Loading...

Loading...
کتب
۲۳ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص ( سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے، کیا اگر میں ان کی طرف سے خیرات کروں تو انہیں فائدہ پہنچے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ( پہنچے گا ) ، اس نے کہا: میرے پاس کھجوروں کا ایک باغ ہے، میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے اسے اپنی ماں کی طرف سے صدقہ کر دیا۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا زكريا بن اسحاق، اخبرنا عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رجلا، قال يا رسول الله ان امي توفيت افينفعها ان تصدقت عنها فقال " نعم " . قال فان لي مخرفا واني اشهدك اني قد تصدقت به عنها
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
حدثنا العباس بن الوليد بن مزيد، اخبرني ابي، حدثنا الاوزاعي، حدثني حسان بن عطية، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان العاص بن وايل، اوصى ان يعتق، عنه ماية رقبة فاعتق ابنه هشام خمسين رقبة فاراد ابنه عمرو ان يعتق عنه الخمسين الباقية فقال حتى اسال رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان ابي اوصى بعتق ماية رقبة وان هشاما اعتق عنه خمسين وبقيت عليه خمسون رقبة افاعتق عنه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انه لو كان مسلما فاعتقتم عنه او تصدقتم عنه او حججتم عنه بلغه ذلك
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کے والد انتقال کر گئے اور اپنے ذمہ ایک یہودی کا تیس وسق کھجور کا قرضہ چھوڑ گئے، جابر رضی اللہ عنہ نے اس سے مہلت مانگی تو اس نے ( مہلت دینے سے ) انکار کر دیا، تو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی کہ آپ چل کر اس سے سفارش کر دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور یہودی سے بات کی کہ وہ ( اپنے قرض کے بدلے میں ) ان کے کھجور کے باغ میں جتنے پھل ہیں لے لے لیکن اس نے انکار کیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: اچھا جابر کو مہلت دے دو ، اس نے اس سے بھی انکار کیا، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ۱؎۔
حدثنا محمد بن العلاء، ان شعيب بن اسحاق، حدثهم عن هشام بن عروة، عن وهب بن كيسان، عن جابر بن عبد الله، انه اخبره ان اباه توفي وترك عليه ثلاثين وسقا لرجل من يهود فاستنظره جابر فابى فكلم جابر النبي صلى الله عليه وسلم ان يشفع له اليه فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم وكلم اليهودي لياخذ ثمر نخله بالذي له عليه فابى عليه وكلمه رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ينظره فابى . وساق الحديث