ نے اسے اس کی وجہ سے نجات دی ہے تو وہ اسے نحر کر دے، اللہ کی معصیت میں نذر کا پورا کرنا نہیں اور نہ ہی نذر اس مال میں ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عورت ابوذر کی بیوی تھیں۔
حدثنا سليمان بن حرب، ومحمد بن عيسى، قالا حدثنا حماد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي المهلب، عن عمران بن حصين، : قال كانت العضباء لرجل من بني عقيل وكانت من سوابق الحاج قال : فاسر فاتى النبي صلى الله عليه وسلم وهو في وثاق والنبي صلى الله عليه وسلم على حمار عليه قطيفة فقال : يا محمد علام تاخذني وتاخذ سابقة الحاج قال : " ناخذك بجريرة حلفايك ثقيف " . قال : وكان ثقيف قد اسروا رجلين من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال : وقد قال فيما قال : وانا مسلم او قال : وقد اسلمت . فلما مضى النبي صلى الله عليه وسلم - قال ابو داود : فهمت هذا من محمد بن عيسى - ناداه يا محمد يا محمد . قال : وكان النبي صلى الله عليه وسلم رحيما رفيقا فرجع اليه قال : " ما شانك " . قال : اني مسلم . قال : " لو قلتها وانت تملك امرك افلحت كل الفلاح " . قال ابو داود : ثم رجعت الى حديث سليمان قال : يا محمد اني جايع فاطعمني اني ظمان فاسقني . قال فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " هذه حاجتك " . او قال : " هذه حاجته " . قال : ففودي الرجل بعد بالرجلين . قال : وحبس رسول الله صلى الله عليه وسلم العضباء لرحله - قال - فاغار المشركون على سرح المدينة فذهبوا بالعضباء - قال - فلما ذهبوا بها واسروا امراة من المسلمين - قال - فكانوا اذا كان الليل يريحون ابلهم في افنيتهم - قال - فنوموا ليلة وقامت المراة فجعلت لا تضع يدها على بعير الا رغا حتى اتت على العضباء - قال - فاتت على ناقة ذلول مجرسة - قال - فركبتها ثم جعلت لله عليها ان نجاها الله لتنحرنها - قال - فلما قدمت المدينة عرفت الناقة ناقة النبي صلى الله عليه وسلم فاخبر النبي صلى الله عليه وسلم بذلك فارسل اليها، فجيء بها واخبر بنذرها فقال : " بيسما جزيتيها " . او : " جزتها " . : " ان الله انجاها عليها لتنحرنها، لا وفاء لنذر في معصية الله ولا فيما لا يملك ابن ادم " . قال ابو داود : والمراة هذه امراة ابي ذر
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ یہ ہے کہ میں اپنے سارے مال سے دستبردار ہو کر اسے اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے تو میں نے عرض کیا: میں اپنا خیبر کا حصہ اپنے لیے روک لیتا ہوں۔
حدثنا سليمان بن داود، وابن السرح، قالا حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، قال قال ابن شهاب فاخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، ان عبد الله بن كعب، - وكان قايد كعب من بنيه حين عمي - عن كعب بن مالك، قال قلت : يا رسول الله ان من توبتي ان انخلع من مالي صدقة الى الله والى رسوله . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " امسك عليك بعض مالك فهو خير لك " . قال فقلت : اني امسك سهمي الذي بخيبر
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ان کی توبہ قبول ہو گئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے مال سے دستبردار ہو جاتا ہوں، پھر آگے راوی نے اسی طرح حدیث بیان کی: «خير لك» تک۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، اخبرني عبد الله بن كعب بن مالك، عن ابيه، انه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم حين تيب عليه : اني انخلع من مالي . فذكر نحوه الى : " خير لك
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں انہوں نے یا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے یا کسی اور نے جسے اللہ نے چاہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میری توبہ میں شامل ہے کہ میں اپنے اس گھر سے جہاں مجھ سے گناہ سرزد ہوا ہے ہجرت کر جاؤں اور اپنے سارے مال کو صدقہ کر کے اس سے دستبردار ہو جاؤں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس ایک ثلث کا صدقہ کر دینا تمہیں کافی ہو گا ۔
حدثني عبيد الله بن عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن ابن كعب بن مالك، عن ابيه، انه قال للنبي صلى الله عليه وسلم او ابو لبابة او من شاء الله : ان من توبتي ان اهجر دار قومي التي اصبت فيها الذنب، وان انخلع من مالي كله صدقة . قال : " يجزي عنك الثلث
زہری کہتے ہیں: مجھے ابن کعب بن مالک نے خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ابولبابہ رضی اللہ عنہ تھے پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور واقعہ ابولبابہ کا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یونس نے ابن شہاب سے اور ابن شہاب نے سائب بن ابولبابہ کے بیٹوں میں سے کسی سے روایت کیا ہے نیز اسے زبیدی نے زہری سے، زہری نے حسین بن سائب بن ابی لبابہ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن المتوكل، حدثنا عبد الرزاق، قال اخبرني معمر، عن الزهري، قال اخبرني ابن كعب بن مالك، قال : كان ابو لبابة، فذكر معناه والقصة لابي لبابة . قال ابو داود : رواه يونس عن ابن شهاب عن بعض بني السايب بن ابي لبابة، ورواه الزبيدي عن الزهري عن حسين بن السايب بن ابي لبابة مثله
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی قصہ میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں یہ شامل ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں اپنا سارا مال صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: نصف صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: ثلث صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں میں نے کہا: تو میں اپنا خیبر کا حصہ روک لیتا ہوں۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا حسن بن الربيع، حدثنا ابن ادريس، قال قال ابن اسحاق حدثني الزهري، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب، عن ابيه، عن جده، في قصته قال قلت : يا رسول الله ان من توبتي الى الله ان اخرج من مالي كله الى الله والى رسوله صدقة . قال : " لا " . قلت : فنصفه . قال : " لا " . قلت : فثلثه . قال : " نعم " . قلت : فاني سامسك سهمي من خيبر