Loading...

Loading...
کتب
۵۶ احادیث
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گائے سات کی طرف سے کفایت کرتی ہے اور اونٹ بھی سات کی طرف سے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن قيس، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " البقرة عن سبعة والجزور عن سبعة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات آدمیوں کی طرف سے اونٹ نحر کئے، اور گائے بھی سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابي الزبير المكي، عن جابر بن عبد الله، انه قال نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحديبية البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں عید الاضحی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید گاہ میں موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے چکے تو منبر سے اترے اور آپ کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «بسم الله والله أكبر هذا عني وعمن لم يضح من أمتي» اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے، یہ میری طرف سے اور میری امت کے ہر اس شخص کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی ہے ۱؎ کہہ کر اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب، - يعني الاسكندراني - عن عمرو، عن المطلب، عن جابر بن عبد الله، قال شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الاضحى بالمصلى فلما قضى خطبته نزل من منبره واتي بكبش فذبحه رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده وقال " بسم الله والله اكبر هذا عني وعمن لم يضح من امتي
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قربانی عید گاہ میں ذبح کرتے تھے۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، ان ابا اسامة، حدثهم عن اسامة، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يذبح اضحيته بالمصلى وكان ابن عمر يفعله
عمرہ بنت عبدالرحمٰن کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قربانی کے موقع پر ( مدینہ میں ) کچھ دیہاتی آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین روز تک کا گوشت رکھ لو، جو باقی بچے صدقہ کر دو ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو اس کے بعد جب پھر قربانی کا موقع آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! لوگ اس سے پہلے اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے، ان کی چربی محفوظ رکھتے تھے، ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بات کیا ہے؟ یا ایسے ہی کچھ کہا، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس وقت اس لیے منع کر دیا تھا کہ کچھ دیہاتی تمہارے پاس آ گئے تھے ( اور انہیں بھی کچھ نہ کچھ کھانے کے لیے ملنا چاہیئے تھا ) ، اب قربانی کے گوشت کھاؤ، صدقہ کرو، اور رکھ چھوڑو ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عمرة بنت عبد الرحمن، قالت سمعت عايشة، تقول دف ناس من اهل البادية حضرة الاضحى في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ادخروا الثلث وتصدقوا بما بقي " . قالت فلما كان بعد ذلك قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم يا رسول الله لقد كان الناس ينتفعون من ضحاياهم ويجملون منها الودك ويتخذون منها الاسقية . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وما ذاك " . او كما قال قالوا يا رسول الله نهيت عن امساك لحوم الضحايا بعد ثلاث . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما نهيتكم من اجل الدافة التي دفت عليكم فكلوا وتصدقوا وادخروا
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے منع کیا تھا کہ وہ تم سب کو پہنچ جائے، اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور بچا ( بھی ) رکھو اور ( صدقہ دے کر ) ثواب ( بھی ) کماؤ، سن لو! یہ دن کھانے، پینے اور اللہ عزوجل کی یاد ( شکر گزاری ) کے ہیں ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا خالد الحذاء، عن ابي المليح، عن نبيشة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا كنا نهيناكم عن لحومها ان تاكلوها فوق ثلاث لكى تسعكم فقد جاء الله بالسعة فكلوا وادخروا واتجروا الا وان هذه الايام ايام اكل وشرب وذكر الله عز وجل
ہشام بن زید کہتے ہیں کہ میں انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے پاس گیا، تو وہاں چند نوجوانوں یا لڑکوں کو دیکھا کہ وہ سب ایک مرغی کو باندھ کر اسے تیر کا نشانہ بنا رہے ہیں تو انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا حماد بن خالد الخياط، قال حدثنا معاوية بن صالح، عن ابي الزاهرية، عن جبير بن نفير، عن ثوبان، قال ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " يا ثوبان اصلح لنا لحم هذه الشاة " . قال فما زلت اطعمه منها حتى قدمنا المدينة
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سفر میں ) قربانی کی اور کہا: ثوبان! اس بکری کا گوشت ہمارے لیے درست کرو ( بناؤ ) ، ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں برابر وہی گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلاتا رہا یہاں تک کہ ہم مدینہ آ گئے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن ابي الاشعث، عن شداد بن اوس، قال خصلتان سمعتهما من، رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله كتب الاحسان على كل شىء فاذا قتلتم فاحسنوا " . قال غير مسلم يقول " فاحسنوا القتلة واذا ذبحتم فاحسنوا الذبح وليحد احدكم شفرته وليرح ذبيحته
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ایک یہ کہ: اللہ نے ہر چیز کو اچھے ڈھنگ سے کرنے کو فرض کیا ہے لہٰذا جب تم ( قصاص یا حد کے طور پر کسی کو ) قتل کرو تو اچھے ڈھنگ سے کرو ( یعنی اگر خون کے بدلے خون کرو تو جلد ہی فراغت حاصل کر لو تڑپا تڑپا کر مت مارو ) ، ( اور مسلم بن ابراہیم کے سوا دوسروں کی روایت میں ہے ) تو اچھے ڈھنگ سے قتل کرو، اور جب کسی جانور کو ذبح کرنا چاہو تو اچھی طرح ذبح کرو اور چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، عن هشام بن زيد، قال دخلت مع انس على الحكم بن ايوب فراى فتيانا او غلمانا قد نصبوا دجاجة يرمونها فقال انس نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تصبر البهايم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ «فكلوا مما ذكر اسم الله عليه» سو جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ ( سورۃ الانعام: ۱۱۸ ) «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ( سورۃ الانعام: ۱۲۱ ) تو یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے، اس میں سے اہل کتاب کے ذبیحے مستثنیٰ ہو گئے ہیں ( یعنی ان کے ذبیحے درست ہیں ) ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وطَعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم وطعامكم حل لهم» اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے ( سورۃ المائدہ: ۵ ) ۔
حدثنا احمد بن محمد بن ثابت المروزي، حدثني علي بن حسين، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال { فكلوا مما ذكر اسم الله عليه } { ولا تاكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه } فنسخ واستثنى من ذلك فقال { وطعام الذين اوتوا الكتاب حل لكم وطعامكم حل لهم}
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے جو یہ فرمایا ہے: «وإن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم» اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں ( سورۃ المائدہ: ۱۲۱ ) تو اس کا شان نزول یہ ہے کہ لوگ کہتے تھے: جسے اللہ نے ذبح کیا ( یعنی اپنی موت مر گیا ) اس کو نہ کھاؤ، اور جسے تم نے ذبح کیا اس کو کھاؤ، تب اللہ نے یہ آیت اتاری «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» ان جانوروں کو نہ کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ( سورۃ الانعام: ۱۲۱ ) ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا اسراييل، حدثنا سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، في قوله { وان الشياطين ليوحون الى اوليايهم } يقولون ما ذبح الله فلا تاكلوا وما ذبحتم انتم فكلوا فانزل الله عز وجل { ولا تاكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه}
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم اس جانور کو کھاتے ہیں جسے ہم ماریں اور جسے اللہ مارے اسے ہم نہیں کھاتے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عمران بن عيينة، عن عطاء بن السايب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال جاءت اليهود الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا ناكل مما قتلنا ولا ناكل مما قتل الله فانزل الله { ولا تاكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه } الى اخر الاية
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کے کھانے سے منع فرمایا ہے جنہیں اعرابی تفاخر کے طور پر کاٹتے ہیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوریحانہ کا نام عبداللہ بن مطر تھا، اور راوی غندر نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف کر دیا ہے۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا حماد بن مسعدة، عن عوف، عن ابي ريحانة، عن ابن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اكل معاقرة الاعراب . قال ابو داود اسم ابي ريحانة عبد الله بن مطر وغندر اوقفه على ابن عباس
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمنوں سے مقابلہ کرنے والے ہیں، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں کیا ہم سفید ( دھار دار ) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے ( بانس کی کھپچی ) سے ذبح کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جلدی کر لو ۱؎ جو چیز کہ خون بہا دے اور اللہ کا نام اس پر لیا جائے تو اسے کھاؤ ہاں وہ دانت اور ناخن سے ذبح نہ ہو، عنقریب میں تم کو اس کی وجہ بتاتا ہوں، دانت سے تو اس لیے نہیں کہ دانت ایک ہڈی ہے، اور ناخن سے اس لیے نہیں کہ وہ جبشیوں کی چھریاں ہیں ، اور کچھ جلد باز لوگ آگے بڑھ گئے، انہوں نے جلدی کی، اور کچھ مال غنیمت حاصل کر لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پیچھے چل رہے تھے تو ان لوگوں نے دیگیں چڑھا دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دیگوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے انہیں پلٹ دینے کا حکم دیا، چنانچہ وہ پلٹ دی گئیں، اور ان کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت ) تقسیم کیا تو ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا، ایک اونٹ ان اونٹوں میں سے بھاگ نکلا اس وقت لوگوں کے پاس گھوڑے نہ تھے ( کہ گھوڑا دوڑا کر اسے پکڑ لیتے ) چنانچہ ایک شخص نے اسے تیر مارا تو اللہ نے اسے روک دیا ( یعنی وہ چوٹ کھا کر گر گیا اور آگے نہ بڑھ سکا ) اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان چوپایوں میں بھی بدکنے والے جانور ہوتے ہیں جیسے وحشی جانور بدکتے ہیں تو جو کوئی ان جانوروں میں سے ایسا کرے تو تم بھی اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو الاحوص، حدثنا سعيد بن مسروق، عن عباية بن رفاعة، عن ابيه، عن جده، رافع بن خديج قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله انا نلقى العدو غدا وليس معنا مدى افنذبح بالمروة وشقة العصا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارن او اعجل ما انهر الدم وذكر اسم الله عليه فكلوا ما لم يكن سنا او ظفرا وساحدثكم عن ذلك اما السن فعظم واما الظفر فمدى الحبشة " . وتقدم به سرعان من الناس فتعجلوا فاصابوا من الغنايم ورسول الله صلى الله عليه وسلم في اخر الناس فنصبوا قدورا فمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالقدور فامر بها فاكفيت وقسم بينهم فعدل بعيرا بعشر شياه وند بعير من ابل القوم ولم يكن معهم خيل فرماه رجل بسهم فحبسه الله فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان لهذه البهايم اوابد كاوابد الوحش فما فعل منها هذا فافعلوا به مثل هذا
محمد بن صفوان یا صفوان بن محمد کہتے ہیں میں نے دو خرگوش شکار کئے اور انہیں ایک سفید ( دھار دار ) پتھر سے ذبح کیا، پھر ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے مجھے ان کے کھانے کا حکم دیا۔
حدثنا مسدد، ان عبد الواحد بن زياد، وحمادا، حدثاهم - المعنى، واحد، - عن عاصم، عن الشعبي، عن محمد بن صفوان، او صفوان بن محمد قال اصدت ارنبين فذبحتهما بمروة فسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عنهما فامرني باكلهما
بنو حارثہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ وہ احد پہاڑ کے دروں میں سے ایک درے پر اونٹنی چرا رہا تھا، تو وہ مرنے لگی، اسے کوئی ایسی چیز نہ ملی کہ جس سے اسے نحر کر دے، تو ایک کھوٹی لے کر اونٹنی کے سینہ میں چبھو دی یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ نے اسے اس کے کھانے کا حکم دیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن رجل، من بني حارثة انه كان يرعى لقحة بشعب من شعاب احد فاخذها الموت فلم يجد شييا ينحرها به فاخذ وتدا فوجا به في لبتها حتى اهريق دمها ثم جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره بذلك فامره باكلها
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کسی کو کوئی شکار مل جائے اور اس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا وہ سفید ( دھار دار ) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے سے ( اس شکار کو ) ذبح کر لے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بسم اللہ اکبر کہہ کر ( اللہ کا نام لے کر ) جس چیز سے چاہے خون بہا دو ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن سماك بن حرب، عن مري بن قطري، عن عدي بن حاتم، قال قلت يا رسول الله ارايت ان احدنا اصاب صيدا وليس معه سكين ايذبح بالمروة وشقة العصا فقال " امرر الدم بما شيت واذكر اسم الله عز وجل
ابوالعشراء اسامہ کے والد مالک بن قہطم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ذبح سینے اور حلق ہی میں ہوتا ہے اور کہیں نہیں ہوتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کے ران میں نیزہ مار دو تو وہ بھی کافی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ «متردی» ۱؎ اور «متوحش» ۲؎ کے ذبح کا طریقہ ہے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا حماد بن سلمة، عن ابي العشراء، عن ابيه، انه قال يا رسول الله اما تكون الذكاة الا من اللبة او الحلق قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو طعنت في فخذها لاجزا عنك " . قال ابو داود وهذا لا يصلح الا في المتردية والمتوحش
عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «شريطة الشيطان» سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ ابن عیسیٰ کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے: اور وہ یہ ہے کہ جس جانور کو ذبح کیا جا رہا ہو اس کی کھال تو کاٹ دی جائے لیکن رگیں نہ کاٹی جائیں، پھر اسی طرح اسے چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ وہ ( تڑپ تڑپ کر ) مر جائے۔
حدثنا هناد بن السري، والحسن بن عيسى، مولى ابن المبارك عن ابن المبارك، عن معمر، عن عمرو بن عبد الله، عن عكرمة، عن ابن عباس، - زاد ابن عيسى - وابي هريرة قالا نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن شريطة الشيطان . زاد ابن عيسى في حديثه وهي التي تذبح فيقطع الجلد ولا تفرى الاوداج ثم تترك حتى تموت
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بچے کے بارے میں پوچھا جو ماں کے پیٹ سے ذبح کرنے کے بعد نکلتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر چاہو تو اسے کھا لو ۱؎۔ مسدد کی روایت میں ہے: ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اونٹنی کو نحر کرتے ہیں، گائے اور بکری کو ذبح کرتے ہیں اور اس کے پیٹ میں مردہ بچہ پاتے ہیں تو کیا ہم اس کو پھینک دیں یا اس کو بھی کھا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو اسے کھا لو، اس کی ماں کا ذبح کرنا اس کا بھی ذبح کرنا ہے ۔
حدثنا القعنبي، حدثنا ابن المبارك، ح وحدثنا مسدد، حدثنا هشيم، عن مجالد، عن ابي الوداك، عن ابي سعيد، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الجنين فقال " كلوه ان شيتم " . وقال مسدد قلنا يا رسول الله ننحر الناقة ونذبح البقرة والشاة فنجد في بطنها الجنين انلقيه ام ناكله قال " كلوه ان شيتم فان ذكاته ذكاة امه