Loading...

Loading...
کتب
۴۳ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مر گیا اور ایک غلام کے سوا جسے وہ آزاد کر چکا تھا کوئی وارث نہ چھوڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کوئی اس کا وارث ہے؟ لوگوں نے کہا: کوئی نہیں سوائے ایک غلام کے جس کو اس نے آزاد کر دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کو اس کا ترکہ دلا دیا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا عمرو بن دينار، عن عوسجة، عن ابن عباس، ان رجلا، مات ولم يدع وارثا الا غلاما له كان اعتقه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل له احد " . قالوا لا الا غلاما له كان اعتقه . فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم ميراثه له
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: عورت تین شخص کی میراث سمیٹ لیتی ہے: اپنے آزاد کئے ہوئے غلام کی، راہ میں پائے ہوئے بچے کی، اور اپنے اس بچے کی جس کے سلسلہ میں لعان ہوا ہو ( یعنی جس کے نسب سے شوہر منکر ہو گیا ہو ) تو عورت اس کی وارث ہو گی ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، حدثنا محمد بن حرب، حدثني عمر بن روبة التغلبي، عن عبد الواحد بن عبد الله النصري، عن واثلة بن الاسقع، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المراة تحرز ثلاثة مواريث عتيقها ولقيطها وولدها الذي لاعنت عنه
مکحول کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان والی عورت کے بچے کی میراث اس کی ماں کو دلائی ہے پھر اس کی ماں کے بعد ماں کے وارثوں کو دلائی ہے ۱؎۔
حدثنا محمود بن خالد، وموسى بن عامر، قالا حدثنا الوليد، اخبرنا ابن جابر، حدثنا مكحول، قال جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم ميراث ابن الملاعنة لامه ولورثتها من بعدها
اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل مروی ہے۔
حدثنا موسى بن عامر، حدثنا الوليد، اخبرني عيسى ابو محمد، عن العلاء بن الحارث، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن علي بن حسين، عن عمرو بن عثمان، عن اسامة بن زيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کل آپ ( مکہ میں ) کہاں اتریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی جائے قیام چھوڑی ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم بنی کنانہ کے خیف یعنی وادی محصب میں اتریں گے، جہاں قریش نے کفر پر جمے رہنے کی قسم کھائی تھی ۔ بنو کنانہ نے قریش سے عہد لیا تھا کہ وہ بنو ہاشم سے نہ نکاح کریں گے، نہ خرید و فروخت، اور نہ انہیں اپنے یہاں جگہ ( یعنی پناہ ) دیں گے۔ زہری کہتے ہیں: خیف ایک وادی کا نام ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن علي بن حسين، عن عمرو بن عثمان، عن اسامة بن زيد، قال قلت يا رسول الله اين تنزل غدا في حجته . قال " وهل ترك لنا عقيل منزلا " . ثم قال " نحن نازلون بخيف بني كنانة حيث تقاسمت قريش على الكفر " . يعني المحصب وذاك ان بني كنانة حالفت قريشا على بني هاشم ان لا يناكحوهم ولا يبايعوهم ولا ييووهم . قال الزهري والخيف الوادي
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو دین والے ( یعنی مسلمان اور کافر ) کبھی ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن حبيب المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يتوارث اهل ملتين شتى
عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ دو بھائی اپنا جھگڑا یحییٰ بن یعمر کے پاس لے گئے ان میں سے ایک یہودی تھا، اور ایک مسلمان، انہوں نے مسلمان کو میراث دلائی، اور کہا کہ ابوالاسود نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ ان سے ایک شخص نے بیان کیا کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اسلام بڑھتا ہے گھٹتا نہیں ہے پھر انہوں نے مسلمان کو ترکہ دلایا۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن عمرو بن ابي حكيم الواسطي، حدثنا عبد الله بن بريدة، ان اخوين، اختصما الى يحيى بن يعمر يهودي ومسلم فورث المسلم منهما وقال حدثني ابو الاسود ان رجلا حدثه ان معاذا حدثه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الاسلام يزيد ولا ينقص " . فورث المسلم
ابوالاسود دیلی سے روایت ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی کا ترکہ لایا گیا جس کا وارث ایک مسلمان تھا، اور اسی مفہوم کی حدیث انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، عن عمرو بن ابي حكيم، عن عبد الله بن بريدة، عن يحيى بن يعمر، عن ابي الاسود الديلي، ان معاذا، اتي بميراث يهودي وارثه مسلم بمعناه عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں جو ترکہ تقسیم ہو گیا ہو وہ زمانہ اسلام میں بھی اسی حال پر باقی رہے گا، اور جو ترکہ اسلام کے زمانہ تک تقسیم نہیں ہوا تو اب اسلام کے آ جانے کے بعد اسلام کے قاعدہ و قانون کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ۔
حدثنا حجاج بن ابي يعقوب، حدثنا موسى بن داود، حدثنا محمد بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن ابي الشعثاء، عن ابن عباس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " كل قسم قسم في الجاهلية فهو على ما قسم له وكل قسم ادركه الاسلام فهو على قسم الاسلام
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی خرید کر آزاد کرنا چاہا تو اس کے مالکوں نے کہا کہ ہم اسے اس شرط پر آپ کے ہاتھ بیچیں گے کہ اس کا حق ولاء ۱؎ ہمیں حاصل ہو، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: یہ خریدنے میں تمہارے لیے رکاوٹ نہیں کیونکہ ولاء اسی کا ہے جو آزاد کرے ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، قال قري على مالك وانا حاضر، قال مالك عرض على نافع عن ابن عمر، ان عايشة، رضى الله عنها ام المومنين ارادت ان تشتري جارية تعتقها فقال اهلها نبيعكها على ان ولاءها لنا . فذكرت عايشة ذاك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " لا يمنعك ذلك فان الولاء لمن اعتق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولاء اس شخص کا حق ہے جو قیمت دے کر خرید لے اور احسان کرے ( یعنی خرید کر غلام کو آزاد کر دے ) ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع بن الجراح، عن سفيان الثوري، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الولاء لمن اعطى الثمن وولي النعمة
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رئاب بن حذیفہ نے ایک عورت سے شادی کی، اس کے بطن سے تین لڑکے پیدا ہوئے، پھر لڑکوں کی ماں مر گئی، اور وہ لڑکے اپنی ماں کے گھر کے اور اپنی ماں کے آزاد کئے ہوئے غلاموں کی ولاء کے مالک ہوئے، اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ان لڑکوں کے عصبہ ( یعنی وارث ) ہوئے اس کے بعد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہیں شام کی طرف نکال دیا، اور وہ وہاں مر گئے تو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ آئے اور اس عورت کا ایک آزاد کیا ہوا غلام مر گیا اور مال چھوڑ گیا تو اس عورت کے بھائی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اس عورت کے ولاء کا مقدمہ لے گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ولاء اولاد یا باپ حاصل کرے تو وہ اس کے عصبوں کو ملے گی خواہ کوئی بھی ہو ( اولاد کے یا باپ کے مر جانے کے بعد ماں کے وارثوں کو نہ ملے گی ) پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس باب میں ایک فیصلہ نامہ لکھ دیا اور اس پر عبدالرحمٰن بن عوف اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما اور ایک اور شخص کی گواہی ثابت کر دی، جب عبدالملک بن مروان خلیفہ ہوئے تو پھر ان لوگوں نے جھگڑا کیا یہ لوگ اپنا مقدمہ ہشام بن اسماعیل یا اسماعیل بن ہشام کے پاس لے گئے انہوں نے عبدالملک کے پاس مقدمہ کو بھیج دیا، عبدالملک نے کہا: یہ فیصلہ تو ایسا لگتا ہے جیسے میں اس کو دیکھ چکا ہوں۔ راوی کہتے ہیں پھر عبدالملک نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ دیا اور وہ ولاء اب تک ہمارے پاس ہے۔
حدثنا عبد الله بن عمرو بن ابي الحجاج ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، عن حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رياب بن حذيفة، تزوج امراة فولدت له ثلاثة غلمة فماتت امهم فورثوها رباعها وولاء مواليها وكان عمرو بن العاص عصبة بنيها فاخرجهم الى الشام فماتوا فقدم عمرو بن العاص ومات مولى لها وترك مالا له فخاصمه اخوتها الى عمر بن الخطاب فقال عمر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما احرز الولد او الوالد فهو لعصبته من كان " . قال فكتب له كتابا فيه شهادة عبد الرحمن بن عوف وزيد بن ثابت ورجل اخر فلما استخلف عبد الملك اختصموا الى هشام بن اسماعيل او الى اسماعيل بن هشام فرفعهم الى عبد الملك فقال هذا من القضاء الذي ما كنت اراه . قال فقضى لنا بكتاب عمر بن الخطاب فنحن فيه الى الساعة
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کے بارے میں شرع کا کیا حکم ہے جو کسی مسلمان شخص کے ہاتھ پر ایمان لایا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص دوسروں کی بہ نسبت اس کی موت و حیات کے زیادہ قریب ہے ( اگر اس کا کوئی اور وارث نہ ہو تو وہی وارث ہو گا ) ۔
حدثنا يزيد بن خالد بن موهب الرملي، وهشام بن عمار، قالا حدثنا يحيى، - قال ابو داود وهو ابن حمزة - عن عبد العزيز بن عمر، قال سمعت عبد الله بن موهب، يحدث عمر بن عبد العزيز عن قبيصة بن ذويب، - قال هشام عن تميم الداري، انه قال يا رسول الله . وقال يزيد - ان تميما قال يا رسول الله ما السنة في الرجل يسلم على يدى الرجل من المسلمين قال " هو اولى الناس بمحياه ومماته
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو بیچنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، رضى الله عنهما قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الولاء وعن هبته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بچہ آواز کرے تو وراثت کا حقدار ہو جائے گا ۱؎ ۔
حدثنا حسين بن معاذ، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا محمد، - يعني ابن اسحاق - عن يزيد بن عبد الله بن قسيط، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا استهل المولود ورث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فرمان: «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» جن لوگوں سے تم نے قسمیں کھائی ہیں ان کو ان کا حصہ دے دو ( سورۃ النساء: ۳۳ ) کے مطابق پہلے ایک شخص دوسرے شخص سے جس سے قرابت نہ ہوتی باہمی اخوت اور ایک دوسرے کے وارث ہونے کا عہد و پیمان کرتا پھر ایک دوسرے کا وارث ہوتا، پھر یہ حکم سورۃ الانفال کی آیت:«وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض» اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں ( سورۃ الانفال: ۷۵ ) سے منسوخ ہو گیا۔
حدثنا احمد بن محمد بن ثابت، حدثني علي بن حسين، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، رضى الله عنهما قال { والذين عقدت ايمانكم فاتوهم نصيبهم } كان الرجل يحالف الرجل ليس بينهما نسب فيرث احدهما الاخر فنسخ ذلك الانفال فقال تعالى { واولو الارحام بعضهم اولى ببعض}
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قول: «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» کا قصہ یہ ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے آئے تو اس مواخات ( بھائی چارہ ) کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے درمیان کرا دی تھی وہ انصار کے وارث ہوتے ( اور انصار ان کے وارث ہوتے ) اور عزیز و اقارب وارث نہ ہوتے، لیکن جب یہ آیت«ولكل جعلنا موالي مما ترك» ماں باپ یا قرابت دار جو چھوڑ کر مریں اس کے وارث ہم نے ہر شخص کے مقرر کر دیے ہیں ( سورۃ النساء: ۳۳ ) نازل ہوئی تو «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» والی آیت کو منسوخ کر دیا، اور اس کا مطلب یہ رہ گیا کہ ان کی اعانت، خیر خواہی اور سہارے کے طور پر جو چاہے کر دے نیز ان کے لیے وہ ( ایک تہائی مال ) کی وصیت کر سکتا ہے، میراث ختم ہو گئی۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا ابو اسامة، حدثني ادريس بن يزيد، حدثنا طلحة بن مصرف، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، في قوله { والذين عقدت ايمانكم فاتوهم نصيبهم } قال كان المهاجرون حين قدموا المدينة تورث الانصار دون ذوي رحمه للاخوة التي اخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بينهم فلما نزلت هذه الاية { ولكل جعلنا موالي مما ترك } قال نسختها { والذين عقدت ايمانكم فاتوهم نصيبهم } من النصرة والنصيحة والرفادة ويوصي له وقد ذهب الميراث
داود بن حصین کہتے ہیں کہ میں ام سعد بنت ربیع سے ( کلام پاک ) پڑھتا تھا وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زیر پرورش ایک یتیم بچی تھیں، میں نے اس آیت «والذين عقدت أيمانكم» کو پڑھا تو کہنے لگیں: اس آیت کو نہ پڑھو، یہ ابوبکر اور ان کے بیٹے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما کے متعلق اتری ہے، جب عبدالرحمٰن نے مسلمان ہونے سے انکار کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قسم کھا لی کہ میں ان کو وارث نہیں بناؤں گا پھر جب وہ مسلمان ہو گئے تو اللہ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ ( ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہیں ) کہ وہ ان کا حصہ دیں۔ عبدالعزیز کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ عبدالرحمٰن تلوار کے دباؤ میں آ کر مسلمان ہوئے ( یعنی جب اسلام کو غلبہ حاصل ہوا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جس نے «عقدت» کہا اس نے اس سے «حلف» اور جس نے «عاقدت» کہا اس نے اس سے«حالف» مراد لیا اور صحیح طلحہ کی حدیث ہے جس میں «عاقدت» ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، وعبد العزيز بن يحيى المعنى، - قال احمد - حدثنا محمد بن سلمة، عن ابن اسحاق، عن داود بن الحصين، قال كنت اقرا على ام سعد بنت الربيع وكانت يتيمة في حجر ابي بكر فقرات { والذين عقدت ايمانكم } فقالت لا تقرا { والذين عاقدت ايمانكم } ولكن { والذين عقدت ايمانكم } انما نزلت في ابي بكر وابنه عبد الرحمن حين ابى الاسلام فحلف ابو بكر الا يورثه فلما اسلم امر الله تعالى نبيه عليه السلام ان يوتيه نصيبه . زاد عبد العزيز فما اسلم حتى حمل على الاسلام بالسيف . قال ابو داود من قال { عقدت } جعله حلفا ومن قال { عاقدت } جعله حالفا والصواب حديث طلحة { عاقدت}
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا تھا: «والذين، آمنوا وهاجروا» ، «والذين آمنوا ولم يهاجروا» جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت نہیں کی تو وہ ان کے وارث نہیں ہوں گے ( سورۃ الانفال: ۷۲ ) تو اعرابی ۱؎ مہاجر کا وارث نہ ہوتا اور نہ مہاجر اس کا وارث ہوتا اس کے بعد «وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض» اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں ( سورۃ الانفال: ۷۵ ) والی آیت سے یہ حکم منسوخ ہو گیا۔
حدثنا احمد بن محمد، حدثنا علي بن حسين، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، والذين، امنوا وهاجروا والذين امنوا ولم يهاجروا فكان الاعرابي لا يرث المهاجر ولا يرثه المهاجر فنسختها فقال { واولو الارحام بعضهم اولى ببعض}