Loading...

Loading...
کتب
۸۴ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا تو وہ چاہے قسم کو پورا کرے چاہے نہ پورا کرے وہ حانث ( قسم توڑنے والا ) نہ ہو گا ۔
حدثنا محمد بن عيسى، ومسدد، - وهذا حديثه - قالا حدثنا عبد الوارث، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من حلف فاستثنى فان شاء رجع، وان شاء ترك غير حنث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اس طرح قسم کھاتے تھے: «لا، ومقلب القلوب» نہیں! قسم ہے دلوں کے پھیرنے والے کی ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا ابن المبارك، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، قال : اكثر ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحلف بهذه اليمين : " لا، ومقلب القلوب
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زور دے کر قسم کھاتے تو فرماتے: «والذي نفس أبي القاسم بيده» قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا وكيع، حدثنا عكرمة بن عمار، عن عاصم بن شميخ، عن ابي سعيد الخدري، قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اجتهد في اليمين قال : " والذي نفس ابي القاسم بيده
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قسم کھاتے تو فرماتے: «لا، وأستغفر الله» نہیں، قسم ہے میں اللہ سے بخشش اور مغفرت کا طلب گار ہوں ۔
حدثنا محمد بن عبد العزيز بن ابي رزمة، اخبرني زيد بن حباب، اخبرني محمد بن هلال، حدثني ابي انه، سمع ابا هريرة، يقول : كانت يمين رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا حلف يقول : " لا، واستغفر الله
عاصم بن لقیط کہتے ہیں کہ لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک وفد لے کر گئے، لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر راوی نے حدیث ذکر کی، اس میں ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے تمہارے معبود کی ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابراهيم بن حمزة، حدثنا عبد الملك بن عياش السمعي الانصاري، عن دلهم بن الاسود بن عبد الله بن حاجب بن عامر بن المنتفق العقيلي، عن ابيه، عن عمه، لقيط بن عامر قال دلهم وحدثنيه ايضا الاسود بن عبد الله، عن عاصم بن لقيط، : ان لقيط بن عامر، خرج وافدا الى النبي صلى الله عليه وسلم قال لقيط : فقدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر حديثا فيه : فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " لعمر الهك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دلائی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قسم مت دلاؤ ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، : ان ابا بكر، اقسم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال له النبي صلى الله عليه وسلم : " لا تقسم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میں نے رات خواب دیکھا ہے، پھر اس نے اپنا خواب بیان کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعبیر بتائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کچھ تعبیر درست بیان کی ہے اور کچھ میں تم غلطی کر گئے ہو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے آپ پر اے اللہ کے رسول! میرے باپ آپ پر قربان ہوں آپ ہمیں ضرور بتائیں میں نے کیا غلطی کی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قسم مت دلاؤ ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا عبد الرزاق، - قال ابن يحيى كتبته من كتابه - اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عبيد الله، عن ابن عباس، قال : كان ابو هريرة يحدث ان رجلا، اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : اني ارى الليلة فذكر رويا فعبرها ابو بكر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " اصبت بعضا واخطات بعضا " . فقال : اقسمت عليك يا رسول الله بابي انت لتحدثني ما الذي اخطات . فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " لا تقسم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں انہوں نے قسم کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( تعبیر کی غلطی ) نہیں بتائی ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، اخبرنا محمد بن كثير، اخبرنا سليمان بن كثير، عن الزهري، عن عبيد الله، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث لم يذكر القسم، زاد فيه ولم يخبره
عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں ہمارے کچھ مہمان آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بات چیت کیا کرتے تھے ( جاتے وقت ) کہہ گئے کہ میں واپس نہیں آ سکوں گا یہاں تک کہ تم اپنے مہمانوں کو کھلا پلا کر فارغ ہو جاؤ ( یعنی میں دیر سے آ سکوں گا تم انہیں کھانا وغیرہ کھلا دینا ) تو وہ ( عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ ) ان کا کھانا لے کر آئے تو مہمان کہنے لگے: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آئے بغیر نہیں کھائیں گے، پھر وہ آئے تو پوچھا: کیا ہوا تمہارے مہمانوں کا؟ تم کھانا کھلا کر فارغ ہو گئے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: میں ان کا کھانا لے کر ان کے پاس آیا مگر انہوں نے انکار کیا اور کہا: قسم اللہ کی جب تک وہ ( ابوبکر ) نہیں آ جائیں گے ہم نہیں کھائیں گے، تو ان لوگوں نے کہا: یہ سچ کہہ رہے ہیں، یہ ہمارے پاس کھانا لے کر آئے تھے، لیکن ہم نے ہی انکار کر دیا کہ جب تک آپ نہیں آ جاتے ہیں ہم نہیں کھائیں گے، آپ نے کہا: کس چیز نے تمہیں کھانے سے روکا؟ انہوں نے کہا: آپ کے نہ ہونے نے، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں تو آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا، مہمانوں نے کہا: جب تک آپ نہیں کھائیں گے ہم بھی نہیں کھائیں گے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: آج جیسی بری رات میں نے کبھی نہ دیکھی، پھر کہا: کھانا لاؤ تو ان کا کھانا لا کر لگا دیا گیا تو انہوں نے «بسم الله» کہہ کر کھانا شروع کر دیا، مہمان بھی کھانے لگے۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے اطلاع دی گئی کہ صبح اٹھ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اور جو کچھ انہوں نے اور مہمانوں نے کیا تھا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان لوگوں سے زیادہ قسم کو پورا کرنے والے اور صادق ہو ۔
حدثنا مومل بن هشام، حدثنا اسماعيل، عن الجريري، عن ابي عثمان، او عن ابي السليل، عنه عن عبد الرحمن بن ابي بكر، قال : نزل بنا اضياف لنا قال : وكان ابو بكر يتحدث عند رسول الله صلى الله عليه وسلم بالليل فقال : لا ارجعن اليك حتى تفرغ من ضيافة هولاء ومن قراهم فاتاهم بقراهم فقالوا : لا نطعمه حتى ياتي ابو بكر . فجاء فقال : ما فعل اضيافكم افرغتم من قراهم قالوا : لا . قلت : قد اتيتهم بقراهم فابوا وقالوا : والله لا نطعمه حتى يجيء، فقالوا : صدق قد اتانا به فابينا حتى تجيء، قال : فما منعكم قالوا : مكانك . قال : والله لا اطعمه الليلة، قال فقالوا : ونحن والله لا نطعمه حتى تطعمه . قال : ما رايت في الشر كالليلة قط - قال - قربوا طعامكم . قال : فقرب طعامهم فقال : بسم الله فطعم وطعموا فاخبرت انه اصبح فغدا على النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره بالذي صنع وصنعوا، قال : " بل انت ابرهم واصدقهم
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اور اس میں مزید یہ ہے کہ سالم نے اپنی حدیث میں کہا کہ مجھے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس قسم کا کفارہ دیا ہو ( کیونکہ یہ قسم لغو ہے ) ۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا سالم بن نوح، وعبد الاعلى، عن الجريري، عن ابي عثمان، عن عبد الرحمن بن ابي بكر، بهذا الحديث نحوه زاد عن سالم، في حديثه قال : ولم يبلغني كفارة
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انصار کے دو بھائیوں میں میراث کی تقسیم کا معاملہ تھا، ان میں کے ایک نے دوسرے سے میراث تقسیم کر دینے کے لیے کہا تو اس نے کہا: اگر تم نے دوبارہ تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا تو میرا سارا مال کعبہ کے دروازے کے اندر ہو گا ۱؎تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کعبہ تمہارے مال کا محتاج نہیں ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے کر اپنے بھائی سے ( تقسیم میراث کی ) بات چیت کرو ( کیونکہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: قسم اور نذر اللہ کی نافرمانی اور رشتہ توڑنے میں نہیں اور نہ اس مال میں ہے جس میں تمہیں اختیار نہیں ( ایسی قسم اور نذر لغو ہے ) ۔
حدثنا محمد بن المنهال، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا حبيب المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن سعيد بن المسيب، : ان اخوين، من الانصار كان بينهما ميراث فسال احدهما صاحبه القسمة فقال : ان عدت تسالني عن القسمة فكل مال لي في رتاج الكعبة . فقال له عمر : ان الكعبة غنية عن مالك، كفر عن يمينك وكلم اخاك سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " لا يمين عليك، ولا نذر في معصية الرب وفي قطيعة الرحم وفيما لا تملك
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف ان چیزوں میں نذر جائز ہے جس سے اللہ کی رضا و خوشنودی مطلوب ہو اور قسم ( قطع رحمی ) ناتا توڑنے کے لیے جائز نہیں ۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، حدثني ابي عبد الرحمن، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " لا نذر الا فيما يبتغى به وجه الله، ولا يمين في قطيعة رحم
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو ابن آدم کے اختیار میں نہ ہو، اور نہ اللہ کی نافرمانی میں، اور نہ ناتا توڑنے میں، جو قسم کھائے اور پھر اسے بھلائی اس کے خلاف میں نظر آئے تو اس قسم کو چھوڑ دے ( پوری نہ کرے ) اور اس کو اختیار کرے جس میں بھلائی ہو کیونکہ اس قسم کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ تمام حدیثیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں ۱؎ اور چاہیئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دیں مگر جو قسمیں بے سوچے کھائی جاتی ہیں اور ان کا خیال نہیں کیا جاتا تو ان کا کفارہ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد سے پوچھا: کیا یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عبیداللہ سے روایت کی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پہلے کی تھی، پھر ترک کر دیا، اور وہ اسی کے لائق تھے کہ ان سے روایت چھوڑ دی جائے، احمد کہتے ہیں: ان کی حدیثیں منکر ہیں اور ان کے والد غیر معروف ہیں ۲؎۔
حدثنا المنذر بن الوليد، حدثنا عبد الله بن بكر، حدثنا عبيد الله بن الاخنس، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لا نذر ولا يمين فيما لا يملك ابن ادم ولا في معصية الله ولا في قطيعة رحم، ومن حلف على يمين فراى غيرها خيرا منها فليدعها وليات الذي هو خير، فان تركها كفارتها " . قال ابو داود : الاحاديث كلها عن النبي صلى الله عليه وسلم : " وليكفر عن يمينه " . الا فيما لا يعبا به . قال ابو داود قلت لاحمد : روى يحيى بن سعيد عن يحيى بن عبيد الله فقال : تركه بعد ذلك وكان اهلا لذلك، قال احمد : احاديثه مناكير وابوه لا يعرف
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے مدعی سے گواہ طلب کیا، اس کے پاس گواہ نہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم کھانے کے لیے کہا، اس نے اس اللہ کی قسم کھائی جس کے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم نے کیا ہے ( یعنی جس کام کے نہ کرنے پر تم نے قسم کھائی ہے اسے کیا ہے ) لیکن تمہارے اخلاص کے ساتھ «لا إله إلا الله» کہنے کی وجہ سے اللہ نے تجھے بخش دیا ہے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کفارہ کا حکم نہیں دیا ۲؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا عطاء بن السايب، عن ابي يحيى، عن ابن عباس، : ان رجلين، اختصما الى النبي صلى الله عليه وسلم فسال النبي صلى الله عليه وسلم الطالب البينة، فلم تكن له بينة فاستحلف المطلوب فحلف بالله الذي لا اله الا هو، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " بلى قد فعلت، ولكن قد غفر لك باخلاص قول لا اله الا الله " . قال ابو داود : يراد من هذا الحديث انه لم يامره بالكفارة
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی میں کسی بات کی قسم کھا لوں اور پھر بھلائی اس کے خلاف میں دیکھوں تو ان شاءاللہ میں اپنی قسم توڑ کر کفارہ دے دوں گا اور اسے اختیار کر لوں گا جس میں بھلائی ہو گی یا کہا: میں اسے اختیار کر لوں گا جس میں بھلائی ہو گی اور اپنی قسم توڑ کر کفارہ دے دوں گا ۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، حدثنا غيلان بن جرير، عن ابي بردة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال : " اني والله ان شاء الله لا احلف على يمين فارى غيرها خيرا منها الا كفرت عن يميني، واتيت الذي هو خير " . او قال : " الا اتيت الذي هو خير وكفرت يميني
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبدالرحمٰن بن سمرہ! جب تم کسی بات پر قسم کھا لو پھر اس کے بجائے دوسری چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو اسے اختیار کر لو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد سے سنا ہے وہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کو جائز سمجھتے تھے۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا هشيم، اخبرنا يونس، ومنصور، - يعني ابن زاذان - عن الحسن، عن عبد الرحمن بن سمرة، قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم : " يا عبد الرحمن بن سمرة اذا حلفت على يمين فرايت غيرها خيرا منها، فات الذي هو خير وكفر يمينك " . قال ابو داود : سمعت احمد يرخص فيها الكفارة قبل الحنث
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے اس میں ہے: تو قسم کا کفارہ ادا کرو پھر اس چیز کو اختیار کرو جو بہتر ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوموسی اشعری، عدی بن حاتم اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کی روایات جو اس موضوع سے متعلق ہیں ان میں بعض میں «الكفارة قبل الحنث» ہے اور بعض میں «الحنث قبل الكفارة» ہے۔
حدثنا يحيى بن خلف، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن عبد الرحمن بن سمرة، نحوه قال : " فكفر عن يمينك، ثم ايت الذي هو خير " . قال ابو داود : احاديث ابي موسى الاشعري وعدي بن حاتم وابي هريرة في هذا الحديث روي عن كل واحد منهم في بعض الرواية الحنث قبل الكفارة وفي بعض الرواية الكفارة قبل الحنث
عبدالرحمٰن بن حرملہ کہتے ہیں کہ ام حبیب بنت ذؤیب بن قیس مزنیہ قبیلہ بنو اسلم کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں پھر وہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے کے نکاح میں آئیں، آپ نے ہم کو ایک صاع ہبہ کیا، اور ہم سے بیان کیا کہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے سے روایت ہے، اور انہوں نے ام المؤمنین صفیہ سے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین کہتی ہیں کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کو جانچا یا کہا میں نے اس کا اندازہ کیا تو ہشام بن عبدالملک کے مد سے دو مد اور آدھے مد کے برابر پایا ۱؎۔
حدثنا احمد بن صالح، قال قرات على انس بن عياض حدثني عبد الرحمن بن حرملة، عن ام حبيب بنت ذويب بن قيس المزنية، - وكانت تحت رجل منهم من اسلم ثم كانت تحت ابن اخ لصفية زوج النبي صلى الله عليه وسلم قال ابن حرملة : فوهبت لنا ام حبيب صاعا - حدثتنا عن ابن اخي صفية عن صفية انه صاع النبي صلى الله عليه وسلم . قال انس : فجربته، او قال فحزرته فوجدته مدين ونصفا بمد هشام
محمد بن محمد بن خلاد ابوعمر کا بیان ہے کہ میرے پاس ایک مکوک ۱؎ تھا اسے مکوک خالد کہا جاتا تھا، وہ ہارون کے کیلجہ ( ایک پیمانہ ہے ) سے دو کیلجہ کے برابر تھا۔ محمد کہتے ہیں: خالد کا صاع ہشام یعنی ابن عبدالملک کا صاع ہے۔
حدثنا محمد بن محمد بن خلاد ابو عمر، قال : كان عندنا مكوك يقال له مكوك خالد وكان كيلجتين بكيلجة هارون، قال محمد : صاع خالد صاع هشام يعني ابن عبد الملك
امیہ بن خالد کہتے ہیں جب خالد قسری گورنر مقرر ہوئے تو انہوں نے صاع کو دو چند کر دیا تو ایک صاع ( ۱۶ ) رطل کا ہو گیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن محمد بن خلاد کو حبشیوں نے سامنے کھڑا کر کے قتل کر دیا تھا انہوں نے ہاتھ سے بتایا کہ اس طرح ( یہ کہہ کر ) ابوداؤد نے اپنا ہاتھ پھیلایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کے باطن کو زمین کی طرف کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ان کو خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا برتاؤ کیا؟ انہوں نے کہا: اللہ نے مجھے جنت میں داخل فرما دیا، تو میں نے کہا: پھر تو آپ کو حبشیوں کے سامنے کھڑا کر کے قتل کئے جانے سے کچھ نقصان نہ پہنچا۔
حدثنا محمد بن محمد بن خلاد ابو عمر، حدثنا مسدد، عن امية بن خالد، قال : لما ولي خالد القسري اضعف الصاع فصار الصاع ستة عشر رطلا . قال ابو داود : محمد بن محمد بن خلاد قتله الزنج صبرا، فقال بيده هكذا ومد ابو داود يده وجعل بطون كفيه الى الارض، قال : ورايته في النوم فقلت : ما فعل الله بك قال : ادخلني الجنة . فقلت : فلم يضرك الوقف