Loading...

Loading...
کتب
۱۳۸ احادیث
رباح کہتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے اپنی ایک رومی لونڈی سے میرا نکاح کر دیا، میں نے اس سے جماع کیا تو اس نے میری ہی طرح کالا لڑکا جنا جس کا نام میں نے عبداللہ رکھا، میں نے پھر جماع کیا تو اس نے میری ہی طرح ایک اور کالے لڑکے کو جنم دیا جس کا نام میں نے عبیداللہ رکھا، اس کے بعد میرے خاندان کے یوحنا نامی ایک رومی غلام نے اسے پھانس لیا اور اس نے اس سے اپنی زبان میں بات کی چنانچہ گرگٹ جیسا ( سرخ ) رنگ کا بچہ اس سے پیدا ہوا، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہنے لگی: یہ یوحنا کا بچہ ہے تو ہم نے یہ معاملہ عثمان رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش کیا، تو انہوں نے ان سے بازپرس کی تو دونوں نے اعتراف کر لیا، پھر انہوں نے ان دونوں سے کہا: کیا تم دونوں اس بات پر رضامند ہو کہ میں تمہارا فیصلہ اس طرح کر دوں جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا؟ آپ نے فیصلہ فرمایا کہ بچہ بستر والے کا ہے ۔ راوی کا خیال ہے کہ پھر ان دونوں کو کوڑے لگائے، ( سنگسار نہیں کیا ) کیونکہ وہ دونوں لونڈی و غلام تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا مهدي بن ميمون ابو يحيى، حدثنا محمد بن عبد الله بن ابي يعقوب، عن الحسن بن سعد، مولى الحسن بن علي بن ابي طالب - رضى الله عنه - عن رباح، قال زوجني اهلي امة لهم رومية فوقعت عليها فولدت غلاما اسود مثلي فسميته عبد الله ثم وقعت عليها فولدت غلاما اسود مثلي فسميته عبيد الله ثم طبن لها غلام لاهلي رومي يقال له يوحنه فراطنها بلسانه فولدت غلاما كانه وزغة من الوزغات فقلت لها ما هذا فقالت هذا ليوحنه . فرفعنا الى عثمان احسبه قال مهدي قال فسالهما فاعترفا فقال لهما اترضيان ان اقضي بينكما بقضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى ان الولد للفراش . واحسبه قال فجلدها وجلده وكانا مملوكين
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کا گھر رہا، میری چھاتی اس کے پینے کا برتن بنی، میری گود اس کا ٹھکانہ بنی، اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے، اور اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک تو ( دوسرا ) نکاح نہیں کر لیتی اس کی تو ہی زیادہ حقدار ہے ۔
حدثنا محمود بن خالد السلمي، حدثنا الوليد، عن ابي عمرو، - يعني الاوزاعي - حدثني عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده عبد الله بن عمرو، ان امراة، قالت يا رسول الله ان ابني هذا كان بطني له وعاء وثديي له سقاء وحجري له حواء وان اباه طلقني واراد ان ينتزعه مني فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " انت احق به ما لم تنكحي
ہلال بن اسامہ سے روایت ہے کہ ابومیمونہ سلمی جو اہل مدینہ کے مولی اور ایک سچے آدمی ہیں کا بیان ہے کہ میں ایک بار ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ اسی دوران ان کے پاس ایک فارسی عورت آئی جس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا، اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی تھی اور وہ دونوں ہی اس کے دعویدار تھے، عورت کہنے لگی: ابوہریرہ! ( پھر اس نے فارسی زبان میں گفتگو کی ) میرا شوہر مجھ سے میرے بیٹے کو لے لینا چاہتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم دونوں اس کے لیے قرعہ اندازی کرو، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی فارسی زبان ہی میں اس سے گفتگو کی، اتنے میں اس کا شوہر آیا اور کہنے لگا: میرے لڑکے کے بارے میں مجھ سے کون جھگڑا کر سکتا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا اللہ! میں نے تو یہ فیصلہ صرف اس وجہ سے کیا ہے کہ میں نے ایک عورت کو کہتے سنا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی میں آپ کے پاس بیٹھا تھا، وہ کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرا شوہر میرے بیٹے کو مجھ سے لے لینا چاہتا ہے، حالانکہ وہ ابوعنبہ کے کنویں سے مجھے پانی لا کر پلاتا ہے اور وہ مجھے فائدہ پہنچاتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں اس کے لیے قرعہ اندازی کرو ، اس کا شوہر بولا: میرے لڑکے کے متعلق مجھ سے کون جھگڑا کر سکتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرا باپ ہے، اور یہ تیری ماں ہے، ان میں سے تو جس کا بھی چاہے ہاتھ تھام لے ، چنانچہ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا، اور وہ اسے لے کر چلی گئی ۱؎۔
حدثنا الحسن بن علي الحلواني، حدثنا عبد الرزاق، وابو عاصم عن ابن جريج، اخبرني زياد، عن هلال بن اسامة، ان ابا ميمونة، سلمى - مولى من اهل المدينة رجل صدق - قال بينما انا جالس مع ابي هريرة جاءته امراة فارسية معها ابن لها فادعياه وقد طلقها زوجها فقالت يا ابا هريرة - ورطنت له بالفارسية - زوجي يريد ان يذهب بابني فقال ابو هريرة استهما عليه ورطن لها بذلك فجاء زوجها فقال من يحاقني في ولدي فقال ابو هريرة اللهم اني لا اقول هذا الا اني سمعت امراة جاءت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا قاعد عنده فقالت يا رسول الله ان زوجي يريد ان يذهب بابني وقد سقاني من بير ابي عنبة وقد نفعني . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " استهما عليه " . فقال زوجها من يحاقني في ولدي فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هذا ابوك وهذه امك فخذ بيد ايهما شيت " . فاخذ بيد امه فانطلقت به
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مکہ گئے تو حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو لے آئے، جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اسے میں لوں گا، میں اس کا زیادہ حقدار ہوں، یہ میری چچا زاد بہن ہے، نیز اس کی خالہ میرے پاس ہے، اور خالہ ماں کے درجے میں ہوتی ہے، اور علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اس کا زیادہ حقدار میں ہوں کیونکہ یہ میری چچا زاد بہن ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی میرے نکاح میں ہے، وہ بھی اس کی زیادہ حقدار ہیں اور زید رضی اللہ عنہ نے کہا: سب سے زیادہ اس کا حقدار میں ہوں کیونکہ میں اس کے پاس گیا، اور سفر کر کے اسے لے کر آیا ہوں، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکی کا فیصلہ میں جعفر کے حق میں کرتا ہوں وہ اپنی خالہ کے پاس رہے گی اور خالہ ماں کے درجے میں ہے ۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم، حدثنا عبد الملك بن عمرو، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن يزيد بن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن نافع بن عجير، عن ابيه، عن علي، - رضى الله عنه - قال خرج زيد بن حارثة الى مكة فقدم بابنة حمزة فقال جعفر انا اخذها انا احق بها ابنة عمي وعندي خالتها وانما الخالة ام . فقال علي انا احق بها ابنة عمي وعندي ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي احق بها . فقال زيد انا احق بها انا خرجت اليها وسافرت وقدمت بها . فخرج النبي صلى الله عليه وسلم فذكر حديثا قال " واما الجارية فاقضي بها لجعفر تكون مع خالتها وانما الخالة ام
عبدالرحمٰن بن ابی لیلی سے یہی حدیث مروی ہے لیکن پوری نہیں ہے اس میں ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ لڑکی جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے گی، کیونکہ ان کے نکاح میں اس کی خالہ ہے ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا سفيان، عن ابي فروة، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، بهذا الخبر وليس بتمامه قال وقضى بها لجعفر وقال " ان خالتها عنده
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم مکہ سے نکلے تو ہمارے پیچھے پیچھے حمزہ کی لڑکی چچا چچا پکارتی آ گئی، علی رضی اللہ عنہ ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے آئے اور ( فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ) کہا: اپنے چچا کی لڑکی کو لو، انہوں نے اسے اٹھا لیا، راوی نے پھر پورا قصہ بیان کیا اور کہا کہ: جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالہ کے حق میں فیصلہ دیا اور فرمایا: خالہ ماں کے درجے میں ہے ۔
حدثنا عباد بن موسى، ان اسماعيل بن جعفر، حدثهم عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن هاني، وهبيرة، عن علي، قال لما خرجنا من مكة تبعتنا بنت حمزة تنادي يا عم يا عم . فتناولها علي فاخذ بيدها وقال دونك بنت عمك . فحملتها فقص الخبر قال وقال جعفر ابنة عمي وخالتها تحتي . فقضى بها النبي صلى الله عليه وسلم لخالتها وقال " الخالة بمنزلة الام
اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انہیں طلاق دے دی گئی، اس وقت مطلقہ کی کوئی عدت نہیں تھی تو اللہ تعالیٰ نے طلاق کی عدت کا حکم نازل فرمایا چنانچہ یہی پہلی خاتون ہیں جن کے متعلق مطلقہ عورتوں کی عدت کا حکم نازل ہوا۔
حدثنا سليمان بن عبد الحميد البهراني، حدثني يحيى بن صالح، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثني عمرو بن مهاجر، عن ابيه، عن اسماء بنت يزيد بن السكن الانصارية، انها طلقت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يكن للمطلقة عدة فانزل الله عز وجل حين طلقت اسماء بالعدة للطلاق فكانت اول من انزلت فيها العدة للمطلقات
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء» اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو تین طہر تک روکے رکھیں ( سورۃ البقرہ: ۲۲۸ ) اور فرمایا: «واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر» اور تمہاری وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہو گئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے ( سورۃ الطلاق: ۴ ) تو یہ عورتیں پہلی آیت کے حکم سے نکال لی گئیں ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن» اگر تم انہیں چھونے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو انہیں کوئی عدت گزارنے کی ضرورت نہیں ( سورۃ الاحزاب: ۴۹ ) اس آیت میں مذکور عورتوں کو بھی پہلی آیت کے حکم سے نکال دیا گیا ہے۔
حدثني احمد بن محمد بن ثابت المروزي، حدثني علي بن حسين، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال { والمطلقات يتربصن بانفسهن ثلاثة قروء } . وقال { واللايي ييسن من المحيض من نسايكم ان ارتبتم فعدتهن ثلاثة اشهر } فنسخ من ذلك وقال { وان طلقتموهن من قبل ان تمسوهن } { فما لكم عليهن من عدة تعتدونها}
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی پھر آپ نے ان سے رجعت کر لی۔
حدثنا سهل بن محمد بن الزبير العسكري، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، عن صالح بن صالح، عن سلمة بن كهيل، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طلق حفصة ثم راجعها
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ دے دی ۱؎ ابوعمرو موجود نہیں تھے تو ان کے وکیل نے فاطمہ کے پاس کچھ جو بھیجے، اس پر وہ برہم ہوئیں، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں بنتا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ماجرا بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ سے فرمایا: اس کے ذمہ تمہارا نفقہ نہیں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ام شریک کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی عورت ہے کہ اس کے پاس میرے صحابہ کا اکثر آنا جانا لگا رہتا ہے، لہٰذا تم ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں، پردے کی دقت نہ ہو گی، تم اپنے کپڑے اتار سکو گی، اور جب عدت مکمل ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب عدت گزر گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم رضی اللہ عنہما کے پیغام کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہے ابوجہم تو وہ کندھے سے لاٹھی ہی نہیں اتارتے ( یعنی بہت زدو کوب کرنے والے شخص ہیں ) اور جہاں تک معاویہ کا سوال ہے تو وہ کنگال ہیں، ان کے پاس مال نہیں ہے۲؎، لہٰذا تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ وہ مجھے پسند نہیں آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اسامہ بن زید سے نکاح کر لو، چنانچہ میں نے اسامہ سے نکاح کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اس قدر بھلائی رکھی کہ لوگ مجھ پر رشک کرنے لگے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن عبد الله بن يزيد، مولى الاسود بن سفيان عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن فاطمة بنت قيس، ان ابا عمرو بن حفص، طلقها البتة وهو غايب فارسل اليها وكيله بشعير فتسخطته فقال والله ما لك علينا من شىء . فجاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال لها " ليس لك عليه نفقة " . وامرها ان تعتد في بيت ام شريك ثم قال " ان تلك امراة يغشاها اصحابي اعتدي في بيت ابن ام مكتوم فانه رجل اعمى تضعين ثيابك واذا حللت فاذنيني " . قالت فلما حللت ذكرت له ان معاوية بن ابي سفيان وابا جهم خطباني فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما ابو جهم فلا يضع عصاه عن عاتقه واما معاوية فصعلوك لا مال له انكحي اسامة بن زيد " . قالت فكرهته ثم قال " انكحي اسامة بن زيد . فنكحته فجعل الله تعالى فيه خيرا كثيرا واغتبطت به
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ ابو حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور بنی مخزوم کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ابو حفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے دی ہیں، اور اسے معمولی نفقہ ( خرچ ) دیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے نفقہ نہیں ہے ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، یہ مالک کی روایت زیادہ کامل ہے ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان بن يزيد العطار، حدثنا يحيى بن ابي كثير، حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان فاطمة بنت قيس، حدثته ان ابا حفص بن المغيرة طلقها ثلاثا وساق الحديث فيه وان خالد بن الوليد ونفرا من بني مخزوم اتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا يا نبي الله ان ابا حفص بن المغيرة طلق امراته ثلاثا وانه ترك لها نفقة يسيرة فقال " لا نفقة لها " . وساق الحديث وحديث مالك اتم
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ والا قصہ بیان کیا کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: نہ تو اس کے لیے نفقہ ہے اور نہ رہائش ، نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ خبر بھیجی کہ تو اپنے بارے میں مجھ سے سبقت نہ کرنا ۱؎۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا الوليد، حدثنا ابو عمرو، عن يحيى، حدثني ابو سلمة، حدثتني فاطمة بنت قيس، ان ابا عمرو بن حفص المخزومي، طلقها ثلاثا وساق الحديث وخبر خالد بن الوليد قال فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ليست لها نفقة ولا مسكن " . قال فيه وارسل اليها النبي صلى الله عليه وسلم ان لا تسبقيني بنفسك
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں قبیلہ بنی مخروم کے ایک شخص کے نکاح میں تھی اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی، پھر راوی نے مالک کی حدیث کے مثل حدیث بیان کی اس میں «ولا تفوتيني بنفسك» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے شعبی اور بہی نے اور عطاء نے بواسطہ عبدالرحمٰن بن عاصم اور ابوبکر بن جہم اور سبھوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ انہیں ان کے شوہر نے تین طلاق دی ( نہ کہ طلاق بتہ ) ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، ان اسماعيل بن جعفر، حدثهم حدثنا محمد بن عمرو، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن فاطمة بنت قيس، قالت كنت عند رجل من بني مخزوم فطلقني البتة ثم ساق نحو حديث مالك قال فيه " ولا تفوتيني بنفسك " . قال ابو داود وكذلك رواه الشعبي والبهي وعطاء عن عبد الرحمن بن عاصم وابو بكر بن ابي الجهم كلهم عن فاطمة بنت قيس ان زوجها طلقها ثلاثا
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو انہیں نفقہ دلایا، اور نہ ہی رہائش دلائی۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، حدثنا سلمة بن كهيل، عن الشعبي، عن فاطمة بنت قيس، ان زوجها، طلقها ثلاثا فلم يجعل لها النبي صلى الله عليه وسلم نفقة ولا سكنى
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ وہ ابوحفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں، اور ابوحفص نے انہیں تین طلاق میں سے آخری طلاق بھی دے دی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے گھر نکلنے کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا تو آپ نے انہیں نابینا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہو جانے کا حکم دیا ۱؎۔ مروان نے یہ حدیث سنی تو مطلقہ کے گھر سے نکلنے کے سلسلہ میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی تصدیق کرنے سے انکار کیا، عروہ کہتے ہیں: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی بات کا انکار کیا۔
حدثنا يزيد بن خالد الرملي، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن فاطمة بنت قيس، انها اخبرته انها، كانت عند ابي حفص بن المغيرة وان ابا حفص بن المغيرة طلقها اخر ثلاث تطليقات فزعمت انها جاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستفتته في خروجها من بيتها فامرها ان تنتقل الى ابن ام مكتوم الاعمى فابى مروان ان يصدق حديث فاطمة في خروج المطلقة من بيتها . قال عروة وانكرت عايشة - رضى الله عنها - على فاطمة بنت قيس . قال ابو داود وكذلك رواه صالح بن كيسان وابن جريج وشعيب بن ابي حمزة كلهم عن الزهري . قال ابو داود وشعيب بن ابي حمزة واسم ابي حمزة دينار وهو مولى زياد
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ مروان نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو بلوایا، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ابوحفص رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا یعنی یمن کے بعض علاقے کا امیر بنا کر بھیجا تو ان کے شوہر بھی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئے اور وہیں سے انہیں بقیہ ایک طلاق بھیج دی، اور عیاش بن ابی ربیعہ اور حارث بن ہشام کو انہیں نفقہ دینے کے لیے کہہ دیا تو وہ دونوں کہنے لگے: اللہ کی قسم حاملہ ہونے کی صورت ہی میں وہ نفقہ کی حقدار ہو سکتی ہیں، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ( اور آپ سے دریافت کیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے نفقہ صرف اس صورت میں ہے کہ تم حاملہ ہو ، پھر فاطمہ نے گھر سے منتقل ہونے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی، پھر فاطمہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں کہاں جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر رہو، وہ نابینا ہیں، سو وہ ان کے پاس کپڑے بھی اتارتی تھیں تو وہ اسے دیکھ نہیں پاتے تھے ، چنانچہ وہ وہیں رہیں یہاں تک کہ ان کی عدت پوری ہو گئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اسامہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ تو قبیصہ ۱؎ مروان کے پاس واپس آئے اور انہیں اس کی خبر دی تو مروان نے کہا: ہم نے یہ حدیث صرف ایک عورت کے منہ سے سنی ہے ہم تو اسی مضبوط اور صحیح بات کو اپنائیں گے جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے، فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس کا علم ہوا تو کہنے لگیں: میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی، اللہ کا فرمان ہے «فطلقوهن لعدتهن» ، «لا تدري لعل الله يحدث بعد ذلك أمرا» ۲؎ تک یعنی خاوند کا دل مائل ہو جائے اور رجوع کر لے فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تین طلاق کے بعد کیا نئی بات ہو گی؟ ۳؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے یونس نے زہری سے روایت کیا ہے، رہے زبیدی تو انہوں نے دونوں حدیثوں کو ملا کر ایک ساتھ روایت کیا ہے یعنی عبیداللہ کی حدیث کو معمر کی حدیث کے ہم معنی اور ابوسلمہ کی حدیث کو عقیل کی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ اور اسے محمد بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ قبیصہ بن ذویب نے ان سے اس معنی کی حدیث بیان کی ہے جس میں عبیداللہ بن عبداللہ کی حدیث پر دلالت ہے جس وقت انہوں نے یہ کہا کہ قبیصہ مروان کے پاس لوٹے اور انہیں اس واقعہ کی خبر دی۔
حدثنا مخلد بن خالد، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن عبيد الله، قال ارسل مروان الى فاطمة فسالها فاخبرته انها كانت عند ابي حفص وكان النبي صلى الله عليه وسلم امر علي بن ابي طالب - يعني على بعض اليمن - فخرج معه زوجها فبعث اليها بتطليقة كانت بقيت لها وامر عياش بن ابي ربيعة والحارث بن هشام ان ينفقا عليها فقالا والله ما لها نفقة الا ان تكون حاملا . فاتت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " لا نفقة لك الا ان تكوني حاملا " . واستاذنته في الانتقال فاذن لها فقالت اين انتقل يا رسول الله قال " عند ابن ام مكتوم " . وكان اعمى تضع ثيابها عنده ولا يبصرها فلم تزل هناك حتى مضت عدتها فانكحها النبي صلى الله عليه وسلم اسامة فرجع قبيصة الى مروان فاخبره بذلك فقال مروان لم نسمع هذا الحديث الا من امراة فسناخذ بالعصمة التي وجدنا الناس عليها فقالت فاطمة حين بلغها ذلك بيني وبينكم كتاب الله قال الله تعالى { فطلقوهن لعدتهن } حتى { لا تدري لعل الله يحدث بعد ذلك امرا } قالت فاى امر يحدث بعد الثلاث قال ابو داود وكذلك رواه يونس عن الزهري واما الزبيدي فروى الحديثين جميعا حديث عبيد الله بمعنى معمر وحديث ابي سلمة بمعنى عقيل ورواه محمد بن اسحاق عن الزهري ان قبيصة بن ذويب حدثه بمعنى دل على خبر عبيد الله بن عبد الله حين قال فرجع قبيصة الى مروان فاخبره بذلك
ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں اسود کے ساتھ جامع مسجد میں تھا تو انہوں نے کہا: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کو ایک عورت کے کہنے پر نہیں چھوڑ سکتے، پتا نہیں اسے یہ ( اصل بات ) یاد بھی ہے یا بھول گئی ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرني ابو احمد، حدثنا عمار بن رزيق، عن ابي اسحاق، قال كنت في المسجد الجامع مع الاسود فقال اتت فاطمة بنت قيس عمر بن الخطاب - رضى الله عنه - فقال ما كنا لندع كتاب ربنا وسنة نبينا صلى الله عليه وسلم لقول امراة لا ندري احفظت ذلك ام لا
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث پر سخت نکیر کرتی تھیں اور کہتی تھیں: چونکہ فاطمہ ایک ویران مکان میں رہتی تھیں جس کی وجہ سے ان کے بارے میں خدشہ لاحق ہوا اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( مکان بدلنے کی ) رخصت دی تھی۔
حدثنا سليمان بن داود، حدثنا ابن وهب، حدثنا عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، قال لقد عابت ذلك عايشة - رضى الله عنها - اشد العيب يعني حديث فاطمة بنت قيس وقالت ان فاطمة كانت في مكان وحش فخيف على ناحيتها فلذلك رخص لها رسول الله صلى الله عليه وسلم
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے فاطمہ ( فاطمہ بنت قیس ) رضی اللہ عنہا کے بیان پر اظہار خیال کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کہا اس میں اس کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عروة بن الزبير، انه قيل لعايشة الم ترى الى قول فاطمة قالت اما انه لا خير لها في ذكر ذلك
سلیمان بن یسار سے بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلنے کا قصہ مروی ہے وہ کہتے ہیں: یہ بد خلقی کی بنا پر ہوا تھا۔
حدثنا هارون بن زيد، حدثنا ابي، عن سفيان، عن يحيى بن سعيد، عن سليمان بن يسار، في خروج فاطمة قال انما كان ذلك من سوء الخلق