Loading...

Loading...
کتب
۵۶ احادیث
مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! ( سن لو ) ہر سال ہر گھر والے پر قربانی اور «عتیرہ» ہے ۱؎ کیا تم جانتے ہو کہ «عتیرہ» کیا ہے؟ یہ وہی ہے جس کو لوگ «رجبیہ» کہتے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «عتیرہ» منسوخ ہے یہ ایک منسوخ حدیث ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد، ح وحدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا بشر، عن عبد الله بن عون، عن عامر ابي رملة، قال اخبرنا مخنف بن سليم، قال ونحن وقوف مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرفات قال " يا ايها الناس ان على كل اهل بيت في كل عام اضحية وعتيرة اتدرون ما العتيرة هذه التي يقول الناس الرجبية " . قال ابو داود العتيرة منسوخة هذا خبر منسوخ
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اضحی کے دن ( دسویں ذی الحجہ کو ) مجھے عید منانے کا حکم دیا گیا ہے جسے اللہ عزوجل نے اس امت کے لیے مقرر و متعین فرمایا ہے ، ایک شخص کہنے لگا: بتائیے اگر میں بجز مادہ اونٹنی یا بکری کے کوئی اور چیز نہ پاؤں تو کیا اسی کی قربانی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تم اپنے بال کتر لو، ناخن تراش لو، مونچھ کتر لو، اور زیر ناف کے بال لے لو، اللہ عزوجل کے نزدیک ( ثواب میں ) بس یہی تمہاری پوری قربانی ہے ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثني سعيد بن ابي ايوب، حدثني عياش بن عباس القتباني، عن عيسى بن هلال الصدفي، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " امرت بيوم الاضحى عيدا جعله الله عز وجل لهذه الامة " . قال الرجل ارايت ان لم اجد الا اضحية انثى افاضحي بها قال " لا ولكن تاخذ من شعرك واظفارك وتقص شاربك وتحلق عانتك فتلك تمام اضحيتك عند الله عز وجل
حنش کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دو دنبے قربانی کرتے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ( یعنی قربانی میں ایک دنبہ کفایت کرتا ہے آپ دو کیوں کرتے ہیں ) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، تو میں آپ کی طرف سے ( بھی ) قربانی کرتا ہوں۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا شريك، عن ابي الحسناء، عن الحكم، عن حنش، قال رايت عليا يضحي بكبشين فقلت ما هذا فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اوصاني ان اضحي عنه فانا اضحي عنه
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس قربانی کا جانور ہو اور وہ اسے عید کے روز ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو جب عید کا چاند نکل آئے تو اپنے بال اور ناخن نہ کترے ۱؎ ۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا محمد بن عمرو، حدثنا عمرو بن مسلم الليثي، قال سمعت سعيد بن المسيب، يقول سمعت ام سلمة، تقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كان له ذبح يذبحه فاذا اهل هلال ذي الحجة فلا ياخذن من شعره ولا من اظفاره شييا حتى يضحي " . قال ابو داود اختلفوا على مالك وعلى محمد بن عمرو في عمرو بن مسلم قال بعضهم عمر واكثرهم قال عمرو . قال ابو داود وهو عمرو بن مسلم بن اكيمة الليثي الجندعي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ دار مینڈھا لانے کا حکم دیا جس کی آنکھ سیاہ ہو، سینہ، پیٹ اور پاؤں بھی سیاہ ہوں، پھر اس کی قربانی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ چھری لاؤ ، پھر فرمایا: اسے پتھر پر تیز کرو ، تو میں نے چھری تیز کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہاتھ میں لیا اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا اور ذبح کرنے کا ارادہ کیا اور کہا:«بسم الله اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد» اللہ کے نام سے ذبح کرتا ہوں، اے اللہ! محمد، آل محمد اور امت محمد کی جانب سے اسے قبول فرما پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قربانی کی۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني حيوة، حدثني ابو صخر، عن ابن قسيط، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بكبش اقرن يطا في سواد وينظر في سواد ويبرك في سواد فاتي به فضحى به فقال " يا عايشة هلمي المدية " . ثم قال " اشحذيها بحجر " . ففعلت فاخذها واخذ الكبش فاضجعه وذبحه وقال " بسم الله اللهم تقبل من محمد وال محمد ومن امة محمد " . ثم ضحى به صلى الله عليه وسلم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے سات اونٹ کھڑے کر کے نحر کئے اور مدینہ میں دو سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کی جن کا رنگ سیاہ اور سفید تھا ( یعنی ابلق تھے سفید کھال کے اندر سیاہ دھاریاں تھیں ) ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم نحر سبع بدنات بيده قياما وضحى بالمدينة بكبشين اقرنين املحين
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ دار ابلق دنبوں کی قربانی کی، اپنا دایاں پاؤں ان کی گردن پر رکھ کر «بسم الله، الله أكبر» کہہ کر انہیں ذبح کر رہے تھے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين اقرنين املحين يذبح ويكبر ويسمي ويضع رجله على صفحتهما
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن سینگ دار ابلق خصی کئے ہوئے دو دنبے ذبح کئے، جب انہیں قبلہ رخ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: «إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض على ملة إبراهيم حنيفا وما أنا من المشركين، إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له، وبذلك أمرت وأنا من المسلمين، اللهم منك ولك وعن محمد وأمته باسم الله والله أكبر» میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں ابراہیم کے دین پر ہوں، کامل موحد ہوں، مشرکوں میں سے نہیں ہوں بیشک میری نماز میری تمام عبادتیں، میرا جینا اور میرا مرنا خالص اس اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے، کوئی اس کا شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، اے اللہ! یہ قربانی تیری ہی عطا ہے، اور خاص تیری رضا کے لیے ہے، محمد اور اس کی امت کی طرف سے اسے قبول کر، ( بسم اللہ واللہ اکبر ) اللہ کے نام کے ساتھ، اور اللہ بہت بڑا ہے پھر ذبح کیا۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، حدثنا عيسى، حدثنا محمد بن اسحاق، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي عياش، عن جابر بن عبد الله، قال ذبح النبي صلى الله عليه وسلم يوم الذبح كبشين اقرنين املحين موجاين فلما وجههما قال " اني وجهت وجهي للذي فطر السموات والارض على ملة ابراهيم حنيفا وما انا من المشركين ان صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك امرت وانا من المسلمين اللهم منك ولك عن محمد وامته باسم الله والله اكبر " . ثم ذبح
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینگ دار فربہ دنبہ کی قربانی کرتے تھے جو دیکھتا تھا سیاہی میں اور کھاتا تھا سیاہی میں اور چلتا تھا سیاہی میں ( یعنی آنکھ کے اردگرد ) ، نیز منہ اور پاؤں سب سیاہ تھے۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا حفص، عن جعفر، عن ابيه، عن ابي سعيد، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضحي بكبش اقرن فحيل ينظر في سواد وياكل في سواد ويمشي في سواد
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف مسنہ ۱؎ ہی ذبح کرو، مسنہ نہ پاؤ تو بھیڑ کا جذعہ ذبح کرو ۔
حدثنا احمد بن ابي شعيب الحراني، حدثنا زهير بن معاوية، حدثنا ابو الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تذبحوا الا مسنة الا ان يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضان
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام میں قربانی کے جانور تقسیم کئے تو مجھ کو ایک بکری کا بچہ جو جذع تھا ( یعنی دوسرے سال میں داخل ہو چکا تھا ) دیا، میں اس کو لوٹا کر آپ کے پاس لایا اور میں نے کہا کہ یہ جذع ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قربانی کر ڈالو ، تو میں نے اسی کی قربانی کر ڈالی۔
حدثنا محمد بن صدران، حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى، حدثنا محمد بن اسحاق، حدثني عمارة بن عبد الله بن طعمة، عن سعيد بن المسيب، عن زيد بن خالد الجهني، قال قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم في اصحابه ضحايا فاعطاني عتودا جذعا - قال - فرجعت به اليه فقلت له انه جذع . قال " ضح به " . فضحيت به
کلیب کہتے ہیں کہ ہم مجاشع نامی بنی سلیم کے ایک صحابی رسول کے ساتھ تھے اس وقت بکریاں مہنگی ہو گئیں تو انہوں نے منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فر ماتے تھے: جذع ( ایک سالہ ) اس چیز سے کفایت کرتا ہے جس سے «ثنی» ( وہ جانور جس کے سامنے کے دانت گر گئے ہوں ) کفایت کرتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا الثوري، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، قال كنا مع رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يقال له مجاشع من بني سليم فعزت الغنم فامر مناديا فنادى ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول " ان الجذع يوفي مما يوفي منه الثني " . قال ابو داود وهو مجاشع بن مسعود
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو نماز عید کے بعد ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: جس نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی، اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی، تو اس نے قربانی کی ( یعنی اس کو قربانی کا ثواب ملا ) اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی تو وہ گوشت کی بکری ۱؎ ہو گی ، یہ سن کر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے قربانی کر ڈالی اور میں نے یہ سمجھا کہ یہ دن کھانے اور پینے کا دن ہے، تو میں نے جلدی کی، میں نے خود کھایا، اور اپنے اہل و عیال اور ہمسایوں کو بھی کھلایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گوشت کی بکری ہے ۲؎ ، تو انہوں نے کہا: میرے پاس ایک سالہ جوان بکری اور وہ گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا وہ میری طرف سے کفایت کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن تمہارے بعد کسی کے لیے کافی نہ ہو گی ( یعنی یہ حکم تمہارے لیے خاص ہے ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو الاحوص، حدثنا منصور، عن الشعبي، عن البراء، قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم النحر بعد الصلاة فقال " من صلى صلاتنا ونسك نسكنا فقد اصاب النسك ومن نسك قبل الصلاة فتلك شاة لحم " . فقام ابو بردة بن نيار فقال يا رسول الله والله لقد نسكت قبل ان اخرج الى الصلاة وعرفت ان اليوم يوم اكل وشرب فتعجلت فاكلت واطعمت اهلي وجيراني . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تلك شاة لحم " . فقال ان عندي عناقا جذعة وهي خير من شاتى لحم فهل تجزي عني قال " نعم ولن تجزي عن احد بعدك
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے ابوبردہ نامی ایک ماموں نے نماز سے پہلے قربانی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تمہاری بکری گوشت کی بکری ہوئی ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس بکریوں میں سے ایک پلی ہوئی جذعہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کو ذبح کر ڈالو، لیکن تمہارے سوا اور کسی کے لیے ایسا کرنا درست نہیں ۔
حدثنا مسدد، حدثنا خالد، عن مطرف، عن عامر، عن البراء بن عازب، قال ضحى خال لي يقال له ابو بردة قبل الصلاة فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " شاتك شاة لحم " . فقال يا رسول الله ان عندي داجنا جذعة من المعز فقال " اذبحها ولا تصلح لغيرك
عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ: کون سا جانور قربانی میں درست نہیں ہے؟ تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، میری انگلیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے چھوٹی ہیں اور میری پوریں آپ کی پوروں سے چھوٹی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیوں سے اشارہ کیا اور فرمایا: چار طرح کے جانور قربانی کے لائق نہیں ہیں، ایک کانا جس کا کانا پن بالکل ظاہر ہو، دوسرے بیمار جس کی بیماری بالکل ظاہر ہو، تیسرے لنگڑا جس کا لنگڑا پن بالکل واضح ہو، اور چوتھے دبلا بوڑھا کمزور جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو ، میں نے کہا: مجھے قربانی کے لیے وہ جانور بھی برا لگتا ہے جس کے دانت میں نقص ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تمہیں ناپسند ہو اس کو چھوڑ دو لیکن کسی اور پر اس کو حرام نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ( «لا تنقى» کا مطلب یہ ہے کہ ) اس کی ہڈی میں گودا نہ ہو۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، حدثنا شعبة، عن سليمان بن عبد الرحمن، عن عبيد بن فيروز، قال سالت البراء بن عازب ما لا يجوز في الاضاحي فقال قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم واصابعي اقصر من اصابعه واناملي اقصر من انامله فقال " اربع لا تجوز في الاضاحي العوراء بين عورها والمريضة بين مرضها والعرجاء بين ظلعها والكسير التي لا تنقى " . قال قلت فاني اكره ان يكون في السن نقص . قال " ما كرهت فدعه ولا تحرمه على احد " . قال ابو داود ليس لها مخ
یزید ذومصر کہتے ہیں کہ میں عتبہ بن عبد سلمی کے پاس آیا اور ان سے کہا: ابوالولید! میں قربانی کے لیے جانور ڈھونڈھنے کے لیے نکلا تو مجھے سوائے ایک بکری کے جس کا ایک دانت گر چکا ہے کوئی جانور پسند نہ آیا، تو میں نے اسے لینا اچھا نہیں سمجھا، اب آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس کو تم میرے لیے کیوں نہیں لے آئے، میں نے کہا: سبحان اللہ! آپ کے لیے درست ہے اور میرے لیے درست نہیں، انہوں نے کہا: ہاں تم کو شک ہے مجھے شک نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بس «مصفرة والمستأصلة والبخقاء والمشيعة» ، اور «كسراء» سے منع کیا ہے، «مصفرة» وہ ہے جس کا کان اتنا کٹا ہو کہ کان کا سوراخ کھل گیا ہو، «مستأصلة» وہ ہے جس کی سینگ جڑ سے اکھڑ گئی ہو، «بخقاء» وہ ہے جس کی آنکھ کی بینائی جاتی رہے اور آنکھ باقی ہو، اور «مشيعة» وہ ہے جو لاغری اور ضعف کی وجہ سے بکریوں کے ساتھ نہ چل پاتی ہو بلکہ پیچھے رہ جاتی ہو، «كسراء» وہ ہے جس کا ہاتھ پاؤں ٹوٹ گیا ہو، ( لہٰذا ان کے علاوہ باقی سب جانور درست ہیں، پھر شک کیوں کرتے ہو ) ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، قال اخبرنا ح، وحدثنا علي بن بحر بن بري، حدثنا عيسى، - المعنى - عن ثور، حدثني ابو حميد الرعيني، اخبرني يزيد، ذو مصر قال اتيت عتبة بن عبد السلمي فقلت يا ابا الوليد اني خرجت التمس الضحايا فلم اجد شييا يعجبني غير ثرماء فكرهتها فما تقول قال افلا جيتني بها . قلت سبحان الله تجوز عنك ولا تجوز عني قال نعم انك تشك ولا اشك انما نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المصفرة والمستاصلة والبخقاء والمشيعة والكسراء فالمصفرة التي تستاصل اذنها حتى يبدو سماخها والمستاصلة التي استوصل قرنها من اصله والبخقاء التي تبخق عينها والمشيعة التي لا تتبع الغنم عجفا وضعفا والكسراء الكسيرة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان خوب دیکھ لیں ( کہ اس میں ایسا نقص نہ ہو جس کی وجہ سے قربانی درست نہ ہو ) اور کانے جانور کی قربانی نہ کریں، اور نہ «مقابلة» کی، نہ «مدابرة» کی، نہ«خرقاء» کی اور نہ «شرقاء» کی۔ زہیر کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے پوچھا: کیا «عضباء» کا بھی ذکر کیا؟ تو انہوں نے کہا: نہیں ( «عضباء» اس بکری کو کہتے ہیں جس کے کان کٹے ہوں اور سینگ ٹوٹے ہوں ) ۔ میں نے پوچھا «مقابلة» کے کیا معنی ہیں؟ کہا: جس کا کان اگلی طرف سے کٹا ہو، پھر میں نے کہا: «مدابرة» کے کیا معنی ہیں؟ کہا: جس کے کان پچھلی طرف سے کٹے ہوں، میں نے کہا:«خرقاء» کیا ہے؟ کہا: جس کے کان پھٹے ہوں ( گولائی میں ) میں نے کہا: «شرقاء» کیا ہے؟ کہا: جس بکری کے کان لمبائی میں چرے ہوئے ہوں ( نشان کے لیے ) ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، عن شريح بن النعمان، - وكان رجل صدق - عن علي، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نستشرف العين والاذنين ولا نضحي بعوراء ولا مقابلة ولا مدابرة ولا خرقاء ولا شرقاء . قال زهير فقلت لابي اسحاق اذكر عضباء قال لا . قلت فما المقابلة قال يقطع طرف الاذن . قلت فما المدابرة قال يقطع من موخر الاذن . قلت فما الشرقاء قال تشق الاذن . قلت فما الخرقاء قال تخرق اذنها للسمة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عضباء» ( یعنی سینگ ٹوٹے کان کٹے جانور ) کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام بن ابي عبد الله الدستوايي، ويقال، له هشام بن سنبر عن قتادة، عن جرى بن كليب، عن علي، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يضحى بعضباء الاذن والقرن . قال ابو داود جرى سدوسي بصري لم يحدث عنه الا قتادة
قتادہ کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا: «اعضب» ( یا «عضباء» ) کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ( جس کی سینگ یا کان ) آدھا یا آدھے سے زیادہ ٹوٹا یا کٹا ہوا ہو۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، حدثنا هشام، عن قتادة، قال قلت لسعيد بن المسيب ما الاعضب قال النصف فما فوقه
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حج تمتع کرتے تو گائے سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کرتے تھے، اور اونٹ بھی سات آدمیوں کی طرف سے، ہم سب اس میں شریک ہو جاتے ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا هشيم، حدثنا عبد الملك، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال كنا نتمتع في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم نذبح البقرة عن سبعة والجزور عن سبعة نشترك فيها