Loading...

Loading...
کتب
۸۴ احادیث
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی دباؤ میں آ کر ( یا دیدہ و دانستہ ) جھوٹی قسم کھا لے تو چاہیئے کہ اس کے سبب وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن عمران بن حصين، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين مصبورة كاذبا فليتبوا بوجهه مقعده من النار
عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات پر جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال ہڑپ لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہو گا ۔ اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات میرے ایک مقدمے میں ( جو میرے اور ایک یہودی کے درمیان تھا ) فرمائی تھی، میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا تو میں اس کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تمہارے پاس گواہ ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا: تم قسم کھاؤ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو قسم کھا کر میرا مال ہڑپ کر لے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ( سورۃ آل عمران: ۷۷ ) آخیر تک نازل فرمائی ۱؎۔
حدثنا محمد بن عيسى، وهناد بن السري، - المعنى - قالا حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين هو فيها فاجر ليقتطع بها مال امري مسلم لقي الله وهو عليه غضبان " . فقال الاشعث في والله كان ذلك كان بيني وبين رجل من اليهود ارض فجحدني فقدمته الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم " الك بينة " . قلت لا . قال لليهودي " احلف " . قلت يا رسول الله اذا يحلف ويذهب بمالي فانزل الله تعالى { ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا } الى اخر الاية
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں کندہ کے ایک آدمی اور حضر موت کے ایک آدمی نے جھگڑا کیا اور دونوں اپنا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! میری زمین کو اس شخص کے باپ نے مجھ سے چھین لی تھی اور اب وہ زمین اس شخص کے قبضہ میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس «بیّنہ» ( ثبوت اور دلیل ) ہے؟ اس نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے قسم دلانا چاہوں گا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ میری زمین ہے جسے اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لی تھی، ( یہ سن کر ) کندی قسم کھانے کے لیے تیار ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت ) فرمایا: جو شخص کسی کا مال قسم کھا کر ہڑپ کر لے گا تو قیامت کے دن وہ اللہ سے کوڑھی ہو کر ملے گا ( یہ سنا تو ) کندی نے کہا: یہ اسی کی زمین ہے۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا الفريابي، حدثنا الحارث بن سليمان، حدثني كردوس، عن الاشعث بن قيس، ان رجلا، من كندة ورجلا من حضرموت اختصما الى النبي صلى الله عليه وسلم في ارض من اليمن فقال الحضرمي يا رسول الله ان ارضي اغتصبنيها ابو هذا وهي في يده . قال " هل لك بينة " . قال لا ولكن احلفه والله ما يعلم انها ارضي اغتصبنيها ابوه فتهيا الكندي لليمين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقتطع احد مالا بيمين الا لقي الله وهو اجذم " . فقال الكندي هي ارضه
وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضر موت کا ایک شخص اور کندہ کا ایک شخص دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی ایک زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: واہ یہ میری زمین ہے، میرے قبضے میں ہے میں خود اس میں کھیتی کرتا ہوں اس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا: کیا تمہارے پاس گواہ ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو تمہارے لیے اس کی جانب سے قسم ہے ( جیسی وہ قسم کھا لے اسی کے مطابق فیصلہ ہو جائے گا ) ، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول: وہ تو فاجر ہے کسی بھی قسم کی پرواہ نہیں کرتا، کسی بھی چیز سے نہیں ڈرتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( وہ کچھ بھی ہو ) تمہارے لیے تو بس اس سے اتنا ہی حق ہے ( یعنی تم اس سے بس قسم کھلا سکتے ہو ) پھر وہ قسم کھانے چلا، تو اس کے مڑتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو اگر کسی کا مال ہڑپ کرنے کے لیے اس نے جھوٹی قسم کھا لی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے منہ پھیرے ہو گا ۱؎ ۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك، عن علقمة بن وايل بن حجر الحضرمي، عن ابيه، قال جاء رجل من حضرموت ورجل من كندة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال الحضرمي يا رسول الله ان هذا غلبني على ارض كانت لابي . فقال الكندي هي ارضي في يدي ازرعها ليس له فيها حق . قال فقال النبي صلى الله عليه وسلم للحضرمي " الك بينة " . قال لا . قال " فلك يمينه " . قال يا رسول الله انه فاجر لا يبالي ما حلف عليه ليس يتورع من شىء . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ليس لك منه الا ذاك " . فانطلق ليحلف له فلما ادبر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما لين حلف على مال لياكله ظالما ليلقين الله عز وجل وهو عنه معرض
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے گا اگرچہ ایک تازی مسواک کے لیے کھائے تو سمجھ لو اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا یا یہ کہا: جہنم اس پر واجب ہو گئی ۱؎ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابن نمير، حدثنا هاشم بن هاشم، اخبرني عبد الله بن نسطاس، من ال كثير بن الصلت انه سمع جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحلف احد عند منبري هذا على يمين اثمة ولو على سواك اخضر الا تبوا مقعده من النار " . او " وجبت له النار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی قسم کھائے اور اپنی قسم میں یوں کہے کہ میں لات کی قسم کھاتا ہوں تو چاہیئے کہ وہ «لا إله إلا الله» کہے، اور جو کوئی اپنے دوست سے کہے کہ آؤ ہم تم جوا کھیلیں تو اس کو چاہیئے کہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرے ( تاکہ شرک اور کلمہ شرک کا کفارہ ہو جائے ) ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف فقال في حلفه واللات فليقل لا اله الا الله ومن قال لصاحبه تعال اقامرك فليتصدق بشىء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ، نہ اپنی ماؤں کی قسم کھانا، اور نہ ان کی قسم کھانا جنہیں لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، تم صرف اللہ کی قسم کھانا، اور اللہ کی بھی قسم اسی وقت کھاؤ جب تم سچے ہو ۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا عوف، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تحلفوا بابايكم ولا بامهاتكم ولا بالانداد ولا تحلفوا الا بالله ولا تحلفوا بالله الا وانتم صادقون
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس حال میں پایا کہ وہ ایک قافلہ میں تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے روکتا ہے اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہے تو اللہ کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر بن الخطاب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ادركه وهو في ركب وهو يحلف بابيه فقال " ان الله ينهاكم ان تحلفوا بابايكم فمن كان حالفا فليحلف بالله او ليسكت
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( غیر اللہ کی قسم کھاتے ہوئے ) سنا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث:«بآبائكم» تک بیان کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی پھر میں نے نہ جان بوجھ کر اس کی قسم کھائی، اور نہ ہی کسی کی بات نقل کرتے ہوئے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن عمر، - رضى الله عنه - قال سمعني رسول الله صلى الله عليه وسلم نحو معناه الى " بابايكم " . زاد قال عمر فوالله ما حلفت بهذا ذاكرا ولا اثرا
سعد بن عبیدہ کہتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو کعبہ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی قسم کھائی تو اس نے شرک کیا ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابن ادريس، قال سمعت الحسن بن عبيد الله، عن سعد بن عبيدة، قال سمع ابن عمر، رجلا يحلف لا والكعبة فقال له ابن عمر اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من حلف بغير الله فقد اشرك
مالک بن ابی عامر کہتے ہیں کہ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے سنا ( یعنی اعرابی کے واقعہ میں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس کے باپ کی، وہ کامیاب ہو گیا اگر وہ سچا ہے، قسم ہے اس کے باپ کی وہ جنت میں داخل ہو گیا اگر وہ سچا ہے ۔
حدثنا سليمان بن داود العتكي، حدثنا اسماعيل بن جعفر المدني، عن ابي سهيل، نافع بن مالك بن ابي عامر عن ابيه، انه سمع طلحة بن عبيد الله يعني في، حديث قصة الاعرابي قال النبي صلى الله عليه وسلم " افلح وابيه ان صدق دخل الجنة وابيه ان صدق
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو امانت کی قسم کھائے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا الوليد بن ثعلبة الطايي، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف بالامانة فليس منا
عطاء سے یمین لغو کے بارے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یمین لغو یہ ہے کہ آدمی اپنے گھر میں ( تکیہ کلام کے طور پر ) «كلا والله وبلى والله» ( ہرگز نہیں قسم اللہ کی، ہاں قسم اللہ کی ) کہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابراہیم صائغ ایک نیک آدمی تھے، ابومسلم نے عرندس میں انہیں قتل کر دیا تھا، ابراہیم صائغ کا حال یہ تھا کہ اگر وہ ہتھوڑا اوپر اٹھائے ہوتے اور اذان کی آواز آ جاتی تو ( مارنے سے پہلے ) اسے چھوڑ دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو داود بن ابوالفرات نے ابراہیم صائغ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے اسی طرح زہری، عبدالملک بن ابی سلیمان اور مالک بن مغول نے روایت کیا ہے اور ان سب نے عطاء سے انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
حدثنا حميد بن مسعدة الشامي، حدثنا حسان، - يعني ابن ابراهيم - حدثنا ابراهيم، - يعني الصايغ - عن عطاء، في اللغو في اليمين قال قالت عايشة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " هو كلام الرجل في بيته كلا والله وبلى والله " . قال ابو داود كان ابراهيم الصايغ رجلا صالحا قتله ابو مسلم بعرندس قال وكان اذا رفع المطرقة فسمع النداء سيبها . قال ابو داود روى هذا الحديث داود بن ابي الفرات عن ابراهيم الصايغ موقوفا على عايشة وكذلك رواه الزهري وعبد الملك بن ابي سليمان ومالك بن مغول وكلهم عن عطاء عن عايشة موقوفا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری قسم کا اعتبار اسی چیز پر ہو گا جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے ۔ مسدد کی روایت میں: «أخبرني عبد الله بن أبي صالح» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد بن ابی صالح اور عبداللہ بن ابی صالح دونوں ایک ہی ہیں۔
حدثنا عمرو بن عون، قال انا هشيم، ح وحدثنا مسدد، حدثنا هشيم، عن عباد بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يمينك على ما يصدقك عليها صاحبك " . قال مسدد قال اخبرني عبد الله بن ابي صالح . قال ابو داود هما واحد عبد الله بن ابي صالح وعباد بن ابي صالح
سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کا ارادہ کر رہے تھے، اور ہمارے ساتھ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہیں ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا تو اور ساتھیوں نے انہیں جھوٹی قسم کھا کر چھڑا لینے کو برا سمجھا ( لیکن ) میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرا بھائی ہے تو اس نے انہیں آنے دیا، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ اور لوگوں نے تو قسم کھانے میں حرج و قباحت سمجھی، اور میں نے قسم کھا لی کہ یہ میرے بھائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچ کہا، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ۔
حدثنا عمرو بن محمد الناقد، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا اسراييل، عن ابراهيم بن عبد الاعلى، عن جدته، عن ابيها، سويد بن حنظلة قال خرجنا نريد رسول الله ومعنا وايل بن حجر فاخذه عدو له فتحرج القوم ان يحلفوا وحلفت انه اخي فخلى سبيله فاتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته ان القوم تحرجوا ان يحلفوا وحلفت انه اخي قال " صدقت المسلم اخو المسلم
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ملت اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائے تو وہ ویسے ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا ہے، اور جو شخص اپنے آپ کو کسی چیز سے ہلاک کر ڈالے ( یعنی خودکشی کر لے ) تو قیامت میں اس کو اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا، اور اس آدمی کی نذر نہیں مانی جائے گی جو کسی ایسی چیز کی نذر مانے جو اس کے اختیار میں نہ ہو ۲؎ ۔
حدثنا ابو توبة الربيع بن نافع، حدثنا معاوية بن سلام، عن يحيى بن ابي كثير، قال اخبرني ابو قلابة، ان ثابت بن الضحاك، اخبره انه، بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم تحت الشجرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من حلف بملة غير ملة الاسلام كاذبا فهو كما قال ومن قتل نفسه بشىء عذب به يوم القيامة وليس على رجل نذر فيما لا يملكه
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قسم کھائے اور کہے میں اسلام سے بری ہوں ( اگر میں نے فلاں کام کیا ) اب اگر وہ جھوٹا ہے تو اس نے جیسا ہونے کو کہا ہے ویسا ہی ہو جائے گا، اور اگر سچا ہے تو بھی وہ اسلام میں سلامتی سے ہرگز واپس نہ آ سکے گا ۔
حدثني احمد بن حنبل، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا حسين، - يعني ابن واقد - حدثني عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من حلف فقال اني بريء من الاسلام فان كان كاذبا فهو كما قال، وان كان صادقا فلن يرجع الى الاسلام سالما
یوسف بن عبداللہ بن سلام کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے روٹی کے ٹکڑے پر کھجور رکھا اور کہا یہ اس کا سالن ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا يحيى بن العلاء، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن يوسف بن عبد الله بن سلام، قال : رايت النبي صلى الله عليه وسلم وضع تمرة على كسرة فقال : " هذه ادام هذه
اس سند سے بھی یوسف بن عبداللہ بن سلام سے اسی کے مثل مروی ہے۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، عن محمد بن ابي يحيى، عن يزيد الاعور، عن يوسف بن عبد الله بن سلام، مثله
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کام پر قسم کھائی پھر ان شاءاللہ کہا تو اس نے استثناء کر لیا ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا سفيان، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال : " من حلف على يمين فقال ان شاء الله فقد استثنى