Loading...

Loading...
کتب
۸۴ احادیث
معاویہ بن حکم سلمی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی ہے میں نے اسے ایک تھپڑ مارا ہے، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تھپڑ کو عظیم جانا، تو میں نے عرض کیا: میں کیوں نہ اسے آزاد کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ میں اسے لے کر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان کے اوپر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر ) پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن الحجاج الصواف، حدثني يحيى بن ابي كثير، عن هلال بن ابي ميمونة، عن عطاء بن يسار، عن معاوية بن الحكم السلمي، قال قلت : يا رسول الله جارية لي صككتها صكة . فعظم ذلك على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت افلا اعتقها قال : " ايتني بها " . قال : فجيت بها قال : " اين الله " . قالت : في السماء . قال : " من انا " . قالت : انت رسول الله . قال : " اعتقها فانها مومنة
شرید سے روایت ہے کہ ان کی والدہ نے انہیں اپنی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کر دینے کی وصیت کی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میری والدہ نے مجھے وصیت کی ہے کہ میں ان کی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کر دوں، اور میرے پاس نوبہ ( حبش کے پاس ایک ریاست ہے ) کی ایک کالی لونڈی ہے۔ ۔ ۔ پھر اوپر گزری ہوئی حدیث کی طرح ذکر کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ خالد بن عبداللہ نے اس حدیث کو مرسلاً روایت کیا ہے، شرید کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن الشريد، : ان امه، اوصته ان يعتق، عنها رقبة مومنة فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله ان امي اوصت ان اعتق عنها رقبة مومنة وعندي جارية سوداء نوبية فذكر نحوه . قال ابو داود : خالد بن عبد الله ارسله لم يذكر الشريد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص ایک کالی لونڈی لے کر آیا، اور اس نے عرض کیا: اﷲ کے رسول! میرے ذمہ ایک مومنہ لونڈی آزاد کرنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( لونڈی ) سے پوچھا: اﷲ کہاں ہے؟ تو اس نے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ( یعنی آسمان کے اوپر ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آسمان کی طرف اشارہ کیا یعنی ( یہ کہا ) آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لونڈی لے کر آنے والے شخص سے ) کہا: اسے آزاد کر دو یہ مومنہ ہے ۔
حدثنا ابراهيم بن يعقوب الجوزجاني، حدثنا يزيد بن هارون، قال اخبرني المسعودي، عن عون بن عبد الله، عن عبد الله بن عتبة، عن ابي هريرة، : ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم بجارية سوداء فقال : يا رسول الله ان على رقبة مومنة . فقال لها : " اين الله " . فاشارت الى السماء باصبعها . فقال لها : " فمن انا " . فاشارت الى النبي صلى الله عليه وسلم والى السماء، يعني انت رسول الله . فقال : " اعتقها فانها مومنة
عکرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا، قسم اللہ کی، میں قریش سے جہاد کروں گا پھر کہا: ان شاءاللہ ( اگر اللہ نے چاہا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو ایک نہیں کئی لوگوں نے شریک سے، شریک نے سماک سے، سماک نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنداً بیان کیا ہے، اور ولید بن مسلم نے شریک سے روایت کیا ہے اس میں ہے: پھر آپ نے ان سے غزوہ نہیں کیا ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا شريك، عن سماك، عن عكرمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " والله لاغزون قريشا، والله لاغزون قريشا، والله لاغزون قريشا " . ثم قال : " ان شاء الله " . قال ابو داود : وقد اسند هذا الحديث غير واحد عن شريك عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس اسنده عن النبي صلى الله عليه وسلم وقال الوليد بن مسلم عن شريك : ثم لم يغزهم
عکرمہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا ، پھر فرمایا: ان شاءاللہ پھر فرمایا: قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا ان شاءاللہ پھر فرمایا: قسم اللہ کی میں قریش سے جہاد کروں گا پھر آپ خاموش رہے پھر فرمایا: ان شاءاللہ ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ولید بن مسلم نے شریک سے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: پھر آپ نے ان سے جہاد نہیں کیا ۔
حدثنا محمد بن العلاء، اخبرنا ابن بشر، عن مسعر، عن سماك، عن عكرمة، يرفعه قال : " والله لاغزون قريشا " . ثم قال : " ان شاء الله " . ثم قال : " والله لاغزون قريشا ان شاء الله " . ثم قال : " والله لاغزون قريشا " . ثم سكت ثم قال : " ان شاء الله " . قال ابو داود : زاد فيه الوليد بن مسلم عن شريك قال : ثم لم يغزهم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نذر سے منع فرماتے تھے، اور فرماتے تھے کہ نذر تقدیر کے فیصلے کو کچھ بھی نہیں ٹالتی سوائے اس کے کہ اس سے بخیل ( کی جیب ) سے کچھ نکال لیا جاتا ہے۔ مسدد کی روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر کسی چیز کو ٹالتی نہیں ۱؎ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير بن عبد الحميد، ح وحدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن منصور، عن عبد الله بن مرة، قال عثمان الهمداني عن عبد الله بن عمر، قال : اخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن النذر ثم اتفقا ويقول : " لا يرد شييا، وانما يستخرج به من البخيل " . قال مسدد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " النذر لا يرد شييا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اللہ تعالیٰ کہتا ہے: ) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لا سکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو لیکن نذر اسے اس تقدیر سے ملاتی ہے جسے میں نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، یہ بخیل سے وہ چیز نکال لیتی ہے جسے وہ اس نذر سے پہلے نہیں نکالتا ہے ( یعنی اپنی بخالت کے سبب صدقہ خیرات نہیں کرتا ہے مگر نذر کی وجہ سے کر ڈالتا ہے ) ۱؎ ۔
حدثنا ابو داود، قال قري على الحارث بن مسكين وانا شاهد، اخبركم ابن وهب، قال اخبرني مالك، عن ابي الزناد، عن عبد الرحمن بن هرمز، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " لا ياتي ابن ادم النذر القدر بشىء لم اكن قدرته له، ولكن يلقيه النذر القدر قدرته يستخرج من البخيل يوتى عليه ما لم يكن يوتى من قبل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کی اطاعت کی نذر مانے تو اللہ کی اطاعت کرے اور جو اللہ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانے تو اس کی نافرمانی نہ کرے ۱؎ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن طلحة بن عبد الملك الايلي، عن القاسم، عن عايشة، رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من نذر ان يطيع الله فليطعه، ومن نذر ان يعصي الله فلا يعصه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت کی نذر نہیں ہے ( یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے ) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۔
حدثنا اسماعيل بن ابراهيم ابو معمر، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن يونس، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن عايشة، رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم قال : " لا نذر في معصية، وكفارته كفارة يمين
اس سند سے بھی ابن شہاب سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں میں نے احمد بن شبویہ کو کہتے سنا: ابن مبارک نے کہا ہے ( یعنی اس حدیث کے بارے میں ) کہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے، تو اس سے معلوم ہوا کہ زہری نے اسے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے۔ احمد بن محمد کہتے ہیں: اس کی تصدیق وہ روایت کر رہی ہے جسے ہم سے ایوب یعنی ابن سلیمان نے بیان کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں نے اس حدیث کو ہم پر فاسد کر دیا ہے ان سے پوچھا گیا: کیا آپ کے نزدیک اس حدیث کا فاسد ہونا صحیح ہے؟ اور کیا ابن اویس کے علاوہ کسی اور نے بھی اسے روایت کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایوب یعنی ایوب بن سلیمان بن بلال ان سے قوی و بہتر راوی ہیں اور اسے ایوب نے روایت کیا ہے۔
حدثنا ابن السرح، قال حدثنا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، بمعناه واسناده . قال ابو داود سمعت احمد بن شبوية، يقول قال ابن المبارك - يعني في هذا الحديث - حدث ابو سلمة، فدل ذلك على ان الزهري، لم يسمعه من ابي سلمة، وقال احمد بن محمد : وتصديق ذلك ما حدثنا ايوب - يعني ابن سليمان - قال ابو داود سمعت احمد بن حنبل يقول : افسدوا علينا هذا الحديث . قيل له : وصح افساده عندك وهل رواه غير ابن ابي اويس قال : ايوب كان امثل منه . يعني ايوب بن سليمان بن بلال، وقد رواه ايوب
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت کی نذر نہیں ہے ( یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے ) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۔ احمد بن محمد مروزی کہتے ہیں: اصل حدیث علی بن مبارک کی حدیث ہے جسے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے محمد بن زبیر سے اور محمد نے اپنے والد زبیر سے اور زبیر نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اور عمران نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ احمد کی مراد یہ ہے کہ سلیمان بن ارقم کو اس حدیث میں وہم ہو گیا ہے ان سے زہری نے لے کر اس کو مرسلاً ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بقیہ نے اوزاعی سے، اوزاعی نے یحییٰ سے، یحییٰ نے محمد بن زبیر سے علی بن مبارک کی سند سے اسی کے ہم مثل روایت کیا ہے۔
حدثنا احمد بن محمد المروزي، حدثنا ايوب بن سليمان، عن ابي بكر بن ابي اويس، عن سليمان بن بلال، عن ابن ابي عتيق، وموسى بن عقبة، عن ابن شهاب، عن سليمان بن ارقم، ان يحيى بن ابي كثير، اخبره عن ابي سلمة، عن عايشة، رضي الله عنها، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لا نذر في معصية، وكفارته كفارة يمين " . قال احمد بن محمد المروزي : انما الحديث حديث علي بن المبارك عن يحيى بن ابي كثير عن محمد بن الزبير عن ابيه عن عمران بن حصين عن النبي صلى الله عليه وسلم . اراد ان سليمان بن ارقم وهم فيه وحمله عنه الزهري وارسله عن ابي سلمة عن عايشة رحمها الله . قال ابو داود : روى بقية عن الاوزاعي عن يحيى عن محمد بن الزبير باسناد علي بن المبارك مثله
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ ننگے پیر اور ننگے سر حج کرے گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ اپنا سر ڈھانپ لے اور سواری پر سوار ہو اور ( بطور کفارہ ) تین دن کے روزے رکھے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، قال اخبرني يحيى بن سعيد الانصاري، اخبرني عبيد الله بن زحر، ان ابا سعيد، اخبره ان عبد الله بن مالك اخبره ان عقبة بن عامر اخبره : انه، سال النبي صلى الله عليه وسلم عن اخت له نذرت ان تحج حافية غير مختمرة فقال : " مروها فلتختمر ولتركب، ولتصم ثلاثة ايام
عبدالرزاق کہتے ہیں: ہم سے ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ یحییٰ بن سعید نے مجھے لکھا کہ مجھے بنو ضمرہ کے غلام عبیداللہ بن زحر نے یا کوئی بھی رہے ہوں خبر دی کہ انہیں ابوسعید رعینی نے یحییٰ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث کی خبر دی ہے۔
حدثنا مخلد بن خالد، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا ابن جريج، قال كتب الى يحيى بن سعيد اخبرني عبيد الله بن زحر، مولى لبني ضمرة - وكان ايما رجل - ان ابا سعيد الرعيني اخبره باسناد يحيى ومعناه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بہن نے پیدل حج کرنے کے لیے جانے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سخت کوشی پر کچھ نہیں کرے گا ( یعنی اس مشقت کا کوئی ثواب نہ دے گا ) اسے چاہیئے کہ وہ سوار ہو کر حج کرے اور قسم کا کفارہ دیدے ۔
حدثنا حجاج بن ابي يعقوب، حدثنا ابو النضر، حدثنا شريك، عن محمد بن عبد الرحمن، مولى ال طلحة عن كريب، عن ابن عباس، قال : جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله ان اختي نذرت - يعني - ان تحج ماشية . فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " ان الله لا يصنع بشقاء اختك شييا، فلتحج راكبة ولتكفر عن يمينها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل بیت اللہ جانے کی نذر مانی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سواری سے جانے اور ہدی ذبح کرنے کا حکم دیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابو الوليد، حدثنا همام، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، : ان اخت، عقبة بن عامر نذرت ان تمشي، الى البيت، فامرها النبي صلى الله عليه وسلم ان تركب وتهدي هديا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب خبر ملی کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی نذر سے بے نیاز ہے، اسے کہو: سوار ہو جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اور خالد نے عکرمہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، : ان النبي صلى الله عليه وسلم لما بلغه ان اخت عقبة بن عامر نذرت ان تحج ماشية قال : " ان الله لغني عن نذرها، مرها فلتركب " . قال ابو داود : رواه سعيد بن ابي عروبة نحوه وخالد عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عکرمہ سے روایت ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن، آگے وہی باتیں ہیں جو ہشام کی حدیث میں ہے لیکن اس میں ہدی کا ذکر نہیں ہے نیز اس میں ہے: «مر أختك فلتركب» اپنی بہن کو حکم دو کہ وہ سوار ہو جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد نے عکرمہ سے ہشام کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن سعيد، عن قتادة، عن عكرمة، ان اخت، عقبة بن عامر بمعنى هشام ولم يذكر الهدى وقال فيه : " مر اختك فلتركب " . قال ابو داود : رواه خالد عن عكرمة بمعنى هشام
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میری بہن نے بیت اللہ پیدل جانے کی نذر مانی اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھ کر آؤں ( کہ میں کیا کروں ) تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: چاہیئے کہ پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو ۔
حدثنا مخلد بن خالد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، اخبرني سعيد بن ابي ايوب، ان يزيد بن ابي حبيب، اخبره ان ابا الخير حدثه عن عقبة بن عامر الجهني، قال : نذرت اختي ان تمشي، الى بيت الله، فامرتني ان استفتي لها رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستفتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال : " لتمش ولتركب
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران آپ کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو دھوپ میں کھڑا تھا آپ نے اس کے متعلق پوچھا، تو لوگوں نے بتایا: یہ ابواسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا بیٹھے گا نہیں، نہ سایہ میں آئے گا، نہ بات کرے گا، اور روزہ رکھے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ بات کرے، سایہ میں آئے اور بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال : بينما النبي صلى الله عليه وسلم يخطب اذا هو برجل قايم في الشمس فسال عنه قالوا : هذا ابو اسراييل نذر ان يقوم ولا يقعد، ولا يستظل ولا يتكلم ويصوم . قال : " مروه فليتكلم وليستظل وليقعد، وليتم صومه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے دونوں بیٹوں کے درمیان ( سہارا لے کر ) چلتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا: اس نے ( خانہ کعبہ ) پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالے آپ نے حکم دیا کہ وہ سوار ہو کر جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن ابی عمرو نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن حميد الطويل، عن ثابت البناني، عن انس بن مالك، : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا يهادى بين ابنيه فسال عنه فقالوا : نذر ان يمشي . فقال : " ان الله لغني عن تعذيب هذا نفسه " . وامره ان يركب . قال ابو داود : رواه عمرو بن ابي عمرو عن الاعرج عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه