Loading...

Loading...
کتب
۵۶ احادیث
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیٹ کے بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے ( یعنی ماں کا ذبح کرنا پیٹ کے بچے کے ذبح کو کافی ہے ) ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثني اسحاق بن ابراهيم بن راهويه، حدثنا عتاب بن بشير، حدثنا عبيد الله بن ابي زياد القداح المكي، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ذكاة الجنين ذكاة امه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہیں جو جاہلیت سے نکل کر ابھی نئے نئے ایمان لائے ہیں، وہ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں تو کیا ہم اس میں سے کھائیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بسم الله» کہہ کر کھاؤ ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، ح وحدثنا القعنبي، عن مالك، ح وحدثنا يوسف بن موسى، حدثنا سليمان بن حيان، ومحاضر، - المعنى - عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ولم يذكرا عن حماد، ومالك، عن عايشة، انهم قالوا يا رسول الله ان قوما حديثو عهد بالجاهلية ياتوننا بلحمان لا ندري اذكروا اسم الله عليها ام لم يذكروا افناكل منها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سموا الله وكلوا
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکار کر کہا: ہم جاہلیت میں رجب کے مہینے میں «عتيرة» ( یعنی جانور ذبح ) کیا کرتے تھے تو آپ ہم کو کیا حکم کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جس مہینے میں بھی ہو سکے اللہ کی رضا کے لیے ذبح کرو، اللہ کے لیے نیکی کرو، اور کھلاؤ ۔ پھر وہ کہنے لگا: ہم زمانہ جاہلیت میں «فرع» ( یعنی قربانی ) کرتے تھے، اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چرنے والے جانور میں ایک «فرع» ہے، جس کو تمہارے جانور جنتے ہیں، یا جسے تم اپنے جانوروں کی «فرع» کھلاتے ہو، جب اونٹ بوجھ لادنے کے قابل ہو جائے ( نصر کی روایت میں ہے: جب حاجیوں کے لیے بوجھ لادنے کے قابل ہو جائے ) تو اس کو ذبح کرو پھر اس کا گوشت صدقہ کرو – خالد کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے کہا: مسافروں پر صدقہ کرو – یہ بہتر ہے ۔ خالد کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: کتنے جانوروں میں ایسا کرے؟ انہوں نے کہا: سو جانوروں میں۔
حدثنا مسدد، ح وحدثنا نصر بن علي، عن بشر بن المفضل، - المعنى - حدثنا خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن ابي المليح، قال قال نبيشة نادى رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم انا كنا نعتر عتيرة في الجاهلية في رجب فما تامرنا قال " اذبحوا لله في اى شهر كان وبروا الله عز وجل واطعموا " . قال انا كنا نفرع فرعا في الجاهلية فما تامرنا قال " في كل سايمة فرع تغذوه ماشيتك حتى اذا استحمل " . قال نصر " استحمل للحجيج ذبحته فتصدقت بلحمه " . قال خالد احسبه قال " على ابن السبيل فان ذلك خير " . قال خالد قلت لابي قلابة كم السايمة قال ماية
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اسلام میں ) نہ «فرع» ہے اور نہ «عتیرہ» ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن عبدة، اخبرنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا فرع ولا عتيرة
سعید بن مسیب کہتے ہیں «فرع» پہلوٹے بچے کو کہتے ہیں جس کی پیدائش پر اسے ذبح کر دیا کرتے تھے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سعيد، قال الفرع اول النتاج كان ينتج لهم فيذبحونه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر پچاس بکری میں سے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بعض حضرات نے «فرع» کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اونٹ کے سب سے پہلے بچہ کی پیدائش پر کفار اسے بتوں کے نام ذبح کر کے کھا لیتے، اور اس کی کھال کو درخت پر ڈال دیتے تھے، اور «عتیرہ» ایسے جانور کو کہتے ہیں جسے رجب کے پہلے عشرہ میں ذبح کرتے تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن يوسف بن ماهك، عن حفصة بنت عبد الرحمن، عن عايشة، قالت امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم من كل خمسين شاة شاة . قال ابو داود قال بعضهم الفرع اول ما تنتج الابل كانوا يذبحونه لطواغيتهم ثم ياكلونه ويلقى جلده على الشجر والعتيرة في العشر الاول من رجب
ام کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے: ( عقیقہ ) میں لڑکے کی طرف سے دو بکریاں برابر کی ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد نے «مكافئتان» کے معنی یہ کئے ہیں کہ دونوں ( عمر میں ) برابر ہوں یا قریب قریب ہوں۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن عطاء، عن حبيبة بنت ميسرة، عن ام كرز الكعبية، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " عن الغلام شاتان مكافيتان وعن الجارية شاة " . قال ابو داود سمعت احمد قال مكافيتان اى مستويتان او مقاربتان
ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں بیٹھے رہنے دو ( یعنی ان کو گھونسلوں سے اڑا کر تکلیف نہ دو ) ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے: لڑکے کی طرف سے ( عقیقہ میں ) دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے، اور تمہیں اس میں کچھ نقصان نہیں کہ وہ نر ہوں یا مادہ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن عبيد الله بن ابي يزيد، عن ابيه، عن سباع بن ثابت، عن ام كرز، قالت سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اقروا الطير على مكناتها " . قالت وسمعته يقول " عن الغلام شاتان وعن الجارية شاة لا يضركم اذكرانا كن ام اناثا
ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( عقیقے میں ) لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہی دراصل حدیث ہے، اور سفیان کی حدیث ( نمبر: ۲۸۳۵ ) وہم ہے ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن عبيد الله بن ابي يزيد، عن سباع بن ثابت، عن ام كرز، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عن الغلام شاتان مثلان وعن الجارية شاة " . قال ابو داود هذا هو الحديث وحديث سفيان وهم
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے میں گروی ہے ساتویں دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے اور عقیقہ کا خون اس کے سر پر لگایا جائے ۱؎ ۔ قتادہ سے جب پوچھا جاتا کہ کس طرح خون لگایا جائے؟ تو کہتے: جب عقیقے کا جانور ذبح کرنے لگو تو اس کے بالوں کا ایک گچھا لے کر اس کی رگوں پر رکھ دو، پھر وہ گچھا لڑکے کی چندیا پر رکھ دیا جائے، یہاں تک کہ خون دھاگے کی طرح اس کے سر سے بہنے لگے پھر اس کے بعد اس کا سر دھو دیا جائے اور سر مونڈ دیا جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «يدمى» ہمام کا وہم ہے، اصل میں «ويسمى» تھا جسے ہمام نے «يدمى» کر دیا، ابوداؤد کہتے ہیں: اس پر عمل نہیں ہے۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن الحسن، عن سمرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كل غلام رهينة بعقيقته تذبح عنه يوم السابع ويحلق راسه ويدمى " . فكان قتادة اذا سيل عن الدم كيف يصنع به قال اذا ذبحت العقيقة اخذت منها صوفة واستقبلت به اوداجها ثم توضع على يافوخ الصبي حتى يسيل على راسه مثل الخيط ثم يغسل راسه بعد ويحلق . قال ابو داود وهذا وهم من همام " ويدمى " . قال ابو داود خولف همام في هذا الكلام وهو وهم من همام وانما قالوا " يسمى " . فقال همام " يدمى " . قال ابو داود وليس يوخذ بهذا
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے، ساتویں روز اس کی طرف سے ذبح کیا جائے، اس کا سر منڈایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لفظ «يسمى» لفظ «يدمى» سے زیادہ صحیح ہے، سلام بن ابی مطیع نے اسی طرح قتادہ، ایاس بن دغفل اور اشعث سے اور ان لوگوں نے حسن سے روایت کی ہے، اس میں«ويسمى» کا لفظ ہے، اور اسے اشعث نے حسن سے اور حسن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اس میں بھی «ويسمى»ہی ہے۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كل غلام رهينة بعقيقته تذبح عنه يوم سابعه ويحلق ويسمى " . قال ابو داود ويسمى اصح كذا قال سلام بن ابي مطيع عن قتادة واياس بن دغفل واشعث عن الحسن . قال " ويسمى " . ورواه اشعث عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ويسمى
سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکے کی پیدائش کے ساتھ اس کا عقیقہ ہے تو اس کی جانب سے خون بہاؤ، اور اس سے تکلیف اور نجاست کو دور کرو ( یعنی سر کے بال مونڈو اور غسل دو ) ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا هشام بن حسان، عن حفصة بنت سيرين، عن الرباب، عن سلمان بن عامر الضبي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مع الغلام عقيقته فاهريقوا عنه دما واميطوا عنه الاذى
حسن سے روایت ہے، وہ کہتے تھے تکلیف اور نجاست دور کرنے سے مراد سر مونڈنا ہے۔
حدثنا يحيى بن خلف، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا هشام، عن الحسن، انه كان يقول اماطة الاذى حلق الراس
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین کی طرف سے ایک ایک دنبہ کا عقیقہ کیا۔
حدثنا ابو معمر عبد الله بن عمرو، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم عق عن الحسن والحسين كبشا كبشا
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ«عقوق» ( ماں باپ کی نافرمانی ) کو پسند نہیں کرتا گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کو ناپسند فرمایا، اور مکروہ جانا، اور فرمایا: جس کے یہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اپنے بچے کی طرف سے قربانی ( عقیقہ ) کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں کرے، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے «فرع» کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: «فرع» حق ہے اور یہ کہ تم اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ اونٹ جوان ہو جائے، ایک برس کا یا دو برس کا، پھر اس کو بیواؤں محتاجوں کو دے دو، یا اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے دے دو، یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کو ( پیدا ہوتے ہی ) کاٹ ڈالو کہ گوشت اس کا بالوں سے چپکا ہو ( یعنی کم ہو ) اور تم اپنا برتن اوندھا رکھو، ( گوشت نہ ہو گا تو پکاؤ گے کہاں سے ) اور اپنی اونٹنی کو بچے کی جدائی کا غم دو ۔
حدثنا القعنبي، حدثنا داود بن قيس، عن عمرو بن شعيب، ان النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثنا محمد بن سليمان الانباري حدثنا عبد الملك - يعني ابن عمرو - عن داود عن عمرو بن شعيب عن ابيه اراه عن جده قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن العقيقة فقال " لا يحب الله العقوق " . كانه كره الاسم وقال " من ولد له ولد فاحب ان ينسك عنه فلينسك عن الغلام شاتان مكافيتان وعن الجارية شاة " . وسيل عن الفرع قال " والفرع حق وان تتركوه حتى يكون بكرا شغزبا ابن مخاض او ابن لبون فتعطيه ارملة او تحمل عليه في سبيل الله خير من ان تذبحه فيلزق لحمه بوبره وتكفي اناءك وتوله ناقتك
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں زمانہ جاہلیت میں جب ہم میں سے کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا تو وہ ایک بکری ذبح کرتا اور اس کا خون بچے کے سر میں لگاتا، پھر جب اسلام آیا تو ہم بکری ذبح کرتے اور بچے کا سر مونڈ کر زعفران لگاتے تھے ( خون لگانا موقوف ہو گیا ) ۱؎۔
حدثنا احمد بن محمد بن ثابت، حدثنا علي بن الحسين، حدثني ابي، حدثنا عبد الله بن بريدة، قال سمعت ابي بريدة، يقول كنا في الجاهلية اذا ولد لاحدنا غلام ذبح شاة ولطخ راسه بدمها فلما جاء الله بالاسلام كنا نذبح شاة ونحلق راسه ونلطخه بزعفران