Loading...

Loading...
کتب
۲۳ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اسے وصیت کرنی ہو مناسب نہیں ہے کہ اس کی دو راتیں بھی ایسی گزریں کہ اس کی لکھی ہوئی وصیت اس کے پاس موجود نہ ہو ۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله، حدثني نافع، عن عبد الله، - يعني ابن عمر - عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما حق امري مسلم له شىء يوصي فيه يبيت ليلتين الا ووصيته مكتوبة عنده
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی وفات کے وقت ) دینار و درہم، اونٹ و بکری نہیں چھوڑی اور نہ کسی چیز کی وصیت فرمائی ۱؎۔
حدثنا مسدد، ومحمد بن العلاء، قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن مسروق، عن عايشة، قالت ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم دينارا ولا درهما ولا بعيرا ولا شاة ولا اوصى بشىء
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ بیمار ہوئے ( ابن ابی خلف کی روایت میں ہے: مکہ میں، آگے دونوں راوی متفق ہیں کہ ) اس بیماری میں وہ مرنے کے قریب پہنچ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عیادت فرمائی، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں بہت مالدار ہوں اور میری بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں، کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، پوچھا: کیا آدھا مال صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، پھر پوچھا: تہائی مال خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تہائی مال ( دے سکتے ہو ) اور تہائی مال بھی بہت ہے، تمہارا اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج چھوڑ کر جاؤ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، اور جو چیز بھی تم اللہ کی رضا مندی کے لیے خرچ کرو گے اس کا ثواب تمہیں ملے گا، یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ اٹھا کر دو گے تو اس کا ثواب بھی پاؤ گے ۱؎، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے چلے جائیں گے، اور میں اپنی بیماری کی وجہ سے مکہ ہی میں رہ جاؤں گا، جب کہ صحابہ مکہ چھوڑ کر ہجرت کر چکے تھے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم پیچھے رہ گئے، اور میرے بعد میرے غائبانہ میں بھی نیک عمل اللہ کی رضا مندی کے لیے کرتے رہے تو تمہارا درجہ بلند رہے گا، امید ہے کہ تم زندہ رہو گے، یہاں تک کہ تمہاری ذات سے کچھ اقوام کو فائدہ پہنچے گا اور کچھ کو نقصان و تکلیف ۲؎ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ: اے اللہ! میرے اصحاب کی ہجرت مکمل فرما، اور انہیں ان کے ایڑیوں کے بل پیچھے کی طرف نہ پلٹا ، لیکن بیچارے سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رنج و افسوس کا اظہار فرماتے تھے کہ وہ مکہ ہی میں انتقال فرما گئے ۳؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وابن ابي خلف، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عامر بن سعد، عن ابيه، قال مرض مرضا - قال ابن ابي خلف - بمكة - ثم اتفقا - اشفى فيه فعاده رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان لي مالا كثيرا وليس يرثني الا ابنتي افاتصدق بالثلثين قال " لا " . قال فبالشطر قال " لا " . قال فبالثلث قال " الثلث والثلث كثير انك ان تترك ورثتك اغنياء خير من ان تدعهم عالة يتكففون الناس وانك لن تنفق نفقة الا اجرت بها حتى اللقمة ترفعها الى في امراتك " . قلت يا رسول الله اتخلف عن هجرتي قال " انك ان تخلف بعدي فتعمل عملا صالحا تريد به وجه الله لا تزداد به الا رفعة ودرجة لعلك ان تخلف حتى ينتفع بك اقوام ويضر بك اخرون " . ثم قال " اللهم امض لاصحابي هجرتهم ولا تردهم على اعقابهم لكن البايس سعد ابن خولة يرثي له رسول الله صلى الله عليه وسلم ان مات بمكة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جسے تم صحت و حرص کی حالت میں کرو، اور تمہیں زندگی کی امید ہو، اور محتاجی کا خوف ہو، یہ نہیں کہ تم اسے مرنے کے وقت کے لیے اٹھا رکھو یہاں تک کہ جب جان حلق میں اٹکنے لگے تو کہو کہ: فلاں کو اتنا دے دینا، فلاں کو اتنا، حالانکہ اس وقت وہ فلاں کا ہو چکا ہو گا ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن ابي هريرة، قال قال رجل للنبي صلى الله عليه وسلم يا رسول الله اى الصدقة افضل قال " ان تصدق وانت صحيح حريص تامل البقاء وتخشى الفقر ولا تمهل حتى اذا بلغت الحلقوم قلت لفلان كذا ولفلان كذا وقد كان لفلان
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا اپنی زندگی میں ( جب تندرست ہو ) ایک درہم خیرات کر دینا اس سے بہتر ہے کہ مرتے وقت سو درہم خیرات کرے ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن ابي فديك، اخبرني ابن ابي ذيب، عن شرحبيل، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لان يتصدق المرء في حياته بدرهم خير له من ان يتصدق بماية عند موته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرد اور عورت دونوں ساٹھ برس تک اللہ کی اطاعت کے کام میں لگے رہتے ہیں، پھر جب انہیں موت آنے لگتی ہے، تو وہ غلط وصیت کر کے وارثوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ( کسی کو محروم کر دیتے ہیں، کسی کا حق کم کر دیتے ہیں ) تو ان کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے ۔ شہر بن حوشب کہتے ہیں: اس موقع پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آیت کریمہ «من بعد وصية يوصى بها أو دين غير مضار» پڑھی یہاں تک کہ «ذلك الفوز العظيم» پر پہنچے۔ یعنی ( اس وصیت کے بعد جو کی جائے اور قرض کے بعد جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو، یہ مقرر کیا ہوا اللہ کی طرف سے ہے، اور اللہ تعالیٰ دانا ہے بردبار، یہ حدیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں، اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ( سورۃ النساء: ۱۱، ۱۲ ) ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یعنی اشعت بن جابر، نصر بن علی کے دادا ہیں۔
حدثنا عبدة بن عبد الله، اخبرنا عبد الصمد، حدثنا نصر بن علي الحداني، حدثنا الاشعث بن جابر، حدثني شهر بن حوشب، ان ابا هريرة، حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الرجل ليعمل والمراة بطاعة الله ستين سنة ثم يحضرهما الموت فيضاران في الوصية فتجب لهما النار " . قال وقرا على ابو هريرة من ها هنا { من بعد وصية يوصى بها او دين غير مضار } حتى بلغ { ذلك الفوز العظيم } . قال ابو داود هذا - يعني الاشعث بن جابر - جد نصر بن علي
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں تمہیں ضعیف دیکھتا ہوں اور میں تمہارے لیے وہی پسند کرتا ہوں جو میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں، تو تم دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ ہونا، اور نہ یتیم کے مال کا ولی بننا ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کی روایت کرنے میں اہل مصر منفرد ہیں۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابو عبد الرحمن المقري، حدثنا سعيد بن ابي ايوب، عن عبيد الله بن ابي جعفر، عن سالم بن ابي سالم الجيشاني، عن ابيه، عن ابي ذر، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابا ذر اني اراك ضعيفا واني احب لك ما احب لنفسي فلا تامرن على اثنين ولا تولين مال يتيم " . قال ابو داود تفرد به اهل مصر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «إن ترك خيرا الوصية للوالدين والأقربين» اگر مال چھوڑ جاتا ہو تو اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے اچھائی کے ساتھ وصیت کر جائے ( سورۃ البقرہ: ۱۸۰ ) ، وصیت اسی طرح تھی ( جیسے اس آیت میں مذکور ہے ) یہاں تک کہ میراث کی آیت نے اسے منسوخ کر دیا۔
حدثنا احمد بن محمد المروزي، حدثني علي بن حسين بن واقد، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، { ان ترك خيرا الوصية للوالدين والاقربين } فكانت الوصية كذلك حتى نسختها اية الميراث
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: کہ اللہ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے ۱؎ لہٰذا اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں ۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة، حدثنا ابن عياش، عن شرحبيل بن مسلم، سمعت ابا امامة، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله قد اعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن» اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو مستحسن ہے ( سورۃ الانعام: ۱۵۲ ) : اور «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں ( سورۃ النساء: ۱۰ ) نازل فرمائی تو جن لوگوں کے پاس یتیم تھے انہوں نے ان کا کھانا اپنے کھانے سے اور ان کا پانی اپنے پانی سے جدا کر دیا تو یتیم کا کھانا بچ رہتا یہاں تک کہ وہ اسے کھاتا یا سڑ جاتا، یہ امر لوگوں پر شاق گزرا تو انہوں نے اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو اللہ نے یہ آیت «ويسألونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير وإن تخالطوهم فإخوانكم» اور تجھ سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے، تم اگر ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں ( سورۃ البقرہ: ۲۲۰ ) اتاری تو لوگوں نے اپنا کھانا پینا ان کے کھانے پینے کے ساتھ ملا لیا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن عطاء، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال لما انزل الله عز وجل { ولا تقربوا مال اليتيم الا بالتي هي احسن } و { ان الذين ياكلون اموال اليتامى ظلما } الاية انطلق من كان عنده يتيم فعزل طعامه من طعامه وشرابه من شرابه فجعل يفضل من طعامه فيحبس له حتى ياكله او يفسد فاشتد ذلك عليهم فذكروا ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فانزل الله عز وجل { ويسالونك عن اليتامى قل اصلاح لهم خير وان تخالطوهم فاخوانكم } فخلطوا طعامهم بطعامه وشرابهم بشرابه
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں محتاج ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے، البتہ ایک یتیم میرے پاس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے یتیم کے مال سے کھاؤ، لیکن فضول خرچی نہ کرنا، نہ جلد بازی دکھانا ( اس کے بڑے ہو جانے کے ڈر سے ) نہ اس کے مال سے کما کر اپنا مال بڑھانا ۱؎ ۔
حدثنا حميد بن مسعدة، ان خالد بن الحارث، حدثهم حدثنا حسين، - يعني المعلم - عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اني فقير ليس لي شىء ولي يتيم . قال فقال " كل من مال يتيمك غير مسرف ولا مبادر ولا متاثل
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سن کر یاد رکھی ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں ( یعنی جب جوان ہو گیا تو یتیم نہیں رہا ) اور نہ دن بھر رات کے آنے تک خاموشی ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا يحيى بن محمد المديني، حدثنا عبد الله بن خالد بن سعيد بن ابي مريم، عن ابيه، عن سعيد بن عبد الرحمن بن يزيد بن رقيش، انه سمع شيوخا، من بني عمرو بن عوف ومن خاله عبد الله بن ابي احمد قال قال علي بن ابي طالب حفظت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يتم بعد احتلام ولا صمات يوم الى الليل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات تباہ و برباد کر دینے والی چیزوں ( کبیرہ گناہوں ) سے بچو ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، ناحق کسی کو جان سے مارنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، اور لڑائی کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک باز اور عفت والی بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالغیث سے مراد سالم مولی ابن مطیع ہیں۔
حدثنا احمد بن سعيد الهمداني، حدثنا ابن وهب، عن سليمان بن بلال، عن ثور بن زيد، عن ابي الغيث، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اجتنبوا السبع الموبقات " . قيل يا رسول الله وما هن قال " الشرك بالله والسحر وقتل النفس التي حرم الله الا بالحق واكل الربا واكل مال اليتيم والتولي يوم الزحف وقذف المحصنات الغافلات المومنات " . قال ابو داود ابو الغيث سالم مولى ابن مطيع
عمیر بن قتادۃ لیثی رضی اللہ عنہ (جنہیں شرف صحبت حاصل ہے) کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! کبیرہ گناہ کیا کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نو ہیں ۱؎ ، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی جو اوپر بیان ہوئی، اور اس میں: مسلمان ماں باپ کی نافرمانی، اور بیت اللہ جو کہ زندگی اور موت میں تمہارا قبلہ ہے کی حرمت کو حلال سمجھ لینے کا اضافہ ہے۔
حدثنا ابراهيم بن يعقوب الجوزجاني، حدثنا معاذ بن هاني، حدثنا حرب بن شداد، حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن عبد الحميد بن سنان، عن عبيد بن عمير، عن ابيه، انه حدثه - وكانت، له صحبة - ان رجلا، ساله فقال يا رسول الله ما الكباير فقال " هن تسع " . فذكر معناه زاد " وعقوق الوالدين المسلمين واستحلال البيت الحرام قبلتكم احياء وامواتا
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ احد کے دن قتل کر دیے گئے، اور ان کے پاس ایک کمبل کے سوا اور کچھ نہ تھا، جب ہم ان کا سر ڈھانکتے تو ان کے دونوں پاؤں کھل جاتے اور جب دونوں پاؤں ڈھانکتے تو ان کا سر کھل جاتا، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے ان کا سر ڈھانپ دو اور پیروں پر اذخر ڈال دو ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن خباب، قال مصعب بن عمير قتل يوم احد ولم تكن له الا نمرة كنا اذا غطينا بها راسه خرجت رجلاه واذا غطينا رجليه خرج راسه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " غطوا بها راسه واجعلوا على رجليه من الاذخر
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر کہا: میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی ہبہ کی تھی، اب وہ مر گئیں اور لونڈی چھوڑ گئیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا ثواب بن گیا اور تمہیں تمہاری لونڈی بھی میراث میں واپس مل گئی ، پھر اس نے عرض کیا: میری ماں مر گئی، اور اس پر ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے قضاء کروں تو کافی ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۱؎ ، پھر اس نے کہا: اس نے حج بھی نہیں کیا تھا، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں تو اس کے لیے کافی ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ( کر لو ) ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا عبد الله بن عطاء، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، بريدة ان امراة، اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت كنت تصدقت على امي بوليدة وانها ماتت وتركت تلك الوليدة . قال " قد وجب اجرك ورجعت اليك في الميراث " . قالت وانها ماتت وعليها صوم شهر افيجزي - او يقضي - عنها ان اصوم عنها قال " نعم " . قالت وانها لم تحج افيجزي - او يقضي - عنها ان احج عنها قال " نعم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایک ایسی زمین ملی ہے، مجھے کبھی کوئی مال نہیں ملا تو اس کے متعلق مجھے آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو زمین کی اصل ( ملکیت ) کو روک لو اور اس کے منافع کو صدقہ کر دو ۱؎، عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا کہ نہ زمین بیچی جائے گی، نہ ہبہ کی جائے گی، اور نہ میراث میں تقسیم ہو گی ( بلکہ ) اس سے فقراء، قرابت دار، غلام، مجاہدین اور مسافر فائدہ اٹھائیں گے۔ بشر کی روایت میں مہمان کا اضافہ ہے ، باقی میں سارے راوی متفق ہیں: جو اس کا والی ہو گا دستور کے مطابق اس کے منافع سے اس کے خود کھانے اور دوستوں کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں جب کہ وہ مال جمع کر کے رکھنے والا نہ ہو ۔ بشر کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ محمد ( ابن سیرین ) کہتے ہیں: مال جوڑنے والا نہ ہو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، ح وحدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، ح وحدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، قال اصاب عمر ارضا بخيبر فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اصبت ارضا لم اصب مالا قط انفس عندي منه فكيف تامرني به قال " ان شيت حبست اصلها وتصدقت بها " . فتصدق بها عمر انه لا يباع اصلها ولا يوهب ولا يورث للفقراء والقربى والرقاب وفي سبيل الله وابن السبيل - وزاد عن بشر - والضيف - ثم اتفقوا - لا جناح على من وليها ان ياكل منها بالمعروف ويطعم صديقا غير متمول فيه . زاد عن بشر قال وقال محمد غير متاثل مالا
یحییٰ بن سعید سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صدقہ کے متعلق روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ عبدالحمید بن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب نے مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے صدقے کی کتاب نقل کر کے دی، اس میں یوں لکھا ہوا تھا: «بسم الله الرحمن الرحيم» ، یہ وہ کتاب ہے جسے اللہ کے بندے عمر نے ثمغ ( اس مال یا باغ کا نام ہے جس کو عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ یا خیبر میں وقف کیا تھا ) کے متعلق لکھا ہے ، پھر وہی تفصیل بیان کی جو نافع کی حدیث میں ہے اس میں ہے: مال جوڑنے والے نہ ہوں، جو پھل اس سے گریں وہ مانگنے اور نہ مانگنے والے فقیروں اور محتاجوں کے لیے ہیں ، راوی کہتے ہیں: اور انہوں نے پورا قصہ بیان کیا، اور کہا کہ: ثمغ کا متولی پھلوں کے بدلے ( باغ کے ) کام کاج کے لیے غلام خریدنا چاہے تو اس کے پھل سے خرید سکتا ہے ، معیقیب نے اسے لکھا اور عبداللہ بن ارقم نے اس بات کی یوں گواہی دی۔ «بسم الله الرحمن الرحيم» ، یہ وہ وصیت نامہ ہے جس کی اللہ کے بندے امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے وصیت کی اگر مجھے کوئی حادثہ پیش آ جائے ( یعنی مر جاؤں ) تو ثمغ اور صرمہ بن اکوع اور غلام جو اس میں ہے اور خیبر کے میرے سو حصے اور جو غلام وہاں ہیں اور میرے سو وہ حصے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خیبر سے قریب کی وادی میں دیئے تھے ان سب کی متولیہ تاحیات حفصہ رہیں گی، حفصہ کے بعد ان کے اہل میں سے جو صاحب رائے ہو گا وہ متولی ہو گا لیکن کوئی چیز نہ بیچی جائے گی، نہ خریدی جائے گی، سائل و محروم اور اقرباء پر ان کی ضروریات کو دیکھ کر خرچ کیا جائے گا، ان کا متولی اگر اس میں سے کھائے یا کھلائے یا ان کی حفاظت و خدمت کے لیے ان کی آمدنی سے غلام خرید لے تو کوئی حرج و مضائقہ نہیں ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، حدثنا ابن وهب، اخبرني الليث، عن يحيى بن سعيد، عن صدقة، عمر بن الخطاب رضى الله عنه قال نسخها لي عبد الحميد بن عبد الله بن عبد الله بن عمر بن الخطاب بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما كتب عبد الله عمر في ثمغ فقص من خبره نحو حديث نافع قال غير متاثل مالا فما عفا عنه من ثمره فهو للسايل والمحروم - قال وساق القصة - قال وان شاء ولي ثمغ اشترى من ثمره رقيقا لعمله وكتب معيقيب وشهد عبد الله بن الارقم بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما اوصى به عبد الله عمر امير المومنين ان حدث به حدث ان ثمغا وصرمة بن الاكوع والعبد الذي فيه والماية سهم التي بخيبر ورقيقه الذي فيه والماية التي اطعمه محمد صلى الله عليه وسلم بالوادي تليه حفصة ما عاشت ثم يليه ذو الراى من اهلها ان لا يباع ولا يشترى ينفقه حيث راى من السايل والمحروم وذي القربى ولا حرج على من وليه ان اكل او اكل او اشترى رقيقا منه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے ( جن کا فیض اسے برابر پہنچتا رہتا ہے ) : ایک صدقہ جاریہ ۱؎، دوسرا علم جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے ۲؎، تیسرا صالح اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرتی رہے ۔
حدثنا الربيع بن سليمان الموذن، حدثنا ابن وهب، عن سليمان، - يعني ابن بلال - عن العلاء بن عبد الرحمن، اراه عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا مات الانسان انقطع عنه عمله الا من ثلاثة اشياء من صدقة جارية او علم ينتفع به او ولد صالح يدعو له
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میری ماں اچانک انتقال کر گئیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ضرور صدقہ کرتیں اور ( اللہ کی راہ میں ) دیتیں، تو کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو یہ انہیں کفایت کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تو ان کی طرف سے صدقہ کر دو ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، ان امراة، قالت يا رسول الله ان امي افتلتت نفسها ولولا ذلك لتصدقت واعطت افيجزي ان اتصدق عنها فقال النبي صلى الله عليه وسلم " نعم فتصدقي عنها