Loading...

Loading...
کتب
۴۳ احادیث
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اصل ) علم تین ہیں اور ان کے علاوہ علوم کی حیثیت فضل ( زائد ) کی ہے: آیت محکمہ ۲؎، یا سنت قائمہ ۳؎، یا فریضہ عادلہ ۴؎ ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، اخبرنا ابن وهب، حدثني عبد الرحمن بن زياد، عن عبد الرحمن بن رافع التنوخي، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " العلم ثلاثة وما سوى ذلك فهو فضل اية محكمة او سنة قايمة او فريضة عادلة
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے دیکھنے کے لیے پیدل چل کر آئے، مجھ پر غشی طاری تھی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات نہ کر سکا تو آپ نے وضو کیا اور وضو کے پانی کا مجھ پر چھینٹا مارا تو مجھے افاقہ ہوا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنا مال کیا کروں اور بہنوں کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ہے، اس وقت میراث کی آیت«يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» آپ سے فتوی پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ ( خود ) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے ( سورۃ النساء: ۱۷۶ ) ، اتری ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا سفيان، قال سمعت ابن المنكدر، انه سمع جابرا، يقول مرضت فاتاني النبي صلى الله عليه وسلم يعودني هو وابو بكر ماشيين وقد اغمي على فلم اكلمه فتوضا وصبه على فافقت فقلت يا رسول الله كيف اصنع في مالي ولي اخوات قال فنزلت اية المواريث { يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة}
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا اور میرے پاس سات بہنیں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے چہرے پر پھونک ماری تو مجھے ہوش آ گیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی بہنوں کے لیے ثلث مال کی وصیت نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نیکی کرو ، میں نے کہا آدھے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیکی کرو ، پھر آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! میرا خیال ہے تم اس بیماری سے نہیں مرو گے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام اتارا ہے اور تمہاری بہنوں کا حصہ بیان کر دیا ہے، ان کے لیے دو ثلث مقرر فرمایا ہے ۔ جابر کہا کرتے تھے کہ یہ آیت «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» میرے ہی متعلق نازل ہوئی ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا كثير بن هشام، حدثنا هشام، - يعني الدستوايي - عن ابي الزبير، عن جابر، قال اشتكيت وعندي سبع اخوات فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فنفخ في وجهي فافقت فقلت يا رسول الله الا اوصي لاخواتي بالثلث قال " احسن " . قلت الشطر قال " احسن " . ثم خرج وتركني فقال " يا جابر لا اراك ميتا من وجعك هذا وان الله قد انزل فبين الذي لاخواتك فجعل لهن الثلثين " . قال فكان جابر يقول انزلت هذه الاية في { يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة}
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کلالہ کے سلسلے میں آخری آیت جو نازل ہوئی ہے وہ: «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ہے ۱؎۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال اخر اية نزلت في الكلالة { يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة}
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول!«يستفتونك في الكلالة» میں کلالہ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: آیت «صيف» ۱؎ تمہارے لیے کافی ہے۔ ابوبکر کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے کہا: کلالہ وہی ہے نا جو نہ اولاد چھوڑے نہ والد؟ انہوں نے کہا: ہاں، لوگوں نے ایسا ہی سمجھا ہے۔
حدثنا منصور بن ابي مزاحم، حدثنا ابو بكر، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله يستفتونك في الكلالة فما الكلالة قال " تجزيك اية الصيف " . فقلت لابي اسحاق هو من مات ولم يدع ولدا ولا والدا قال كذلك ظنوا انه كذلك
ہزیل بن شرحبیل اودی کہتے ہیں ایک شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سلیمان بن ربیعہ کے پاس آیا اور ان دونوں سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ایک بیٹی ہو اور ایک پوتی اور ایک سگی بہن ( یعنی ایک شخص ان کو وارث چھوڑ کر مرے ) تو اس کی میراث کیسے بٹے گی؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ بیٹی کو آدھا اور سگی بہن کو آدھا ملے گا، اور انہوں نے پوتی کو کسی چیز کا وارث نہیں کیا ( اور ان دونوں نے پوچھنے والے سے کہا ) تم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی جا کر پوچھو تو وہ بھی اس مسئلہ میں ہماری موافقت کریں گے، تو وہ شخص ان کے پاس آیا اور ان سے پوچھا اور انہیں ان دونوں کی بات بتائی تو انہوں نے کہا: تب تو میں بھٹکا ہوا ہوں گا اور راہ یاب لوگوں میں سے نہ ہوں گا، لیکن میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، اور وہ یہ کہ بیٹی کا آدھا ہو گا اور پوتی کا چھٹا حصہ ہو گا دو تہائی پورا کرنے کے لیے ( یعنی جب ایک بیٹی نے آدھا پایا تو چھٹا حصہ پوتی کو دے کر دو تہائی پورا کر دیں گے ) اور جو باقی رہے گا وہ سگی بہن کا ہو گا۔
حدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة، حدثنا علي بن مسهر، عن الاعمش، عن ابي قيس الاودي، عن هزيل بن شرحبيل الاودي، قال جاء رجل الى ابي موسى الاشعري وسلمان بن ربيعة فسالهما عن ابنة وابنة ابن واخت، لاب وام فقالا لابنته النصف وللاخت من الاب والام النصف ولم يورثا ابنة الابن شييا وات ابن مسعود فانه سيتابعنا فاتاه الرجل فساله واخبره بقولهما فقال لقد ضللت اذا وما انا من المهتدين ولكني ساقضي فيها بقضاء النبي صلى الله عليه وسلم لابنته النصف ولابنة الابن سهم تكملة الثلثين وما بقي فللاخت من الاب والام
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو اسواف ( مدینہ کے حرم ) میں ایک انصاری عورت کے پاس پہنچے، وہ عورت اپنی دو بیٹیوں کو لے کر آئی، اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! یہ دونوں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیٹیاں ہیں، جو جنگ احد میں آپ کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں، ان کے چچا نے ان کا سارا مال اور میراث لے لیا، ان کے لیے کچھ بھی نہ چھوڑا، اب آپ کیا فرماتے ہیں؟ اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! ان کا نکاح نہیں ہو سکتا جب تک کہ ان کے پاس مال نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ فرمائے گا ، پھر سورۃ نساء کی یہ آیتیں «يوصيكم الله في أولادكم»نازل ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کو اور اس کے دیور کو بلاؤ ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں لڑکیوں کے چچا سے کہا: دو تہائی مال انہیں دے دو، اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دو، اور جو انہیں دینے کے بعد بچا رہے وہ تمہارا ہے۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس میں بشر نے غلطی کی ہے، یہ دونوں بیٹیاں سعد بن ربیع کی تھیں، ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ تو جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر بن عبد الله، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى جينا امراة من الانصار في الاسواق فجاءت المراة بابنتين لها فقالت يا رسول الله هاتان بنتا ثابت بن قيس قتل معك يوم احد وقد استفاء عمهما مالهما وميراثهما كله فلم يدع لهما مالا الا اخذه فما ترى يا رسول الله فوالله لا تنكحان ابدا الا ولهما مال . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقضي الله في ذلك " . قال ونزلت سورة النساء { يوصيكم الله في اولادكم } الاية . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ادعوا لي المراة وصاحبها " . فقال لعمهما " اعطهما الثلثين واعط امهما الثمن وما بقي فلك " . قال ابو داود اخطا بشر فيه انما هما ابنتا سعد بن الربيع وثابت بن قيس قتل يوم اليمامة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن ربیع کی عورت نے کہا: اللہ کے رسول! سعد مر گئے اور دو بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا ابن السرح، حدثنا ابن وهب، اخبرني داود بن قيس، وغيره، من اهل العلم عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر بن عبد الله، ان امراة، سعد بن الربيع قالت يا رسول الله ان سعدا هلك وترك ابنتين . وساق نحوه قال ابو داود وهذا هو الصواب
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بہن اور بیٹی میں اس طرح ترکہ تقسیم کیا کہ آدھا مال بیٹی کو ملا اور آدھا بہن کو ( کیونکہ بہن بیٹی کے ساتھ عصبہ ہو جاتی ہے ) اور وہ یمن میں تھے، اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت باحیات تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثنا قتادة، حدثني ابو حسان، عن الاسود بن يزيد، ان معاذ بن جبل، ورث اختا وابنة فجعل لكل واحدة منهما النصف وهو باليمن ونبي الله صلى الله عليه وسلم يوميذ حى
قبیصہ بن ذویب کہتے ہیں کہ میت کی نانی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس میراث میں اپنا حصہ دریافت کرنے آئی تو انہوں نے کہا: اللہ کی کتاب ( قرآن پاک ) میں تمہارا کچھ حصہ نہیں ہے، اور مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی تمہارے لیے کچھ نہیں معلوم، تم جاؤ میں لوگوں سے دریافت کر کے بتاؤں گا، پھر انہوں نے لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ نے اسے چھٹا حصہ دلایا ہے، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے ( جو اس معاملے کو جانتا ہو ) تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی وہی بات کہی جو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہی تھی، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے اسی کو نافذ کر دیا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں دادی عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا میراث مانگنے آئی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں تمہارے حصہ کا ذکر نہیں ہے اور پہلے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ) جو حکم ہو چکا ہے وہ نانی کے معاملے میں ہوا ہے، میں اپنی طرف سے فرائض میں کچھ بڑھا نہیں سکتا، لیکن وہی چھٹا حصہ تم بھی لو، اگر نانی بھی ہو تو تم دونوں ( «سدس» ) کو بانٹ لو اور جو تم دونوں میں اکیلی ہو ( یعنی صرف نانی یا صرف دادی ) تو اس کے لیے وہی چھٹا حصہ ہے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عثمان بن اسحاق بن خرشة، عن قبيصة بن ذويب، انه قال جاءت الجدة الى ابي بكر الصديق تساله ميراثها فقال ما لك في كتاب الله تعالى شىء وما علمت لك في سنة نبي الله صلى الله عليه وسلم شييا فارجعي حتى اسال الناس . فسال الناس فقال المغيرة بن شعبة حضرت رسول الله صلى الله عليه وسلم اعطاها السدس . فقال ابو بكر هل معك غيرك فقام محمد بن مسلمة فقال مثل ما قال المغيرة بن شعبة فانفذه لها ابو بكر ثم جاءت الجدة الاخرى الى عمر بن الخطاب رضى الله عنه تساله ميراثها فقال ما لك في كتاب الله تعالى شىء وما كان القضاء الذي قضي به الا لغيرك وما انا بزايد في الفرايض ولكن هو ذلك السدس فان اجتمعتما فيه فهو بينكما وايتكما خلت به فهو لها
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نانی کا چھٹا حصہ مقرر فرمایا ہے اگر ماں اس کے درمیان حاجب نہ ہو ( یعنی اگر میت کی ماں زندہ ہو گی تو وہ نانی کو حصے سے محروم کر دے گی ) ۔
حدثنا محمد بن عبد العزيز بن ابي رزمة، اخبرني ابي، حدثنا عبيد الله ابو المنيب العتكي، عن ابن بريدة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم جعل للجدة السدس اذا لم تكن دونها ام
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا پوتا مر گیا ہے، مجھے اس کی میراث سے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے چھٹا حصہ ہے ، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ نے اس کو بلایا اور فرمایا: تمہارے لیے ایک اور چھٹا حصہ ہے ، جب وہ واپس ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے بلایا اور فرمایا: یہ دوسرا «سدس» تمہارے لیے تحفہ ہے ۔ قتادہ کہتے ہیں: معلوم نہیں دادا کو کس کے ساتھ سدس حصہ دار بنایا؟ ۔ قتادہ کہتے ہیں: سب سے کم حصہ جو دادا پاتا ہے وہ «سدس» ہے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا همام، عن قتادة، عن الحسن، عن عمران بن حصين، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان ابن ابني مات فما لي من ميراثه فقال " لك السدس " . فلما ادبر دعاه فقال " لك سدس اخر " . فلما ادبر دعاه فقال " ان السدس الاخر طعمة " . قال قتادة فلا يدرون مع اى شىء ورثه . قال قتادة اقل شىء ورث الجد السدس
حسن بصری کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادا کو ترکے میں سے جو دلایا ہے اسے تم میں کون جانتا ہے؟ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ( جانتا ہوں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھٹا حصہ دلایا ہے، انہوں نے پوچھا: کس وارث کے ساتھ؟ وہ کہنے لگے: یہ تو معلوم نہیں، اس پر انہوں نے کہا: تمہیں پوری بات معلوم نہیں پھر کیا فائدہ تمہارے جاننے کا؟ ۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، عن يونس، عن الحسن، ان عمر، قال ايكم يعلم ما ورث رسول الله صلى الله عليه وسلم الجد فقال معقل بن يسار انا ورثه رسول الله صلى الله عليه وسلم السدس . قال مع من قال لا ادري . قال لا دريت فما تغني اذا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذوی الفروض ۱؎ میں مال کتاب اللہ کے مطابق تقسیم کر دو اور جو ان کے حصوں سے بچ رہے وہ اس مرد کو ملے گا جو میت سے سب سے زیادہ قریب ہو ۲؎ ۔
حدثنا احمد بن صالح، ومخلد بن خالد، - وهذا حديث مخلد وهو الاشبع - قال حدثنا عبد الرزاق حدثنا معمر عن ابن طاوس عن ابيه عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقسم المال بين اهل الفرايض على كتاب الله فما تركت الفرايض فلاولى ذكر
مقدام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بوجھ ( قرضہ یا بال بچے ) چھوڑ جائے تو وہ میری طرف ہے، اور کبھی راوی نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے ۲؎ اور جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جس کا کوئی وارث نہیں اس کا میں وارث ہوں، میں اس کی طرف سے دیت دوں گا اور اس شخص کا ترکہ لوں گا، ایسے ہی ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں وہ اس کی دیت دے گا اور اس کا وارث ہو گا۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن بديل، عن علي بن ابي طلحة، عن راشد بن سعد، عن ابي عامر الهوزني عبد الله بن لحى، عن المقدام، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ترك كلا فالى " . وربما قال " الى الله والى رسوله " . " ومن ترك مالا فلورثته وانا وارث من لا وارث له اعقل له وارثه والخال وارث من لا وارث له يعقل عنه ويرثه
مقدام کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہر مسلمان سے اس کی ذات کی نسبت قریب تر ہوں، جو کوئی اپنے ذمہ قرض چھوڑ جائے یا عیال چھوڑ جائے تو اس کا قرض ادا کرنا یا اس کے عیال کی پرورش کرنا میرے ذمہ ہے، اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے، اور جس کا کوئی والی نہیں اس کا والی میں ہوں، میں اس کے مال کا وارث ہوں گا، اور میں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا، اور جس کا کوئی والی نہیں، اس کا ماموں اس کا والی ہے ( یہ ) اس کے مال کا وارث ہو گا اور اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو زبیدی نے راشد بن سعد سے، راشد نے ابن عائذ سے، ابن عائذ نے مقدام سے روایت کیا ہے اور اسے معاویہ بن صالح نے راشد سے روایت کیا ہے اس میں «عن المقدام» کے بجائے «سمعت المقدام» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «ضيعة» کے معنی «عیال» کے ہیں۔
حدثنا سليمان بن حرب، - في اخرين - قالوا حدثنا حماد، عن بديل، - يعني ابن ميسرة - عن علي بن ابي طلحة، عن راشد بن سعد، عن ابي عامر الهوزني، عن المقدام الكندي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا اولى بكل مومن من نفسه فمن ترك دينا او ضيعة فالى ومن ترك مالا فلورثته وانا مولى من لا مولى له ارث ماله وافك عانه والخال مولى من لا مولى له يرث ماله ويفك عانه " . قال ابو داود رواه الزبيدي عن راشد بن سعد عن ابن عايذ عن المقدام ورواه معاوية بن صالح عن راشد قال سمعت المقدام . قال ابو داود يقول الضيعة معناه عيال
مقدام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس کا کوئی وارث نہیں اس کا وارث میں ہوں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا، اور اس کے مال کا وارث ہوں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے ۱؎ جس کا کوئی وارث نہیں وہ اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا، اور اس کے مال کا وارث ہو گا۔
حدثنا عبد السلام بن عتيق الدمشقي، حدثنا محمد بن المبارك، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن يزيد بن حجر، عن صالح بن يحيى بن المقدام، عن ابيه، عن جده، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انا وارث من لا وارث له افك عانيه وارث ماله والخال وارث من لا وارث له يفك عانيه ويرث ماله
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام مر گیا، کچھ مال چھوڑ گیا اور کوئی وارث نہ چھوڑ ا، نہ کوئی اولاد، اور نہ کوئی عزیز، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا ترکہ اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی روایت سب سے زیادہ کامل ہے، مسدد کی روایت میں ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہاں کوئی اس کا ہم وطن ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا ترکہ اس کو دے دو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، حدثنا شعبة، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع بن الجراح، عن سفيان، جميعا عن ابن الاصبهاني، عن مجاهد بن وردان، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها ان مولى، للنبي صلى الله عليه وسلم مات وترك شييا ولم يدع ولدا ولا حميما فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اعطوا ميراثه رجلا من اهل قريته " . قال ابو داود وحديث سفيان اتم وقال مسدد قال فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ها هنا احد من اهل ارضه " . قالوا نعم . قال " فاعطوه ميراثه
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: قبیلہ ازد کے ایک آدمی کا ترکہ میرے پاس ہے اور مجھے کوئی ازدی مل نہیں رہا ہے جسے میں یہ ترکہ دے دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک کسی ازدی کو تلاش کرتے رہو ۔ وہ شخص پھر ایک سال بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ازدی نہیں ملا کہ میں اسے ترکہ دے دیتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ کسی خزاعی ہی کو تلاش کرو، اگر مل جائے تو مال اس کو دے دو ، جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کو میرے پاس بلا کے لاؤ ، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اس کو یہ مال دے دینا ۱؎ ۔
حدثنا عبد الله بن سعيد الكندي، حدثنا المحاربي، عن جبريل بن احمر، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال ان عندي ميراث رجل من الازد ولست اجد ازديا ادفعه اليه . قال " اذهب فالتمس ازديا حولا " . قال فاتاه بعد الحول فقال يا رسول الله لم اجد ازديا ادفعه اليه . قال " فانطلق فانظر اول خزاعي تلقاه فادفعه اليه " . فلما ولى قال " على الرجل " . فلما جاء قال " انظر كبر خزاعة فادفعه اليه
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں خزاعہ ( قبیلہ ) کے ایک شخص کا انتقال ہو گیا، اس کی میراث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو آپ نے فرمایا: اس کا کوئی وارث یا ذی رحم تلاش کرو تو نہ اس کا کوئی وارث ملا، اور نہ ہی کوئی ذی رحم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خزاعہ میں سے جو بڑا ہو اسے میراث دیدو ۔ یحییٰ کہتے ہیں: ایک بار میں نے شریک سے سنا وہ اس حدیث میں یوں کہتے تھے: دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اسے دے دو۔
حدثنا الحسين بن اسود العجلي، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا شريك، عن جبريل بن احمر ابي بكر، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال مات رجل من خزاعة فاتي النبي صلى الله عليه وسلم بميراثه فقال " التمسوا له وارثا او ذا رحم " . فلم يجدوا له وارثا ولا ذا رحم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعطوه الكبر من خزاعة " . قال يحيى قد سمعته مرة يقول في هذا الحديث " انظروا اكبر رجل من خزاعة